Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران ریاض کے خلاف  کتنے مقدمات،رپورٹ عدالت پیش

    عمران ریاض کے خلاف کتنے مقدمات،رپورٹ عدالت پیش

    اسلام آبادہائیکورٹ، صحافی و یوٹیوبر عمران ریاض کے خلاف اسلام آباد میں کوئی مقدمہ نہیں، ایف آئی اے میں تین مقدمات اور ایک انکوائری ہے،رپورٹ عدالت پیش کر دی گئی

    جسٹس محسن اخترکیانی نے عمران ریاض کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی درخواست پر سماعت کی، وفاقی پولیس کے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ اور ایف آئی اے حکام عدالت پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی پولیس کے پاس عمران ریاض کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں، اسلام آباد پولیس حکام ایف آئی اے میں کوئی مقدمہ ہے کیا؟،ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم میں تین ایف آئی آر اور ایک انکوائری ہے، عدالت نے کہا کہ مقدمات اور انکوائری کی تفصیلات دے دیں،ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی آرز اسلام آباد جبکہ انکوائری ایف آئی اے لاہور میں ہے، عدالت نے رپورٹ پیش ہوجانے پر درخواست نمٹادی

    عمران ریاض خان نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 کے دوران بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات پیش آئے، جس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 28 ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، پشاور کے مختلف تھانوں کی حدود میں بی آر ٹی سروس کے دوران یہ وارداتیں رونما ہوئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور کے 9 مختلف تھانوں میں بی آر ٹی میں چوری کی وارداتیں ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ واقعات تھانہ خان رازق کی حدود میں پیش آئے جہاں پانچ چوری کے واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ، تھانہ ٹاؤن اور تھانہ مغربی میں ہر ایک تھانے میں 4 چوری کے کیس رپورٹ ہوئے، جب کہ تھانہ شہید گلفت میں 4 اور حیات آباد کی حدود میں تین چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق، ان چوری کی وارداتوں میں بی آر ٹی کے مسافر 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم سے محروم ہوئے، اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈھائی تولہ سونا اور 18 موبائل فونز بھی چوری ہوگئے۔ یہ وارداتیں مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بنی اور ان کی حفاظت اور مال کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس نے چوری کی وارداتوں میں ملوث 28 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ ملزمان سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم اور 17 موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔پشاور پولیس کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بی آر ٹی سروس کے دوران چوری کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت کریں اور بی آر ٹی سروس میں سفر کرتے وقت محتاط رہیں۔

    پشاور میں بی آر ٹی سروس کے بڑھتے ہوئے مسائل، خاص طور پر چوری کی وارداتوں، نے عوامی سطح پر تحفظات پیدا کیے ہیں، اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    سال 2024 دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے ایک انتہائی مشکل سال ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اس سال 68 صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے دوران ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ اعداد و شمار صحافیوں کی حفاظتی صورتحال کے حوالے سے ایک سنگین تنبیہہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ان 68 صحافیوں میں سے 42 صحافی ایسے علاقوں میں ہلاک ہوئے جو جنگی یا تنازعاتی علاقوں کے زمرے میں آتے ہیں، جو کہ ایک دہائی میں صحافیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ جنگی اور سیاسی تنازعات کے دوران میڈیا کی کوریج میں مصروف صحافیوں کو درپیش خطرات ہیں۔اس سال سب سے زیادہ صحافیوں کی ہلاکتیں فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے مسلط کی جانے والی جنگ کے دوران ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس جنگ میں 18 صحافی شہید ہوئے، جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ ہلاکتیں اس بات کا غماز ہیں کہ تنازعاتی علاقوں میں صحافیوں کی زندگی کتنی غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔

    فلسطین کے علاوہ، اس سال صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات یوکرین، لبنان، شام، صومالیہ اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملے۔ ان علاقوں میں صحافی مختلف خطرات کا سامنا کرتے ہیں، رپورٹ میں ایک حوصلہ افزا بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں تنازعات نہیں ہیں، وہاں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی اموات میں گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ یہ بات اس بات کی غماز ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں صحافیوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن امن کے ماحول میں ان کی حفاظت کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔

    یونیسکو کی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ صحافیوں کی حفاظت عالمی سطح پر ترجیح ہونی چاہیے۔ میڈیا اور صحافیوں کا کردار کسی بھی جمہوری معاشرے میں بے حد اہم ہے، اور ان کی آزادی اور حفاظت کو یقینی بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کسی بھی قسم کے خطرات سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔سال 2024 صحافیوں کے لیے ایک دل دہلا دینے والا سال ثابت ہوا، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ دنیا بھر میں صحافیوں کی حفاظت کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ میڈیا کا آزادانہ کردار اور صحافیوں کی زندگیوں کی حفاظت کی جا سکے۔

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

    معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان ،عوام کی ترقی کے لئے ہے،عطا تارڑ

  • کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع کامران چورنگی کے قریب ایک فرنیچر مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس سے مارکیٹ میں موجود بھاری مالیت کا فرنیچر جل کر خاکستر ہوگیا۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شعلے دور دور تک دکھائی دے رہے تھے،

    فائر آفیسر ظفر خان کے مطابق، ابتدائی طور پر فائر ٹینڈر کی مدد سے آگ کو قابو پانے کی کوشش کی گئی، تاہم آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مزید فوراً 6 فائر ٹینڈرز کو روانہ کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیم نے آگ پر قابو پالیا۔ظفر خان نے مزید بتایا کہ اس آگ کے باعث 30 سے زائد دکانیں مکمل طور پر جل گئیں اور لاکھوں روپے مالیت کا فرنیچر تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے، اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اہل محلہ اور دکانداروں نے صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت آگ میں لپٹی ہوئی دکانوں سے کچھ فرنیچر نکال کر اسے جلنے سے بچایا۔آگ لگنے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم فائر بریگیڈ حکام تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل اسباب کا پتہ چلایا جا سکے۔

    دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی کے نتیجے میں ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہوگئی ہے، اور انہیں حکومت سے امداد کی توقع ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ بحال کر سکیں۔یہ واقعہ اگرچہ مالی نقصان کا سبب بنا لیکن خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جس پر اہل محلہ اور دکانداروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ آگ کی شدت اور تباہی کے باوجود، فوری طور پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں اور شہریوں کی تیز رفتار کارروائی سے مزید نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

    معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان ،عوام کی ترقی کے لئے ہے،عطا تارڑ

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

  • معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان ،عوام کی ترقی کے لئے ہے،عطا تارڑ

    معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان ،عوام کی ترقی کے لئے ہے،عطا تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف آج "اڑان پاکستان پروگرام” کا اعلان کرینگے

    وفاقی حکومت اس پروگرام کے تحت 2029 تک برآمدات کو سالانہ 60 ارب تک بڑھائے گی،پروگرام کے تحت سالانہ IT گریجویٹس کی تعداد میں ہزاروں میں اضافہ ہوگا،پروگرام سے پاکستان کی معیشت مضبوط اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا،قومی اقتصادی پلان 2024 سے 2029 تک محیط ہوگا۔اڑان پاکستان کا لوگو۔ ویب سائٹ اور کتاب بھی جاری کی جائے گی

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے اڑان پاکستان ۔ ہوم گرون نیشنل اکنامک پلان 2024-29ءکے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج ہوم گرون اکنامک ایجنڈے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں،ہوم گرون اکنامک ایجنڈا ”میڈ ان پاکستان“ معاشی اصلاحات کا ایجنڈا ہے،ملک ڈیفالٹ سے استحکام کی طرف آیا اور اب استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے،الحمد اللہ پاکستان کے تمام معاشی اشاریئے بہتر ہوئے ہیں،ہوم گرون ایجنڈا ایک اہم اقدام ہے،ہوم گرون ایجنڈے کے تحت معاشی ترقی کا سفر طے کیا جائے گا، پاکستان کے عوام کو خوشخبریاں ملیں گی،معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ترقی کے لئے ہے

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہوچکی ہے،نجی شعبہ کو اب معاملات کو چلانے ہوں گے،آج کادن ہمارے لیے پاکستان کی معاشی تاریخ کیلئے اہم ہے،اڑان پاکستان منصوبہ اگلے 3سالوں میں دنیا کے بڑےممالک کی صف میں لاکھڑاکرے گا،

    طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ معیشت کے استحکام کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے،2025میں پاکستان انشاءاللہ ٹیک آف کرجائےگا،پانچ سالہ منصوبے میں شاندار مستقبل پوشیدہ ہے،پاکستان ان خوابوں کی تعبیر ہوگاجو خواب قائداعظم ؒ نے دیکھے تھے،

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

  • سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز سعودی عرب کو فروخت کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ شیئرز بین الحکومتی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت براہ راست فروخت کیے جائیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کو اس سودے کے بدلے 540 ملین ڈالر کی رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 10 فیصد شیئرز کی منتقلی پر سعودی عرب 330 ملین ڈالر ادا کرے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی 5 فیصد شیئرز کی منتقلی پر 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف ریکوڈک کے شیئرز خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے 150 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

    اس وقت ریکوڈک منصوبے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت کے پاس 50 فیصد شیئرز کی ملکیت ہے۔ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے چاغی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔سعودی عرب چاغی کے علاقے میں بھی معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ قدم پاکستان کے لیے مالی فوائد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔اس پیش رفت سے پاکستان کو ریکوڈک منصوبے کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ترقیاتی فنڈز ملیں گے، جو نہ صرف ریکوڈک بلکہ بلوچستان کے دیگر معدنی وسائل کے استعمال کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس سودے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہو گا۔

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

  • جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    نیو یارک: امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ ای جین کیرول، ایک معروف امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی طور پر بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیرول کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، جس پر انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
    ای جین کیرول نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ٹرمپ نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ کیرول جھوٹ بول رہی ہیں۔اس کے بعد کیرول نے ٹرمپ کے اس الزامات کی تردید پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔2023 میں نیو یارک کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ کو ای جین کیرول کی جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، تاہم فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف ایک "سیاسی حملہ” ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ یہ مقدمہ دراصل 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اپیل کورٹ نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلہ برقرار رکھا۔

    یہ فیصلہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات اور ہتک عزت کے مقدمات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک نیا قانونی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ای جین کیرول کے حق میں آیا گیا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو سچ سمجھا اور اسے تسلیم کیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف قانونی جنگ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    نیو یارک کی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ برقرار رکھنے اور ہرجانے کا حکم دینے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانونی نظام میں کسی بھی شخص کو انصاف سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ای جین کیرول کی قانونی فتح نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

  • میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے لندن کے مئیر صادق خان کو نائٹ کا اعزاز عطا کیا ہے۔

    یہ اعزاز صادق خان کو لندن کے عوام کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اعزاز سے لندن شہر کی ترقی اور وہاں کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لئے صادق خان کی طویل محنت کو سراہا گیا ہے۔صادق خان، جو اس سال مسلسل تیسری مرتبہ لندن کے مئیر منتخب ہوئے ہیں، نے اپنے کیریئر میں شہر کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں لندن نے معاشی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی کی ہے اور شہر نے عالمی سطح پر اہمیت حاصل کی ہے۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی یہ خیال نہیں تھا کہ وہ جنوبی لندن میں اپنے بچپن کے دوران ایک دن لندن کے مئیر بنیں گے۔

    صادق خان نے اس اعزاز کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ جس شہر سے محبت کرتے ہیں، اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "نائٹ کا اعزاز ملنا میرے لئے ایک بہت بڑی فخر کی بات ہے، اور یہ میرے لئے ایک نئی ذمہ داری ہے جس کا مجھے بخوبی احساس ہے۔”

    صادق خان کو نائٹ کے اعزاز سے نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس اعزاز کے بعد اب صادق خان کے نام کے ساتھ "سر” بھی لکھا جائے گا، جو ایک اہم اور معتبر خطاب ہے۔ نائٹ کا اعزاز برطانیہ میں کسی شخص کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی سے ہوتا ہے۔

    صادق خان نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزاز ان کی محنت کا تسلیم ہے، اور وہ آئندہ بھی لندن کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "لندن دنیا کا بہترین شہر ہے اور اس کی خدمت کرنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔”

    یہ نائٹ کا اعزاز ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک تاریخی لمحہ ہے، جو نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ عوامی خدمت اور کامیابی کی راہ میں محنت اور لگن کی اہمیت ہے۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لمی نے صادق خان کو نائٹ کا اعزاز ملنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ صادق خان نے لندن میں صاف ہوا، مفت اسکول کے کھانے اور کونسل ہاؤسنگ کے ریکارڈ منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا کابینہ کا رکن اور لندن کا مئیر بن سکتا ہے۔

    صادق خان 53 سالہ برطانوی پاکستانی سیاستدان ہیں جو لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں 1970 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پاکستان سے برطانیہ ہجرت کر کے بس ڈرائیور بنے تھے، اور صادق خان نے اپنے بچپن کی بیشتر زندگی ایک council provided flat میں گزاری۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 2005 سے 2016 تک ممبر آف پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔صادق خان کی سیاسی زندگی کا آغاز ونسورتھ کونسل سے کونسلر کے طور پر ہوا، صادق خان نے مئیر کے طور پر متعدد اہم اقدامات اٹھائے جن میں "ہاپر اسکیم” شامل ہے جس کے ذریعے مسافر ایک گھنٹے میں جتنی بار چاہیں بسوں اور ٹراموں کا سفر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لندن کی ہوا کو صاف کرنے کے لیے متنازعہ "آلٹرنیشن زون اسکیم” بھی متعارف کرائی۔انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور غزہ میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔ حالیہ انتخابات میں، صادق خان نے مفت اسکول کھانے کی فراہمی، کرایے میں کمی، پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ اور مزید کونسل ہاؤسنگ کی تعمیر کے وعدے کیے تھے۔