Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نیو  گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر، اس کی فعالیت اور علاقے میں اقتصادی ترقی کے امکانات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے مابین تاریخی اور مثالی دوستی کی ایک عظیم مثال ہے۔وزیراعظم نے اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "گوادر کا نیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے درمیان اس شراکت داری کی علامت ہے جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ اقتصادی ترقی کی نئی راہیں بھی کھول دی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کی جدید سہولتوں سے آراستہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ "یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے بھی اقتصادی فوائد کا سبب بنے گا۔”

    وزیراعظم نے اجلاس میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو ایک مصروف ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ "ائیرپورٹ کی فعالیت کو بڑھانے کے لیے ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کا مرکز بن سکے بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرے۔”وزیراعظم نے گوادر ائیرپورٹ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیگر علاقوں کے درمیان رابطہ سڑکوں کو بہتر بنانے کی ہدایت دی تاکہ ائیرپورٹ کی سہولت کا فائدہ پورے علاقے کو پہنچ سکے۔ "ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ گوادر ائیرپورٹ تک پہنچنے کے لیے سڑکوں کی صورتحال بھی بہترین ہو تاکہ وہاں کی معیشت کو مزید تقویت مل سکے۔”

    وزیراعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ "سکیورٹی ایک اہم پہلو ہے، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ائیرپورٹ پر داخلی اور خارجی سکیورٹی کا ہر پہلو مضبوط ہو تاکہ عالمی سطح پر اعتماد اور اطمینان حاصل کیا جا سکے۔”وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل اور اس کی کامیاب فعالیت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کا نیا ایئرپورٹ نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو بھی مزید بڑھائے گا۔

    مریم نواز کے خوبصورت انداز،ایک بار پھر سوشل میڈیا کو ہائی جیک کر لیا

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

  • ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک روسی شہری کو ہم جنس پرستوں کے لیےٹریول ایجنسی چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اور حالیہ اطلاعات کے مطابق وہ حراست میں ان کی موت ہو گئی ہے، جیل کے سیل سے لاش ملی ہے

    "مین ٹریول” ایجنسی کے ڈائریکٹر، اندرے کوتوو، حراست میں انتقال کر گئے ہیں۔او وی ڈی انفو، جو سیاسی گرفتاریوں کا پتہ لگاتا ہے، کے مطابق اندرے کوتوو پر "انتہاپسندانہ سرگرمیاں چلانے اور ان میں حصہ لینے” کا الزام تھا۔ رپورٹ کے مطابق، تحقیقات کرنے والے افسران نے کوتوو کے وکیل کو بتایا کہ ان کے موکل نے اتوار کی صبح خودکشی کی، جب وہ حراست میں تھے، اور ان کی لاش سیل میں پائی گئی۔

    کوتوو کی موت سے قبل، آزاد میڈیا ادارے میڈیازونا نے رپورٹ کیا تھا کہ کوتوو نے الزامات کی تردید کی تھی اور عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ گرفتاری کے دوران انہیں قانون نافذ کرنے والے افسران نے تشدد کا نشانہ بنایا، اور برقی جھٹکے دیے، حالانکہ انہوں نے مزاحمت نہیں کی تھی۔

    کوتوو کی گرفتاری اور موت اس بات کا غماز ہے کہ روس میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی پر دباؤ اور قانونی پابندیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ برس روس کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ صادر کیا تھا جس میں "بین الاقوامی ایل جی بی ٹی تحریک” کو انتہاپسند قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے ارکان یا ان سے جڑے افراد کو جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، اور انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    روس میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق کے خلاف یہ کریک ڈاؤن خاص طور پر 2022 میں یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس جنگ کو مغرب کے ساتھ ایک پراکسی جنگ قرار دیا ہے، جس کا مقصد روس اور اس کے "روایتی خاندان کے اقدار” کو تباہ کرنا ہے، اور اس میں ایل جی بی ٹی حقوق کے فروغ کو ایک خطرہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    کوتوو کی موت نے ایک بار پھر روس میں ایل جی بی ٹی حقوق کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حقوق کے اداروں اور عالمی برادری نے روسی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرائے، تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ آیا یہ واقعہ خودکشی تھی یا کسی اور وجہ سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق آندرے کوتوو پر الزام تھا کہ وہ روس اور بیرون ملک ہم جنس پرستوں کے لئے دوروں کا اہتمام کرتے تھے،

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

  • مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے میں قانونی طور پر جیت چکا ہوں میرے کیس فائنل سٹیج پر ہیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا، 9 مئی کو جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہےانھوں نے 9 مئی کرایا ہے۔دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو 9 مئی میں گرفتار کیا گیا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی انہیں آپ نے کیسے معاف کردیا، جس سے واضح ہے یہ ڈرامہ صرف پارٹی توڑنے کیلئے تھا،ہمارے 2یہ مطالبات ہیں کہ جو ڈیشنل کمیشن بنائیں اور یہ بےگناہ لوگ جو آپ نے جیلوں میں بھریں ہوئے ہیں ان کو رہا کریں۔جب ان کو رہا کر دیں گے پھر اگر آپ نے بات کرنی ہو گی میرے سے بات کریں،عمران خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ کے پہلے کیس جیسا ہے۔القادر یونیورسٹی کیس میں چھ تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کو انہوں نے سزا سنانی ہے۔القادر کا کیس اور توشہ خانہ ٹو اعلی عدالتوں میں ختم ہو جائینگے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے عدلیہ کا مذاق بنایا گیا ہے،بانی یہ پوچھ رہے ہیں مجھے ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے جب میں کیسز لڑ رہا ہوں۔ کسی باہر کے ملک کے کہنے پر ڈیل نہیں کرونگا۔

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

  • یو اے ای کے سفیر کی   جاری ترقیاتی منصوبوں  پر  مریم نواز  کی تعریف

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم الزعابی کی ملاقات ہوئی ہے

    دو طرفہ تعاون کے لیے پنجاب اور یو اے ای کا ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ملاقات کے دوران معاشی تعاون اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاحت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا،مریم نواز نے یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے دعوت دی،مریم نواز نے یو اے ای کے سرمایہ کاروں کےلئے خصوصی مراعات اور سازگار ماحول کی یقین دہانی کروائی،مریم نواز نے متحدہ عرب امارات کی پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون کو سراہا

    یو اے ای کے سفیر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو کامیاب دورہ چین پر مبارک باد دی،سفیر حماد عبید ابراہیم الزعابی نے جاری ترقیاتی منصوبوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقدامات پر مریم نواز کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، اور توانائی کے شعبوں میں یو اے ای کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں،پاکستان اور یو اے ای علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔پنجاب زراعت، ٹیکنالوجی،گرین انرجی اور دیگر شعبوں میں یو اے ای کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے،

    یواے ای کے سفیر کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ پاکستان کےسفر میں حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،پاکستان میں مزید پراجیکٹس پر کام کرنا چاہتے ہیں- پنجاب کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دیرپا ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس کی ملزمہ آمنہ عروج اور یاسر علی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزمان کے وکلا کو تیاری کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی ،ملزمان کے وکیل کی جانب سے تیاری کے لیے مزید مہلت طلب کی گئی،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیسز پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداددہشت گردی عدالت لاہور نے آمنہ عروج اور یاسر علی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی،ملزمہ کو خلیل الرحمن قمر کی جانب سے ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا،ایف آئی آر چار دنوں کی تاخیر کے بعد درج ہوئی جس سے پراسیکیوشن کا کیس بری طرح متاثر ہوتا ہے،لاہور ہائی کورٹ آمنہ عروج اور یاسر علی جی درخواست ضمانت منظور کرے،

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کے انتقال پر مختلف سیاسی، سماجی و کشمیری جماعتوں کے رہنماؤں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر عبدالرحمن مکی تحریک پاکستان کے عظیم روح رواں پروفیسر عبداللہ بہاولپوری کے عظیم بیٹے تھے، انکی امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کیلئے علمی و فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وطن عزیز پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت کے خلاف اور فتنہ خوارج کے رد میں ان کی کاوشوں کو یاد رکھا جائے گا،، وہ کشمیری اور فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی توانا آواز تھے ان کے وصال سے جو علمی و فکری خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا .

    ان خیالات کا اظہار سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعودسندھو ، ہدیۃ الہادی کے چیئرمین پیر سید ہارون گیلانی، قائد اعظم یونیورسٹی شعبہ قانون کے سربراہ ڈاکٹر عزیز الرحمان، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما رانا نصر اللہ ، مسلم لیگ ن اوورسیز کے رہنما حافظ امیر علی اعوان، اے این پی کے رہنما امیر بہادر خان، مولانا ھود، مولانا امیر حمزہ، مفتی محمد یوسف طیبی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما قاری محمد یعقوب شیخ، محمد سرور چوہدری، فیصل ندیم، چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،شیخ فیاض احمد، چوہدری حمید الحسن، محمد احسن تارڑ ودیگر نے پروفیسر عبدالرحمن مکی کے انتقال پر ان کے بھانجے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ محمد طلحہ سعید سے ملاقات میں تعزیتی کلمات بیان کرتے ہوئے کہے،

    مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے پروفیسر حافظ محمد طلحہ سعید کے کے گھر جوہر ٹاؤن میں ملاقات کیلئے سارا دن وفود کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، تعزیتی پیغام میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر عبدالرحمن مکی نہایت بہترین درجے کے متقی اور پرہیزگار انسان تھے، وہ ہمارے مربی اور اتحاد امت کے داعی تھے، ان میں پاکستانیت اور امت مسلمہ کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، پروفیسر عبدالرحمن مکی مرحوم نے مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اور اتحاد امت و فرقہ واریت کے خلاف جو عظیم کوششیں کی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو قبول فرمائے اور پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین

    ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات پر تعزیت کیلئے مختلف جماعتوں کےوفود کی آمد کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری رہا، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جاوید اکرم،چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی، چیئرمین تحریک دعوت توحید میاں جمیل،کنونیئر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی،سربراہ اہل سنت والجماعت علامہ احمد لدھیانوی ، سید صلاح الدین ، کشمیری صحافی وکالم نگار عبدالرافع رسول ،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نصیر احمد نئیر،ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان آغا عمر، عظمیٰ گل دختر جنرل حمید گل، انجمن تاجران کے صدر حاجی محمد حنیف سمیت مختلف مذہبی ،سیاسی،وسماجی شخصیات نے جوہر ٹاؤن میں ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات پر ان کے بیٹے عبدالمنعم اور بھانجے پروفیسر حافظ طلحہ سعید نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا ،

    جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جاوید اکرم،مولانا طاہر اشرفی،میاں جمیل ،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی سمیت دیگر رہنمائوں کا اس موقع پر تعزیتی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زمانہ طالب علمی سے عبدالرحمن مکی ایک پختہ عقیدے کے مضبوط لیڈر تھے،جری ، بہادر اور حق بات کہنے سے کبھی عار نہیں کھاتے تھے، موت سب کو آنی ہے لیکن ان کی موت قابل فخر ہے کہ ساری زندگی اللہ کی راہ میں کھڑے رہے، ان کا اس دنیا سے جانا پوری دنیا کے تحریکی مسلمانوں کا نقصان ہے،پروفیسر عبدالرحمن مکی کی وفات ایک مشترکہ سانحہ ہے،یہ دکھ صرف انکی جماعت کا نہیں بلکہ یہ مشترکہ دکھ ہے۔

    کشمیری حریت رہنمائوں کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج سایہ شفقت سے محروم ہوگئے ہیں، سید علی گیلانی کے بعد آج ہم خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں، پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی ہمارے رہنما اور ہم کشمیریوں کی توانا آواز تھےانکی زندگی بھی قابل رشک تھی اور ان کی موت بھی قابل رشک ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائےآمین

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

    حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی چل بسے

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

  • پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایک اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سعودی عرب سے ملتان جانے والی پرواز کے مسافر 12 گھنٹے سے لاہور ایئر پورٹ پر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔

    پی آئی اے کی پرواز جدہ سے ملتان کے لیے روانہ ہوئی تھی، لیکن خراب موسم اور دھند کی وجہ سے اسے لاہور اتارنا پڑا۔مسافروں کا کہنا ہے کہ جب پرواز لاہور پہنچی تو انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جلد ہی ملتان روانہ کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی حل نہیں نکالا گیا۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور پی آئی اے کے عملے کے ساتھ ان کے برتاؤ کو لے کر شدید غم و غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مسافروں کی ایک ویڈیو سانے آئی ہے جس میں وہ احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ وہ رات 11 بجے سے ایئر پورٹ پر بیٹھے ہیں اور انہیں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ اگلے کچھ وقت میں پرواز ملتان کے لیے روانہ ہو جائے گی۔ تاہم، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ گھنٹوں گزر جانے کے باوجود ملتان روانہ نہیں ہو سکے۔ویڈیو میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور تمام مسافر پی آئی اے کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ "ہم نے پی آئی اے پر بھروسہ کیا تھا لیکن اب یہاں آ کر ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے کتنا بڑا غلط فیصلہ کیا تھا۔”مسافروں کی جانب سے مزید شکایات یہ بھی ہیں کہ ایئر پورٹ پر کوئی مناسب رہنمائی یا سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے رابطہ کرنے کے لئے کوئی نمبر نہیں دیا جا رہا اور پی آئی اے کا عملہ صرف وقت گزاری کر رہا ہے، جبکہ مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ لاہور ایئر پورٹ پر اس وقت پی آئی اے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مسافر اس وقت تک ایئرپورٹ پر موجود ہیں جب تک کہ ان کا معاملہ حل نہیں کیا جاتا۔

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • موٹرسائیکل چلانے کی تربیت،پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب اہم قدم

    موٹرسائیکل چلانے کی تربیت،پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب اہم قدم

    پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب ایک اہم قدم سامنے آیا ہے "ویمن آن وھیلز” پروگرام نے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دے کر ان کی زندگیوں میں تبدیلی لائی ہے

    22 سالہ لا ئبہ رشید، ایک پاکستانی طالبہ، نے اپنی زندگی میں ایک نیا موڑ لانے کی امید ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ لاہور میں "ویمن آن وھیلز” پروگرام کے تحت موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے خواتین کو دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ خود مختار بن سکیں اور مردوں پر اپنی روزمرہ کی نقل و حرکت کے لیے انحصار نہ کریں۔یہ پروگرام سات سال قبل شروع ہوا تھا، لیکن پاکستان جیسے روایتی اور اسلامی معاشرتی ڈھانچے میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینا ابھی بھی ایک نیا رجحان ہے۔ خواتین کا مرد رشتہ دار کے پیچھے بیٹھی ہونا یا گاڑی چلانا زیادہ قابل قبول سمجھا جاتا ہے، لیکن لا ئبہ رشید جیسے نوجوان اب اس روایت کو بدلنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔لا ئبہ رشید نے رائٹرز کو بتایا: "میں امید کرتی ہوں کہ موٹر سائیکل چلانے کے بعد میری زندگی میں تبدیلی آئے گی کیونکہ مجھے اپنے بھائی پر انحصار کرنا پڑتا ہے کہ وہ مجھے کالج چھوڑے اور لے آئے۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ اب خود موٹر سائیکل خرید کر کالج جانا چاہتی ہیں، کیونکہ ان کے خاندان میں پہلے کوئی بھی خاتون موٹر سائیکل نہیں چلاتی تھی۔

    ویمن آن وھیلز پروگرام 2017 میں لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد خواتین کو دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے کی تربیت فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 6600 خواتین کو تربیت دی جا چکی ہے۔ پروگرام میں مختلف عمر کی خواتین حصہ لیتی ہیں، جن میں طالبات سے لے کر گھریلو خواتین تک شامل ہیں۔پروگرام کے ایک تربیت دینے والی خاتون، حمیرا رفاقت، جو خود سینئر ٹریفک وارڈن ہیں، نے بتایا کہ خواتین تیز رفتاری سے سیکھتی ہیں کیونکہ ان میں جوش و جذبہ ہوتا ہے اور وہ خطرات مول لینے سے نہیں گھبراتیں۔ حمیرا نے اب تک 1000 سے زائد خواتین کو تربیت دی ہے۔

    پاکستان میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا ایک ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے ممنوع سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ پروگرام خواتین میں اعتماد اور خودمختاری کے حصول کا ذریعہ بن چکا ہے۔ سماجی کارکن بشری اقبال حسین نے کہا کہ "ویمن آن وھیلز” پروگرام ثقافت میں تبدیلی لا رہا ہے اور 1980 کی دہائی میں گاڑیوں کے استعمال کی طرح خواتین اب موٹر سائیکلوں کی جانب بھی بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا: "خواتین اپنی نقل و حرکت میں آزادی حاصل کرنے کے لیے اس پروگرام میں حصہ لے رہی ہیں تاکہ وہ اپنے کام، اسکول، اور بازاروں تک پہنچنے کے لیے مردوں پر انحصار نہ کریں۔”

    پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے۔ اب لوگ گاڑی خریدنے کی بجائے سستی متبادل کے طور پر موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں۔ آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار محمد ابرار پولانی کے مطابق، "پاکستان میں سب سے سستی گاڑی کی قیمت تقریباً 2.3 ملین روپے ہے، جبکہ سب سے سستی چینی موٹر سائیکل کی قیمت تقریباً 115,000 روپے ہے، جو زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے قابل برداشت ہے۔”

    ویمن آن وھیلز پروگرام میں تربیت حاصل کرنے والی 23 سالہ غنیہ رضا، جو کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ ہیں، نے بتایا کہ موٹر سائیکل چلانا ان کے لیے ایک عظیم کامیابی کا احساس ہے: "یہ ایک شیشے کی چھت کو توڑنے جیسا تھا۔”

    36 سالہ شمائلہ شفیق، جو تین بچوں کی ماں اور جز وقتی فیشن ڈیزائنر ہیں، نے اس پروگرام کے بعد اپنے شوہر کی موٹر سائیکل پر مارکیٹ جانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل چلانے کے دوران عورتوں کے لیے ایک خاص طرح کا چھوٹا عبایہ ڈیزائن کیا ہے جو ڈرائیونگ کے دوران محفوظ رہنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ "لمبے عبایہ میں ڈرائیونگ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پہیوں میں پھنس سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

    ویمن آن وھیلز پروگرام نے پاکستان میں خواتین کی خودمختاری کے لیے ایک نیا باب کھولا ہے، جہاں خواتین اب روایتی طرزِ زندگی سے باہر نکل کر اپنی نقل و حرکت کے فیصلے خود کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کی کامیابی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا غماز ہے کہ خواتین اب خود مختار بننے کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔یہ پروگرام نہ صرف پاکستانی خواتین کے لیے ایک تربیتی موقع ہے بلکہ یہ ان کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ وہ معاشرتی رکاوٹوں کو توڑ کر اپنی زندگیوں میں نئی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

    ایتھوپیا،ٹرک دریا میں گرنے سے 71 افراد کی موت

    بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش،دو خواتین گرفتار

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

  • جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا کے نگران صدر چوہی سنگ موک نے پیر کے روز ملک کی تمام فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ تفتیش کار اس بدترین فضائی حادثے کے متاثرین کی شناخت کرنے اور اس کے سبب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں، جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    یہ حادثہ جےجو ایئر کی پرواز 7C2216 کے ساتھ پیش آیا، جو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔ جہاز ایک بویئنگ 737-800 تھا جو زمین پر اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 175 مسافر اور چھ میں سے چار عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے، جبکہ دو عملے کے ارکان کو زندہ نکال لیا گیا۔پرواز 7C2216 جب موان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو جہاز کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور یہ رن وے کے آخر تک پھسلتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے جہاز میں زبردست آگ بھڑک اُٹھی۔ تحقیقاتی حکام مختلف عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پرندوں کے ٹکراؤ اور موسمی حالات شامل ہیں۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جہاز اتنی تیز رفتاری سے کیوں چل رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران اس کا گیئر نیچے کیوں نہیں تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کی تمام فضائی کمپنیوں کے 101 بویئنگ 737-800 جہازوں کی خصوصی جانچ کی جائے یا نہیں۔ نگران صدر چوہی سنگ-موک نے اپنے بیان میں کہا کہ "حادثے کی تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے جاری رکھا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد اطلاع دی جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فضائی حادثے کی روک تھام کی جا سکے۔

    مذکورہ حادثے کے وقت، طیارہ کے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی تھی کہ جہاز پر پرندے کے ٹکراؤ کا سامنا ہوا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں اس علاقے میں پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور پھر پائلٹس نے مے ڈے سگنل جاری کیا اور لینڈنگ کو منسوخ کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تاہم، چند لمحوں بعد جہاز رن وے پر بلی لینڈنگ کرتے ہوئے اختتام پر موجود دیوار سے ٹکرا گیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر وہ افراد شامل ہیں جو تھائی لینڈ سے تعطیلات کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جن میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے۔ موان ایئرپورٹ پر لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن پارک ہن-شین نے بتایا کہ ان کے بھائی کی شناخت ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی تک اس کا جسم نہیں دیکھ پائے۔حکام نے کہا کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر مل گیا ہے لیکن اس پر کچھ بیرونی نقصان آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈیٹا تحلیل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔

    موان ایئرپورٹ تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن ملک کے دیگر ایئرپورٹس، بشمول انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عالمی ہوابازی کے ضوابط کے مطابق جنوبی کوریا اس حادثے کی سول تحقیقات کی قیادت کرے گا اور اس میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ بویئنگ 737-800 جہاز کو امریکہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے کی کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی