Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے لندن کے مئیر صادق خان کو نائٹ کا اعزاز عطا کیا ہے۔

    یہ اعزاز صادق خان کو لندن کے عوام کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اعزاز سے لندن شہر کی ترقی اور وہاں کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لئے صادق خان کی طویل محنت کو سراہا گیا ہے۔صادق خان، جو اس سال مسلسل تیسری مرتبہ لندن کے مئیر منتخب ہوئے ہیں، نے اپنے کیریئر میں شہر کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں لندن نے معاشی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی کی ہے اور شہر نے عالمی سطح پر اہمیت حاصل کی ہے۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی یہ خیال نہیں تھا کہ وہ جنوبی لندن میں اپنے بچپن کے دوران ایک دن لندن کے مئیر بنیں گے۔

    صادق خان نے اس اعزاز کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ جس شہر سے محبت کرتے ہیں، اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "نائٹ کا اعزاز ملنا میرے لئے ایک بہت بڑی فخر کی بات ہے، اور یہ میرے لئے ایک نئی ذمہ داری ہے جس کا مجھے بخوبی احساس ہے۔”

    صادق خان کو نائٹ کے اعزاز سے نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس اعزاز کے بعد اب صادق خان کے نام کے ساتھ "سر” بھی لکھا جائے گا، جو ایک اہم اور معتبر خطاب ہے۔ نائٹ کا اعزاز برطانیہ میں کسی شخص کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی سے ہوتا ہے۔

    صادق خان نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزاز ان کی محنت کا تسلیم ہے، اور وہ آئندہ بھی لندن کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "لندن دنیا کا بہترین شہر ہے اور اس کی خدمت کرنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔”

    یہ نائٹ کا اعزاز ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک تاریخی لمحہ ہے، جو نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ عوامی خدمت اور کامیابی کی راہ میں محنت اور لگن کی اہمیت ہے۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لمی نے صادق خان کو نائٹ کا اعزاز ملنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ صادق خان نے لندن میں صاف ہوا، مفت اسکول کے کھانے اور کونسل ہاؤسنگ کے ریکارڈ منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا کابینہ کا رکن اور لندن کا مئیر بن سکتا ہے۔

    صادق خان 53 سالہ برطانوی پاکستانی سیاستدان ہیں جو لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں 1970 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پاکستان سے برطانیہ ہجرت کر کے بس ڈرائیور بنے تھے، اور صادق خان نے اپنے بچپن کی بیشتر زندگی ایک council provided flat میں گزاری۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 2005 سے 2016 تک ممبر آف پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔صادق خان کی سیاسی زندگی کا آغاز ونسورتھ کونسل سے کونسلر کے طور پر ہوا، صادق خان نے مئیر کے طور پر متعدد اہم اقدامات اٹھائے جن میں "ہاپر اسکیم” شامل ہے جس کے ذریعے مسافر ایک گھنٹے میں جتنی بار چاہیں بسوں اور ٹراموں کا سفر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لندن کی ہوا کو صاف کرنے کے لیے متنازعہ "آلٹرنیشن زون اسکیم” بھی متعارف کرائی۔انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور غزہ میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔ حالیہ انتخابات میں، صادق خان نے مفت اسکول کھانے کی فراہمی، کرایے میں کمی، پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ اور مزید کونسل ہاؤسنگ کی تعمیر کے وعدے کیے تھے۔

  • پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب

    پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نےچشمہ نیوکلیئر پاور پراجیکٹ یونٹ 5 کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان چین دوستی کا عظیم استعارہ ہے،

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر انرجی توانائی بحران کا دیرپا حل ہے۔چشمہ نیوکلیئر منصوبہ ترقی اور خوشحالی کا سنگ میل ہے، چشمہ یونٹ-5 سے قومی گرڈ میں مزید بجلی شامل ہوگی ۔ماحول دوست توانائی کے لیے نیوکلیئر انرجی کا فروغ اہم ہے۔ پاکستان اور چین کا تعاون مشترکہ کامیابی کی ضمانت ہے۔ تمام معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن کے وژن 2035 کے مطابق ترقی کر رہا ہے، آج ملک ان ہاتھوں میں ہے جو پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،سی پیک خطے کی ترقی کااہم منصوبہ ہے،پاک ،چین کوریڈورصدرشی جن پنگ کاویژنری منصوبہ ہے

    وفاقی وزیرجام کمال نےتقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان عظیم قربانیوں کے بعدحاصل ہوا،مسلم لیگ کی قیادت نے ملک کوتعمیروترقی کے راستے پرگامزن کیا،بیرونی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں،پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں،مسلم لیگ اور اتحادی سچی نیت سے ملک کی بہتری کیلئےکوشاں ہیں،

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے الیکشن مہم میں جو وعدے کئے تھے ان پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کر رہی ہے سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے چشمہ کے مقام پر میانوالی میں پاکستان کے سب سے بڑے 12 میگاواٹ کے نیو کلئیر پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کر دی اس منصوبے پر پانچ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

    قبل ازیں پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی نے چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ 5 کیلئے تعمیراتی لائسنس جاری کر دیاگیا تھا، چشمہ پاور پلانٹ فائیو نیوکلیئر ذرائع سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا سب سے پاور پلانٹ ہوگا،پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ فائیو کے تعمیراتی لائسنس کیلئے اپریل 2024 میں درخواست دی تھی جس کے ساتھ ابتدائی حفاظتی جائزہ رپورٹ اور دیگر متعلقہ ضروری دستاویزات بھی جمع کروائی گئیں،ان دستاویزات میں ری ایکٹر کے ڈیزائن، جوہری مواد کے محفوظ استعمال، تابکاری سے تحفظ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانےاور نیوکلیئر سکیورٹی جیسے تمام پہلو شامل تھے،اتھارٹی نے تمام دستاویزات کے مفصل جائزے اور متعلقہ قومی وبین الاقوامی معیارات اورریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل کے بعد لائسنس جاری کیا۔

    چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ فائو کے لیے پہلے کنکریٹ پورنگ کا آغاز ہو چکا،تعمیراتی کام کے آغاز سے تکمیل تک 84 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 5 کا سنگ بنیاد گذشتہ سال 14 جولائی 2023 کو رکھا گیا تھا،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک میں 6 ایٹمی بجلی گھروں سے 3530 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت چشمہ اور کراچی میں نیوکلیئر پاور کمپلیکس کام کر رہے ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 4 یونٹ جبکہ کراچی میں 2 یونٹ کام کر رہے ہیں،کراچی نیوکلیئر پاور پروجیکٹ کے یونٹ کے 2 اور کے 3 سے 2200 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ میں چار یونٹ سے مجموعی طور پر 1330 میگا واٹ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ کے مقام پر سی ون اور سی ٹو یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 650 میگاواٹ ہے،سی 3 اور سی 4 یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 680 میگا واٹ ہے،سی فائیو 1200 میگا واٹ صلاحیت کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہوگا،کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے دونوں یونٹ چین کے اے سی پی 1000 ڈیزائن پر مبنی ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے موجودہ چاروں یونٹ پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہیں،سی فائیو جنریشن تھری کا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہو گا

    ترجمان پی اے ای سی کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن بجلی گھروں کی ری فیولنگ آؤٹیج ملکی افرادی قوت سے کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی ریفیولنگ آؤٹیج کا کام مقامی افرادی قوت سے کراکے قیمتی زر مبادلہ بھی بچا رہا ہے،پاکستان کے تمام ایٹمی بجلی گھر آئی اے ای کے سیف گارڈز میں ہیں،2023 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے اپنی توانائی کی قومی ضرورت کا 17.2 فیصد ایٹمی پاور پلانٹس سے حاصل کیا،ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو ایٹمی پاور پلانٹس جیسے زیرو ایمیشن والے توانائی ذرائع کی ضرورت ہے۔نیوکلیئر پاور پلانٹس سے بجلی انتہائی کم قیمت یعنی تقریباً 15 روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ جس میں فیول کی لاگت صرف ڈیڑھ روپے قریب ہے۔

    واضح رہے کہ چین اور پاکستان نے چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رکھے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ چشمہ 5نیوکلیئر پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا۔12 سو میگاواٹ جوہری پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا، چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ 1200 میگاواٹ صلاحیت کا حامل ہے، منصوبے کی کل لاگت 400 ارب ڈالر ہے، گزشتہ حکومت نے اس منصوبے کو سردخانے میں ڈال دیا تھا۔

    نجی اسکولوں سے ٹیکس وصول کرکے سرکاری اسکولوں میں استعمال کرنے کا فیصلہ

    گوجرانوالہ: اصلاحی جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل میلاد و حق باہو کانفرنس کا انعقاد

  • ریلوے سٹیشن کی چھت گرنے سے 15 اموات،سابق وزیرسمیت 13 پر فردجرم عائد

    ریلوے سٹیشن کی چھت گرنے سے 15 اموات،سابق وزیرسمیت 13 پر فردجرم عائد

    سربیا کے شمالی شہر نووی ساد میں گزشتہ ماہ ٹرین اسٹیشن کی چھت کے گرنے کے حادثے میں 13 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ بھی شامل ہیں۔

    یہ واقعہ 1 نومبر کو پیش آیا تھا جس میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ متاثرین کی عمریں 6 سے 74 سال کے درمیان تھیں۔ اس حادثے میں حالیہ طور پر تجدید شدہ کانکریٹ کی چھت اچانک گر گئی، جس سے 14 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ 15 واں شخص اسپتال میں چند ہفتوں بعد موت کا شکار ہو گیا۔واقعہ کے بعد سربیا کی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس سانحے کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ عوام نے اس حادثے کو کرپشن اور تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی میں ناکامی کا نتیجہ قرار دیا۔ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    پیر کے روز نووی ساد کی ہائیر پبلک پراسیکیوشن آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 13 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے جن میں سابق وزیرِ انفراسٹرکچر گوران ویسیچ، ان کے نائب، اور تجدیدی منصوبے کے ڈیزائنرز و سپروائزرز شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا، "فرد جرم اس بات کے جواز پر عائد کی گئی ہے کہ ان افراد نے عام حفاظت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا، جس سے عام خطرہ پیدا ہوا اور غیر معمولی اور غلط تعمیراتی کاموں کا انجام دیا گیا۔”گوران ویسیچ ان افراد میں شامل ہیں جن پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ تاہم، سربیا کے قانون کے مطابق، فرد جرم میں ملزمان کے نام صرف ان کے ابتدائی حروف سے ہی شناخت کیے گئے ہیں۔

    وزیرِ تجارت ٹومسلاو مومیرونووچ اور ریاستی زیر انتظام سربین ریلویز کے سربراہ نے اس واقعے کے بعد اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ویسیچ نے 4 نومبر کو استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے حادثے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا تھا۔21 نومبر کو پولیس نے اس حادثے سے متعلق 11 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں ویسیچ بھی شامل تھے، جنہیں عدالت نے 27 نومبر کو حراست سے رہا کر دیا تھا۔

    پراسیکیوشن نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ حادثے کے سلسلے میں حراست میں موجود 10 افراد کو جیل میں رکھے، جبکہ تین افراد کو جنہیں تفتیش مکمل ہونے تک رہا کیا گیا تھا، دوبارہ حراست میں لیا جائے۔سربیا کے پاپولسٹ صدر، الیگزینڈر ووکچ نے کہا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اس سانحے کے بعد ہونے والے تازہ ترین مظاہرے میں بیلگراد (دارالحکومت) میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرے، وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں اور جن افراد کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔طلبہ نے بھی ان مظاہروں میں شامل ہو کر سربیا کی بیشتر یونیورسٹیوں کے کام کاج کو ایک ماہ کے لیے بند کر دیا۔ طلبہ نے شفاف تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا۔

    غزہ کے باسیوں کیلئے سرد موسم بھی آزمائش،چھ بچوں کی اموات

    کرم: جاری خانہ جنگی میں صحافی کے گھر اور دفتر کو نقصان

  • غزہ کے باسیوں کیلئے سرد موسم بھی آزمائش،چھ بچوں کی اموات

    غزہ کے باسیوں کیلئے سرد موسم بھی آزمائش،چھ بچوں کی اموات

    غزہ کے الاقصیٰ شہداء اسپتال میں ایک ماہ کے علی البطّران کی موت ہوگئی ہے جو شدید سردی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا۔ وہ اپنے جڑواں بھائی کے بعد اسی وجہ سے ہلاک ہونے والا چھٹا بچہ تھا، جو ایک دن قبل اسی اسپتال میں وفات پا چکا تھا،

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر حسام ابو صفیہ، جو کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ہیں، کو اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز اسپتال پر حملہ کر کے گرفتار کر لیا تھا اور انہیں فوجی اڈے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی افواج اسپتال میں داخل ہو کر اسے آگ لگا دی تھی،اسرائیلی افواج نے غزہ پر حملے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس کے نتیجے میں 30 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن میں سے 7 افراد غزہ سٹی کے الوفاء اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق ہوئے۔ قریبی اہلی اسپتال بھی گولہ باری کی زد میں آیا۔

    غزہمیں اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 45,541 فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ 108,338 افراد زخمی ہیں۔ اسرائیل میں اس دوران ہونے والے حماس کے حملوں میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 200 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

    غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ سردی کی شدت کے باعث مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔”یہاں کے لوگ شدید سردی کی وجہ سے لرز رہے ہیں اور سرد موسم کی وجہ سے پریشان ہیں،” وزارت صحت کے ترجمان نے کہا۔ خاص طور پر المواسی میں مقیم لوگ جو ساحل کے قریب ہیں، سردی کی شدت سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جو پچھلے 14 ماہ سے بے گھر ہیں اور انہی ٹینٹس میں رہ رہے ہیں جو سردی اور موسم کی شدت سے بچاؤ کے لئے ناکافی ہیں۔ایسی حالت میں ٹینٹس کی مرمت یا نئے سامان کی خریداری نہایت مشکل اور مہنگی ہے۔ سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب گرم کپڑے، کمبل اور دیگر ضروری سامان کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے۔پریشان حال والدین اپنے بچوں کی موت سے خوفزدہ ہیں، جو نہ صرف سردی سے مر رہے ہیں بلکہ بھوک اور اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے بھی جان گنوا رہے ہیں۔

    ایک فلسطینی صحافی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں ایک والد کو اپنے جوان بیٹے کی موت پر غمگین دکھایا گیا ہے۔ یہ بچہ اسرائیلی فضائی حملے میں نصیرات پناہ گزین کیمپ میں مارا گیا تھا۔ والد اپنے بیٹے کے جسم کو کمبل میں لپیٹ کر، اس سے کہہ رہا ہے، "سو جاؤ، میری جان۔ میرے پیارے، تم گرم ہو نا؟”

    تصویری صحافی عبدالکریم ابو ریش نے اس منظر کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا: "ایسی منظرکشی کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ فلسطینی عوام کی کہانی بیان کرتا ہے جو روزانہ کی اذیت جھیلتے ہیں اور اپنے پیاروں کو کھو دینے کے باوجود اپنی عزت نفس اور ثابت قدمی کو کبھی نہیں چھوڑتے۔”اس وقت غزہ میں حالات انتہائی سنگین ہیں اور اس انسانی المیے کے درمیان عالمی برادری کی طرف سے فوری مدد اور مداخلت کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سیالکوٹ: آبادی میں بے تحاشا اضافہ ملک کی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے . ڈپٹی کمشنر

    کرم: جاری خانہ جنگی میں صحافی کے گھر اور دفتر کو نقصان

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    طالبان کا خواتین کے پردے کو یقینی بنانے کے لیے کھڑکیوں پر پابندی، نئے حکم نامے کا اجرا

    افغان طالبان حکومت نے خواتین کے پردے کے تحفظ کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں رہائشی عمارتوں میں کھڑکیوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نئے حکم نامے کے مطابق، طالبان حکومت نے نہ صرف نئے گھروں میں کھڑکیاں بنانے سے منع کیا ہے بلکہ موجودہ عمارتوں میں بنائی گئی کھڑکیوں کو بھی بلاک کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ پڑوسیوں کے گھروں میں خواتین کی سرگرمیوں کو دیکھنا ممکن نہ ہو۔

    حکم نامے میں میونسپل حکام اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تعمیراتی مقامات کی سخت نگرانی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی نیا گھر یا عمارت ایسی کھڑکیاں نہ بنائے جو کسی پڑوسی کے گھر یا عوامی مقامات کی طرف کھلیں۔ اس حکم نامے کا مقصد خواتین کو غیر ضروری نظراندازی سے بچانا اور ان کے پردے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بارے میں ایک پوسٹ بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ "نئے گھروں میں ایسی کھڑکیاں نہیں ہونی چاہیے جن سے صحن، کچن، پڑوسی کے کنویں یا خواتین کے زیر استعمال کسی بھی جگہ کی جھلک دکھائی دے۔” ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو کچن میں کام کرتے ہوئے، برآمدے میں آتے جاتے یا کنویں سے پانی لیتے ہوئے دیکھنا فحاشی کی علامات ہو سکتا ہے، جو طالبان حکومت کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔اس حکم نامے کے تحت، جو گھروں میں پہلے سے ایسی کھڑکیاں موجود ہیں جو پڑوسیوں کے گھروں کی طرف کھلتی ہیں، ان کے مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان کھڑکیوں کو بلاک کریں یا دیوار بنا کر چھپائیں تاکہ باہر سے کسی کو گھر کے اندر جھانکنے کا موقع نہ ملے۔ طالبان نے کہا ہے کہ گھر کے مالکان کو اس بات کی ترغیب دی جائے گی کہ وہ ایسی کھڑکیاں یا کھلی جگہیں مکمل طور پر ختم کردیں تاکہ پڑوسیوں یا دوسرے افراد کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

    یہ حکم طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے پردے کے اصولوں کو مزید سخت بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔ طالبان کے مطابق خواتین کا تحفظ اور پردہ برقرار رکھنا ان کے معاشرتی و ثقافتی اصولوں کا حصہ ہے، اور اس سلسلے میں حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن میں خواتین کو گھروں سے باہر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے سے بھی محدود کیا گیا ہے۔افغان طالبان کے اس اقدام پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے اور خواتین کے حقوق کے کارکنان ان اقدامات کو خواتین کے حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں اور ان کی آزادیوں پر مزید پابندی کی مذمت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، طالبان حکومت اپنے اقدامات کو اسلامی معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ضرورت قرار دیتی ہے۔طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے اس نئے حکم سے افغان معاشرے میں خواتین کی عزت اور وقار کو بڑھایا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین کا پردہ برقرار رہے۔

    دوسری جانب عبوری افغان حکومت کی وزارت اقتصادیات نے ایک بار پھر غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے حکم نامے کو دوبارہ نافذ کر دیا ہے۔ افغان طالبان کے سپریم لیڈر کے سابقہ حکم نامہ میں توسیع کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہےکہ ایسے دفاتر میں خواتین کو نظر نہیں آناچاہیے۔وزارت نے خبردار کیا کہ اگر کوئی این جی او اس کی تعمیل نہیں کرتی ہے تو ان کی افغانستان میں کام کرنے کی حیثیت منسوخ کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ خواتین پر گزشتہ دو سالوں سے بین الاقوامی این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی عائد ہے۔

    لنڈی کوتل میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ، عوام سراپا احتجاج

    لنڈی کوتل: کھیل امن کے لیے۔ تاتارا کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

  • ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    تمباکو نوشی کی عادت کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے، مگر صرف ایک سگریٹ پینے کے بعد جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حالیہ برطانوی تحقیق نے دیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو نوشی سے نہ صرف جسم پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے زندگی کی مدت بھی کم ہو جاتی ہے۔

    لندن کالج یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سگریٹ پینے سے انسان کی عمر میں 20 منٹ کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص روزانہ ایک پورا پیکٹ (20 سگریٹ) پیتا ہے تو اس کی زندگی میں تقریباً 7 گھنٹے کی کمی آجاتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ 10 سگریٹ پینے والا فرد یکم جنوری کو تمباکو نوشی چھوڑ دے اور 5 فروری تک سگریٹ سے گریز کرے تو اس کی زندگی میں ایک ہفتے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر وہ شخص 5 اگست تک تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کر دے تو اس کی زندگی کی مدت میں پورے ایک مہینے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سال کے آخر تک اس کی عمر میں 50 دنوں کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ اس کو تمباکو نوشی کی عادت سے بچانے کے مترادف ہے۔

    محققین نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ علم ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر ان کے خیال میں اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ہر فرد کو اوسطاً اپنی زندگی کے 10 قیمتی سالوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔اس تحقیق کے لیے برسٹل ڈاکٹرز اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1951 میں 10 لاکھ خواتین پر شروع ہوئی تھی اور 1996 تک جاری رہی۔ اس سے پہلے 2000 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک سگریٹ پینے سے عمر میں 11 منٹ کی کمی آتی ہے، تاہم، اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سگریٹ سے مردوں کی عمر میں 17 منٹ اور خواتین کی عمر میں 22 منٹ کی کمی آتی ہے۔

    محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے نتیجے میں درمیانی عمر کے افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں ان کی صحت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ اس عادت کا اثر نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی اور جذباتی حالت پر بھی پڑتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق، محققین نے لوگوں کو اپنی صحت کے لیے تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عمر میں تمباکو نوشی کو چھوڑنا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ تاہم، جتنا جلدی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تمباکو نوشی صرف سنگین بیماریوں کا سبب نہیں بنتی بلکہ ایک سگریٹ پینے سے بھی انسان کی عمر میں فوری طور پر کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر لوگ تمباکو نوشی کی عادت چھوڑنے کا فیصلہ کریں تو یہ ان کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، تمباکو نوشی کو ترک کرنے کی کوشش کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکے۔

    یہ تحقیق جرنل آف ایڈکشن میں شائع ہوئی ہے اور اس نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کو واضح کیا ہے، جو کہ لوگوں کو اس عادت کو ترک کرنے کے لیے مزید قائل کر سکتی ہے۔

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    کپڑوں کی آڑ میں غیر ملکی سگریٹس،کمپیوٹر ایل سی ڈیزاسمگل کی کوشش ناکام

  • سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم  کا اظہارِ افسوس

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم کا اظہارِ افسوس

    امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر کی وفات پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ، امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا پیغام بھیجا ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ "ہم جمی کارٹر کے خاندان، امریکی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جمی کارٹر کی زندگی عالمی امن کے فروغ اور انسانی حقوق کے لیے ایک روشن مثال ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔صدر زرداری نے مزید کہا کہ جمی کارٹر کا کردار عالمی سطح پر مثالی تھا، اور ان کی کوششوں نے دنیا بھر میں امن اور انسانیت کے لیے نیا راستہ دکھایا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جمی کارٹر کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔” وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ "میں جمی کارٹر کے اہلِ خانہ اور امریکی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”شہباز شریف نے کہا کہ "جمی کارٹر کی قیادت کے اعلیٰ اوصاف اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر نے دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی ترقی کے لیے اہم اقدامات اٹھائے، اور ان کا شمار دنیا کے عظیم رہنماؤں میں کیا جائے گا۔

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے 1977 سے 1981 تک امریکا کی صدارت کے فرائض سر انجام دیے۔ ان کی صدارت کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ، عالمی امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک میں امداد کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کی قیادت میں امریکا نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے جس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ جمی کارٹر نے "کارٹر سینٹر” کی بنیاد رکھی جو دنیا بھر میں صحت، تعلیم، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کرتا ہے۔جمی کارٹر کی وفات عالمی سطح پر ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    بیٹے نے ماں کی دوسری شادی کروا دی، تصاویر وائرل

    پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

  • پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے انسداد پولیو ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق ، وفاقی سیکرٹری قومی صحت ندیم محبوب ،نیشنل کوآرڈینیٹر , نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر انوار الحق ، عالمی ادارہء صحت کے ڈپٹی نیشنل ٹیم لییڈ ڈاکٹر صوغائر اور سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر محمد صفدر شامل تھے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کو-چیئر بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن محترم بل گیٹس نے مجھے خط لکھا ھے، جس میں انہوں نے پاکستان میں جاری انسداد پولیو مہم اور اس مہم کے لئے کام کرنے والے تمام انسداد پولیو ورکرز کی شبانہ روز محنت تعریف کی ہے ،بل گیٹس فاؤنڈیشن اور تمام ملکی و بین الاقوامی شراکت دارو کے مشکور ہیں جنکی حمایت اور تعاون کی بدولت پاکستان میں صحت کے شعبے میں اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں،صحت کے تمام شعبوں، بشمول انسداد پولیو، میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ صحت عامہ اور دیکھ بھال کی نگرانی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو مہم کے دوران متعلقہ افراد کے پولیو سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے دوروں کا منظم روسٹر ترتیب دیا جائے، تاکہ ان مہمات کو اور زیادہ نتیجہ خیز بنایا جا سکے،بدقسمتی سے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس کے لئے اور زیادہ مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو کسی طور پر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور اس سلسلے میں تمام تر ممکنہ اقدامات لئے جائیں

    وزیر اعظم کو انسداد پولیو کی حالیہ مہم اور اسکے نتائج پر بریفنگ دی گئی،وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مقامی افراد کی مدد سے انسداد پولیو تحریک کو کامیاب بنایا جا رہا ہے۔

    جنگی حالات میں یوکرین میں ثقافتی زندگی کیسے پروان چڑھ رہی

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

  • جنگی حالات میں یوکرین میں ثقافتی زندگی کیسے پروان چڑھ رہی

    جنگی حالات میں یوکرین میں ثقافتی زندگی کیسے پروان چڑھ رہی

    اوہلہ میشریاکووا کو اس بات کا علم نہیں کہ اگلے سال کے دوران یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ان کی زندگی، ان کے خاندان یا ان کے کاروبار کے لئے کیا چیلنجز سامنے آئیں گے۔ تاہم، انہیں پورا یقین ہے کہ 2025 میں وہ کیف کے کئی تھیٹرز میں درجنوں پرفارمنس دیکھنے جائیں گی۔ یہ خیال انہیں ایک امید فراہم کرتا ہے۔

    اوہلہ میشریاکووا، جو کہ ایک کاروباری خاتون ہیں، نے کہا، "یہ ایک مخصوص توقع پیدا کرتا ہے، ایک نوع کی ساخت فراہم کرتا ہے، اور ایک زبردست حمایت کا احساس دیتا ہے جب دنیا میرے ارد گرد پاگل ہو چکی ہے۔ اور میں جانتی ہوں کہ میں مثال کے طور پر 23 دسمبر کو کیا کرنے والی ہوں کیونکہ میں نے ان ٹکٹس کو موسم گرما میں خرید لیا تھا۔ سچ میں، یہ مجھے امید اور مستقبل پر یقین دلاتا ہے۔ یہ کچھ قسم کی جادوگری ہے۔”اوہلہ صرف اس جذبے میں اکیلی نہیں ہیں۔ ایک مقبول پرفارمنس کے ٹکٹس حاصل کرنے کے لئے انہیں، اور یوکرین کے ہزاروں دوسرے افراد کو، کئی مہینے پہلے ان کے لئے شکار کرنا پڑتا ہے۔

    دسمبر کے وسط میں کیف کے مرکزی علاقے میں ایک سیاہ سڑک پر گاڑیاں آہستہ آہستہ چل رہی تھیں، جب سینکڑوں افراد کیف کے تاریخی ایوان فرانکو نیشنل اکیڈمک ڈرامہ تھیٹر کے چھوٹے عمارت کی طرف جا رہے تھے، جو کہ صدارتی رہائش گاہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرین پر حملے کے چھ ماہ بعد تھیٹر دوبارہ کھلا تھا اور تب سے ہر روز وہ بھرا ہوا رہتا ہے۔ اس دوران تھیٹر، اس کے اداکاروں اور ناظرین کی سوچ اور جذبات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ایوگن نِشچک نے 2022 میں فوج میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، جیسا کہ ان کے کئی ساتھیوں نے کیا تھا۔ مثلاً، "تھری کومریڈز” نامی ڈرامہ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے تین اداکار بھی جنگ میں شریک ہوئے اور انہیں محض ایک سال بعد ہی اسٹیج پر واپس آنا نصیب ہوا۔

    ایوگن نِشچک نے سی این این کو بتایا، "رمرک کا پیغام اب بالکل مختلف تھا۔ جنگ کی حقیقت، جو اب سب کو متاثر کر چکی ہے، نے ہمیں بدل کر رکھ دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ناظرین کی تھیٹر کے بارے میں سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے، اور انہیں اس کا لطف لینے کی زیادہ خواہش ہے۔”نِشچک نے اس بدلتے ہوئے احساسات کو اس لیے گہری طرح محسوس کیا کیونکہ وہ اور ان کے ساتھی اب بھی مسلح افواج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ تھیٹر کی پرفارمنس دینے کے لئے انہیں اپنے کمانڈ سے مختصر رخصت ملتی تھی۔

    اس جنگ کے آغاز سے اب تک، ایوان فرانکو ڈرامہ تھیٹر نے 1,500 سے زیادہ پرفارمنسز پیش کی ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ ناظرین نے شرکت کی ہے۔ اس دوران سترہ نئی پرفارمنسز کی نمائش کی گئی، جن میں سے ایک "کونوٹوپ کی جادوگرنی” تھی، جو محبت اور طاقت کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ اس پرفارمنس کے ٹکٹس چند منٹوں میں بک گئے تھے اور کئی یوکرینیوں نے کسی دستیاب ٹکٹ کے لئے ویٹنگ لسٹ میں شامل ہو کر انتظار کیا۔اس کے ڈائریکٹر، ایوان اوریووسکی نے کہا کہ وہ اس پرفارمنس کی کامیابی اور نئے ناظرین کے آ جانے پر حیران ہیں۔ "ہزاروں، لاکھوں ناظرین تھیٹر میں آنا چاہتے ہیں۔ اس کا کوئی خاص وضاحت نہیں ملتی،” انہوں نے سی این این کو بتایا۔

    کیف کے زیادہ تر تھیٹرز میں بھرے ہوئے ہال اور سلیڈ آؤٹ پرفارمنسز معمول کی بات بن چکی ہیں، جیسا کہ ان کی ویب سائٹس اور ای ٹکٹ سروسز سے ظاہر ہوتا ہے۔

    اوریووسکی کہتے ہیں کہ سب ناظرین تھیٹر میں صرف جنگ کی تلخ حقیقت سے بچنے کے لئے نہیں آتے، بلکہ اکثر وہ اس کے برعکس چاہتے ہیں۔ "کچھ لوگ موجودہ وقت میں غوطہ لگانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور خود کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اور انہیں کسی کامیڈی کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ کسی ہلکے پھلکے تفریحی شو کی طرف نہیں جاتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تھیٹر میں کوئی سنجیدہ بات ہو۔ شاید انہیں یہاں رونے کی ضرورت ہو،” اوریووسکی نے کہا۔

    یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے جب تھیٹر میں پرفارمنس کے دوران فضائی حملوں کے سائرن بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں ناظرین کو فوراً تھیٹر کی عمارت چھوڑ کر قریبی میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ اگر خطرہ ایک گھنٹے میں گزر جائے تو پرفارمنس دوبارہ شروع ہو جاتی ہے، ورنہ شو کو کسی اور دن کے لئے ملتوی کر دیا جاتا ہے۔

    یوکرین میں جنگ کے دوران کتابوں کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین کے کتابوں کی دکانوں کی تعداد جنگ سے پہلے تقریباً 200 تھی جو اب بڑھ کر 500 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان میں سب سے بڑی دکان "سینس” ہے جو کیف کی مرکزی سڑک پر جنگ کے دوران کھلی۔ اس دکان میں 57,000 سے زائد کتابیں دستیاب ہیں اور یہ دن کے کسی بھی وقت بھی بھیڑ سے بھری رہتی ہے۔ اس سال، اس دکان کے 5 لاکھ سے زائد گاہک آئے ہیں۔اس کے بانی، اولیکسی ایرنچک کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر ایک کتابوں کی دکان کا آغاز کرنا ان کے لیے منطقی فیصلہ تھا۔ ایرنچک نے جنگ کا آغاز ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان کے مالک کے طور پر کیا تھا جو حملے کے پہلے مہینوں میں رضاکاروں کے لئے مرکز بن گئی۔ بعد میں یہ اتنی مقبول ہوئی کہ ایرنچک کو اس بات کا سوچنا پڑا کہ کہیں بڑی جگہ کی ضرورت نہ پڑے۔”کتاب ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں کو فکری سکون فراہم کرتی ہے اور ہمیں اس وقت اس کی ضرورت ہے،” ایرنچک نے کہا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    مریم نواز کے خوبصورت انداز،ایک بار پھر سوشل میڈیا کو ہائی جیک کر لیا

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت