Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا کے نگران صدر چوہی سنگ موک نے پیر کے روز ملک کی تمام فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ تفتیش کار اس بدترین فضائی حادثے کے متاثرین کی شناخت کرنے اور اس کے سبب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں، جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    یہ حادثہ جےجو ایئر کی پرواز 7C2216 کے ساتھ پیش آیا، جو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔ جہاز ایک بویئنگ 737-800 تھا جو زمین پر اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 175 مسافر اور چھ میں سے چار عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے، جبکہ دو عملے کے ارکان کو زندہ نکال لیا گیا۔پرواز 7C2216 جب موان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو جہاز کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور یہ رن وے کے آخر تک پھسلتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے جہاز میں زبردست آگ بھڑک اُٹھی۔ تحقیقاتی حکام مختلف عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پرندوں کے ٹکراؤ اور موسمی حالات شامل ہیں۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جہاز اتنی تیز رفتاری سے کیوں چل رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران اس کا گیئر نیچے کیوں نہیں تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کی تمام فضائی کمپنیوں کے 101 بویئنگ 737-800 جہازوں کی خصوصی جانچ کی جائے یا نہیں۔ نگران صدر چوہی سنگ-موک نے اپنے بیان میں کہا کہ "حادثے کی تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے جاری رکھا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد اطلاع دی جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فضائی حادثے کی روک تھام کی جا سکے۔

    مذکورہ حادثے کے وقت، طیارہ کے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی تھی کہ جہاز پر پرندے کے ٹکراؤ کا سامنا ہوا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں اس علاقے میں پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور پھر پائلٹس نے مے ڈے سگنل جاری کیا اور لینڈنگ کو منسوخ کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تاہم، چند لمحوں بعد جہاز رن وے پر بلی لینڈنگ کرتے ہوئے اختتام پر موجود دیوار سے ٹکرا گیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر وہ افراد شامل ہیں جو تھائی لینڈ سے تعطیلات کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جن میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے۔ موان ایئرپورٹ پر لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن پارک ہن-شین نے بتایا کہ ان کے بھائی کی شناخت ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی تک اس کا جسم نہیں دیکھ پائے۔حکام نے کہا کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر مل گیا ہے لیکن اس پر کچھ بیرونی نقصان آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈیٹا تحلیل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔

    موان ایئرپورٹ تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن ملک کے دیگر ایئرپورٹس، بشمول انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عالمی ہوابازی کے ضوابط کے مطابق جنوبی کوریا اس حادثے کی سول تحقیقات کی قیادت کرے گا اور اس میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ بویئنگ 737-800 جہاز کو امریکہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے کی کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

  • ایتھوپیا،ٹرک دریا میں گرنے سے 71 افراد کی موت

    ایتھوپیا،ٹرک دریا میں گرنے سے 71 افراد کی موت

    افریقی ملک ایتھوپیا میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک عوامی ٹرک بے قابو ہو کر دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں 71 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق، یہ سانحہ ایتھوپیا کے ضلع بونا میں پیش آیا، جہاں ایک مسافر ٹرک تیز رفتاری کے باعث کنٹرول سے باہر ہو گیا اور دریا میں جا گرا۔حادثے کے بعد مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی حالت میں زخمی افراد کو منتقل کیا گیا، جنہیں بونا جرنل اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایتھوپیا کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق، یہ مسافر شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ مرنے والوں میں 68 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں۔ حادثے کے وقت ٹرک میں سواریوں کی تعداد زیادہ تھی، جس کی وجہ سے اس واقعہ نے شدید نقصان پہنچایا۔

    ایتھوپیا میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک میں ڈرائیونگ کے معیار کی کمی اور گاڑیوں کی فنی حالت کے ناقص ہونے کی وجہ سے ہر سال کئی افسوسناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں کئی افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    یاد رہے کہ 2018 میں بھی ایتھوپیا کے ایک علاقے میں ایک بس کھائی میں گرنے سے 38 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی، جن میں اکثریت طالب علموں کی تھی۔ اس کے بعد سے بھی ایتھوپیا میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، لیکن ابھی تک اس میں کمی آتی دکھائی نہیں دیتی۔اس حادثے پر ایتھوپیا میں سوگ کی فضا ہے اور حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔

    بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش،دو خواتین گرفتار

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

  • بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش،دو خواتین گرفتار

    بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش،دو خواتین گرفتار

    کراچی سے بھیک مانگنے کے لئے سعودی عرب جانے والی دو ہندو خواتین کو امیگریشن حکام نے وزٹ ویزے پر دوران حراست میں لے لیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمہ ایشا دیوی اور نیشو کماری سعودی عرب بھیک مانگنے کے لیے وزٹ ویزے پر روانہ ہو رہی تھیں۔ ایف آئی اے نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ملزمہ ایشا دیوی کا نام امیگریشن کی اسٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔ ایشا دیوی سعودی عرب میں بھیک مانگنے کی وجہ سے پہلے بھی سعودی عرب پولیس کی گرفت میں آ چکی ہیں اور انہیں پاکستان ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ ان پر بھیک مانگنے کا الزام تھا جس کے بعد سعودی عرب کی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا اور کچھ عرصہ قبل واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔

    امیگریشن حکام کے مطابق، جب ایشا دیوی اور نیشو کماری کو سعودی عرب جانے کی اجازت دینے کی کوشش کی گئی تو دونوں خواتین سعودی عرب کے سفری اخراجات اور ضروری دستاویزات کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ، نیشو کماری بھی سعودی عرب جانے کے حوالے سے اپنی تیاری اور منصوبے کو درست ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق کراچی سے ہے اور انہیں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے مزید تفتیش کی جائے گی۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں خواتین گداگری کے لیے سعودی عرب جا رہی تھیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ انسانوں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا تدارک کیا جا سکے۔

    یہ واقعہ کراچی میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اٹھائے جانے والے سخت اقدامات کی ایک اور مثال ہے، جس میں حکام نے غیر قانونی طریقوں سے سعودی عرب جانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی۔

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

  • متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

    پاکستانی متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہیں، اور اس بار ان کی خبر لندن سے آئی ہے جہاں وہ ایک نیا متنازعہ کاروبار شروع کر رہی ہیں۔ حریم شاہ نے لندن میں شراب کی بوتل کے ہمراہ ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔

    ویڈیو میں حریم شاہ لندن کے ایک معروف علاقے میں موجود ہیں اور شراب کی بوتل کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ حریم شاہ نے شراب کی بوتل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے لندن میں واقع گھر کے باہر رکھی۔ حریم شاہ کہتی ہیں کہ نواز شریف کے لئے بلیو لیبل کا گفٹ لے کر آئی ہوں، صبح اٹھ کر پی لینا، آپ کے گھر کے باہر رکھ کر جا رہی ہوں،

    حریم شاہ، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ ہیں اور عمران خان کو اپنا رہنما مانتی ہیں، ماضی میں بھی کئی بار اپنے متنازعہ بیانات اور ویڈیوز کے سبب خبروں میں آ چکی ہیں۔ حریم شاہ نے ماضی میں مختلف سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لئے کئی نازیبا ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، حریم شاہ کی اپنی بھی نازیبا ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں، جس میں حریم شاہ کو برہنہ دکھایا گیا ہے، دوسروں کی ویڈیو لیک کرنے والی حریم شاہ خود ویڈیو لیک کا شکار ہو چکی ہیں،حریم شاہ کا کردار پاکستانی سوشل میڈیا اور سیاست میں ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ اب حریم شاہ نے مبینہ طور پر لندن میں شراب کا کاروبار شروع کردیا ہے، نواز شریف کے گھر کے باہر ویڈیو رکھنا حریم شاہ نے حقیقت شراب کی فروخت کی مارکیٹنگ کی ہے تا کہ ان سے شہری شراب لینے کے لئے رابطہ کر سکیں.

    حریم شاہ کا متنازعہ اقدام ایک دفعہ پھر عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین مختلف انداز میں اس پر ردعمل دے رہے ہیں، ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ حریم شاہ ہے جسکا تعلق تحریک انتشار سے ہے یہ شراب کی بوتل لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر رکھتی ہے ،اور کیا خوب ہوگا کہ جب یہ پاکستان آتی ہے تو حکومت ہاتھ بھی نہیں لگاتی

    https://x.com/AhadFarhan7/status/1873293261743460728

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    صندل خٹک نے حریم شاہ کی جانب سے لگے تمام الزامات کی تردید کر دی ہے

    صندل خٹک نے حریم شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی

  • آسٹریلیا نے چوتھے ٹیسٹ میچ میں بھارت کو 184 رنز سے شکست دے دی

    آسٹریلیا نے چوتھے ٹیسٹ میچ میں بھارت کو 184 رنز سے شکست دے دی

    آسٹریلیا نے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں بھارت کو 184 رنز سے شکست دے دی۔ بھارت کو 340 رنز کا ہدف ملا تھا، تاہم بھارتی ٹیم اس ہدف کے تعاقب میں صرف 155 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

    ہدف کے تعاقب میں بھارت کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی، اور صرف دو کھلاڑی ہی ڈبل فیگر میں شامل ہو سکے۔ یشاسوی جیسوال 84 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں کھلاڑی رہے، جبکہ وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت 30 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ باقی بھارتی کھلاڑیوں کا اسکور دوہری ہندسوں تک نہیں پہنچ سکا، جس کے نتیجے میں بھارتی ٹیم 155 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور آسٹریلیا نے میچ اپنے نام کر لیا۔

    چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں آسٹریلیشیا نے 474 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں بھارت 369 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا تھا۔ اس طرح آسٹریلیا کو 105 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔

    آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں 234 رنز بنائے، اور بھارت کو جیت کے لیے 340 رنز کا ہدف دیا تھا۔ اس مضبوط ہدف کے باوجود بھارت کی بیٹنگ لائن اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکی، اور پوری ٹیم 155 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

    اس میچ کے نتیجے کے بعد آسٹریلیا نے پانچ میچز کی سیریز میں 2 میچز جیت لئے ہیں، جبکہ بھارت نے ایک میچ جیتا ہے اور ایک میچ ڈرا ہوا ہے۔ اس وقت آسٹریلیا کی ٹیم سیریز میں برتری کے ساتھ نظر آ رہی ہے اور بھارت کے لیے سیریز جیتنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔آسٹریلیا کی اس شاندار فتح نے ان کے کھیل کی قوت کو واضح کر دیا ہے، جبکہ بھارت کو اپنی بیٹنگ لائن میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیریز میں باقی میچز میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر سوگ اور دعاؤں کی گونج، فضائی حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی آہ و فغاں

    جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ایئرپورٹ کی روانگی ہال میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک فضائی حادثے کے بعد سوگ اور دعاؤں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ماؤن کاؤنٹی کے موان ایئرپورٹ پر جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ ان کے پیاروں کی شناخت کے لیے بے چین ہو کر انتظار کر رہے تھے۔

    اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے مقامی وقت کے مطابق، جےجو ایئر کی ایک پرواز جو 175 مسافروں اور چھ عملے کے ارکان کو لے کر بنکاک سے موان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں دو افراد کے علاوہ تمام مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے، جو جنوبی کوریا کے تقریباً تیس سالہ تاریخ کا سب سے مہلک فضائی حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے روانگی ہال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے درمیان فریاد، دعائیں اور آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ طبی عملے نے 141لاشوں کی شناخت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 28 لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    ایئرپورٹ کی معمول کی طور پر وسیع ایٹریئم میں کئی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر خاموشی سے دعائیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر رو رہے تھے، جبکہ کئی بدحال رشتہ دار حکام سے مزید معلومات کی درخواست کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے باہر پیلے رنگ کے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں لوگ رات بھر رکے رہے تھے۔محققین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخرکار کیا وجہ تھی جس سے جےجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کو حادثہ پیش آیا۔ مقامی حکام نے پرواز کے دوران ایک ممکنہ پرندوں کے ٹکرا جانے کے امکان پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اتوار کے روز حادثے کا جو ویڈیو فوٹیج نشر کیا گیا، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 737-800 کے دونوں لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ طیارہ اپنی پیٹ کے بل تیز رفتاری سے رگڑتا ہوا زمین پر گرا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اُٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی انڈرکاریاج (یعنی وہ پہیے جو طیارے کو اڑنے اور لینڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں) مکمل طور پر نہیں کھلے، جو کہ ایک نادر اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

    مواصلاتی وزارت کے مطابق، حادثے کے مقام سے دو بلیک باکسز (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر) بازیاب کر لیے گئے ہیں، لیکن فلائٹ ریکارڈر کو بیرونی نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزید تجزیہ کرنے کے لیے سیول بھیجا گیا۔جنوبی کوریا کے عبوری صدر، چوی سانگ موک نے ملک بھر میں سات دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جامع انکوائری کا آغاز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی پیش رفت کو عوام کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے گا۔حادثے کے فوراً بعد چوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس سانحے کو ایک "خصوصی قدرتی آفت” قرار دیا، جب کہ انہوں نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 84 مرد، 85 خواتین اور 10 افراد ایسے تھے جن کی جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنوبی کوریا کی فائر سروس کے مطابق، حادثے میں دو افراد زندہ بچ گئے، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون عملے کے رکن شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد جاپان کے شہری تھے، باقی تمام مسافر جنوبی کوریا کے تھے۔حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا۔ ان کے علاوہ، باقی تمام افراد جنوبی کوریا کے شہری تھے۔

    حادثے کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ایک پرندوں کے ٹکرا جانے سے بچنے کے لیے سمت تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر پائلٹ نے عمل کیا۔ تاہم، ایک منٹ بعد ہی پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور تقریباً دو منٹ بعد لینڈنگ کی کوشش کی۔جنوبی کوریا کی وزارت نقل و حمل نے بتایا کہ پرواز کے کپتان نے 2019 سے اس عہدے پر کام کیا تھا اور ان کے پاس تقریباً 6,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔مجموعی طور پر، اس سانحے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر مختلف تحقیقاتی ادارے اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    موان میں ایک عوامی یادگاری یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ پھول اور موم بتیاں رکھ کر جاں بحق افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔یہ حادثہ ایک دل دہلا دینے والی سانحے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے پورے جنوبی کوریا کو سوگوار کر دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن وقت ہے۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا
    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

  • لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے تمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ جو سکول بس پالیسی پر عمل نہیں کرتا اس کی رجسٹریشن معطل کردی جائے،عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو لاہور کی سٹرکوں کا جائزہ لیکر ٹریفک پلان طلب کرلیا ، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت اسموگ کے تدراک کے لیے بڑے اچھے اقدامات کررہی ہے،

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر وٹو عدالت کے روبرو پیش ہوئے،سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر نے پرائیویٹ سکولز سے متعلق مجوزہ رولز پیش کیے، سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے سکولز کی بسیں ہوں گئیں تو سکولز کی رجسٹریشن ہوگی،ہم رولز میں نئے سکولز کی رجسٹریشن کے لیے بسیں لازمی قرار دے رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ رولز بنائیں ایس او پیز پر یقین نہیں کرتا ،سکول بسیوں کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے سکولز مالکان کے پاس بہت پیسے ہیں ،ہم نے اگلے سیزن سے پہلے پہلے تمام احکامات پر عمل کروانا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ایچسن سکولز کس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ،ایچسن ہائرر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ایچسن کو بھی آگاہ کریں،ماحولیات کا معاملہ بہت سنجیدہ ہوچکا ہے اس میں مزید وقت ضائع نا کیا جائے ،مجھے بہت خوشی ہے حکومت اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے ،ملتان روڑ پر بسوں کے اڈے اور سوسائٹیز ہیں وہاں پر ٹریفک رولز پر عمل نہیں کیا جارہا ،

    پنجاب حکومت کے وکیل حسن اعجاز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

  • بیلجیئم  کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    بیلجیئم کے وزیر صحت فرینک وینڈن بروک نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2025 سے ان کا ملک ڈسپوزایبل الیکٹرانک سگریٹ (ای سگریٹ) کی فروخت پر پابندی عائد کر دے گا۔

    فرینک وینڈن بروک نے میں کہا کہ "ای سگریٹس میں اکثر نکوٹین موجود ہوتی ہے، جو انسان کو نکوٹین کا عادی بنا دیتی ہے۔ نکوٹین کا استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔” وزیر صحت کے مطابق یہ سستی ای سگریٹس خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک آسان ذریعہ بن چکی ہیں، جو سگریٹ نوشی اور نکوٹین کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ چونکہ یہ ای سگریٹس ڈسپوزایبل ہوتی ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ "یہ ای سگریٹس پلاسٹک، بیٹری اور سرکٹس پر مشتمل ہوتی ہیں، جو ماحول کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والے کیمیکلز بھی خطرناک ہیں اور یہ اس وقت تک موجود رہتے ہیں جب تک لوگ انہیں ضائع نہیں کرتے۔”

    فرینک وینڈن بروک نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بیلجیئم یورپ کا پہلا ملک ہے جو اس طرح کا اقدام اٹھا رہا ہے۔ ہم یورپی کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمباکو کے قانون کو جدید بنانے کے لیے نئے اقدامات کے ساتھ آگے آئے۔”

    یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے میڈیکل سٹورز کے علاوہ ای سگریٹس کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے بعد اب بیلجیئم اس پابندی میں یورپ کی قیادت کر رہا ہے۔

    برسلز کی واپوتھیک شاپ کے مالک سٹیون پومیرنک نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ "ای سگریٹ کے خالی ہونے کے بعد بھی اس کی بیٹری کام کرتی رہتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جو خوفناک ہے۔ آپ اسے ری چارج کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ آپ کے پاس اسے دوبارہ چارج کرنے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے، اس لیے اس سے ہونے والی آلودگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔”

    بیلجیئم کا یہ فیصلہ ان ممالک کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو ای سگریٹس کی فروخت اور اس کے ماحولیاتی اثرات پر نظر ڈال رہے ہیں۔ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کی صحت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا بلکہ ماحول کی حفاظت میں بھی مدد ملے گی۔

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    خبردار،ای سگریٹ بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے

    21سال سے کم عمر افراد کو ای سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا میں طیارے کے حادثے میں ایک مسافر کی فیملی سے آخری دل چیر دینے والی گفتگو سامنے آئی ہے

    جنوبی کوریا میں لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے طیارہ حادثے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دو افراد کی جان بچا لی گئی۔ اس واقعے کے بعد، طیارے میں سوار ایک مسافر کی اپنے اہل خانہ سے کی جانے والی آخری گفتگو نے لوگوں کو غم و افسوس میں ڈوبو دیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے طیارے میں پیش آیا، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح تحقیقات نہیں کی گئی ہیں۔ سی ای او جیجو ائیر نے بتایا کہ طیارے کی خرابی کے کوئی ابتدائی شواہد نہیں ملے، اور نہ ہی طیارے کے حادثات کا کوئی سابقہ ریکارڈ موجود تھا۔ انہوں نے طیارہ حادثے پر معذرت بھی ظاہر کی اور تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دی۔

    اس حادثے کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے، ایک مسافر کی فیملی کے ایک فرد نے بتایا کہ انہیں طیارے کے حادثے سے قبل اپنے عزیز کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کا علم ہوا۔ اس شخص نے بتایا کہ انہیں طیارے سے پرندہ ٹکرائے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔اس فرد نے بتایا کہ چند منٹ قبل اس نے اپنے عزیز سے فون پر بات کی تھی، جس میں مسافر نے بتایا: "ہمارے جہاز کے وِنگ میں پرندہ پھنس گیا ہے اور ہم ابھی لینڈ نہیں کر سکتے۔” یہ پیغام موصول ہونے کے بعد، اس شخص نے مزید سوالات کیے کہ "کتنا وقت اور لگے گا؟ اور یہ مسئلہ کب سے شروع ہوا؟” جواب میں، مسافر نے کہا: "یہ ابھی ہوا ہے، کیا مجھے اپنے آخری الفاظ کہہ دینے چاہئیں؟ کیا مجھے اپنی وصیت لکھ دینی چاہیے؟”اس دردناک بات چیت کے بعد، مذکورہ فرد کو اپنی فیملی کی طرف سے کوئی اور پیغام موصول نہیں ہوا، اور اس کے بعد طیارہ حادثے کی اطلاع دی گئی جس میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔

    جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے سی ای او نے حادثے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کی تکنیکی خرابی یا دیگر عوامل کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، طیارے کی ابتدائی حالت کے بارے میں کسی قسم کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں، اور یہ واقعہ کسی غیر معمولی یا غیر متوقع صورت حال کا نتیجہ لگتا ہے۔جنوبی کوریا کی حکومت اور ائیر لائن حکام اس حادثے کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ طیارے کی حادثے کی وجوہات اور اس کی درست نوعیت کا علم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی