Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی کے حق میں بات کرنے کو تیار  ، آپ غلطی تو مانیں،خواجہ سعد رفیق

    پی ٹی آئی کے حق میں بات کرنے کو تیار ، آپ غلطی تو مانیں،خواجہ سعد رفیق

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ میرے خون میں سیاست ہے، میں سیاست کے بغیر رہ نہیں سکتا۔

    لاہور میں خواجہ رفیق کی برسی پر’بحرانوں میں گھرا پاکستان، اصلاح احوال کیسے ہو‘ کے عنوان سے منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ملک آپس کی دھینگا مشتی میں گھرا ہوا ہے۔پاکستان ریموٹ کنٹرولڈ جمہوریت سے آگے نہیں بڑھ سکتا، سالوں سے بات کررہے ہیں لیکن بحران ختم ہی نہیں ہورہے ،ملک لوگوں کی مرضی سے نہیں چلے گا تو کیسے چلے گا، جو آتا تھا کہتا تھا ملک میری مرضی سے چلے گا ، ہم نے سارے دور دیکھ لیے ،سب کو دیکھ لیا کسی کا پردہ باقی نہیں ،یہ نہیں ہوسکتا سیاستدان ہی رگڑا کھاتا رہے ، آج جہاں کھڑے ہیں ہیں اسکے ذمہ دار بانی پی ٹی آئی ، ثاقب نثاراور قمر باجوہ ہیں ،ملک کو محفوظ کرنے کیلئے درست فیصلے کریں ، 2008 اور 2013 الیکشن ٹھیک ہوا، 2018 کا خراب کردیا گیا، ملک درست سمت میں چل پڑا تھا، ہم نے پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں گرائی تھی۔ توقع ہے مذاکرات سنجیدہ ہوں گے اور کوئی راستہ نکلے گا،

    خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ مجھے جیل میں عمران خان نے نہیں بلکہ قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈالا تھا۔جن کا نام کوئی نہیں لیتا انکا نام لینا چاہیے ۔اور تو کچھ نہیں کر سکتے، ذکر ضرور کریں گے، سچ یہی ہے کہ آج جہاں ہم کھڑے ہیں اس میں عمران خان، ثاقب نثار ،قمر جاوید باجوہ کا کردار ہے جنہوں نے میثاق جمہوریت کو الٹا کر رکھ دیا اور ملک کی سمت بدل دی، ہم پی ٹی آئی کے حق میں بات کرنے کو تیار ہیں، آپ غلطی تو مانیں، ہمیں فاشزم قبول نہیں وہ کسی کا بھی ہو،سیاست کا غیر سیاسی طریقے سے مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ ن لیگ سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے،پیپلز پارٹی سے بھی غلطیاں ہوئیں،بدقسمتی سے بینظیر کی شہادت ہوئی اور معاملات خراب ہوئے، یقین کریں اب کسی کا کوئی پردہ باقی نہیں رہا ،سارے پردے اٹھ چکے ،نئی امریکا انتظامیہ کا عمران خان سے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ۔انکا انٹرسٹ ہمارا ایٹمی پروگرام ہے ،

    خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

  • خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش  ناکام، افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال

    خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال

    فتنہ الخوارج کی افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال کر کے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    27/28 دسمبر کی رات فتنہ الخوارج کے 20-25 خارجیوں نے افغان طالبان کی بارڈر پوسٹوں کا استعمال کرتے ہوئے کُرم اور شمالی وزیرستان میں دو مقامات سے پاکستان میں در اندازی کی کوشش کی، پاکستان سیکورٹی فورسز نے بر وقت کاروائی کر کے در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی، 28 دسمبر کی صبح خارجیوں نے دوبارہ افغان طالبان کی پوسٹوں کو استعمال کرتے ہوئے، پاکستان میں در اندازی کی کوشش کی، دراندازی کی کوشش ناکام ہونے پر 28 دسمبر کی علی الصبح خارجیوں اور افغان طالبان نے ملکر پاکستانی پوسٹوں پر بِلا اشتعال بھاری ہتھیاروں سے فائر کھول دیا، پاکستان سیکورٹی فورسز نے اس بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا،

    مصدقہ ذرائع کے مطابق افغانستان سائیڈ پر بھاری نقصانات کی ابتدائی اطلاعات ہیں،مؤثر جوابی فائر سے پندرہ سے زائد خارجیوں اور افغان طالبان کے ہلاک ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، موثر جوابی کاروائی اور گولا باری سے افغان طالبان چھ پوسٹیں چھوڑ کر بھی بھاگ گئے، افغان سائڈ پر نقصانات مزید بڑھنے کی بھی اطلاعات ہیں،

    پاکستان سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نا ہونے اورصرف تین زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بارہا انٹرم افغان حکومت سے فتنہ الخوارج کو پاکستان کے خلاف اپنی سر زمین نہ استعمال کرنے کا کہا ہے، بجائے فتنہ الخوارج کو کنٹرول کرنے اور ان دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کرنے کے، افغان طالبان فتنہ الخوارج کی مسلسل معاونت کر رہے ہیں،فتنہ الخوارج افغانستان میں پوری آزادی کے ساتھ موجود ہیں اور پاکستان مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے افغان سر زمین کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، پاکستان سیکورٹی فورسز کسی بھی طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں

    سیکیورٹی فورسزکاکامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کاانتہائی مطلوب دہشت گردجہنم واصل

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

  • ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں سے ملاقات

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں سے ملاقات

    لاہور، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے اپنے ونگ میں تعینات کھلاڑیوں سے ملاقات کی جنہوں نے مختلف کھیلوں میں میڈلز حاصل کیے ہیں۔ اس ملاقات میں کھلاڑیوں نے کرکٹ، فٹبال، کبڈی، ہاکی، رگبی، کراٹے، سکواش، ریسلنگ اور رسہ کشی کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھائی اور میڈلز جیتے۔

    میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں محمد نعیم سندھو، راشد رفیق، صفدر علی، انعم خالد، حافظ حسنین، واجد علی اور عمران اشرف سمیت دیگر کھلاڑی شامل تھے۔ ان کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے ایس ایس پی محمد نوید نے انہیں مبارکباد دی اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔اس موقع پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کہا کہ "ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ کھیلوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ آپ کی فتوحات کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھیں، ہم آپ کو مکمل سپورٹ فراہم کریں گے۔”محمد نوید نے مزید کہا کہ "کھیلوں کے ایونٹس پولیس اہلکاروں و افسران کی جسمانی اور ذہنی استعداد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اور ہم کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔”

    یونان بھجوانے کا جھانسا دے کر مدرسے کے 3 طلبہ کو اغوا کرنے کی کوشش

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی پولیس فورس کا فخر ہیں، اور ان کی کامیابیاں پورے ادارے کی کامیابی کی علامت ہیں۔اس ملاقات کے اختتام پر ایس ایس پی محمد نوید نے کھلاڑیوں کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی لیا تاکہ ان کی محنت اور کامیابیوں کو یادگار بنایا جا سکے۔

  • ایلون مسک کی مخالفت،ٹرمپ کے حامیوں کے ایکس بیجز واپس لے لیے گئے

    ایلون مسک کی مخالفت،ٹرمپ کے حامیوں کے ایکس بیجز واپس لے لیے گئے

    ایلون مسک کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان حالیہ دنوں میں جو تنازعہ گہرا ہوا ہے، وہ خاص طور پر H-1B ویزا پروگرام پر اختلافات کی بنا پر شدت اختیار کر گیا ہے۔ کچھ معروف MAGA (Make America Great Again) شخصیات کا کہنا ہے کہ مسک نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "X” کا استعمال کرتے ہوئے ان پر انتقامی کارروائی کی ہے کیونکہ وہ مسک کی H-1B ویزا پالیسی کے مخالف ہیں۔

    ایلون مسک، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ہیں اور حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے کارکردگی کے محکمے کی قیادت کے لیے منتخب ہوئے تھے، ان دنوں ٹرمپ کے حامیوں سے H-1B ویزا پروگرام پر تصادم کا شکار ہیں۔ جہاں ٹرمپ نے اس ویزا پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں مسک نے اس پروگرام کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے غیر ملکی ماہر کارکنوں کی ضرورت ہے۔ایلن مسک نے X پر ایک پوسٹ میں کہا: "اگر آپ کی ٹیم کو چیمپئن شپ جیتنی ہے تو آپ کو بہترین ٹیلنٹ جہاں بھی ہو، اسے بھرتی کرنا ہوگا۔” ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "قانونی امیگریشن کے ذریعے انجینئرنگ کے بہترین 0.1% ٹیلنٹ کو لانا امریکہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔”

    تاہم، ٹرمپ کے وفادار حامی جیسے دائیں بازو کی کارکن لورا لوومر، معروف کنزرویٹو تبصرہ نگار این کولٹر اور سابق رکن کانگریس میٹ گیٹس نے مسک اور ان کے محکمے کے شریک چیئرمین وِویک راما سوامی کو H-1B ویزا پروگرام کی حمایت پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس تنازعے کے بعد، مسک نے لورا لوومر اور دیگر دائیں بازو کے کنزرویٹو پی اے سی کے اراکین کے تصدیق شدہ بیجز واپس لے لیے، جس کا دعویٰ اراکین نے کیا۔ لوومر نے کہا کہ مسک نے اس کی مخالفت کی وجہ سے اس کا تصدیق شدہ بیج ہٹایا اور اسے ادائیگی کرنے والے سبسکرائبرز جمع کرنے سے روک دیا۔لوومر نے X پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: "مسک ایک فری سپیچ فراڈ ہے۔” ان کا یہ دعویٰ تھا کہ مسک نے ان کے پیغامات کو سنسر کرنے کی کوشش کی۔ لوومر کے 1.4 ملین سے زیادہ فالورز ہیں، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ پلیٹ فارم پر کتنی رقم کما رہی تھیں۔

    مسک نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ "لوومر توجہ حاصل کرنے کے لیے ٹرولنگ کر رہی ہے۔”

    کنزرویٹو پی اے سی کے چیئرمین پریسٹن پارا نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کے تقریباً 53 اراکین نے اپنے تصدیق شدہ بیجز کھو دیے، جن میں لوومر بھی شامل ہیں۔ پارا نے کہا: "اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دائیں بازو کے حقیقی حامی اور MAGA تحریک خاموش بیٹھیں گے، تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔”
    کنزرویٹو پی اے سی نے X پر ایک اور پوسٹ میں کہا: "ہم نے H-1B ویزوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ایسا لگتا ہے کہ @elonmusk نے جان بوجھ کر ہمیں بند کر دیا؟”

    لاہور: ایئر کلیننگ سسٹم رکھنے والی صنعتوں کی تعداد 96 فیصد ہوچکی،سروے

    یونان بھجوانے کا جھانسا دے کر مدرسے کے 3 طلبہ کو اغوا کرنے کی کوشش

  • یونان بھجوانے کا جھانسا دے کر مدرسے کے 3 طلبہ کو اغوا کرنے کی کوشش

    یونان بھجوانے کا جھانسا دے کر مدرسے کے 3 طلبہ کو اغوا کرنے کی کوشش

    لاہور،بادامی باغ پولیس نے یونان بھجوانے کا جھانسا دے کر تین مدرسے کے طلبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بچوں کو بازیاب کروا لیا۔ اس کارروائی کے دوران ملزم عثمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش میں تھا۔

    تین بچے جن کا تعلق ایک نجی مدرسے سے تھا، جنہوں نے حال ہی میں دینی تعلیم کا آغاز کیا تھا، کو ملزم عثمان نے ورغلا کر کراچی جانے والی بس میں بٹھا دیا۔ ملزم نے بچوں کو بتایا کہ وہ انہیں یونان بھجوانے کا بندوبست کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ انہیں اغوا کرنے کی نیت سے لے جا رہا تھا۔پولیس کے مطابق، ملزم نے بچوں سے ان کے موبائل فون لے کر ان کی سم بھی توڑ دی تاکہ وہ اپنے والدین سے رابطہ نہ کر سکیں اور اغوا کی واردات مکمل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ تاہم، ملزم کا یہ منصوبہ پولیس کے فوری ایکشن کے باعث ناکام ہوگیا۔پولیس حکام نے کہا کہ بچوں کے والدین کی شکایت پر فوراً ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ بادامی باغ پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور مدرسے کے چوکیدار عثمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔پولیس نے مزید تحقیقات کے دوران ملزم کی نشاندہی پر بچوں کو بازیاب کر کے بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔ بچوں کی بازیابی کے بعد ان کے والدین نے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس نوعیت کے واقعات سے آگاہ رہیں گے۔

    گرفتار ملزم عثمان کو مزید تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ اس کے ساتھ اس کارروائی میں کون کون ملوث تھا۔ پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔ترجمان پولیس نے عوام سے درخواست کی کہ وہ اس طرح کے معاملات میں فوراً پولیس کو اطلاع دیں تاکہ کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں بچوں کی حفاظت اور ان کے گھر والوں کے ساتھ جلد رابطے کو یقینی بنایا گیا۔

    جعلسازی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والی 3 بنگالی خواتین گرفتار

    لیپ ٹاپ کی جگہ خالی کارٹن امریکا بھیجنے پر حکام سے جواب طلب

  • لیپ ٹاپ کی جگہ خالی کارٹن امریکا بھیجنے پر حکام سے جواب طلب

    لیپ ٹاپ کی جگہ خالی کارٹن امریکا بھیجنے پر حکام سے جواب طلب

    کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے پاکستان پوسٹ آفس کے ملازم کی برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے فراڈ کے ذریعے لیپ ٹاپ کی جگہ خالی کارٹن امریکا بھیجے۔

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پاکستان پوسٹ آفس کے ایک ملازم منظور مغل کی برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار منظور مغل نے فراڈ کیا ہے، جس کے بعد اسے برطرف کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے اور لیپ ٹاپ کی رقم بھی واپس کر دی ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل کے مطابق، منظور مغل انٹرنیشنل میلنگ کے انچارج تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی کے شہری سے 40 دن تک لیپ ٹاپ وصول کیے لیکن انہیں امریکا بھیجنے کی بجائے اپنے پاس رکھ لیا۔ اس کے بعد، انہوں نے خالی کارٹن امریکا بھیج دیے۔عدالت کو بتایا گیا کہ جب انکوائری شروع کی گئی، تو منظور مغل نے اس فراڈ کا اعتراف کیا اور لیپ ٹاپ کی قیمت ادا کر دی۔ تاہم، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ منظور مغل نے 43 سال کی سروس دی ہے اور اس کی برطرفی اس کے لیے بہت نقصان دہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے اس کیس میں وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کیا اور مقدمے کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی تمام پہلوؤں پر گہری نظر رکھی جائے گی تاکہ انصاف کا تقاضا پورا کیا جا سکے۔

    بھارتی سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات ادا

    جوہری تجربہ کیا تو امریکا جوابی کارروائی کیلئے تیار رہے،روس

  • بھارتی سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات ادا

    بھارتی سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات ادا

    بھارت کے سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات نئی دہلی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ ان کی تدفین دریائے جمنا کے کنارے کی گئی، جہاں سرکاری حکام، سیاسی رہنما اور ان کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی۔منموہن سنگھ کی آخری رسومات کے دوران سیاسی اور عوامی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نگم بودھ گھاٹ پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چتا پر لکڑی ڈال کر ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ فیملی کے افراد کے ساتھ ساتھ کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنے والد کی طرح ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وداع کیا اور چتا پر لکڑی ڈالی۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بڑی بیٹی نے ان کے ساتھ آخری وقت گزارا اور ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے اس موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی بات کی، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی فیملی نے ان کی آخری رسومات میں مکمل طور پر حصہ لیا، اور ان کے جسم کو کندھا دینے کے لیے راہل گاندھی سمیت کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے بھی ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ساتھ دیا۔

    نگم بودھ گھاٹ پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چتا پر آگ دی گئی، جہاں ان کی زندگی کے ساتھی، دوست، اور سیاسی رفقاء نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے انتقال کے بعد بھارت کے مختلف شعبوں سے سیاستدانوں، اہم شخصیات، اور عوامی نمائندوں نے ان کی خدمات اور کردار کی تعریف کی اور انہیں یاد کیا۔اس موقع پر بھارتی صدر دروپدی مرمو، وزیرِ اعظم نریندر مودی، کانگریس کے پارلیمانی امور کی رہنما سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، راجیہ سبھا کے اسپیکر جگدیپ دھنکھڑ، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیردفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر کرن ریجیجو، بی جے پی کے صدر جے پی نڈا، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی، جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال، اور ریاستی وزیروں نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر نہ صرف بھارت کی سیاسی جماعتوں نے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ بھوٹان کے راجا نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر غم کا اظہار کیا اور ان کی شخصیت کو سراہا۔ ان کے دورِ حکومت میں بھارت نے کئی اقتصادی اصلاحات کیں، اور ان کی اقتصادی پالیسیوں کا اثر دنیا بھر میں محسوس کیا گیا۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کا شمار بھارت کے عظیم ترین سیاسی رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی سادگی، اخلاص اور پالیسیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال نے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی سیاسی اور اقتصادی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

    منموہن سنگھ جمعرات کو 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات پر بھارت بھر میں 7 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، اور حکومت نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک عظیم قومی نقصان قرار دیا۔

    منموہن سنگھ کی صحت کے مسائل کی وجہ سے انہیں نئی دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ آخری سانسیں لیں۔ منموہن سنگھ کی بیماری اور کمزوری کی اطلاعات گزشتہ کچھ ماہ سے آ رہی تھیں، جس کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔منموہن سنگھ نے بھارت کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور وہ 2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیرِ اعظم رہے۔ ان کے دورِ حکومت میں بھارت نے اقتصادی ترقی کی اہم بلندیوں کو چھوا اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا۔ ان کی قیادت میں بھارت نے متعدد اہم اقتصادی اصلاحات کیں اور عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔

    ان کے انتقال کے بعد ملک بھر میں سیاسی جماعتوں اور عوام نے ان کے کردار اور خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے اپنے تعزیتی پیغامات میں منموہن سنگھ کی گہری محبت اور ملک کے لیے ان کی خدمات کا ذکر کیا۔منموہن سنگھ کی سیاسی زندگی کی کامیاب داستانوں میں ان کی اقتصادی پالیسیوں، بھارتی معیشت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور بھارت کے معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم، ان کی صحت نے انہیں حالیہ برسوں میں عوامی سطح پر نظر آنے سے روکے رکھا اور وہ سیاست سے نسبتاً دور ہوگئے۔ان کی وفات بھارت کی سیاست کا ایک غمگین باب بند ہونے کے مترادف ہے، اور ان کے انتقال سے ایک دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار حصہ ختم ہوگیا ہے۔منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں شریک تمام افراد نے ان کی خدمات، ان کی سادگی اور دیانت داری کو یاد کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • آصفہ بھٹو کی خالہ کے ہمراہ  والدہ  بینظیر بھٹو کی مزار پر حاضری

    آصفہ بھٹو کی خالہ کے ہمراہ والدہ بینظیر بھٹو کی مزار پر حاضری

    گڑھی خدابخش: پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم رہنما اور خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور صنم بھٹو نے آج گڑھی خدابخش کے مقام پر حاضری دی۔

    بی بی آصفہ بھٹو زرداری اپنی خالہ کی ہمراہی میں گڑھی خدابخش پہنچی اور انہوں نے وہاں اپنی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کی مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر آصفہ بھٹو نے اپنی والدہ کی قربانیوں اور جمہوریت کے لیے ان کے کردار کو یاد کیا۔صنم بھٹو نے بھی مزار پر حاضری دی اور اسی طرح قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مزار پر بھی فاتحہ خوانی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے والدین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتے رہیں گے۔”

    بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور صنم بھٹو کی گڑھی خدابخش آمد کا مقصد نہ صرف اپنے والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پیغام اور جمہوریت کی جدوجہد کو بھی تقویت دینا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی حقوق کی حفاظت کرے گی اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

    بنوں،پولیس موبائل پر حملہ،جوابی کاروائی میں دو دہشتگردجہنم واصل

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

  • بنوں،پولیس موبائل پر حملہ،جوابی کاروائی میں دو دہشتگردجہنم واصل

    بنوں،پولیس موبائل پر حملہ،جوابی کاروائی میں دو دہشتگردجہنم واصل

    بنوں ٹاؤن شپ میں دہشتگردوں کی پولیس موبائل پہ فائرنگ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو دہشتگرد مارے گئے

    بنوں ٹاؤن شپ حیات روڈ پر پولیس پر حملہ ہوا ہے، دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا ہے،جبکہ پولیس کی جوابی کاروائی میں دو حملہ آور مارے گئے ہیں، واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے، زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد دینے کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    بنوں کے علاقے ٹاون شپ حیات روڈ پر پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملہ ناکام بنانے پر بنوں پولیس کی ستائش کی اور کہا کہ فائرنگ کا بروقت جواب دینے اور 2 دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر بنوں پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔بنوں پولیس نے بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ حملہ ناکام بنانے پر بنوں پولیس کو شاباش دیتا ہوں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے زخمی پولیس اہلکار کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی،اور کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔کے پی کے پولیس نے ہمیشہ جرات کے ساتھ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

  • سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ  کی  واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی آمد کے خلاف سکھ برادری کے رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک مظاہرین نے خالصتان تحریک کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ان کی پالیسیاں سکھوں کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مظاہرین نے اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا اور نعرے لگائے کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ احتجاج واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ایس جے شنکر کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں سخت احتجاج کیا۔

    احتجاج کے دوران ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے کہا کہ "ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایس جے شنکر نہ صرف بھارت میں سکھوں کے خلاف ظلم کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے میں بھارت کی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی حکام پر بھی تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی سازش کر رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو ایک سخت موقف اپنانا ہوگا۔

    اس احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے سکھ شہریوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، تب تک اس کے حکام کو عالمی سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا