Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایپ کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو مؤخر کرے، جو کہ آئندہ ماہ نافذ ہونے والی ہے۔ جمعہ کے روز ایک قانونی دائرہ میں ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر سے ان کی انتظامیہ کو "مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے” کا موقع ملے گا۔ٹرمپ کی یہ درخواست بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے متصادم ہے، جس نے جمعہ کو اپنے مؤقف میں ٹک ٹاک کی موجودگی کو امریکی قومی سلامتی کے لیے "سنگین” خطرہ قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک چین کی کمپنی کا حصہ ہے اور اس کی موجودگی امریکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور عالمی سیاست میں چین کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کہ آیا اپریل میں کانگریس کے منظور کردہ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون سے امریکی آئین کے پہلے ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے 10 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو گھنٹے مختص کیے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس مقدمے پر مختلف گروپوں اور حکام کی طرف سے دو درجن سے زیادہ قانونی مؤقف درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں، تاہم انہوں نے "دوست عدالت” کی حیثیت سے اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کے نفاذ کی تاریخ کو مؤخر کرے تاکہ ان کی آنے والی انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی مذاکراتی حل تلاش کر سکے۔

    اپنی قانونی درخواست میں ٹرمپ نے اس مقدمے میں آئین کے پہلے ترمیمی سوالات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کی تاریخ 19 جنوری تک مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ ٹک ٹاک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے امریکہ میں ٹک ٹاک کی مکمل بندش کو روکا جا سکے گا اور امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو بچایا جا سکے گا۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ وہ اپنے "قوی انتخابی مینڈیٹ” کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر اہل ہیں اور انہوں نے خود کو سوشل میڈیا کا ایک "انتہائی طاقتور، کامیاب، اور اثر رسوخ رکھنے والا صارف” قرار دیا۔

    جمعہ کو بائیڈن انتظامیہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بایپارٹیز گروپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں اپنی قانونی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے تحت کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنی کے ساتھ ٹک ٹاک کے تعلقات امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک "امریکہ کے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے”، اور چین "اس ایپ کو خفیہ طور پر اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے”۔ اس کا ایک مقصد امریکہ میں انتشار اور غلط اطلاعات پھیلانا ہو سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان موجود کشمکش کو واضح کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب 170 ملین امریکی ٹک ٹاک کا استعمال خبریں اور تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بھی ٹک ٹاک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عدالت نے روک دیا تھا۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ ان کے لیے "بدقسمتی سے وقت کی غیر موزوںیت” پیدا کرتا ہے اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو منظم کرنے میں مشکل پیدا ہوگی۔ ٹرمپ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پابندی کو مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کا حل تلاش کر سکے، جو نہ صرف قومی سلامتی کی حفاظت کرے بلکہ ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی بچایا جا سکے۔

    اب اس مقدمے کی سماعت اور اس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا، قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو واضح کرے گا۔

  • طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    قازقستان میں آذربائیجان کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور حادثے میں متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور اس کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، جو افراد اس حادثے میں متاثر ہوئے ہیں، انہیں فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔”دوسری جانب روسی پارلیمنٹ کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی، ہم کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے معلومات صرف روسی ایوی ایشن حکام کی طرف سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔”

    یہ حادثہ 25 دسمبر کو پیش آیا، جب آذربائیجان کے ایئر لائن کا ایک مسافر طیارہ باکو سے چیچنیا کے شہر گروزنی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طیارہ قازقستان کے شہر اکتاو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ روسی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری یادروف نے اس حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ "حادثے کے دن گروزنی میں پیچیدہ صورتحال تھی۔ اس دن یوکرین کے لڑاکا ڈرون گروزنی اور ویلادیکاوکاز پر حملے کر رہے تھے، جس سے ایوی ایشن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔”

    روسی میڈیا نے بتایا کہ حادثے کے روز صبح کے وقت تین لڑاکا ڈرونز کو روکا گیا تھا۔ اس کے برعکس، آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ گروزنی کے ایئرپورٹ کے قریب دو پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کیے گئے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر آذربائیجان کا مسافر طیارہ ان پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا۔

    آذربائیجان کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک حادثہ تھا جس میں طیارہ پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا، جو کہ روسی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ یہ سسٹم دشمن طیاروں اور دیگر فضائی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ حادثہ اب بین الاقوامی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔ آذربائیجان اور روس کے درمیان اس واقعے کے حوالے سے سیاسی و سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔اس وقت تک، طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، اور متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف اور معاوضے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،62 میں سے 26 افراد زندہ بچ گئے

  • پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    اسلام آباد: حکومت نے ایک بڑی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر 10 فیصد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں ٹیکس چوری کی ہے۔ ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تک پہنچتی ہے، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً 64 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ ٹیکس چوری کرتا ہے۔

    اس فہرست میں سے حکومت نے مزید 1 لاکھ 90 ہزار افراد کو نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کاروباری شخصیت، زمینوں کے مالکان اور بڑی کمپنیوں کے مالکان ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہیں اور ان کی دولت کا بیشتر حصہ غیر قانونی ذرائع سے آ رہا ہے۔

    پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی شرح بہت کم ہے، اور ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ایف بی آر نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ان پر نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ٹیکس کی ادائیگیاں مکمل کریں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور اس رقم کو عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    یہ خبر ملکی معیشت کے حوالے سے ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے اور عوام میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو کرپشن کے خلاف ایک سنگین کارروائی کی صورت اختیار کر رہا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات معاشی طبقاتی فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید افراد کی شناخت کی جائے گی جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوامی خدمات میں اضافہ کیا جا سکے۔

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

  • فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    فیصل آباد ،تاندلیانوالہ کے قریب دھند کے باعث پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ تاندلیانوالہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں لاہور سے آنے والی ایک کار گنے سے لدی ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور اس کے چار بچے شامل ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق، لاہور سے تاندلیانوالہ کی طرف آنے والی ایک کار میں خواتین، بچے اور ایک مرد سوار تھے۔ شدید دھند کی وجہ سے گاڑی کا ڈرائیور ٹرالی کو نہ دیکھ سکا اور یہ حادثہ پیش آیا۔ کار گنے سے لدی ٹرالی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کار میں سوار ایک خاتون رابعہ بی بی اور اس کی بیٹیاں 13 سالہ فجر، 11 سالہ عمامہ، 6 سالہ یحییٰ، 1 سالہ موسیٰ اور رشتہ دار بچہ 1 سالہ رئیس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق، حادثے کے بعد گنے والی ٹرالی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ٹرالی ڈرائیور کی تلاش جاری ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    حادثے میں کار چلانے والا شخص شاہزیب، اس کی بیوی اور بیٹا شدید زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ریسکیو ٹیموں نے جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو گاڑی سے نکال کر فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے الائیڈ اسپتال فیصل آباد منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پولیس اور ریسکیو حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ حادثات سے بچنے کے لیے خاص طور پر دھند میں احتیاط کریں۔

    پولیس نے ٹرالی کے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق، ٹرالی کے ڈرائیور کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ جلد ہی اس ڈرائیور کو گرفتار کر لیا جائے گا۔یہ دلخراش حادثہ فیصل آباد اور اس کے اطراف میں تیز دھند کی وجہ سے پیش آیا، جس نے ایک پورے خاندان کی زندگیوں کو ختم کر دیا اور علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے اس حادثے کی تفصیلات جمع کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔

    دھند میں سفر کے دوران گاڑی کی رفتار کو کم کرنے، ڈرائیور کی مکمل توجہ رکھنے اور مناسب فاصلہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ اس طرح کے دلخراش حادثات سے بچا جا سکے۔

  • مرحوم پولیس اہلکار کی بیوہ کے ساتھ چارملزمان کی اجتماعی زیادتی

    مرحوم پولیس اہلکار کی بیوہ کے ساتھ چارملزمان کی اجتماعی زیادتی

    شیخوپورہ کی بستی نئی آبادی آرائیاں والا میں چار افراد نے گن پوائنٹ پر مرحوم پولیس ملازم کی بیوہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ہے.

    رات کو ظلم کا شکار ہونے والی خاتون کا بیٹا نعمان فیکٹری میں ڈیوٹی پر گیا ہوا تھا۔ تھانہ سٹی اے ڈویژن پولیس نے زرینہ بی بی کی رپورٹ پر مقدمہ درج کر کے چار ملزمان علی رضا محمد حسن اور علی اشفاق وغیرہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزمان نئی آبادی آرائیاں والا سے ملحقہ محلوں کے ہی رہائشی ہیں۔ زرینہ بی بی کا خاوند کچھ عرصہ قبل فوت ہو گیا تھا۔ نماز فجر سے قبل چاروں ملزمان دیوار پھلانگ کر اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے قتل کرنے کی دھمکی دے کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس کے بعد بیوہ زرینہ بی بی نے 15 پر کال کر کے پولیس کو بلایا اور ملزمان کی نشاندہی کی ۔پولیس نے فوری کاروائی کی اور ملزمان کو گرفتار کر لیا.

  • میجر محمد اویس کی آبائی علاقے شکرگڑھ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین

    میجر محمد اویس کی آبائی علاقے شکرگڑھ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین

    26 دسمبر 2024ء کو شمالی وزیرستان میں فتنتہ الخوارج کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے عظیم سپاہی میجر محمد اویس شہید کو آبائی علاقے شکرگڑھ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہید کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریب میں کورکمانڈر گوجرانوالہ، لیفٹیننٹ جنرل سید امداد حسین شاہ، پاک فوج کے سینئر افسران، جوانوں، شہید کے لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    شہید میجر محمد اویس کا تعلق پاکستان آرمی کے صفِ اول کے یونٹس سے تھا اور وہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں حصہ لے رہے تھے۔ 26 دسمبر کو وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کی قربانی نے ان کے ساتھیوں کے حوصلے بلند کیے اور ملک کے دفاع کے لیے ان کی جان کی قربانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔شہید کی نماز جنازہ میں اہل خانہ کے علاوہ پاکستان فوج کے افسران اور جوانوں نے شرکت کی اور ان کے ساتھ غم میں شریک ہوئے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملک میں دائمی امن کے قیام کے لیے شہداء کی قربانیاں ہمارے جذبے اور ایمان کو تقویت دیتی ہیں۔ "شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم اپنے شہداء کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی قربانیوں کی بدولت پاکستان ہمیشہ مضبوط اور مستحکم رہے گا۔”

    شہید میجر اویس کی وفات ملک کے لئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن ان کی قربانی نے ثابت کیا کہ فوجی جوان اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی شہادت نے قوم کی ایک نئی روحانی قوت کو جنم دیا ہے۔آخر میں، شہید کی تدفین کے بعد اہل علاقہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ اپنے وطن کے دفاع میں تیار رہیں گے اور پاک فوج کے شجاع سپاہیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    انسانی سمگلنگ ،بیرون ملک بھجوانے میں ملوث منظم گینگ بے نقاب

    پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

  • انسانی سمگلنگ ،بیرون ملک بھجوانے میں ملوث منظم گینگ بے نقاب

    انسانی سمگلنگ ،بیرون ملک بھجوانے میں ملوث منظم گینگ بے نقاب

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کی ہدایت پر انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے

    ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گجرات کی خفیہ گودام پر چھاپہ مار کاروائی ،چھاپہ مار کاروائی میں انسانی سمگلنگ میں ملوث منظم گینگ کا سرغنہ گرفتار کر لیا گیا،ملزم کی شناخت یاسر شوکت کے نام سے ہوئی ،ملزم کے خلاف کاروائی خفیہ اطلاع عمل پر عمل میں لائی گئی۔ملزم شہریوں کو غیر قانونی سمندر کے راستے یورپ اور دیگر ممالک میں بھجوانے میں ملوث پایا گیا ،ملزم ابتدائی طور پر شہریوں کو عمرہ ویزہ پر سعودی عرب بھجواتا تھا،ملزم بعد ازاں شہریوں کو لیبیا اور مصر منتقل کرتا تھا،ملزم دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے لیبیا سے یورپ کشتیوں کے ذریعے شہریوں کو بارڈر کراسنگ کرانے میں ملوث پایا گیا ،غیر قانونی طریقے سے کشتیوں کے ذریعے متعدد پاکستانی مختلف حادثات میں جانبحق ہو چکے ہیں ،چھاپہ مار کارروائی میں گودام سے 7 عدد پاکستانی پاسپورٹ ، 18 عدد پاکستانی پاسپورٹ کی نقول برآمدہوئی ہیں،ملزم سے 9 عدد لیبیا کے ویزہ اسٹیکرز اور عمرہ ویزہ کی 4 نقول بھی برآمد ہوئی ہیں،ملزم سے 8 مصری ویزے، 23 ہوائی جہاز کے ٹکٹس اور 2 عدد موبائل فون بھی برآمد ہوئے ،ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ،ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار کاروائیاں جاری ہیں۔

    پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

    پرواہ کرنے ضرورت نہیں ان سب کو میں دیکھ لوں گا۔آصف زرداری

    بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

  • پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

    پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

    پروفیسر حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مریدکے کے مقامی قبرستان میں تدفین کر دی گئی،

    ان کی نماز جنازہ ان کے بھانجے نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ حافظ طلحہ سعید نے پڑھائی،نماز جنازہ میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، جنرل سیکرٹری پروفسیر سیف اللہ قصوری، پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی،چیئرمین قرآن وسنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا ناصر مدنی، زعیم الدین لکھوی، مولانا منظور احمد، چیئرمین رابطہ علماء ومشائخ محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد ولید،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما حافظ عبدالراؤف، حارث ڈار، چوہدری شفیق الرحمان،محمد سرور چوہدری، فیصل ندیم،الشیخ عارف اللہ،مزمل اقبال ہاشمی، تابش قیوم سمیت ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سیاسی ومذہبی شخصیات، جید علماء اکرام، طلباء سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی،

    نماز جنازہ کیلئے ملک بھر سے ہزاروں افراد کی آمد کے پیش نظرانتظامیہ کی طرف سے نماز جنازہ کیلئے خصوصی اقدامات کئے گے، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے،حافظ طلحہ سعید نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے آبدیدہ ہو گے،جبکہ نماز جنازہ کے شرکاء بھی آبدیدہ نظر آئے،

    پروفیسر عبدالرحمان مکی گزشتہ کچھ دنوں سے علیل تھے اور لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔

    پروفیسر عبدالرحمان مکی حافظ محمد سعید کے ہم زلف اور برادر نسبتی تھے،آپ کے والد گرامی پروفیسر حافط عبداللہ بہاولپوری قائداعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سٹوڈنٹ رہنما رہے، حافظ عبدالرحمان مکی ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے فارغ التحصیل تھے،عربی اور انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا، حافظ عبدالرحمان مکی وطن عزیز پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی، فتنہ خوارج کے خلاف اور مظلوم کشمیری و فلسطینی مسلمانوں کے حق میں مضبوط آواز تھے۔مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں ہندوستان کے دباؤ کی وجہ سے حافظ عبدالرحمان مکی کو عالمی پابندیوں کا بھی سامنا رہا، وہ پاکستان میں چلنے والی مختلف تحریکوں جس میں تحریک ختم نبوت، دفاع پاکستان کونسل، تحریک حرمت رسولﷺ اور تحریک آزادی کشمیرکے مرکزی رہنما رہے۔

    jinaza

  • پرواہ کرنے ضرورت نہیں ان سب کو میں دیکھ لوں گا۔آصف زرداری

    پرواہ کرنے ضرورت نہیں ان سب کو میں دیکھ لوں گا۔آصف زرداری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا۔ بینظیر بھٹو کی 17ویں برسی کے موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور صنم بھٹو کی گڑھی خدا بخش تقریب میں آمد ہوئی،کارکنان نے بھر پور استقبال کیا،

    صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی،آج میں صدر ہوں تو یہ عوام کی طاقت سے ہے،ہم نے 45سال بعد بھی بھٹوقتل کیس کا فیصلہ ریورس کیا، ذوالفقار علی بھٹو کا قتل ایک عدالتی قتل تھا،ہم نے یہاں دفن ہونا ہے،دھرتی اور پاکستان کے ساتھ وفا ہے،ہم نےپاکستان کو بچانا ہے،ایک زمانے میں کہتے تھے کہ نادر آرہا ہے نادر آرہا ہے،ہمارے بزرگوں نے کہا کہ قادر بھی قادرہ ہے،اگر کوئی سپر پاور پاور ہے تو مولا بھی پاور ہے،ہم مشکل حالات سے پاکستان کو نکالیں گے،ہم آپ کو خوشخبریاں دیں گے، یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، مشکلات ہیں،تکالیف ہیں جو میرے لیے کوئی نئی بات نہیں، آپ دوستوں سےکہتا ہوں کوئی پروا کرنے کی ضرورت نہیں، ان سب کو میں دیکھوں گا،آپ کا پانی کہیں نہیں جائے گا اور نہ آپ کی گیس کہیں جائے گی، جو آپ کا حق ہے وہ آپ کو ملے گا ،جو دوسروں کا حق ہے وہ ان کو ملے گا، دنیا بد ل ضرور رہی ہے مگر وہ سب انسان کو فائدہ دے گی،ہمیں پاکستان کو بچاتا ہے، ملک کو مشکل حالات سے نکالیں گے

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1872638593182978471

    بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

  • بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

    بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا۔ بینظیر بھٹو کی 17ویں برسی کے موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور صنم بھٹو کی گڑھی خدا بخش تقریب میں آمد ہوئی،کارکنان نے بھر پور استقبال کیا،

    اس موقع پر بلاول بھٹو نے شہید بی بی کی جرات، قربانی اور پاکستان کے لئے ان کے عزم کو یاد کیا اور کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ جمہوریت، عوامی حقوق اور انصاف کے لئے اپنی جان کی قربانی دی۔بینظیر بھٹو مسلم ممالک کی پہلی خاتون وزیرا عظم بنی تھیں،پاکستان بھر سے بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں ، بینظیر بھٹو کی برسی منانے کیلئے ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے ہیں ، شہید بینظیر بھٹو عوام کی نمائندہ تھیں،بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بینظیر بھٹو کسی آمر اور دہشت گرد کے سامنے کبھی نہیں جھکیں، بینظیر بھٹو آخری دم تک کھڑی رہیں لیکن پیچھے نہیں ہٹیں ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 27 دسمبر 2007 سے اب تک پاکستان نقصان اس لئے اٹھا رہا ہے کہ تم نے شہید محترمہ نے نظیر بھٹو کو شہید کیا اور ہم پر کٹھ پتلیوں کو مسلط کیا، وہ سیاسی کٹھ پتلیاں جو ایٹمی پروگرام پر بھی سودے بازی کرنے کے لئے تیار ہیں،سیاسی کٹھ پتلیاں کو صرف اسلام آباد میں کرسی پر بیٹھنے کا شوق ہوتا ہے

    فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نہ سیلکٹڈ ہیں نہ ہی فارم 47 والے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اس ملک کی پسماندہ عوام کی نمائندہ تھی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو آپکی نمائندہ تھی اور میری نمائندہ تھی، پیپلزپارٹی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کے ورکرز فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نہ سیلکٹڈ ہیں نہ ہی فارم 47 والے ہیں، کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس مسائل کا حل کرنے کا مینڈیٹ اور طاقت نہیں ،ہمیں کسی کرسی یا وزارت کا شوق نہیں،ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہیں، بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز آنے والے ہیں۔حکومت کے پاس فیصلے کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے، جب حکومت سازی کا وقت تھا تو ہمارا کسی کرسی یا وزارت کا شوق نہیں تھا، اس وقت فیصلہ کیا تھا کہ جو سیاسی جماعت ہمارے پاس آئی ہے اور سیاسی استحکام، مہنگائی میں کمی کا وعدہ کر رہی ہے ہم اس کا ساتھ دیں گے۔اس وقت ہم نے ایک معاہدے پر دستخط کیا کہ آپ کو اپنے ووٹ تو دلوارہے ہیں لیکن ایسے نہ ہو کہ آپ ووٹ لے کر آنکھیں پھیر لیں، ایسا نہ ہو جیسا ماضی میں ایک سیاست دان نے آپ کے بارے میں کہا تھا کہ جب مشکل میں ہو تو یہ پیر پکڑتے ہو اور جب اس سے نکل جائیں تو گلا پکڑتے ہیں۔ہم نے کوئی وزارت نہیں صرف عوام کا حق مانگا ہے، دہشت گردی کا مسئلہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، حکومت کے پاس اجتماعی فیصلے مشاورت سے کرنے کا مینڈیٹ ہے ،صدر سے اپیل کرتا ہوں حکومت کو تجویز دیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں ، اتفاق رائے کے ساتھ ہونے والے فیصلے طاقتور ہوتے ہیں

    عمران بہانہ ،میزائل پروگرام نشانہ،جب تک پیپلز پارٹی ہے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں ، اس وقت امریکہ سے بیان آ رہے ہیں،عمران بہانہ ہے،میزائل پروگرام نشانہ ہے،جب تک پیپلز پارٹی ہے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا،پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی بینظیر بھٹو نے دلوائی تھی،عمران کو واضح کرنا چاہئے کہ یہ جو ہر روز ان کے حق میں بیان دے رہے ہیں یہ وہی لوگ نہیں ہیں جو پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے خلاف بیان دے رہے ہیں ،عمران خان کے لیے وہی لوگ آواز اُٹھا رہے ہیں جو سب سے زیادہ اسرائیل کی صیہونی حکومت کے لئے آواز اُٹھاتے ہیں،

    گڑھی خدا بخش میں اس موقع پر ایک اور اہم تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہید بی بی کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ آصف زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر شہداء کے مزاروں پر بھی پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں آصف زرداری نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو جمہوریت اور انصاف کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کی ایک زندہ مثال تھیں۔ ان کی قربانی سے پاکستان کے عوام کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی گئی۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ بی بی نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں اور عوامی طاقت کو تسلیم کیا جائے۔

    یاد رہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، جو کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی جلسے سے واپسی پر قاتلانہ حملے کا شکار ہوئیں اور شہید ہو گئیں۔ اس حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا، مگر ان کی سیاسی وراثت آج بھی زندہ ہے۔ بے نظیر بھٹو کی جرات، قیادت اور قربانی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا شمار دنیا کی اہم ترین خواتین رہنماؤں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی خواتین کی سیاسی قوت کو متعارف کرایا اور اس کے لئے جدوجہد کی۔ ان کی برسی پر پورے پاکستان میں پی پی پی کے کارکنان ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ اس دن کو یاد کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی ایک یادگار موقع ہے جب پاکستانی عوام ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اور جمہوریت، انصاف اور عوامی حقوق کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    ہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں.بلاول

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران