Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    برطانیہ کی ایک نجی جیل میں ایک خاتون جیل افسر کو مبینہ طور پر ایک قیدی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے کیمرے میں پکڑے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ویلنگبورو کے نجی جیل "فائیو ویلز” میں پیش آیا، جہاں جیل افسر اور ایک ٹیٹو والے قیدی کے درمیان غیر مناسب تعلقات قائم ہونے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔مذکورہ خاتون جیل افسر اور قیدی کے جنسی تعلقات کی ویڈیو ایک کیمرے میں ریکارڈ ہو گئی، جس میں دونوں کو جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو جیل میں دیگر قیدیوں اور باہر موجود افراد تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون افسر کو معطل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قیدی کو بھی جیل کے دوسرے حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کو ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں برطانیہ کے جیل نظام میں اس نوعیت کا دوسرا سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک شادی شدہ جیل گارڈ کو ایک قیدی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ویڈیو میں پکڑا گیا تھا، جس نے برطانوی جیل انتظامیہ کو مزید تحقیقات کی ضرورت کا احساس دلایا۔

    اس تازہ واقعے نے جیل کے نظام میں اخلاقی قدروں اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد جیل کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے سکینڈلز کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویوں کی سرکوبی کی جا سکے۔دوسری جانب، جیل افسر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس کے ممکنہ قانونی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون افسر کو کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ جیل کے نظم و ضبط اور اخلاقی دائرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    یہ واقعہ جیل کے اندر اخلاقی اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات جیل کے عملے کی جانب سے ان کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو نہ صرف جیل کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس سکینڈل کے بعد، جیل کے حکام نے اپنی پالیسیاں مزید سخت کرنے اور ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بلاول بھٹو ، سیاست کے اسٹیج پر نیا انداز، رنبیر کپور سے موازنہ، آئندہ کے ’ہینڈسم وزیرِاعظم‘ قرار

  • مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کو حصہ دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

    جسٹس اقبال چوہدری کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے، اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔یہ مقدمہ گوجرہ کے ایک مسلمان شخص کی 83 کنال اراضی کے متعلق تھا، جسے اُس شخص کی وفات کے بعد اس کے بچوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ تاہم، جائیداد کی تقسیم کے دوران پوتے نے ایک متنازعہ اقدام اٹھایا اور اپنے غیر مسلم چچا کو اس اراضی میں سے حصہ دینے کی کوشش کی۔

    ماتحت عدالت نے اس تنازعے پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ چچا غیر مسلم ہے، اس لیے اسے جائیداد میں حصہ نہیں دیا جا سکتا۔ پوتے کے اس اقدام کو عدالت نے درست تسلیم کیا اور چچا کے غیر مسلم ہونے کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کے بعد چچا نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر عدالت نے فریقین کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

    لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں کہا گیا کہ اسلامی شریعت کے مطابق، کسی مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کو حصہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں جائیداد کی وراثت کی تقسیم کے حوالے سے جو اصول ہیں، ان میں صرف مسلمان افراد کو ہی وراثت کا حق دیا گیا ہے، اور غیر مسلموں کو اس میں حصہ نہیں مل سکتا۔عدالت نے مزید کہا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ شریعت کے مطابق تھا اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    بلاول بھٹو ، سیاست کے اسٹیج پر نیا انداز، رنبیر کپور سے موازنہ، آئندہ کے ’ہینڈسم وزیرِاعظم‘ قرار

    آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان اسکواڈ کا اعلان

  • آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان اسکواڈ کا اعلان

    آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان اسکواڈ کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2025 کے لیے 15 رکنی پاکستانی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔

    اس ورلڈ کپ کی قیادت پاکستان کی وکٹ کیپر بیٹر کومل خان کریں گی، جب کہ ان کی نائب قیادت کی ذمہ داری ضوفشاں ایاز کے سپرد کی گئی ہے۔یہ ٹورنامنٹ 18 جنوری سے 2 فروری 2025 تک ملائیشیا میں کھیلا جائے گا، جس میں کل 16 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ خواتین کی قومی سلیکشن کمیٹی نے پاکستان کی اسکواڈ کا انتخاب مکمل کر لیا ہے، جس میں نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں۔پاکستانی ٹیم 31 دسمبر سے 9 جنوری تک کراچی کے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر میں تربیتی کیمپ میں شرکت کرے گی۔ اس تربیتی کیمپ کا مقصد کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے بہترین فزیکل اور فنی تربیت دینا ہے۔ اس کے بعد پاکستانی ٹیم 10 جنوری کو دبئی کے راستے کراچی سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہو جائے گی۔

    آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2025 کا فارمیٹ چار گروپوں پر مشتمل ہے، جس میں ہر گروپ میں چار ٹیمیں ہوں گی۔ پاکستان کو گروپ بی میں انگلینڈ، آئرلینڈ اور امریکا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔پاکستانی ٹیم کا پہلا میچ 18 جنوری کو امریکا کے خلاف ہوگا۔ اس کے بعد 20 جنوری کو پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہو گا، جب کہ 22 جنوری کو پاکستان کا آخری گروپ میچ آئرلینڈ کے خلاف ہوگا۔

    گروپ اسٹیج کے بعد سپر 6 مرحلہ شروع ہوگا، جس میں دو گروپوں سے ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ سیمی فائنلز 31 جنوری کو ہوں گے، اور ٹورنامنٹ کا فائنل 2 فروری 2025 کو کوالالمپور میں کھیلا جائے گا۔

    پاکستانی اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست درج ذیل ہے:
    کومل خان (کپتان) – لاہور
    ضوفشاں ایاز (نائب کپتان) – واہ کینٹ
    علیسہ مختیار – مظفر گڑھ
    اریشہ انصاری – قصور
    فاطمہ خان – لاہور
    ہانیہ احمر – کراچی
    ماہم انیس – اسلام آباد
    ماہ نور زیب – مردان
    میمونہ خالد – لاہور
    مناہل – فیصل آباد
    قرۃ العین – سیالکوٹ
    راویل فرحان – لاہور
    شہر بانو – لودھراں
    طیبہ امداد – ایبٹ آباد
    واصفہ حسین – کراچی
    نان ٹریولنگ ریزرو

    نان ٹریولنگ ریزرو
    فضا فیاض
    لائبہ ناصر
    مناہل جاوید
    روزینہ اکرم
    ثانیہ رشید
    یہ کھلاڑی ٹریول ریزرو کے طور پر منتخب کی گئی ہیں اور کسی کھلاڑی کے زخمی یا دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ان کو اسکواڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے یہ ٹورنامنٹ ایک اہم موقع ہے، جہاں نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنے کھیل کا مظاہرہ کریں گی۔ انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھے گا، بلکہ انہیں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھی ملے گا۔

  • فیصل آباد،گاڑیوں کا ناقص معیار،حادثے میں کارمکمل تباہ

    فیصل آباد،گاڑیوں کا ناقص معیار،حادثے میں کارمکمل تباہ

    پاکستان میں آج ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں چھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سانحے کی اصل وجہ گاڑی کا ناقص معیار بتائی جا رہی ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    تاندلیانوالہ کے قریب دھند کے باعث پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔یہ واقعہ تاندلیانوالہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں لاہور سے آنے والی ایک کار گنے سے لدی ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور اس کے چار بچے شامل ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق، لاہور سے تاندلیانوالہ کی طرف آنے والی ایک کار میں خواتین، بچے اور ایک مرد سوار تھے۔ شدید دھند کی وجہ سے گاڑی کا ڈرائیور ٹرالی کو نہ دیکھ سکا اور یہ حادثہ پیش آیا۔ کار گنے سے لدی ٹرالی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کار میں سوار ایک خاتون رابعہ بی بی اور اس کی بیٹیاں 13 سالہ فجر، 11 سالہ عمامہ، 6 سالہ یحییٰ، 1 سالہ موسیٰ اور رشتہ دار بچہ 1 سالہ رئیس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق، حادثے کے بعد گنے والی ٹرالی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ٹرالی ڈرائیور کی تلاش جاری ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بعد حادثے کا شکار ہونے والی کار کی تصویر منظر عام پر آئی ہے،کار مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، سوشل میڈیا پر اس سانحے کے بعد پاکستانی شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گاڑیوں کی معیار میں بہتری نہ لائی گئی تو ایسے سانحات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق، گاڑی کے خراب معیار اور حفاظتی تدابیر میں کمی کی وجہ سے اس طرح کے حادثات بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر مقامی خودروساز کمپنیوں پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کو نظر انداز کرتے ہوئے معیاری گاڑیاں تیار نہیں کر رہی ہیں۔اس سانحے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوامی مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر خودروسازی کی صنعت میں اصلاحات کرے اور گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے سخت قوانین بنائے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو عوام کی زندگیوں کی قیمت پر منافع کمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی معیارات متعارف کرائے اور معیاری گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دے۔عوامی حلقوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت گاڑیوں کے معیار کی نگرانی کے لیے ایک مستقل کمیٹی تشکیل دے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

  • پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 کے پہلے نو ماہ میں ایچ آئی وی کے 9 ہزار 713 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ماہانہ اوسطاً 1 ہزار 79 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2024 کے اختتام تک ایچ آئی وی کے 12 ہزار 950 کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یعنی 2023 میں ایچ آئی وی کے 12 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے صحت کے نظام میں مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایچ آئی وی کیسز میں مردوں کی تعداد 69.4 فیصد، خواتین کی 20.5 فیصد، خواجہ سرا 4.1 فیصد اور بچوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا سب سے زیادہ اثر مردوں پر پڑ رہا ہے، تاہم خواتین، خواجہ سرا اور بچے بھی اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    اگر صوبوں کی بات کی جائے تو اس سال پنجاب میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 5 ہزار 691 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں 2 ہزار 383، خیبرپختونخوا میں 926 اور بلوچستان میں 329 ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 9 ماہ میں 378 اور آزاد کشمیر میں 10 ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین اور حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی رسک گروپز جیسے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اور منشیات کے استعمال کرنے والے افراد سے ایچ آئی وی عام آبادی میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آگہی کی کمی، حفاظتی تدابیر کا فقدان اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کی کمی بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچاؤ، منشیات کے استعمال سے اجتناب اور صحت کے مراکز پر حفاظتی اقدامات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2024 کے اختتام تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام اور ماہرین کی جانب سے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

    ایڈز سے بچاؤ کیلئے سیمینار ،شرکا کی واک،آگاہی مہم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

  • اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ایک بیان میں سخت تنقید کی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت ان تمام ممالک سے آ رہی ہے جو اسرائیل کے کھلے حامی ہیں، اور جن ممالک کی حمایت کی بدولت اسرائیل کا وجود قائم ہے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ وہ خود فلسطینیوں کے قتل عام کے سہولت کار ہیں۔ ان ممالک سے جو افراد عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں، یا تو وہ خود صیہونی ہیں یا پھر اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے کھلے طور پر حامی ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یا پھر یہ ممالک اور افراد کسی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ممالک اور افراد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو لپیٹ کر اسے اپنے مالکوں کی ‘کلائنٹ اسٹیٹ’ بنا لیا جائے، جو ان کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے، اور اس سازش کو عملی طور پر مکمل کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کے حمایتیوں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف کچھ طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کھیل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے عمران خان کے عالمی تعلقات اور ان کی سیاست پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ جوڑ توڑ صرف داخلی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر ایک گہری سازش ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بیرونی طاقتیں اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔عمران خان کی غیر متوقع حمایت میں وہ ممالک اور افراد شامل ہیں جو فلسطین کے مسئلے پر مکمل خاموش ہیں اور جو اسرائیل کے حق میں کھل کر بات کرتے ہیں،

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • وزیراعلی مریم نواز  کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلی مریم نواز کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی قیادت میں صوبے میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں جو عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ بن چکے ہیں۔ مریم نوازشریف کے منصوبوں نے صحت کے شعبے میں جدیدیت، سہولت اور معیار کو نئے سطح تک پہنچایا ہے۔ ان کی حکومت نے عوامی صحت کے فوائد کے لیے متعدد پراجیکٹس شروع کیے ہیں جن کا اثر نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دور دراز دیہات تک بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

    لاہور میں قائم محمد نوازشریف کینسر ہسپتال، جو کہ پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال ہے، تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ اس ہسپتال میں جدید طریقہ علاج متعارف کرایا جائے گا، جن میں چین کے طریقہ علاج "نوکیموتھراپی” اور "نوسرجری” شامل ہیں۔ اس سے کینسر کے مریضوں کو بہتر علاج اور زیادہ سہولت ملے گی۔

    کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ سرگودھا
    سرگودھا میں محمد نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی تکمیل کے قریب ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ علاقے میں دل کے مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کرے گا اور امراض قلب کے علاج میں انقلاب لائے گا۔

    پنجاب ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز
    پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن چکا ہے جس نے ایئر ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے دور دراز علاقوں سے مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا سکے گا، جس سے جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔

    کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال: 68 لاکھ مریضوں کی خدمت
    "کلینک آن ویل” اور "فیلڈ ہسپتال” جیسے منصوبوں کے ذریعے تقریباً 68 لاکھ مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان سروسز کے تحت موبائل کلینکس اور فیلڈ ہسپتال دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایکسرے، لیب ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، فرسٹ ایڈ اور ماں بچے کی صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب بھر کے دیہی مراکز صحت کی ری ویمپنگ
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب بھر کے 2800 سے زائد ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی گئی ہے۔ یہ مراکز صحت اب جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہیں اور عوام کو بہتر علاج فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ روایتی بی ایچ یوز (بنیادی ہیلتھ یونٹس) کو "مریم ہیلتھ کلینک” میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں جدید علاج اور میڈیکل سہولتیں دستیاب ہیں۔

    فیلڈ ہسپتال: دور دراز علاقوں میں نئی سہولت
    پنجاب کے دور دراز علاقوں میں فیلڈ ہسپتالوں کی بے مثال سروس جاری ہے۔ ان ہسپتالوں نے تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ فیلڈ ہسپتالوں میں 60 ہزار ایکسرے، ایک لاکھ 35 ہزار لیب ٹیسٹ اور مختلف نوعیت کی دیگر میڈیکل سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔

    دل کے مریضوں کے لیے خصوصی پروگرام
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دل کے مریض بچوں کے لیے "چیف منسٹر ہارٹ سرجری پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بچوں کو مفت علاج اور آپریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے دل کے مریض بچوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

    مریضوں کے علاج میں آسانیاں اور سہولتیں
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت عوامی صحت کو ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے لیے وسائل کی کمی کو کسی صورت نہیں آنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ کلینک سے بہتر ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ہسپتال میں بہتری لانا چاہتے ہیں تاکہ ہر مریض کو مفت علاج اور میڈیسن ملے۔”مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں صحت کے شعبے میں مزید اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ ضلعی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے اور سپیشل پیکیجز کے تحت علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، پنجاب کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیب اور کارڈیالوجی سینٹر مرحلہ وار بنایا جائے گا تاکہ دل کے مریضوں کو فوری علاج مل سکے۔

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک شخص نے اپنی گاڑی ایک اسپورٹس سینٹر میں ورزش کرنے والی بھیڑ پر چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ہو گئے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق، اس شخص کو جمعہ کے روز موت کی سزا سنائی گئی۔

    62 سالہ فان ویچیئو نے گزشتہ ماہ اپنے غصے میں آ کر اپنی گاڑی اسپورٹس سینٹر کی کھلی جگہ پر ورزش کرنے والوں پر چڑھائی تھی، جو کہ چین میں ایک دہائی میں عوامی لوگوں کے خلاف سب سے زیادہ ہلاکتوں والی کارروائی تھی۔فان کو ژوہائی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں سزا سنائی گئی۔ وہ پہلے ہی دن اپنے جرم کا اعتراف کر چکا تھا، اور سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، اس کے اعترافی بیان کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔

    11 نومبر کی شام 8 بجے کے قریب فان ویچیئو نے اپنی گاڑی ایک اسپورٹس سینٹر میں ورزش کر رہے لوگوں پر چڑھائی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس کی ناکام شادی اور طلاق کے فیصلے پر غصے کی حالت میں کیا گیا۔ اس کی نظر میں طلاق کا فیصلہ غیر منصفانہ تھا، جس کی وجہ سے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔فان کی گاڑی ژوہائی اسپورٹس سینٹر کے میدان میں دوڑتے ہوئے متعدد افراد کو ٹکرا گئی۔ پولیس نے حملے کے بعد فان کو گاڑی میں پایا، جو خود کو چاقو سے زخمی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ "عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ملزم فان ویچیئو کا مجرمانہ رویہ قابلِ مذمت ہے، اس جرم کی نوعیت انتہائی ظالمانہ تھی اور اس کے ارتکاب کا طریقہ بھی انتہائی سفاک تھا۔”

    یہ حملہ 2014 کے بعد چین میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ تھا، جب سنکیانگ علاقے میں کئی حملے ہوئے تھے۔چینی صدر شی جن پنگ نے اس حملے کو "انتہائی بربریت” قرار دیا تھا اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

  • بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو )، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے امور زیر بحث آئے،وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ بلنگ کے نظام میں شفافیت لائی جاسکے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ کسی طور قابل قبول نہیں ؛ اوور بلنگ میں ملوث افسران کے خلاف سخت کاروائی ہو گی ،بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں. وزیراعظم نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کے عمل میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انتہائی شفاف عمل کے ذریعے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے،بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں افرادی قوت کی بھرتی میرٹ پر کی جائے ؛ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،نیپرا کے دیئے گئے ٹارگٹ کے حصول کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    اجلاس کو لیسکو، پیسکو اور فیسکو کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں نومبر تک لیسکو کی ریکوری 96.82 فیصد، پیسکو کی ریکوری 87.98 فیصد اور فیسکو کی ریکوری 97.57 فیصد رہی ،مالی سال 2024-25 میں نومبر تک ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز کے حوالے سے لیسکو 13.04 فیصد، پیسکو 33 فیصد جبکہ فیسکو 6.01 فیصد ہے،لیسکو نے 223365 تھری فیز اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنے ہیں جن میں سے 49470 کی تنصیب ہو چکی ہے ،پیسکو نے 152559 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 51173 کی تنصیب ہو چکی ہے ،فیسکو نے 192311 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 11276 کی تنصیب ہو چکی ہے،لیسکو ، پیسکو اور فیسکو کے صارفین کو شکایت کے ازالے اور دیگر خدمات کے حوالے سے کال سینٹرز ، ای میلز ، ویب سائٹس ، انٹریکٹو وائس رسپانس ، نیپرا کی موبائل اور ویب سروسز کی سہولیات حاصل ہیں،بجلی کی ترسیل کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایات کے حوالے سے ہیلپ لائن 118 کی تمام موبائل فون آپریٹرز سے مفت رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے،اس مالی سال نومبر تک لیسکو نے 99.2 فیصد، پیسکو نے 99.9 فیصد اور فیسکو نے 99.7 فیصد تک شکایات کیں

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

  • اٹلی کی خاتون صحافی  تہران میں گرفتار

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

    اٹلی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اٹالین صحافی سیسیلیا سالا تہران میں گرفتار ہو گئی ہیں۔ سالا ایرانی دارالحکومت میں رپورٹنگ کر رہی تھیں جب 19 دسمبر کو تہران پولیس نے انہیں روکا اور گرفتار کر لیا۔

    وزارت خارجہ نے کہا کہ اٹلی کی حکومت ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیسیلیا سالا کی قانونی حیثیت کو واضح کیا جا سکے اور ان کی حراست کی صورتحال کی جانچ کی جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکام نے صحافی کو اپنے رشتہ داروں سے بات کرنے کی اجازت دی تھی اور حالیہ دنوں میں اٹلی کی سفیر پاولا آماڈئی نے جیل میں جا کر ان کی حراست کی حالت کا جائزہ لیا۔

    سیسیلیا سالا اٹلی کے مشہور اخبار "ایل فولیئو” کی رپورٹر ہیں، جس نے خبر دی ہے کہ وہ تہران کی ایون جیل میں قید ہیں۔ اخبار کے مطابق، سالا ایران میں "ایک باقاعدہ ویزا” پر موجود تھیں اور ایک ملک پر رپورٹنگ کر رہی تھیں جسے وہ بخوبی جانتی ہیں اور پسند کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، ایران میں اظہار رائے کی آزادی پر دباؤ اور صحافیوں کے لیے خطرات کا سامنا ہے۔”ایل فولیئو” کے ایڈیٹر، کلاوڈیو سیراسا، نے اخبار میں لکھا کہ "صحافت جرم نہیں ہے۔ آئیے سیسیلیا سالا کو گھر واپس لائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وہ ایون جیل میں ہیں۔ تو تہران نے ہر اس چیز کو چیلنج کیا ہے جسے مغرب ناقابلِ تذکرہ سمجھتا ہے: ہماری آزادی۔” سیراسا نے بتایا کہ اخبار نے سالا کی گرفتاری کی خبر شائع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ان کے سفارتی حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس خبر کو شائع کرنے سے ان کی رہائی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔

    چورا میڈیا، جو ایک اور اٹالین میڈیا آؤٹ لیٹ ہے اور جہاں سالا بھی کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ سالا 12 دسمبر کو روم سے ایران روانہ ہوئی تھیں اور ان کے پاس صحافت کے لیے ایک قانونی ویزا تھا۔ چورا میڈیا نے بتایا کہ "انہوں نے ایران میں متعدد انٹرویوز کیے اور چورا نیوز کے لیے ‘اسٹوریز’ پوڈکاسٹ کے تین ایپیسوڈز تیار کیے۔”

    اٹلی کے وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ "پورا حکومت” سالا کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ "ایران کے ساتھ مذاکرات عوامی رائے اور عوامی غصے کی طاقت سے نہیں بلکہ اعلیٰ سطحی سیاسی اور سفارتی کوششوں سے حل ہوں گے۔” سیسیلیا سالا کا انسٹاگرام اکاؤنٹ حالیہ دنوں میں ایران میں ملنے والی خواتین کے بارے میں پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔ اٹلی کے حکام کی کوشش ہے کہ جلد از جلد ان کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ