Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران پر حملے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں ۔

    یہ بات امریکی میڈیا نے سٹہ بازار کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹہ بازار سیاسی ماحول کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن اُسے حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا ۔،سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال ٹرمپ کے مواخذے کا امکان کم ہے کیونکہ ری پبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت رکھتی ہے اور پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد صدر کی حمایت کر رہی ہے ،تاہم اگر اس سال نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صورتِ حال بدل سکتی ہے.

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان سے خطے کی سیکورٹی صورت حال کے تناظر میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایران کی طرف سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ اس بلا اشتعال کاروائی کے خلاف پاک-سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کا اعادہ بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادر اسلامی ملک ایران کو خطے کی سلامتی کیلئے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دوست ممالک کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع کے ساتھ اس اہم ملاقات کے فوری بعد ایران کی طرف سے پڑوسی اسلامی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا بیان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے انتہائی مثبت تصور کی جارہا ہے۔ بین الاقوامی اُمور کے ماہرین کے مطابق خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس تمام تنازعے کے دوران پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعے تمام شِراکت داروں سے روابط جاری رکھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی تسلسل سے جاری سفارتی کوششوں کا وسیع عمل دخل موجود ہے۔

  • ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کی صبح عرب خلیجی ممالک سے غیرمعمولی خطاب میں معافی مانگتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اب اپنے پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کرے گا، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا “میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے۔ ہمارا ارادہ اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ ایران میں عارضی طور پر حکمرانی کرنے والی تین رکنی قیادت کونسل نے مسلح افواج کو واضح ہدایات دی ہیں کہ آئندہ کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ نہ کیا جائے، جب تک کہ وہاں سے ایران کے خلاف حملے نہ کیے جائیں۔“ہمیں اس مسئلے کو لڑائی کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات سے بچنا چاہیے۔”

    انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا” نہ بنیں اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر کے اعلان پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔ خطاب کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار رہی، اور متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔

  • کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)  کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا

    کمانڈر 12 کور نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا،کور کمانڈر 12 کور نے ژوب سمبازہ ایریا میں بارڈر سکیورٹی اور اہم مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا،کور کمانڈر کی افغان بارڈر پر موجود جوانوں سے ملاقات، ٹی ٹی اے کے خلاف ان کے جرآت مندانہ اقدام کی تعریف کی،دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ژوب اور سمبازہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی مؤثر موجودگی برقرار رہے گی

  • دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    ایرانی ڈرون نے دبئی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں ایک دھماکے اور ڈرون حملے کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں،دبئی ایر پورٹ کے قریب ہفتہ کی صبح زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد فضاء میں دھویں کا بادل بلند ہوتا دیکھا گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکے کی آواز براہِ راست ایئرپورٹ کے اوپر سنی گئی اور چند لمحوں بعد ایئرپورٹ کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایک ڈرون یا اس کے ملبے کے گرنے کے بعد دھماکے کا منظر دکھایا گیا، جس کے بارے میں بعض صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی ساختہ Shahed-136 ڈرون ہو سکتا ہے۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق واقعے کے فوراً بعد متعدد طیارے فضا میں چکر لگاتے یا ہولڈنگ پیٹرن میں نظر آئے جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ دیر کے لیے پروازوں کی آمد و رفت محدود کر دی گئی۔

    بعد ازاں دبئی میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کو “معمولی نوعیت کا حادثہ” قرار دیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ کسی میزائل یا ڈرون کو فضا میں روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی وجہ سے ہوا اور ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔بیان میں کہا گیا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا اور اس مخصوص واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایئرپورٹ ٹرمینلز یا دیگر اہم تنصیبات کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

  • پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایران سمیت مختلف علاقائی ممالک سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور فریقین پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے سے گریز کرے کیونکہ ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں اور پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے اس ماحول میں رابطے اور مکالمے کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ خلیجی ریاستوں پر کسی بھی قسم کے حملے نہ صرف تنازع کو وسیع کر سکتے ہیں بلکہ پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور آذربائیجان کے علاقے نخچیوان پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو ماہرین ایک محتاط توازن کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اس بحران کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے مضبوط سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر متحرک نظر آ رہا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں کا حملوں کوروکنے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا،ملاقات میں زور دیا گیا کہ بلاوجہ جارحیت خطےکی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بلاوجہ حملے امن کے لیے مذاکرات کے امکانات کو محدود کرتے ہیں اور بحران کو بڑھاتے ہیں، دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ ایران سمجھداری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرےگا، ایران کی محتاط حکمت عملی سے دوست ممالک کو بحران کے پرامن حل کی کوششوں میں مددملےگی، ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اوردوستی کےفروغ کےلیےتعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا، دونوں ملکوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانےکا عزم ظاہرکیا۔

  • آپریشن غضب للحق ،بلوچستان کےغیور عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ

    آپریشن غضب للحق ،بلوچستان کےغیور عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے سینکڑوں عوام سڑکوں پر نکل آئے

    جھل مگسی ،قمردین کاریز، کوہلو اور چمن میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں،ریلی کے شرکا نے افغان طالبان کی جارحیت کی شدید مذمت کی اور ملکی سلامتی کیلئے پاک فوج کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا،چمن اور کوہلو پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونجتے رہے ،ریلیوں کے شرکا کاکہنا تھا کہ افغان طالبان کی جارحیت کا افواج پاکستان نے منہ توڑ اور بھرپور انداز میں جواب دیا،افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پوری قوم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ ہیں، ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،پاک فوج نے قوم کی حمایت سے دشمن کا غرور خاک میں ملا کر اپنی طاقت کا لوہا منوالیا،پاک فوج سرحدوں کا دفاع کررہی ہے اور قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے ،ریلی کے شرکا نے عسکری قیادت قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے بھی لگائے،بلوچستان میں اظہار یکجہتی کی ریلیاں بلوچ عوام کی طرف سے پاک فوج کی مکمل حمایت کا واضح ثبوت ہیں

  • اسرائیل،امریکا جارحیت نہ رکی،ایران کے بھی جوابی وار جاری

    اسرائیل،امریکا جارحیت نہ رکی،ایران کے بھی جوابی وار جاری

    اسرائیل اور امریکا کی جارحیت تھم نہ سکی، رات بھر ایران پر خوفناک حملے، تہران دھماکوں سے گونجتا رہا۔

    ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور صدر ٹرمپ کسی ایک ایرانی رہنماء کو بھی زندہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔جنگ کے آٹھویں روز بھی ایران ڈٹ کر کھڑا ہے اور دشمن پر جوابی وار کررہا ہے۔تازہ حملہ عراق کے شہر بصرہ میں کیا گیا جہاں امریکی آئل کمپلیکس پر ڈرون حملے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔عرب اور خلیجی ملکوں میں امریکی اہداف مسلسل ایران کے نشانے پر ہیں جبکہ اسرائیل پر بھی میزائلوں کی برسات کی جارہی ہے۔وہیں اسرائیل و امریکا کے بھی حملے جاری ہیں،تہران شہر کے جنوب، شمالی اور مغربی علاقوں میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا، مزید 80 افراد شہید ہوگئے، تعداد 1332 ہوگئی، 200 بچے بھی شامل ہیں۔امریکا نے ایران کے 43 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کردیا، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں 3 ہزار مقامات کو نشانہ بناچکے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکی صدر کو چیلنج دیا ہے کہ ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھاؤ،ایران نے واضح کیا ہے کہ صرف امریکا اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں، باقی سب کیلئے روٹ کھلا ہے، جہاں سے دُنیا بھر میں تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔

  • اسرائیل میں تباہی،ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،بھارتی صحافی

    اسرائیل میں تباہی،ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،بھارتی صحافی

    اسرائیل میں تباہی کی صورتحال پر بھارتی صحافی نے کہا ہے کہ تل ابیب میں تباہی کے مناظر ہیں، 100 میٹر نیچے سرنگیں بھی میزائلوں سے لرز رہی ہیں۔

    بھارتی صحافی نے انکشاف کیا کہ جب بم پھٹتا ہے تو وہ دیکھتا نہیں ہے کہ یہ بھارتی ہے یا اسرائیلی ہے، ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،سخت سنسر شپ ہے، لاشوں اور اسپتالوں کی وڈیوز بنانے کی اجازت نہیں،100فٹ نیچے زمین میں چھپے اسرائیلی بھی حملوں میں مارے گئے، اسرائیل میں لاشوں اور زخمیوں کی تصویر لینے کی بھی اجازت نہیں ہے، اسپتال جانے کی اجازت نہیں، تباہ عمارت کی تصویر یا وڈیو بنانے پر بھی پابندی ہے، اسرائیلی ٹیکنالوجی کا چرچا سنا تھا مگر یہ ٹیکنالوجی ناکام ہوتے دیکھ لی، بھارتی صحافی نے بتایا کہ میزائل الرٹ کا کبھی کبھی میسج بھی نہیں آتا اور حملہ ہوجاتا ہے،حکومت بھی وہاں کچھ نہیں بتاتی،الارم نہیں بجا اور دھماکہ ہو گیا، ٹیکنالوجی فیل ہو چکی ،