Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتنہ الخوارج کی معصوم لڑکی کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہے

    لڑکی نے فتنہ الخوارج کی خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے پیش نظر والدین کی مدد کےلیےروزگار کی جگہ پرمردانہ لباس پہن رکھا تھا . فتنہ الخوارج کے کارندے لڑکی کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی،لڑکی پر تشدد کی اس ویڈیو کے بعد عوامی حلقوں میں فتنہ الخوارج کیخلاف شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے،ماہرین کے مطابق یہ دردناک واقعہ فتنہ الخوارج کی جانب سے ناقابل تلافی جرم ہے،یہ واقعہ فتنہ الخوارج کی انتہا پسندسوچ کی عکاسی ہے جس میں مذہب کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں خوف اور دہشت پیدا ہو،

    علما کرام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتنہ الخوارج کا گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کے منافی ہے،معصوم لڑکی پر ایسے تشدد اور توہین آمیز رویے کو فتنہ الخوارج کامسخ شدہ چہرہ کہنا درست ہوگا

  • یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے جنوبی کوریا سے جدید فضائی دفاعی نظام Cheongung-II surface-to-air missile system کی جلد از جلد فراہمی کی درخواست کر دی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے خطے میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے جنوبی کوریا سے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے Cheongung-II میزائل بیٹریوں کی ترسیل کے شیڈول کو تیز کیا جائے تاکہ ملک کو ممکنہ حملوں سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نظام پہلے ہی یو اے ای کے جامع فضائی دفاعی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق یو اے ای میں نصب Cheongung-II نظام نے حالیہ حملوں کے دوران تقریباً 96 فیصد کامیابی کے ساتھ میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے رکن Yu Yong-weon نے اس کارکردگی کو نظام کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی دفاعی منڈی میں اس سسٹم کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کی،ان حملوں میں بعض شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،یو اے ای نے 2022 میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنیوں سے Cheongung-II نظام کی 10 بیٹریاں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جن میں سے اب تک دو بیٹریاں نصب کی جا چکی ہیں،بعد ازاں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس دفاعی نظام کی خریداری کے لیے بالترتیب 3.2 ارب ڈالر اور 2.8 ارب ڈالر کے معاہدے کیے۔

    جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دفاعی معاہدوں اور پیداوار کے شیڈول کے باعث بیٹریوں کی ترسیل کو تیز کرنا آسان نہیں۔ تاہم یو اے ای نے متبادل طور پر یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر مکمل بیٹریاں فوری فراہم نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم انٹرسیپٹر میزائل پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ دفاعی صلاحیت کو فوری طور پر مضبوط کیا جا سکے۔

    Cheongung-II ایک درمیانی فاصلے کا زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام ہے جو بیلسٹک میزائلوں اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بیٹری میں چار لانچر، جدید ریڈار اور فائر کنٹرول سینٹر شامل ہوتا ہے۔اس کا انٹرسیپٹر میزائل تقریباً 400 کلوگرام وزن رکھتا ہے اور Hit-to-Kill ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدف کو براہِ راست ٹکر مار کر تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام 15 کلومیٹر سے زیادہ بلندی اور تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے تک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ طیاروں کے خلاف اس کی رینج 50 کلومیٹر تک ہے۔دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو فضائی دفاعی نظاموں کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں Cheongung-II کی کامیاب کارکردگی اسے عالمی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    قطر کے وزیر توانائی سعد بن شریده الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

    قطر کے وزیرِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں جاری تنازع، خاص طور پر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آنے والے چند ہفتوں میں خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے اور یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

    قطری وزیرِ توانائی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا میں توانائی کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے اور اگر جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے، ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی یا جنگ میں شدت آئی تو عالمی مالیاتی منڈیاں، تجارتی سرگرمیاں اور ترقی پذیر معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں

  • آپریشن غضب للحق،ژوب ، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق،ژوب ، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے “آپریشن غضب للحق” کے تحت مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری ہیں.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مرکز بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب سیکٹر اور قلعہ سیف اللہ سیکٹر ہیں جہاں سے دہشتگرد سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک فوج نے بروقت اور منظم حکمت عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار موجود دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر اور بھرپور کارروائی کے باعث افغان طالبان کے جنگجو اپنی متعدد سرحدی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشتگرد عناصر اور فتہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، پاک فوج کی حکمت عملی کے نتیجے میں دشمن عناصر کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا،سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔

  • ایف آئی اے کی تحقیقات میں میڈیا سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف آئی اے کی تحقیقات میں میڈیا سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف آئی اے نے پاکستان کے میڈیا سیکٹر میں مبینہ منی لانڈرنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نیٹ ورک کے کمپنی سیکریٹری کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ متعدد دیگر معروف اداروں کے مالیاتی ریکارڈز بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات ابتدا میں ایک معمول کی کارروائی کے طور پر شروع ہوئیں جب ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کی وجہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی ترسیل اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کرنسی کی فروخت کے الزامات تھے،اس کارروائی کے دوران بینک کے ایریا منیجر نعمان رؤف کو اپنے چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان پر تقریباً 15 ہزار امریکی ڈالر غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام ہے،تفتیش کے دوران جب حکام نے نعمان رؤف کا ذاتی موبائل فون چیک کیا تو اس میں موجود ڈیٹا نے پورے کیس کا رخ بدل دیا۔ تحقیقاتی ٹیم کو ایسے شواہد ملے جن سے میڈیا انڈسٹری سے مبینہ مالی روابط اور رقوم کی ترسیل کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔

    تحقیقاتی حکام کے مطابق حوالہ سسٹم کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ متحدہ عرب امارات درہم پاکستان منتقل کیے گئے اور بعد ازاں یہ رقم جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ سے مختلف افراد تک پہنچائی گئی۔ بعد کی کارروائیوں میں ایک اور نیٹ ورک بھی سامنے آیا جس میں حوالہ ٹرانزیکشنز اور غیر قانونی ڈالر ٹریڈنگ کا انکشاف ہوا۔ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے انتہائی منظم طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔ رقم کی نقل و حرکت میں شامل افراد ایسی سمز استعمال کرتے تھے جو سری لنکا، نیپال، دبئی اور سنگاپور میں رجسٹرڈ تھیں۔ پورے نیٹ ورک میں پاکستانی موبائل نمبرز کا استعمال نہیں کیا گیا،حکام ان نمبرز کے ذریعے متعلقہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ نام فرضی بھی ہو سکتے ہیں تاہم کال اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مبینہ نیٹ ورک کم از کم تین سال سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات ممکنہ طور پر پورے نیٹ ورک کا صرف پانچ فیصد ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کو شبہ ہے کہ جب کمپنیوں کے مکمل مالیاتی ریکارڈ حاصل کر کے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم نے دی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری

    وزیراعظم نے دی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری

    وزیراعظم نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری دیدی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات اسٹاک اور کھپت پر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی،ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے بارے میں سفارشات پیش کیں جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا،ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے بارے میں سفارشات دے گی، ای سی سی سے منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی سمری کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی جب کہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اورآفسز کیلئے ورک فرام ہوم کاپلان پیرکو پیش کرنےکی ہدایت کی گئی ہے،وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو صوبوں سے مشاورت کے بعد پیر کو ورک فرام ہوم کے بارے میں پروپوزل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،ان اقدامات کے باعث ایندھن اسٹاک کا مؤثر استعمال اور طلب میں کمی ہوسکے گی۔

    دوسری جانب اجلاس کے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے،اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فورا بند کیا جائے، اوگرا مصنوعی قلت میں ملوث پیٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے جب کہ وزیر پیٹرولیم صوبوں کا دورہ کریں، وزیرپیٹرولیم صوبائی حکومتوں کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلاتعطل فراہمی سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں،وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو، ڈیش بورڈ کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔

  • اوول آفس میں امریکی صدر ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا ئیں

    اوول آفس میں امریکی صدر ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا ئیں

    ایران جنگ کے تناظر میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا بھر سے پادریوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جمع ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعا کی،وائرل ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ پادری صدر کو ریزیلوٹ ڈیسک کے گرد گھیرے کھڑے ہیں اور متعدد مذہبی رہنما دعا کے دوران صدر ٹرمپ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں،یہ دعا امریکی صدر کے لیے صحت، تحفظ اور رہنمائی کی نیت سے کی گئی، جس میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اور روحانی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

    یہ تقریب ٹرمپ کی ذاتی اور سیاسی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی دعاؤں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے اور اس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں نے صدر کے مستقبل کے فیصلوں اور قومی خدمت میں کامیابی کی دعا کی،یہ اجتماع وائٹ ہاؤس فیتھ آفس کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں ڈیوڈ بارٹون، روبرٹ جیفرس جیسے معروف پادریوں نے شرکت کی،بعد ازاں پادری رابرٹ جیفرس نے کہا کہ صدر کے لیے دعا کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے،اوول آفس میں ہونے والا یہ دعائیہ اجتماع صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور قدامت پسند مسیحی رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کی ایک تازہ مثال ہے، جس نے حالیہ برسوں میں واشنگٹن میں سیاسی پیغام رسانی اور پالیسی مباحث کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تباہ کن اثرات، تقریباً 200 بچے جاں بحق

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تباہ کن اثرات، تقریباً 200 بچے جاں بحق

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران خطے میں تقریباً 200 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    یونیسیف کے مطابق جنگ کے سب سے زیادہ اثرات ایران میں دیکھنے میں آئے، جہاں کم از کم 181 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں 7 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ اسرائیل میں 3 بچوں کی موت کی اطلاع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کویت تک پہنچے جہاں ایک بچے کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ پہلے ہی لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ فضائی حملوں، میزائل حملوں اور سکیورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث بچوں کو نہ صرف جان کا خطرہ لاحق ہے بلکہ تعلیم، صحت اور محفوظ ماحول جیسے بنیادی حقوق بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگی کارروائیوں میں کمی لانے اور شہریوں، خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ یونیسیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “بچے جنگیں شروع نہیں کرتے، لیکن وہ اس کی ناقابل قبول حد تک بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔”

  • ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    امریکی ٹی وی نے سیٹیلائیٹ تصاویر کی مدد سے ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی اردن میں جدید ترین تھاڈ دفاعی نظام کا ریڈار تباہ کردیا تھا۔

    امریکی ٹی وی کے مطابق ایران نے کمیونیکیشن، ریڈار اور جاسوسی آلات سےائیر ڈیفنس کمزور کرنے کی کوشش کی،رپورٹ کے مطابق ایران نے عرب امارات میں بھی دو مقامات پر تھاڈ ریڈار پر تاک کر حملہ کیا تاہم اماراتی ریڈار عمارت کے اندر ہونے کے سبب ٹھیک نقصان کا اندازہ ممکن نہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایک تھاڈ ڈیفنس سسٹم کی قیمت 50 کروڑ ڈالر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے قطر کے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کیاگیاہے۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکہ کے ساتھ اپنے بعض معاہدوں اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر نظرثانی کا سوچ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ان ممالک کے حکام نے داخلی سطح پر ایسی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت امریکہ کے ساتھ کچھ مالی معاہدوں سے دستبرداری یا مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگ کے باعث پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے خلیجی ممالک کی معیشت پر کئی طرح کے دباؤ پیدا کر دیے ہیں۔ ایران ان ممالک میں‌امریکی اڈوں کو نشانے بنا رہا ہے،توانائی کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔خلیجی فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔سیاحت اور ہوا بازی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ان عوامل کے باعث کئی خلیجی حکومتیں اپنی بیرونی سرمایہ کاری اور مالی وعدوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں۔اگر یہ ممالک واقعی سرمایہ کاری کم کرتے ہیں تو اس سے امریکی معیشت اور عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔