Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں 15 خوارج جہنم واصل

    بلوچستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں 15 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دو الگ الگ کارروائیوں میں بھارتی پراکسی یافتہ 15 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پرانٹیلی جنس آپریشن کیا گیا، خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران 12خوارج ہلاک کر دیے گئے، سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو گھیر کر بھرپور کارروائی کی، ضلع بسیما میں بھی آپریشن کے دوران بھارتی سرپرست یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے، فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کا سراغ لگا کرمؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی، ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث اور سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھے، سکیورٹی فورسز ملک سے بیرونی سرپرست یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • 9 مئی،جی ایچ کیو حملہ کیس،47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 برس قید کی سزا

    9 مئی،جی ایچ کیو حملہ کیس،47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 برس قید کی سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو کیس کا فیصلہ جاری کیا،عدالت نے اشتہاری ملزمان کو قید کے ساتھ 5،5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا،عدالت سے سزا پانے والوں میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب اور راشد شفیق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ بھی ملزمان میں شامل ہیں،انسداد دہشت گردی عدالت نے شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی کو بھی قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پرحملوں میں ملوث پائے گئے، جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث مرکزی ملزم قرار دیا،فیصلے کے مطابق ملزمان پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پرحملوں اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، مقدمےمیں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی،انسداد دہشتگردی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مقدمے میں اب تک استغاثا کے کل 44 گواہان کے بیانات رکارڈ ہوچکے ہیں، 118ملزمان میں 18 ملزمان دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے، 29ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے،عدالت نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کےتحت47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا، پراسیکیوشن نے رواں سال 6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائرکی، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر انکوائری تشکیل دی، رواں سال 8 جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اشتہاری ملزمان کو 7دن کےاندر عدالت کےسامنےسرنڈر کرنے کاموقع دیا، عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونےکے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔

  • تہران جنگ کے سائے میں،سنسان سڑکیں، بمباری کا خوف،ایرانی عوام کے متضاد جذبات

    تہران جنگ کے سائے میں،سنسان سڑکیں، بمباری کا خوف،ایرانی عوام کے متضاد جذبات

    ایران کا دارالحکومت ان دنوں ایک غیر معمولی اور خوفناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ شہر کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں اور معمولات زندگی تقریباً مفلوج ہو چکے ہیں۔ شہریوں کے مطابق شہر اس وقت کسی “بھوتوں کے شہر” کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں خاموشی صرف اس وقت ٹوٹتی ہے جب آسمان سے بموں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔

    ایک 30 سالہ تہران کے رہائشی نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ“یہ شہر اب کسی ویران بستی جیسا لگتا ہے۔ لوگ گھروں سے نہیں نکل رہے۔ اگر کبھی کوئی سڑک پر نظر آ جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی فلم کا منظر ہو۔”انہوں نے بتایا کہ شدید فضائی حملوں کے چھٹے دن بھی شہر میں خوف اور غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔“ابتدا میں لوگ شدید خوف میں تھے، لیکن کچھ لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے جنگی طیاروں کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔”

    امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران کے مختلف اہداف پر مشترکہ فضائی حملے شروع کیے، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں اور یوں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اس جنگ نے ایرانی معاشرے کے اندر پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ایک طرف وہ ایرانی ہیں جو طویل عرصے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سخت گیر نظام کے خاتمے کی خواہش رکھتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے موجودہ حالات امید کی کرن بھی بن گئے ہیں۔دوسری طرف حکومت کے حامی ہیں جو خامنہ ای کی وفات کے بعد سوگ کی فضا میں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ملک کے سیاسی مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    بہت سے ایرانی شہری اس جنگ کے بارے میں شدید مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ضرور تھے، لیکن یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ تبدیلی بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے آئے۔ایک شہری نے بتایا “ہم پر دشمن حملہ کر رہا ہے، بمباری ہو رہی ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم مکمل غصے میں بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ جو صورتحال پہلے تھی وہ ذہنی طور پر اس سے بھی زیادہ مشکل تھی۔”انہوں نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان احتجاجوں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہفتے سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔جنوبی ایرانی شہر میناب میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 168 بچے اور 14 اساتذہ ہلاک ہو گئے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ“اندھا دھند حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”

    تہران میں گیشا اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ حراستی مرکز، جہاں اخلاقی پولیس کا دفتر بھی تھا، حالیہ فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔ایک سابق ایرانی طالب علم، جو اس مرکز میں قید رہ چکا تھا، نے کہا “اس عمارت میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار اور ذلیل کیا گیا۔ مجھے امید ہے کہ بمباری میں کوئی بے گناہ شخص زخمی نہیں ہوا ہوگا، لیکن مجھے خوشی بھی ہے کہ وہ عمارت اب موجود نہیں۔”ایک موسیقار، جو وہاں قید رہ چکا تھا، نے کہا کہ اس عمارت کے تباہ ہونے پر اس کے جذبات متضاد ہیں۔

    ایران میں حکومت نے 28 فروری سے انٹرنیٹ کو تقریباً مکمل طور پر محدود کر دیا ہے۔ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک معمول کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی ہے جس کے باعث تقریباً 9 کروڑ افراد عالمی خبروں اور سوشل میڈیا سے کٹ چکے ہیں۔شہر شیراز کے ایک رہائشی نے بتایا “ہمارے پاس کوئی خبر نہیں ہوتی۔ فون بھی مشکل سے ملتا ہے۔ کوئی سائرن نہیں ہوتا جو حملے سے پہلے خبردار کرے۔ ہمیں بس آسمان میں کچھ آتا دکھائی دیتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ ہمارا ہے یا دشمن کا۔”

    تہران میں ایک خاتون نے بتایا کہ شہر کی دکانوں اور بازاروں میں عجیب صورتحال ہے جہاں خوف کے باوجود زندگی کسی حد تک جاری ہے۔انہوں نے کہا “پہلے دن اشیائے خورونوش بہت مہنگی تھیں اور لوگ ذخیرہ نہیں کر سکتے تھے، لیکن اگلے دن بازار دوبارہ بھر گئے، بیکریاں کھلی رہیں اور روٹی بن رہی تھی۔”جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات، مسلسل بمباری، مواصلاتی بندش اور غیر یقینی حالات کے درمیان ایرانی عوام ایک نئی حقیقت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایک تہران کے شہری سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس نے مختصر جواب دیا “میں ابھی زندہ ہوں۔”

  • امریکی دفاعی کمپنیوں کا ٹرمپ انتظامیہ سے ملاقات میں اسلحہ کی پیداوار چار گنا بڑھانے پر اتفاق

    امریکی دفاعی کمپنیوں کا ٹرمپ انتظامیہ سے ملاقات میں اسلحہ کی پیداوار چار گنا بڑھانے پر اتفاق

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ سے ملاقات کرنے والی بڑی دفاعی کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ صدر کے مطابق یہ کمپنیاں بعض جدید ترین ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا تک بڑھائیں گی۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دفاعی صنعت کے بڑے اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’’ایکسکوئزٹ کلاس‘‘ کے جدید ہتھیاروں کی تیاری کو تیزی سے بڑھایا جائے تاکہ کم سے کم وقت میں بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی پیداوار میں توسیع کا عمل دراصل اس ملاقات سے تین ماہ پہلے ہی شروع کر دیا گیا تھا اور کئی نئے پلانٹس اور پروڈکشن لائنز پہلے ہی کام شروع کر چکی ہیں۔ صدر کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی فوجی صلاحیت کو جلد از جلد بلند ترین سطح تک پہنچانا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ان کمپنیوں میں BAE Systems، Boeing، Honeywell Aerospace، L3Harris Technologies، Lockheed Martin، Northrop Grumman اور Raytheon Technologies شامل تھیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ دفاعی کمپنیوں کے ساتھ اگلی اہم ملاقات دو ماہ بعد دوبارہ کی جائے گی، جس میں پیداوار میں اضافے اور دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

  • لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ، گھانا کے دو فوجی شدید زخمی

    لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ، گھانا کے دو فوجی شدید زخمی

    لبنان کے جنوبی علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملے کے نتیجے میں گھانا کے دو فوجی شدید زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔گھانا کی مسلح افواج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر کو جمعہ کی شام دس منٹ سے بھی کم وقت میں دو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق حملے میں دو فوجی شدید زخمی ہوئے جبکہ ایک اور اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہو گیا۔گھانا کی فوج کے مطابق حملے میں افسروں کے میس کی عمارت بھی مکمل طور پر تباہ ہو کر جل گئی۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔بیان میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل حملہ کس جانب سے کیا گیا، تاہم کہا گیا کہ یہ واقعہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں پیش آیا۔گھانا کی مسلح افواج نے اس واقعے پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں باضابطہ احتجاج بھی درج کرا دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کا امن مشن یونیفل گزشتہ تقریباً 45 برس سے جنوبی لبنان میں تعینات ہے، جس میں دنیا کے 50 سے زائد ممالک کے فوجی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ 2024 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے دوران اسرائیلی حکام نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یونیفل کے ٹھکانوں کے قریب سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج پر امن فوجیوں پر فائرنگ اور یونیفل کی تنصیبات میں داخل ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری غیر قانونی حملوں کے باعث شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثر غریب اور کمزور طبقات ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ لڑائی فوری طور پر بند کر کے سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا جائے، ورنہ صورتحال کسی کے کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے۔

  • بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ ہو گا تو دشمن کی سازشیں دم توڑ جائیں گی،خالد مسعود سندھو

    بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ ہو گا تو دشمن کی سازشیں دم توڑ جائیں گی،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی، خوشحالی اور امن ہر پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ اتحاد ، محبت اور خدمت سے کریں گے،بلوچستان محب وطن،صحت، تعیم، روزگار ہر بلوچ نوجوان کا حق ہے،مرکزی مسلم لیگ خدمت بلوچستان پروجیکٹ شروع کرے گی،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، حافظ ادریس صدر مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ ڈویژن حافظ ادریس، ترجمان بلوچستان حنظلہ عماد و دیگر نے بھی خطاب کیا،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت بلوچ قوم نے قربانیاں دی تھیں،بلوچستان کے باسی ہمیشہ محب وطن رہے ہیں، پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بلوچ عوام کا نام استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،
    بلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکورٹی اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،بلوچستان کی محرومیوں کی ازالہ ہو گا تو بھارتی سازشیں دم توڑ جائیں گی،کشمیر سے کابل ، خیبر سے بلوچستان اور پورے برصغیر میں پھیلا ہوا فتنۃ الہندوستان پاکستانی قوم کے عزم اور استقامت کے آگے نہیں ٹھہرسکے گا،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے دی،صحت،صاف پانی اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے ایثار ومحبت کی مثال قائم کریں گے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ صیہونیت اور ھندوتوا دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں،ایران کے خلاف جارحیت کی مزمت کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کیا جائے اس ضمن میں میں پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کو کردار ادا کرنے کے لئے آگے بڑھنا ہو گا،

  • شازیہ مری  کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار

    شازیہ مری کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مسترد کردیا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ عوام پر بڑا معاشی بوجھ ہے، رمضان المبارک میں دوسری بار قیمتوں میں اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، اس اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور عوام کی مشکلات بڑھیں گی، حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں، موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی شدید مہنگائی کا شکار ہیں،حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معیشت اور عوام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا،عوام دوست پالیسیوں کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے،

  • ایران کے میزائل حملے، بیروت پر اسرائیلی فضائی کارروائی، عالمی منڈیوں میں ہلچل

    ایران کے میزائل حملے، بیروت پر اسرائیلی فضائی کارروائی، عالمی منڈیوں میں ہلچل

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے باعث خطے کی صورتحال نہایت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

    مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں کے باعث کئی ممالک براہ راست اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ویب سائٹ ے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنا ہے۔ اس بیان کو سفارتی سطح پر ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی اخبار کے مطابق جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد اہلکار شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر ایک اور فضائی حملہ کیا ہے۔ بیروت کے جنوبی علاقے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی اسرائیل یہاں متعدد فضائی کارروائیاں کر چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی ایک نئی لہر بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس بار اسرائیل میں حملوں سے قبل صرف چار منٹ کی پیشگی وارننگ دی گئی جبکہ اس سے پہلے عموماً سات سے آٹھ منٹ کا وقت ملتا تھا۔ تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم فوری طور پر کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ایران کے مرکزی فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن کے ریڈار نظام تباہ ہونے کے بعد ایرانی مسلح افواج کو کارروائیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے اور حملوں کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی عرب میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
    رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی بیلسٹک میزائل پرنس سلطان ایئربیس (سعودی عرب) پر جا گرا جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے متعدد ری فیولنگ طیاروں کی موجودگی بھی دیکھی گئی ہے۔مزید برآں سیٹلائٹ اور ڈرون تصاویر میں ایئر بیس کے قریب ایک ریڈار سائٹ سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں امریکی دفاعی اڈے پر حملہ
    امریکی صحافی ریان گِرم کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی THAAD میزائل دفاعی نظام کے ایک اڈے پر ایرانی حملوں کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ تاہم اس حملے کے نقصانات کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایسے علیحدگی پسند گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جسے ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔ حکام کے مطابق یہ گروپ کئی ماہ سے ایران کے مغربی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں جنگ سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر جاری کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور ایسی معلومات پھیلانے والوں کو قید کی سزاؤں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے جنگ سے متعلق زیادہ تر ویڈیوز لبنان اور ایران سے سامنے آ رہی ہیں۔

    جنگی صورتحال کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 2023 کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جنگ اور جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے درمیان ایک بڑا فرق یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے اندر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نیٹ ورک کی سرگرمیاں اس بار نہایت محدود نظر آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق گزشتہ مہینوں میں موساد کے متعدد خفیہ سیلز کو نقصان پہنچا ہے۔

  • ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا ہے،

    ایرانی حکام کے مطابق صوبہ لورستان میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو تباہ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت تہران کے نواحی علاقے میں ایک اسرائیلی ہرمس ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کے ساتھ تباہ کیے گئے ڈرونز کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے اب تک ایرانی فضائی دفاع نے 75 سے زائد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں تعینات فضائی دفاعی نظام امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی جوابی فوجی کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید تیز اور وسیع ہوں گی۔ ایرانی قیادت کے مطابق اگر حملے جاری رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر شیراز میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق حملہ ایک رہائشی علاقے پر کیا گیا جس کے باعث شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران ایران کے 6 بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا، جبکہ حالیہ حملوں میں ایران کے 3 جدید فضائی دفاعی نظام بھی نشانہ بنائے گئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری جھڑپیں پورے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،  140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    پاکستان میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے تھانہ بکا خیل اور تھانہ ککی کی حدود میں کامیاب کارروائیاں کیں، جس کے دوران بڑی مقدار میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ بکا خیل کی حدود میں کارروائی کے دوران 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد پر مشتمل دو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) کو بروقت ناکارہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد حساس مقامات پر نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔دوسری کارروائی تھانہ ککی کی حدود میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے 8 کلوگرام بارودی مواد سے تیار کی گئی ایک خود ساختہ آئی ای ڈی کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بم رابطہ پُل اور مقامی بازار کے قریب نصب کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ماہرین بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام بارودی مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت انٹیلیجنس معلومات اور فورسز کی فوری کارروائی کے باعث ایک بڑا دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔