Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب، پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ڈسٹرکٹ کے علاقے راجگال میں ایک غیر ملکی دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے بہادر سپاہی، 22 سالہ عامر سہیل آفریدی نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سپاہی عامر سہیل آفریدی ضلع خیبر کے علاقے راجگال کے رہائشی تھے اور ان کی شہادت نے قوم کو بے حد غمگین کیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔پاکستان کی حکومت نے مسلسل طور پر عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاک فوج نہ صرف اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے آپریشنز سے دہشت گرد گروہوں کو سخت پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور ان کے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع خیبر کے علاقے راجگال میں سیکیورٹی آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 4 کارندوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےفائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی عامر سہیل آفریدی کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور کہا کہ قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الخوارج کے مکمل سد باب کے لیے سرگرم عمل ہیں،

  • جوَس اسٹون نے بچے کو گود لینے کے بعداپنے "حمل” کی دی خبر

    جوَس اسٹون نے بچے کو گود لینے کے بعداپنے "حمل” کی دی خبر

    برطانوی گلوکارہ اور نغمہ نگار جوَس اسٹون نے حال ہی میں اپنی حمل کی خبر دی ہے،جوس اسٹوں نے اپنے شوہر کوڈی ڈی لاگ کے ساتھ ایک بچہ گود لیا تھا اسکے بعد انہیں پتہ چلا کہ وہ امید سے ہیں

    جوَس اسٹون نے اس خبر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور ایک سلیڈ شو بھی پوسٹ کیا جس میں وہ حمل کے ٹیسٹ کا نتیجہ دیکھ کر شاک کی حالت میں نظر آ رہی ہیں۔اسٹون نے انسٹاگرام پر لکھا: "ایمانداری سے، شاکڈ کہنا کم لفظ ہوگا۔ اب کچھ اور کوئی ہماری خوشی کو نہیں چھین سکتا۔ ہم بہت خوش ہیں!!

    صرف دو ہفتے قبل، جوَس اسٹون نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے اور ان کے شوہر کوڈی ڈی لاگ نے اپنے نئے گود لیے ہوئے بیٹے "بیئر” کا تعارف کروایا تھا۔ جوڑے کے پہلے ہی دو بچے ہیں۔ایک حالیہ انٹرویو میں، جوَس اسٹون نے ہیلو! میگزین کو بتایا کہ انہوں نے بیئر کو اپنے گھر نیش ول واپس لے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بیئر اپنی متوقع تاریخِ پیدائش 31 دسمبر سے 11 ہفتے پہلے پیدا ہوا تھا مگر وہ "بہت اچھا کر رہا ہے”۔انسٹاگرام پر بیئر کو اپنے گھر لے جانے کے بعد اسٹون نے لکھا: "ہم اس چھوٹے لڑکے سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔ جو وجہ ہے کہ کوڈی یہاں تک آیا، وہ یہ ہے کہ اس کی حیاتیاتی والدہ نے اس سے اتنی محبت کی کہ اس کے لیے گود لینے کا منصوبہ بنایا۔ اور بیئر کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ سچ میں، حیاتیاتی ماؤں کو وہ شکریہ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ یہ ایک ایسا خود غرضانہ محبت ہے جس کا مجھے علم بھی نہیں تھا۔ ہم بس اس خوبصورت چکر کا حصہ بن کر خوش ہیں۔”

    جوَس اسٹون نے 2022 میں "سن” اخبار کے لیے ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کی مشکل پیدائش کا ذکر کیا تھا، جس دوران ان کی رحم کی دیوار پھٹ گئی تھی۔ انہوں نے لکھا: "میں ابھی بھی بہت سارے بچے چاہتی ہوں، لیکن میں انہیں قدرتی طور پر نہیں جناسکتی اور مجھے سی سیکشن کی ضرورت ہو گی، حالانکہ میرے ڈاکٹر نے کہا تھا: ‘اگر تم میری بیوی ہوتی، تو میں تمہیں ایسا کرنے نہیں دیتا۔’””لیکن مجھے بچے گود لینے میں کوئی دقت نہیں ہے۔ چاہے میں انہیں خود جنوں یا نہیں۔”

    ہیلو! کے ساتھ انٹرویو میں، جوَس اسٹون نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان اگلے سال برطانیہ منتقل ہونے کی امید رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا: "جہاں تک مجھے یہاں پسند ہے، میری اپنی پرورش اتنی خوبصورت تھی کہ میں یہ چاہتی ہوں کہ اپنے بچوں کو بھی وہی ماحول دوں۔ اور کوڈی کا بھی یہی خیال ہے۔”جوَس اسٹون کی یہ خوشخبری ان کے مداحوں کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے، اور ان کے گود لیے گئے بچے اور نئی حمل کی خبریں ایک خوبصورت اور محبت بھری کہانی کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

  • امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا،اخراجات بل منظور

    امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا،اخراجات بل منظور

    امریکا میں شٹ ڈاؤن کے خطرے کا خدشہ ایک بار پھر ٹل گیا ہے، کیونکہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک طویل بحث و مباحثے کے بعد اخراجات کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کو منظور کرنے کے بعد اب یہ وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا، جہاں صدر جو بائیڈن اس پر دستخط کر کے اسے قانونی حیثیت دے دیں گے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی ایوانِ نمائندگان نے اخراجات کے بل کو منظور کرنے کے لیے تین بار ووٹنگ کی، جس میں پہلی دو بار بل منظور نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم، تیسری بار اس بل کی منظوری ایک بھاری اکثریت سے ہوئی۔ سینیٹ میں بھی اس بل کی حمایت میں 85 ووٹ آئے اور مخالفت میں صرف 11 ووٹ پڑے، جس سے واضح طور پر بل کی منظوری کی حمایت کی گئی۔اخراجات کے اس بل میں امریکی حکومت کے لیے کئی اہم اقدامات شامل ہیں۔ بل کے مطابق، امریکی حکومت کو مارچ 2025 تک ڈیزاسٹر فنڈز کی مد میں 100 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کے لیے 10 بلین ڈالرز کا خصوصی فنڈ بھی مختص کیا جائے گا، تاکہ زرعی شعبے کو مزید ترقی دی جا سکے اور قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

    اگر اس بل کو مسترد کر دیا جاتا، تو امریکا کے تمام سرکاری ادارے آدھی رات سے فنڈز کی کمی کے باعث بند ہو جاتے اور حکومت کی تمام اہم سرگرمیاں معطل ہو جاتیں، جس کا اثر نہ صرف امریکی معیشت پر پڑتا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا اثر محسوس کیا جاتا۔اب جب کہ یہ بل کامیابی سے منظور ہو چکا ہے، امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا ہے، اور امریکی عوام اور حکومت کو ایک اہم بحران سے بچا لیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری سے نہ صرف حکومت کے آپریشنز جاری رہیں گے بلکہ قدرتی آفات اور کسانوں کی مشکلات میں بھی مدد ملے گی۔

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • یمن سے حوثیوں کا تل ابیب پر میزائل حملہ،16 زخمی

    یمن سے حوثیوں کا تل ابیب پر میزائل حملہ،16 زخمی

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ ہفتے کی رات یمن سے فائر ہونے والا ایک میزائل تل ابیب میں جا کر گرا،

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ میزائل تل ابیب کے جنوبی علاقے جافا میں گرا، اور ایئر سائرن کی آواز سننے کے کچھ دیر بعد ہی میزائل کو روکنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ایمرجنسی سروسز کے مطابق، اس حملے میں 16 افراد معمولی زخمی ہوئے، لیکن کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ تل ابیب اسرائیل کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور ملک کا تجارتی اور سفارتی مرکز ہے۔ اس شہر کو میزائل کے براہ راست نشانے پر آنا غیر معمولی بات ہے، کیونکہ اسرائیل کے پاس جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز موجود ہیں۔

    حوثی ملیشیا، جو ایران کی حمایت یافتہ ہے، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تل ابیب کے جافا علاقے میں ایک ہائپرسونک بیلسٹک میزائل "فلسطین 2” فائر کیا جو اپنے ہدف پر درست طور پر گرا۔ حوثیوں نے کہا کہ اسرائیل کے دفاعی نظام اور انٹرسیپشن سسٹم اس میزائل کو روکنے میں ناکام رہے۔اسرائیل کی ایمرجنسی سروس "مگن ڈیوڈ ادم” کے مطابق، 16 افراد کو شیشے کے ٹکڑوں سے معمولی چوٹیں آئیں جو قریب کی عمارتوں کے ٹوٹنے سے آئیں۔ اس کے علاوہ 14 افراد کو پناہ لینے کی کوشش میں معمولی چوٹیں آئیں

    ایک مقامی رہائشی، 69 سالہ بیت شاہائی نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے سائرن کی آواز سنی لیکن میزائل کے پھٹنے سے پہلے وہ اپنے گھر سے بھاگنے کا وقت نہ پا سکیں۔ "میزائل ہمارے عمارت کے پیچھے گرا، اور تمام کھڑکیاں پھٹ گئیں، پہلی اور دوسری منزل پر، پورا علاقہ لرز اٹھا۔ یہ بہت خوفناک تھا۔”

    یمن میں حوثی ملیشیا نے اس سے قبل بھی اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی تھی، اور اس کے بعد اسرائیل کو لبنان کی حزب اللہ اور حوثیوں کی جانب سے بھی میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ اسرائیل نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹمز سے بیشتر حملوں کو ناکام بنایا ہے۔اسرائیل کی غزہ پر بمباری اور محاصرے کی وجہ سے ہزاروں افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں، اور لبنان میں بھی اسرائیلی حملوں سے 4000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حوثی ملیشیا نے حالیہ مہینوں میں سرخ سمندر میں شپنگ جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں، جنہیں انہوں نے غزہ جنگ کے جواب میں قرار دیا ہے۔

    حوثی، حزب اللہ اور حماس ایک ایران کی قیادت میں علاقائی اتحاد کا حصہ ہیں، جو گزشتہ ایک سال سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک فلسطینی علاقے میں جنگ بندی نہیں کی جاتی، وہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں 14 ماہ سے جنگ جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ایک جنگجو نے اسرائیلی فوجیوں پر ایک فدائی حملہ کیا ہے جس میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے کو فلسطینی مزاحمت کا ایک بڑا جواب قرار دیا جا رہا ہے اور یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج پر ہونے والا پہلا فدائی حملہ ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، القسام بریگیڈز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک جنگجو نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیلی فوج کے اسنائپر (مخصوص نشانہ باز) اور اس کے معاون کو انتہائی قریب سے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ یہ حملہ دوپہر کے وقت کیا گیا اور دونوں اسرائیلی فوجی موقع پر ہی مارے گئے۔اس حملے کے بعد القسام بریگیڈز کے جنگجو نے ایک اور جرات مندانہ کارروائی کی۔ ایک گھنٹہ بعد، وہی جنگجو اسرائیلی فوجی کا بھیس بدل کر چھ اسرائیلی فوجیوں پر مشتمل ایک دستے کے درمیان داخل ہوگیا۔ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں مزید اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ القسام بریگیڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں اسرائیلی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

    حملے کے بعد القسام بریگیڈز کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اس کارروائی کو "فدائی حملہ” قرار دیا گیا۔ فدائی حملے فلسطینی مزاحمت کی ایک قدیم اور اہم حکمت عملی ہے، جس میں جنگجو اپنے جان کی قربانی دے کر دشمن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ القسام بریگیڈز نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی مزاحمت کا مظہر ہے اور اس کے ذریعے اسرائیلی فوج کے حوصلے کو پست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ حملہ فلسطینی مزاحمتی تحریک کے لئے ایک اہم لمحہ ہے، کیونکہ یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی فوج کے خلاف کوئی اہم کارروائی ہے۔ اس سے قبل 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کی تھی، جس میں سینکڑوں اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ تاہم، اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ان فوجیوں کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔اسرائیل نے کہا کہ وہ غزہ میں اپنے فوجی آپریشنز جاری رکھے گا اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے خلاف کارروائی میں مزید شدت لائے گا۔ اسرائیل کی حکومت کی جانب سے اس حملے پر ناپسندیدہ ردعمل ظاہر کیا گیا ہے، اور اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔

    یہ حملہ فلسطینی مزاحمت کی ایک جرات مندانہ کارروائی ہے، جس میں حماس نے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ غزہ میں اسرائیلی فوج پر ہونے والا پہلا فدائی حملہ ہے جس کا دعویٰ القسام بریگیڈز نے کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، اور اسرائیل کی طرف سے سخت ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔ فلسطینی مزاحمت نے ایک مرتبہ پھر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے اور غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں یہ حملہ ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومئی بہت بڑا حادثہ تھا ، یہ سزائیں بہت پہلے سنا دینی چاہیئں تھیں

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کی دی گئیں ہیں ، شہدا کے مجسوں کو توڑنا ملک دشمنی اور غداری ہے، منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی، جب تک ہمارا دفاع مضبوط ہے ملک کو خطرہ نہیں،ڈیڑھ برس کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی اور فیصلہ آیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، امریکہ، برطانیہ میں ایسا حادثہ ہوا تو راتوں کو بھی عدالتیں کھلی رہیں اور سزائیں ہوئیں ،لیکن پاکستان میں تاخیر ہوئی،میانوالی،مردان، پشاور، لاہور، پنڈی تمام شہروں میں شہدا کے نشانوں کی توہین کی گئی،ملک کو باہر کی بجائے اندر سے خطرے اس طرح کے تھے،اختلاف کرنا حق ہے لیکن سیاست میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، پاکستان کے شہدا کی نشانیوں‌پر حملہ حب الوطنی نہیں ہے،شہدا کے مجسموں کو زمین پر پھینکا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ 9مئی کے 25ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ھیں۔ ھونا تو چاہئے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح فوری انصاف ھوتا۔ اس تاخیر نے ملزموں اور انکے سہولت کاروں کے حوصلے بڑھاۓ۔ ایک تاریک دن کی مذمت سے بھی گریز کیا گیا۔ جس سے شہداء اور غازیوں کی توھین کرنے والوں کو ھییرو بنا یا گیا۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،

    فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    فوجی عدالتوں نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں 11 مجرموں کو سزا سنائی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث 5 مجرموں کو سزا سنائی گئی،پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،بنوں کینٹ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی،ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث ایک مجرم،چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

  • سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9مئی میں ملوث مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں،9مئی 2023 کو قوم نے سیاسی طور پر بڑھکائے گئے اشتعال انگیز تشدد اورجلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعات دیکھے،9 مئی کے پرتشدد واقعات پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں،نفرت اور جھوٹ پر مبنی ایک پہلے سے چلائے گئے سیاسی بیانیے کی بنیاد پر مسلح افواج کی تنصیبات بشمول شہداء کی یادگاروں پرمنظم حملے کئے گئے اور اُن کی بے حرمتی کی گئی ،یہ پر تشدد واقعات پوری قوم کے لئے ایک شدید صدمہ ہیں،9مئی کے واقعات واضح طور پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو بھی سیاسی دہشتگردی کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،اس یوم سیاہ کے بعد تمام شواہد اور واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی گئی،ملوث ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کئے گئے،کچھ مقدمات قانون کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے لئے بھجوائے گئے جہاں مناسب قانونی کارروائی کے بعد ان مقدمات کا ٹرائل ہوا،13 دسمبر 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی آئینی بنچ نے زیر التواء مقدمات کے فیصلے سنانے کا حکم صادر کیا ،وہ مقدمات جو سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کی وجہ سے التواء کا شکار تھے ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنا دی ہیں،یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں،سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    1۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    2۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    3۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    4۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت
    5۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    6۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    7 ۔چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    8 ۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    9۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    10۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    11۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    12۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    13۔جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    14۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت
    15۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت
    16۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    17۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    18۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت
    19۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت
    20۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    21۔آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    22۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    23۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    24۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    25۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت

    مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو سزا ملے گی
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر ملزمان کی سزاؤں کا اعلان بھی اُن کے قانونی عمل مکمل کرتے ہی کیا جا رہا ہے،9مئی کی سزاؤں کا فیصلہ قوم کے لیے انصاف کی فراہمی میں ایک اہم سنگ میل ہے، 9مئی کی سزائیں اُن تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں،سیاسی پروپیگنڈے اور زہریلے جھوٹ کا شکار بننے والے لوگوں کیلئے یہ سزائیں تنبیہ ہیں کہ مستقبل میں کبھی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،متعدد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں، صحیح معنوں میں مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا مل جائے گی،ریاست ِ پاکستان 9مئی کے واقعات میں مکمل انصاف مہیا کر کے ریاست کی عملداری کو یقینی بنائے گی ،9مئی کے مقدمہ میں انصاف فراہم کرکے تشدد کی بنیاد پر کی جانے والی گمراہ اور تباہ کُن سیاست کو دفن کیا جائے گا ،9مئی پر کئے جانا والا انصاف نفرت، تقسیم اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی نفی کرتا ہے ،آئین اور قانون کے مطابق تمام سزا یافتہ مجرموں کے پاس اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی ریاض ملک کے عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

    یہ وارنٹس اُس کیس کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اپنے ایک پراجیکٹ میں دکانوں کا قبضہ دینے میں ناکام ہوئی،اکرام اللہ خان، جنہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے براہ راست شکایت درج کروائی، نے عدالتی مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں کہا کہ ان کے موکل نے بحریہ ہائٹس ٹاور I میں تین دکانیں کل 20.9 ملین روپے کی قیمت پر بک کروائی تھیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ یہ رقم قسطوں میں ادا کی جانی تھی اور دونوں فریقوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ جب مکمل رقم ادا ہو جائے گی تو دکانوں کا قبضہ شکایت کنندہ کو دیا جائے گا۔تاہم، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے 2019 سے اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس کے بعد ان کے موکل کو یہ پتا چلا کہ بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک نے اس پورے پراجیکٹ کو شاہ نواز ایاز درانی کو فروخت کر دیا، جسے پراپرٹی کی بے جا استعمال اور مجرمانہ اعتماد شکنی کے طور پر بیان کیا گیا۔

    عدالت نے شکایت اور گڈاپ پولیس اسٹیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک اور شاہ نواز ایاز د رانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت میں شامل ہونے کی ہدایت دی اور دونوں کو 50,000 روپے کی ضمانت دینے کا حکم دیا ،عدالت نے ریمارکس دیے، "موجودہ حالات اور پیش کردہ شواہد کے پیش نظر، شکایت میں بیان کردہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے کافی وجوہات ہیں۔”

    اس کے علاوہ، عدالت نے کہا کہ جو انکوائری رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس میں فریقین کے درمیان ایک سول مقدمہ چلنے کا انکشاف ہوا ہے۔ "بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز کے مینیجر نے اس سول مقدمے کے ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن دکانوں کی حیثیت یا شکایت کنندہ کی ملکیت کے بارے میں کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔”
    عدالت نے سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی اور ملزمان کو آئندہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

    ملک ریاض کیلئے ایک اور مشکل،بحریہ ٹاؤن 76 کروڑ کا ڈیفالٹر،بجلی کٹ گئی

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • جدہ: پاکستان کے نوجوان ٹینس پلیئر محمد حسن عثمانی کا اعزاز

    جدہ: پاکستان کے نوجوان ٹینس پلیئر محمد حسن عثمانی کا اعزاز

    جدہ میں منعقد ہونے والے اے ٹی ایف انڈر 14 ٹینس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے نوجوان کھلاڑی محمد حسن عثمانی نے شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے سنگلز اور ڈبلز دونوں کیٹگریز میں ٹائٹل جیت لئے۔

    محمد حسن عثمانی نے سنگلز کے فائنل میں ٹاپ سیڈ کھلاڑی، ترکمانستان کے سلیمان ہودیباردیو کو شکست دی۔ یہ میچ انتہائی سنسنی خیز رہا، جس میں حسن عثمانی نے اپنی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3-6 اور 1-6 کے اسکور سے اپنے حریف کو شکست دی۔ حسن عثمانی کی یہ جیت نہ صرف ان کی محنت کا ثمر ہے بلکہ ان کی ٹینس کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور اظہار ہے۔

    ڈبلز کے فائنل میں بھی حسن عثمانی نے سلیمان ہودیباردیو کے ساتھ جوڑی بنائی اور سعودی عرب کے انس الزاہرانی اور سہیل التاجی الفاروق کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ یہ میچ بھی کافی دلچسپ تھا، جس میں حسن عثمانی اور ہودیباردیو کی جوڑی نے انس الزاہرانی اور سہیل التاجی الفاروق کو 7-5، 4-6 اور 10-8 سے شکست دی۔

    اس ایونٹ کی اختتامی تقریب میں سپین کے ٹینس لیجنڈ رافیل نڈال مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ رافیل نڈال نے نہ صرف اپنے مداحوں کے ساتھ وقت گزارا بلکہ حسن عثمانی کو ان کی شاندار کامیابی پر ٹرافی بھی پیش کی۔ حسن عثمانی نے رافیل نڈال سے ٹرافی وصول کرتے ہوئے کہا: "رافیل نڈال سے ٹرافی وصول کرنا میرے لیے بڑا اعزاز ہے، یہ لمحہ ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے۔”پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے بھی محمد حسن عثمانی کی شاندار کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حسن عثمانی کی جیت پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور اس سے ملک میں ٹینس کے کھیل کو فروغ ملے گا۔

    محمد حسن عثمانی کی اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ان کی محنت اور لگن کو بھی سراہا گیا۔ اس جیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔