Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس: سینیٹر ناصر بٹ ، حمزہ عارف بٹ سمیت دیگر بری

    جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس: سینیٹر ناصر بٹ ، حمزہ عارف بٹ سمیت دیگر بری

    جج ارشد ملک( مرحوم ) ویڈیو سکینڈل کیس نیا موڑ ،سیشن عدالت نے لیگی سینیٹر ناصر بٹ ، حمزہ عارف بٹ سمیت دیگر کو ویڈیو سکینڈل کیس سے بری کر دیا۔

    کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عدنان رسول لاڑک نے کی،جج ارشد ملک نے سینیٹر ناصر بٹ و دیگر کے خلاف دو ہزار انیس میں مقدمہ درج کرایا تھا، جج ارشد ملک نے الزام عائد کیا تھا کہ ناصر بٹ اور ان کے ساتھیوں نے اُن کی ویڈیو ریکارڈ کر کے اسے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا۔ اس ویڈیو میں جج ارشد ملک کو ایک مقدمے میں فیصلے کے حوالے سے مبینہ طور پر دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ویڈیو سکینڈل نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں زبردست ہلچل مچائی تھی اور اس کے بعد جج ارشد ملک کو اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا، جب کہ ویڈیو کے معاملے نے ملک کی عدالتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تنازعات کو مزید بڑھا دیا تھا۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی و قانونی حلقوں میں مختلف رائے زنی ہوئی، جس میں بعض افراد نے اسے عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی فرضی اور جھوٹی قرار دیا تھا

    اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔ان ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

    اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا تھا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی-

    واضح رہے کہ جج ارشد ملک کی وفات ہو چکی ہے،کرونا کے ایام میں جج ارشد ملک کی موت ہوئی تھی

  • امریکہ کو  سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی طفیلی ریاست نہیں ،رضا ربانی

    امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی طفیلی ریاست نہیں ،رضا ربانی

    سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد کے الزام پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ایک بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر یہ پابندیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور یہ کہ امریکہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی طفیلی ریاست نہیں ہے۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیاں "امتیازی اور جانبدارانہ” ہیں اور ایسی کارروائیاں پاکستان کے میزائل پروگرام کو کسی بھی صورت متاثر نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں سے امریکہ کا یہ دہرا معیار واضح ہو رہا ہے، جو اس کی عالمی پالیسی کو ناقابلِ فہم بنا دیتا ہے۔رضا ربانی نے یاد دلایا کہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق قائدین نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے پُرامن جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی، جبکہ شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کے میزائل پروگرام کو مزید آگے بڑھایا۔ ان دونوں رہنماؤں کی پالیسیوں کا مقصد پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا تھا اور یہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

    سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب پاکستان عالمی سطح پر اپنی دفاعی ضروریات کے حوالے سے خودمختار حیثیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی حکمت عملی میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور یہ کہ ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔رضا ربانی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی پالیسیوں کا خطے میں امن اور استحکام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اور ایسے اقدامات کسی بھی طرح پاکستان کے میزائل پروگرام کو متاثر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاعی ضروریات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سرپرستی قبول نہیں کرے گا۔

    اس بیان میں رضا ربانی نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی دفاعی پالیسیوں کو سراہا اور کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں رہ کر فیصلے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

    محکمہ اطلاعات سندھ کا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کا فیصلہ

    میریٹ ہوٹل کے سیل کیے گئے ایریاز ڈی سیل کرنے کا حکم

    چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے جو بھی ہوگا پاکستان کے لیے بہتر ہو گا،محسن نقوی

  • محکمہ اطلاعات  سندھ کا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کا فیصلہ

    محکمہ اطلاعات سندھ کا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کا فیصلہ

    کراچی: محکمہ اطلاعات حکومت سندھ نے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کے لئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے "فلم اور ڈرامہ پراڈکشن بورڈ” کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد سندھ کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے اور اس شعبے سے جڑے افراد کی معاونت کرنا ہے۔

    سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد اس فیصلے کا اعلان سندھ کے سینئر وزیر اور محکمہ اطلاعات کے وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات کے دیگر حکام اور شعبہ تعلقات عامہ کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ "فلم اور ڈرامہ پراڈکشن بورڈ” کا قیام سندھ کی ثقافتی نمائندگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کا مقصد صوبے کے گوناگوں کلچر اور تاریخی تہذیب کو اجاگر کرنا ہے تاکہ دنیا بھر میں سندھ کی مثبت شناخت کو فروغ دیا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ "فلم اور ڈرامہ کے توسط سے ہمیں معاشرتی برائیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ان کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لئے سول سوسائٹی، آرٹسٹوں اور دیگر مکتبہ فکر کے افراد کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کے قیام سے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو فروغ ملے گا بلکہ اس سے سماجی مسائل پر بھی روشنی ڈالی جا سکے گی۔وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سندھ کا ارادہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لائے، جس کے ذریعے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی سندھ کی تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے۔ "سندھ کا ثقافتی ورثہ بے شمار رنگوں اور قسموں میں بٹا ہوا ہے اور اس کی منظر کشی عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے”، شرجیل انعام میمن نے کہا۔ بورڈ کی تشکیل کا مقصد فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی حمایت کرنا اور ان کے لئے مالی اور تخلیقی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس بورڈ کی مدد سے نئے پروجیکٹس کی معاونت اور ان کی مارکیٹنگ کی جائے گی تاکہ سندھ کے تخلیقی شعبے کو مزید ترقی مل سکے۔

    شرجیل انعام میمن نے میڈیا انڈسٹری کو درپیش موجودہ چیلنجز کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو مزید معاونت کی ضرورت ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے داخلی مسائل کو حل کر سکے بلکہ معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیاں بھی لا سکے۔اس اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ محمد یوسف کابورو اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ ان تمام افراد نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بورڈ کے قیام سے سندھ کی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں نئی زندگی کا آغاز ہوگا۔

    محکمہ اطلاعات حکومت سندھ کا یہ فیصلہ سندھ کی ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بورڈ کی تشکیل سے نہ صرف مقامی فنکاروں اور تخلیقی افراد کو مدد ملے گی بلکہ عالمی سطح پر سندھ کے حوالے سے ایک مثبت تاثر بھی قائم ہو گا۔

    خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    سندھ سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا، شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

  • میریٹ ہوٹل کے سیل کیے گئے ایریاز ڈی سیل کرنے کا حکم

    میریٹ ہوٹل کے سیل کیے گئے ایریاز ڈی سیل کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے معروف میریٹ ہوٹل کے سیل کیے گئے ایریاز کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سی ڈی اے کا میریٹ ہوٹل کو سیل کرنے کا آرڈر معطل کرتے ہوئے سی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا اور کل تک جواب طلب کیا۔یہ فیصلہ عدالت میں درخواست گزار ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈوکیٹ کی پیشی کے بعد آیا۔ درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے کی جانب سے میریٹ ہوٹل کو غیر قانونی طور پر سیل کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کا معروف لگژری ہوٹل "میرایت ہوٹل” کو گزشتہ روز سی ڈی اے نے سیل کر دیا تھا۔ اس کارروائی کی وجہ ہوٹل کی جانب سے غیر قانونی پارکنگ، مارکی قائم کرنے اور 16 کروڑ روپے کے واجبات نہ ادا کرنے کی اطلاعات تھیں۔ سی ڈی اے کے مطابق ہوٹل نے اپنی بیسمنٹ کو غیر قانونی طور پر اسٹوریج کے طور پر استعمال کیا تھا، جو کہ قواعد و ضوابط کے خلاف تھا۔

    میریٹ ہوٹل کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہوٹل کے تمام سیکشنز کو عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ وہ سی ڈی اے کے ساتھ تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ تمام واجبات کی ادائیگی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔تاہم سی ڈی اے کے حکام نے اس بات کا اصرار کیا کہ میریٹ ہوٹل کے سیل کیے گئے ایریاز کو تب تک دوبارہ کھولا نہیں جائے گا جب تک ہوٹل کی جانب سے واجبات کی مکمل ادائیگی نہیں کی جاتی۔اس معاملے پر عدالت نے سی ڈی اے کو کل تک جواب دینے کی ہدایت کی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    پنجاب کابینہ اجلاس، پارا چنار کے عوام کے لئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری

    400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

  • پنجاب کابینہ اجلاس، پارا چنار کے عوام کے لئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری

    پنجاب کابینہ اجلاس، پارا چنار کے عوام کے لئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری

    وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 21واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں پارا چنار کے عوام کے لئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری دی گئی، جب کہ وزیر اعلیٰ نے اس حوالے سے ہدایات بھی جاری کیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پارا چنار کے عوام کی درخواست پر فوری طور پر ادویات اور دیگر ضروری سامان بھیجنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ پارا چنار کے عوام ہمارے اپنے ہیں اور مصیبت و مشکل میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے علاوہ، پارا چنار کے عوام کی ضرورت کے مطابق موبائل ہیلتھ یونٹ بھی وہاں بھیجا جائے گا۔

    چین کے دورے کی کامیابی اور پنجاب کی ترقی کے امکانات
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے حالیہ دورہ چین کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چین میں پنجاب کے وفد کو غیر معمولی پذیرائی ملی، جو پنجاب کے عوام کے لئے فخر کا باعث ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چین کی ترقی قابل تقلید ہے اور ہمیں بھی محنت کر کے وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہیے جو چین نے حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی حالت اتنی مثالی تھی کہ وہاں کاغذ تک نہیں پڑا تھا، جو کہ ایک بہترین انتظامی نظام کا عکاس ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے چین کے عوام میں اتھارٹی کو تسلیم کرنے کے رویے کو بھی قابل تقلید قرار دیا اور کہا کہ چینی عوام کے خیالات میں بے پناہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دل چاہتا ہے کہ پنجاب بھی چین کی طرح ہر دن ترقی کرے۔

    چینی سرمایہ کاری اور پنجاب میں ترقی کے امکانات
    وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ چین کے سرمایہ کار پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران چین کی 60 بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے پنجاب میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے چین-پنجاب ڈیسک کی منظوری بھی دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    کینسر کے جدید علاج کے منصوبے
    وزیر اعلیٰ نے چین میں کینسر کے علاج کے جدید طریقہ کار کی کامیابی کو سراہا اور کہا کہ جلد پنجاب کے ایک ہسپتال میں کینسر کے چینی علاج کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاید اللہ تعالی نے انہیں چین بھیجا تاکہ وہ کینسر کے جدید ترین علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔

    زرعی اور کسان دوست اقدامات
    کابینہ نے وزیر اعلیٰ کی کسان دوست گندم پالیسی کی منظوری دی اور گندم کی خریداری کے حوالے سے نئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے گندم کی خریداری کا 100فیصد ہدف حاصل کرنے کی خوشخبری بھی دی۔ انہوں نے کسانوں کی فلاح کے لیے مختلف اقدامات جیسے کسان کارڈ کے ذریعے 30 ارب روپے کی زرعی مداخل کی خریداری کی بھی بریفنگ دی۔

    گرین انرجی اور ماحولیاتی اقدامات
    کابینہ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب کلین ایئر پروگرام کی منظوری دی، جس کے تحت صوبے میں ای بسوں، چارجنگ سٹیشنز اور سپر سیڈرز کے علاوہ دیگر ماحولیاتی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، پہلی گرین بلڈنگ کے پراجیکٹ کی تکمیل کی بھی منظوری دی گئی۔صوبائی کابینہ نے پنجاب ویگرنسی آرڈیننس 1958 میں ترمیم کی منظوری دی جس کے تحت بچوں سے بھیک منگوانے کے لیے اپاہج کرنے پر سزا کو ایک سے دس سال تک بڑھا دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے "اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے ماڈل تھری کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ، داتا دربار کے صحن میں جدید خودکار چھتریاں نصب کرنے کی سکیم کی بھی منظوری دی گئی۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سرکاری سکولوں میں فرنیچر فراہم کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت دی اور سکول مینجمنٹ کونسل پالیسی 2024 کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، ایمرجنسی سروسز کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے اس اجلاس میں پنجاب کے مختلف شعبوں میں ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پنجاب میں معاشی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

    400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

  • 400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

    400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

    ذرا ایک بار سوچئے: ایک ایسا شخص جس کے پاس 80 کروڑ روپے کی بے پناہ دولت ہو، جس نے 400 سے زائد کتابیں لکھی ہوں، جو ایک بڑا بزنس مین ہو اور اس کی بیٹی سپریم کورٹ میں بڑی وکیل بن جائے، لیکن اس کے باوجود اُسے اپنا بڑھاپا کاشی کے کسی کوڑھ کے آشرم میں گزارنا پڑے۔ تو اس بوڑھے سے بڑھ کر بدنصیب کون ہو سکتا ہے؟ جس نے اپنی پوری زندگی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے گزار دی، انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا، اور بدلے میں اُسے کیا ملا؟ کاشی کا کوڑھ کا آشرم۔

    یہ ایک ایسی دردناک کہانی ہے، جو بھارت کے نامور مصنف شری ناتھ کھنڈیلوال کی ہے۔ جنہیں لوگ ایس این کھنڈیلوال کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ایس این کھنڈیلوال کا شمار ہندوستان کے مشہور مصنفین میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سناتن دھرم سے متعلق بے شمار کتابیں لکھیں، اور اس فن میں مہارت حاصل کی۔ ان کی کتابیں نہ صرف ہندوستانی معاشرتی و مذہبی موضوعات پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہیں، بلکہ وہ ایک تاریخی ورثے کا حصہ بن چکی ہیں۔ایس این کھنڈیلوال غلام ہندوستان کے دور میں بنارس (اب وارانسی) میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم کا آغاز عام طور پر ہوا تھا، مگر دسویں جماعت میں وہ فیل ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے تعلیم جاری نہیں رکھی اور کسی بھی رسمی ڈگری کے بغیر زندگی کی راہ اختیار کی۔ لیکن اس کمی کے باوجود ان کے اندر ایک گہرا علمی خزانہ چھپا ہوا تھا۔ صرف 15 سال کی عمر میں، انہوں نے اپنے گرو پدم وبھوشن گوپی ناتھ کی رہنمائی میں کتابیں لکھنا شروع کر دی تھیں۔ اور یہ سلسلہ بڑھاپے تک جاری رہا۔

    ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کتابیں لکھنے میں گزارا۔ ان کی کتابوں نے سناتن دھرم، ہندوستانی ثقافت، اور تاریخ پر روشنی ڈالی، جس کی وجہ سے وہ بہت جلد ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے 400 سے زائد تصنیفات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کس قدر محنت اور لگن سے کام کرتے تھے۔انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی، انہیں بہترین تربیت دی اور خود بھی کاروباری دنیا میں کامیاب ہوئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے 80 کروڑ روپے کی جائیداد بنائی۔ مگر اس کے باوجود جب ان کے بڑھاپے کا وقت آیا، تو وہ اپنے بچوں کی مدد کے بجائے ان کے بے رخی اور بے وفائی کا شکار ہوئے۔

    ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کے اتنے سال اپنی اولاد کی خدمت میں گزارے، انہیں اپنی محنت سے کامیابی کی راہ دکھائی، لیکن بدلے میں انہیں جو ملا، وہ ایک دل دہلا دینے والی حقیقت ہے۔ بڑھاپے کی حالت میں جب انہیں سب سے زیادہ اپنے بچوں کی ضرورت تھی، ان کے بیٹے اور بیٹی نے ان کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کیا۔ ان کے بیٹے نے انہیں گھر سے نکال دیا اور کہا کہ "اسے لے جاؤ اور کہیں پھینک دو، واپس مت لانا”۔یہ وہ لمحہ تھا جب ایس این کھنڈیلوال کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تکلیف کا سامنا ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ "میرے گھر والوں کے بارے میں نہ پوچھو، میرا ایک خاندان تھا، اب نہیں ہے۔ اب وہ ماضی کی بات ہے، اب میں یہاں کاشی میں رہ رہا ہوں، سارناتھ کے کاشی لیپروسی آشرم میں اپنی زندگی گزار رہا ہوں۔”

    اب ایس این کھنڈیلوال کا بیشتر وقت کاشی کے ایک کوڑھ آشرم میں گزرتا ہے، جہاں ان کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے بھی وہ اپنے مشن کو ترک نہیں کرتے اور اب بھی ایک اور کتاب لکھ رہے ہیں جو عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ ان کی زندگی میں اس قدر تلخیاں آئی ہیں، کہ اب وہ اپنے بچوں کے نام لینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب مودی حکومت نے انہیں پدم ایوارڈ دینے کی پیشکش کی تھی۔ وزیر داخلہ نے خود ان سے فون کر کے ان کا نام اس ایوارڈ کے لیے تجویز کیا، لیکن ایس این کھنڈیلوال نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی میں جتنا دکھ اور تکلیف آئی ہے، وہ اس ایوارڈ سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

    ایس این کھنڈیلوال کی کہانی نہ صرف ایک شخص کی کامیابی اور ناکامی کی داستان ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ زندگی میں کبھی کبھار جو کچھ ہم امید کرتے ہیں، وہ ہمیں نہیں ملتا۔ ایک عظیم مصنف، جو اپنے علم، محنت اور عزم سے دنیا کو متاثر کرتا رہا، آخرکار اپنی اولاد کی بے وفائی اور نافرمانی کا شکار ہو گیا۔یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ دولت، شہرت، اور کامیابی کچھ بھی ہو، اصل حقیقت یہ ہے کہ انسانیت اور اخلاقیات کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کی اس حقیقت کو نہ صرف جیا بلکہ اپنے کام کے ذریعے ہمیں بھی یہ سکھایا کہ انسان کو اپنے کردار اور عمل سے پہچانا جانا چاہیے، نہ کہ محض دولت اور شہرت سے۔

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    حلال اور حرام کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی،خواجہ آصف

  • امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی چار نجی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

    منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کس بنیاد پر پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رہا ہے؟ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام انتہائی غیر منصفانہ اور جابرانہ ہے کیونکہ وہ خود تاریخ میں کئی سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ "امریکہ خود ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا چکا ہے اور نسل کشی میں ملوث اسرائیل کی مالی امداد کر رہا ہے۔” حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ امریکہ نے عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کے جھوٹے دعوے کرکے لاکھوں افراد کو قتل کیا، اسی طرح ویتنام اور افغانستان میں بھی امریکی فوجیوں نے بے شمار انسانی جانوں کا ضیاع کیا۔امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ "امریکہ وہ ملک ہے جس نے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور آج وہ ہماری نجی کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود اسرائیل دہشت گردی اور نسل کشی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ میں 45 ہزار لاشیں مل چکی ہیں لیکن ملبے تلے کتنے اور افراد شہید ہوئے ہیں، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور یہ ایک سنگین انسانی بحران ہے۔انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی صورتحال پر سخت موقف اپنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ نے 20 جنوری تک یرغمالیوں کی رہائی نہ ہونے پر کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے۔”

    امیر جماعتِ اسلامی نے بتایا کہ ان کی جماعت غزہ میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے، مگر انہوں نے کہا کہ یہ کام حکومت کا ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اپیل کی کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں فعال کردار ادا کرے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کے جرائم کے خلاف آواز بلند کرے۔

    پاکستان کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک کی زراعت کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر مافیا کو فائدہ پہنچا رہی ہے، اور کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے سے گریز کر رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا اور مڈل مین اپنے مفادات کے لئے سرگرم ہیں اور کسانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 29 دسمبر کو اسلام آباد میں ایک بڑا ملین مارچ کرے گی جس میں غیر مسلم بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مارچ انسانیت کے خلاف جنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہ صرف فلسطین یا غزہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے انسانی معاشرتی نظام کے خلاف ایک جنگ ہے اور ہم اس میں حصہ ڈالیں گے۔”

  • حلال اور حرام کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی،خواجہ آصف

    حلال اور حرام کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 50 فیصد کرپشن ختم ہو جائے تو آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے

    سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ مایوسی کے دور سے نکل چکےہیں، پی ٹی آ ئی سول نافرمانی کا شوق بھی پورا کر لے،ہمیں اپنے علاقائی معاملات میں کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں،ملکی معیشت مثبت سمت میں جاری ہے.ایک روشنی نظرآناشروع ہوگئی،تمام اشارئیے مثبت ہیں.وقت کے ساتھ ساتھ مسائل حل ہوجائیں گے.صنعت کاروں کے مسائل حل کئے جائیں گے.پالیسی ریٹ نوفیصدکم ہوا،خواجہ آصف نے کہا کہ وہ صنعتی برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس وقت ملک ایک مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان مایوسی کے دور سے نکل چکا ہے، تاہم اب بھی متعدد رکاوٹیں اور مشکلات موجود ہیں جن کا حل نکالنا ضروری ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ فیصلے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بروقت نہیں لیے جا سکتے اور بعض اوقات یہ مجبوریاں عوام کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی مثالی رہی ہے اور دیگر اقتصادی اشاریے بھی مثبت آرہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک اچھی علامت ہے۔ وزیر دفاع نے یقین دلایا کہ ملک کو درپیش چیلنجز وقت کے ساتھ حل ہو جائیں گے اور پاکستان کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں نان کسٹم گاڑیوں کی اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حلال اور حرام کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ خواجہ آصف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پچھلے دور حکومت میں کرپشن کے بہت بڑے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی نے بتایا کہ ایک بیوروکریٹ نے بچیوں کی شادی میں 4 ارب روپے کی سلامی کمائی، جب کہ ایک کسٹم کلیکٹر کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث رہا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کی وجہ سے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ اگر 50 فیصد کرپشن ختم ہو جائے تو پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اس صورتحال کو سدھارنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور اس میں عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔

    خواجہ آصف نے آخر میں کہا کہ ملک کے معاشی مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو دوبارہ مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے اور مستقبل قریب میں اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتوں کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے.صنعتوں کا معیشت میں اہم کردارہے.صنعتی شعبے کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی،

    ڈی ایٹ سربراہی اجلاس، وزیراعظم کی قاہرہ کے شاہی محل آمد

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

  • ڈی ایٹ سربراہی اجلاس، وزیراعظم کی قاہرہ کے شاہی محل آمد

    ڈی ایٹ سربراہی اجلاس، وزیراعظم کی قاہرہ کے شاہی محل آمد

    ترقی پذیر ممالک کی تنظیم "ڈی ایٹ” کا 11واں سربراہی اجلاس مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری ہے۔

    اس اجلاس میں پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائشیا، نائیجیریا اور ترکیہ کے سربراہان مملکت اور حکومت شریک ہیں۔ اجلاس کا مرکزی موضوع نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کا فروغ ہے۔پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس میں شرکت کے لیے مصر کا دورہ کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف قاہرہ کے شاہی محل پہنچے جہاں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مصر کے صدر کے ہمراہ مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس میں شریک دیگر ڈی ایٹ ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نے ڈی ایٹ ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کے مزید امکانات پر بات چیت کی۔

    اس اجلاس میں "نوجوانوں پر سرمایہ کاری” اور "چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کا فروغ” پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کا ماننا ہے کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری نہ صرف ان کی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں مختلف اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ان ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہو سکے۔ڈی ایٹ تنظیم کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس تنظیم کے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ان کی معیشتوں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔اس اجلاس میں ہونے والی اہم بات چیت کے نتیجے میں ڈی ایٹ کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے حوالے سے نئے اقدامات سامنے آنے کی امید ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قاہرہ میں ڈی ایٹ سربراہی اجلاس سے خطاب: غزہ میں جنگ بندی اور نوجوانوں کی معاشی ترقی پر زور
    قاہرہ: وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے قاہرہ میں ڈی ایٹ ممالک کے 11ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جنگ بندی خطے اور دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے، اور اس سے عالمی سطح پر امن کے قیام میں مدد ملے گی۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کا تعاون معاشی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کی فلاح کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خطاب میں مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) اور نوجوانوں کی صلاحیتیں معاشی ترقی کے لیے کلیدی محرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان توانائی، نئے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہوتے ہیں، اور انہیں صحیح رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

    نوجوانوں کی ترقی اور معیشت پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا،”نوجوانوں کو معاشی ترقی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ مقامی کاروباروں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی ایٹ ممالک کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا نہایت اہم ہے تاکہ وہ دنیا کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے موضوع "21ویں صدی میں ہماری اجتماعی خوشحالی” پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، اور ان نوجوانوں کی بھرپور شمولیت سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔انہوں نے پاکستان کی حکومت کے فلیگ شپ یوتھ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ 2013ء سے اب تک اس پروگرام کے ذریعے 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپس لائق طالب علموں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں اسکالرشپس دی گئی ہیں تاکہ نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کو مزید بڑھایا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے یہ بھی بتایا کہ لاکھوں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا رہی ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، اور سائبر سیکیورٹی شامل ہیں۔ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کمیونٹیز میں سے ایک ہے، جس کا حصہ بن کر ہمارے نوجوان عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈی ایٹ ممالک کا اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اجلاس کو ایک اہم موقع قرار دیا تاکہ ان ممالک کے درمیان اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈی ایٹ کے تمام رکن ممالک کو مل کر اپنے اپنے خطے میں اقتصادی استحکام اور سماجی ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط اقتصادی طاقت بن سکیں۔

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم تین روزہ دورے پر مصر روانہ

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔

    جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس تنازعے پر ہنگامہ بڑھ گیا، اور اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے "مکڑ دروازے” پر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ارکان زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ، پرتھاپ سرنگی اور مکیش راجپوت، پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے اس تصادم میں زخمی ہو گئے۔ مکیش راجپوت کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال کے مطابق، پرتھاپ سرنگی کو بھی سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    پرتھاپ سرنگی نے واقعہ کے بارے میں بتایا، "راہل گاندھی نے ایک ایم پی کو دھکیل دیا، اور وہ مجھ پر گر گیا جس سے میں گر گیا۔ میں سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب راہل گاندھی آیا اور اس ایم پی کو دھکیل دیا جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر جا گرا۔”

    راہل گاندھی نے بی جے پی ارکان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی عمارت کے داخلی دروازے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور بی جے پی کے ارکان مجھے روکنے، دھکیلنے اور دھمکانے کی کوشش کر رہے تھے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مالیکار جن کھڑگے اور پریانکا گاندھی کو بھی دھکیل دیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا ہوا ہے، مگر ہمیں ان دھکیلنے کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات
    بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں کہ مخالف فریق نے پارلیمنٹ میں تشویش پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے داخلی راستے پر ان پر حملہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے کہ وہ پارلیمنٹ میں امبیڈکر کے حوالے سے امیت شاہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات وزیر داخلہ امیت شاہ کے بی آر امبیڈکر سے متعلق ایک بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "امبیڈکر اب فیشن بن چکے ہیں”۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتیں شدید ناراض ہو گئیں اور انہوں نے امیت شاہ سے معافی کی درخواست کی۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکان نے امیت شاہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور ان کی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا اور "جے بھیم” اور "امیت شاہ معافی مانگو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران، کانگریس کے مالیکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن کر احتجاج میں شرکت کی۔ یہ نیلا رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کے آئین کے معمار تھے۔دوسری طرف، بی جے پی کے اراکین نے بھی پارلیمنٹ میں مارچ کیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ امبیڈکر کی توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو امبیڈکر کے حوالے سے اپنے رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔

    اس ہنگامے کے بعد، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا رہا۔

    مکیش راجپوت، جو اس واقعہ کے دوران زخمی ہوئے، بی جے پی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال اتر پردیش کے فریدآباد سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انہوں نے حالیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار، نوال کشور شکیا کو شکست دی تھی۔ راجپوت نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں خاصی فعال ہیں۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ