Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گوادر میں  پی ایس ایل 10 کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا اعلان

    گوادر میں پی ایس ایل 10 کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا اعلان

    گوادر پاکستان سپر لیگ پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کرے گا.

    گوادر میں ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا مقصد شہر کی ثقافتی اور اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ اقدام ایچ بی ایل پی ایس ایل کی رسائی کو پاکستان کے کونے کونے تک پھیلانے اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے دکھانے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پی سی بی نے تمام چھ فرنچائزز کے لیے ٹریڈ ونڈو کے ساتھ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے رجسٹریشن ونڈو کھول دی تھی۔ کھلاڑیوں کی ریلیگیشن اور ریٹینشن کا اعلان دسمبر کے آخر میں کیا جائے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج اعلان کیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو 10ویں ایڈیشن کی ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی دی جائے گی۔ یہ تقریب لیگ کے آغاز کی علامت ہوگی اور 11 جنوری 2025 کو ہوگی۔ تقریب کے آغاز کا وقت بعد میں اعلان کیا جائے گا۔گوادر کو پلیئر ڈرافٹ کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اس علاقے میں کرکٹ کے کھیل کو مزید فروغ دیا جا سکے اور نوجوان نسل کو کرکٹ کو پیشہ ورانہ کھیل کے طور پر اپنانے کی ترغیب دی جا سکے۔

    پی سی بی کے چیئرمین، محسن نقوی کا کہنا ہے کہ "گوادر، اپنی خوبصورت ساحلی پٹی اور اسٹریٹجک اہمیت کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی مستقبل کا دل ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئر ڈرافٹ یہاں منعقد کر کے ہم اس کی ثقافتی اور اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں، ساتھ ہی کرکٹ کے ذریعے ہماری قوم میں اتحاد کو جشن منانا چاہتے ہیں۔””میں 11 جنوری کو گوادر کی خوبصورت شہر میں تمام فرنچائزز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہوں، جب ہم پاکستان کے سب سے بڑے کھیل کے ایونٹ کے آغاز کے لیے ایک دلچسپ قدم اٹھائیں گے۔”

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، سلمان نصیر کاکہنا ہے کہ "گوادر کو ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کے لیے منتخب کرنے پر مجھے انتہائی فخر محسوس ہو رہا ہے۔ یہ اقدام ہماری اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم ایچ بی ایل پی ایس ایل کو پاکستان کے ہر کونے تک پہنچانے اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا بھر میں دکھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔””ایچ بی ایل پی ایس ایل صرف ایک کرکٹ لیگ نہیں ہے، یہ پاکستان کے جوش، تنوع اور ٹیلنٹ کا جشن ہے۔ گوادر میں پلیئر ڈرافٹ کا انعقاد بلوچستان اور پورے ملک کے نوجوان کرکٹرز کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دے گا۔”

    گوادر میں پلیئر ڈرافٹ کا انعقاد نہ صرف اس شہر کی اہمیت کو اجاگر کرے گا، بلکہ پورے پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گا۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

  • پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی

    امریکہ کے نائب قومی سلامتی مشیر جان فائنر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے اور اس کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ جان فائنر نے ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ ترقی صرف پاکستان کے دفاعی شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے روابط اور خطے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے۔ پاکستان کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں تیز رفتار پیشرفت عالمی طاقتوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، کیونکہ ان میزائلوں کی رینج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔جان فائنر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں میں اس اضافے سے علاقائی طاقتوں کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری کو اس نئی حقیقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔

    امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکا کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے،ہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اسے بڑے راکٹ موٹرز کے تجربات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بہت آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت ہوگی۔

    پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں امریکی تشویش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس نوعیت کے مسائل ہمیشہ حساس رہے ہیں، خاص طور پر جب بات جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا ارتقاء اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے اثرات کا مقابلہ کرنا اور خطے میں اپنے دفاعی اثرات کو مستحکم کرنا ہے۔

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • مبینہ کک بیکس لینے کا کیس ،پرویز الہیٰ طلب،ملزمان پر فردجرم عائد

    مبینہ کک بیکس لینے کا کیس ،پرویز الہیٰ طلب،ملزمان پر فردجرم عائد

    لاہور کی احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبے میں مبینہ کک بیکس لینے کے ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے علاوہ دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے

    احتساب عدالت میں سماعت کے دوران عدالت نے پرویز الٰہی کے علاوہ موجود دیگر ملزمان پر کک بیکس کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی۔ تاہم، چوہدری پرویز الٰہی عدالت میں بیماری کی وجہ سے پیش نہ ہو سکے۔ عدالت نے پرویز الٰہی کو 7 جنوری 2024 کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے دوبارہ طلب کر لیا۔احتساب عدالت کے جج نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں شریک تمام ملزمان پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ملزمان میں سابق پرنسپل سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی، آصف محمود راٹھور، محمد اصغر، نعیم اقبال، خالد محمد چھٹہ اور اسد علی شامل ہیں، جن پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کو 7 جنوری کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا۔

    یاد رہے کہ یہ ریفرنس نیب کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر کک بیکس حاصل کیے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ احتساب عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

  • خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    سکھر،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا ہے

    سکھر کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج عبدالرحمٰن قاضی نے مختصر فیصلہ سنایا ،عدالت نے ملزمان کو قتل اور دہشت گردی کے الزام میں عمر قید جبکہ اسلحے کے الزام میں 7، 7 سال قید کی سزا سنائی ہے،انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 13 دسمبر کو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،جو آج سنایا گیا ہے،عدالت نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کی 450 سے زائد سماعتیں کیں جن کے دوران مجموعی طور پر 17 گواہان پیش ہوئے۔قتل کیس میں 6 ملزمان حنیف بھٹو، سارنگ ٹوٹانی، مشتاق مہر، دریا خان جمالی، لطف جمالی اور الطاف جمالی نامزد تھے، ملزمان دسمبر 2014ء سے سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ 29 نومبر 2014ء کو جے یو آئی رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو سکھر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا،فجر کی نماز کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تھا،

    جرم ثابت، عمر قیدنہیں سزائے موت ہونی چاہئے تھی،مولانا راشد سومرو
    دوسری جانب مرحوم کے بیٹے مولانا راشد محمود سومرو نے عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہونی چاہیے تھی، جس کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،سکھر عدالت سے ادھورا انصاف ملا ہے ، سزا موت تک ہم قانونی جنگ جاری رکھیں گے، فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے ، جمعیت علماء اسلام کے کارکنان پرامن رہیں،کیس کا فیصلہ سنا ہم عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،پہلا جملہ عدالت نے کہا کہ جرم ثابت ہو رہا، جب جرم ثابت ہو رہا تو یہ سندھ کی تاریخ کا ہائی پروفائل کیس ہے، ہم دس سال عدالت میں انصاف کے لئے عدالت آتے رہے، انصاف کی امید ہے، میں بحیثیت بیٹے کے، چھ بھائیوں جماعت سمیت مطالبہ کرتا ہوں کہ جرم ثابت ہونے کے بعد عمر قید نہیں سزائے موت ہونی چاہئے، ہم ہائیکورٹ جائیں گے، جب تک ان کو سزائے موت نہیں آتی آگے بڑھیں گے، امن کے ساتھ آگے بڑھیں گے، قانون کی پیروی کریں گے، عدالت عظمیٰ کے سامنے پھانسی کی استدعا رکھیں گے،

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشاور میں وزیراعلی آفس آمد ہوئی ہے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں پورا سپورٹ کریں گے۔ کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرم میں پائیدار امن کا قیام کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ، محسن نقوی نے کہا کہ شہداء ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے ضلع کرم کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں حالات بدتر ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے حالات پر قابو پانے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ "کرم جل رہا ہے، اور صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کہاں ہیں؟ صوبائی حکومت ایک پارا چنار روڈ نہیں کھول سکتی، تو باقی معاملات کیسے سنبھالے گی؟” فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ "صوبائی حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں، ان کے پاس رہائی کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔”

    پی ٹی آئی کے اتحادی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے بھی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کو کئی بار بتایا کہ کرم کے حالات بہتر بنانے کے لئے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا جائے، لیکن ان کی باتوں کو نظر انداز کیا گیا۔علامہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ "کرم میں 150 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، اور وہاں نہ وفاقی حکومت نظر آتی ہے، نہ صوبائی حکومت، اور نہ ہی سیکیورٹی ادارے موجود ہیں۔” انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی ادارے کی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

    کرم کے علاقے میں جاری تشویشناک حالات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس علاقے میں کئی مہینوں سے جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کرم کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں کی طرف سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں فوری طور پر کرم میں امن قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں اور عوام کی زندگی کو تحفظ فراہم کریں۔اس وقت کرم کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے اور عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومتیں ان کے مسائل کا فوری حل نکالیں تاکہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو سکے۔

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

  • عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،ڈاکٹر عافیہ کے امریکہ میں وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کا ڈیکلریشن عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائی کورٹ نےوزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کے ڈیکلریشن پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کی ڈیکلریشن کی تعریف کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو معاملات کو سفارتی سطح پر دیکھنے کی ہدایت کی،

    عدالت نے کہا کہ امریکہ خود مختار ملک ہے ، وہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزہ ریجیکٹ کرسکتا ہے،امریکہ وزیراعظم کا ویزہ بھی ریجیکٹ کرسکتا ہے مگر معاملات کو سفارتی سطح پر لے جانا ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور سابق سینیٹر مشتاق عدالت پیش ہوئے،درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ بھی عدالت پیش ہوئے، ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ جب ایک ملک کے چیف ایگزیکٹو دوسرے ملک کے ایگزیکٹو کو خط لکھے تو جواب لازمی آتا ہے، نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی مشن نے وفد کے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے انتظامات مکمل کرلئے تھے،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ دستاویزات کے مطابق وفد تاخیر سے پہنچا مگر آپکا سفیر کہاں تھا؟ ایسے معاملات کو ہمیشہ سفیر دیکھتے ہیں، ملک کے ایگزیکٹو نے خط لکھا اور اسکا جواب نہیں آیا، اس کو کیا سمجھیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر کو وفد کے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کرنی چاہیے تھی،

    عدالت نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے امریکی دوروں کی تفصیلات طلب کرلیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات بارے احکامات واپس لینے کی استدعا کی،جو عدالت نے مسترد کر دی،عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،عدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری تک کیلئے ملتوی کر دی

    عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع
    دوسری جانب امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع کرادی گئی ہے،واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق وکلاء نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے انہیں رہا کریں،سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی وکالت کیلئے امریکا کا دورہ کیا ہے،وفد نے امریکی قانون سازوں ، کانگریس مین جم میک گورن،جو کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں کانگریس کی خاتون الہان عمر، ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ الزبتھ ہورسٹ سے ملاقاتیں کی ہیں،ملاقاتوں میں پاکستانی وفد نے عافیہ صدیقی کیلئے رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا، پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ارکان نے تصدیق کی ہے کہ معافی کی درخواست وائٹ ہاؤس کو پہنچا دی گئی ہے،کمیونٹی کے ایک رکن نے کہا امید ہے کہ صدر بائیڈن 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کرنے سے پہلے کوئی فیصلہ کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

  • سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    پاکستان کی قومی ائیر لائن، پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جس پر حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے نجکاری کی اس کوشش کو ناکامی قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوسری بار پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اس عمل میں کامیاب ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش پر کڑی تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے کہا کہ "اب تک جو کچھ بھی پرائیوٹائزیشن کے نام پر ہوا، وہ صرف ناکامی ہی ثابت ہوا۔ پی آئی اے کو کچھ حاصل نہیں ہوا، صرف 6.8 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی، لیکن قومی ائیر لائن کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 2015 سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی،پیپلز پارٹی کی تنقید کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ، آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر نظر ڈال کر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم فنانشل ایڈوائزر کی مدد سے تمام حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر فنانشل ایڈوائزر کی اپنی شرائط اور ٹرمز ہوتی ہیں، اور ہم ان کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔”

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی "انتظامیہ کی نااہلی” کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انتظامیہ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔”دوسری جانب نبیل گبول نے کہا کہ "پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش نہایت غیر پیشہ ورانہ اور عجلت میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔”پی آئی اے کی جتنی بولی دی گئی، اتنی تو کراچی اسلام آباد بس سروس کے لائسنس کی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی اس بات کا ثبوت ہے کہ نجکاری میں شفافیت کی کمی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اب یورپ اور دیگر اہم روٹس بحال ہو چکے ہیں، جس سے پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نجکاری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مزید آفرز آئیں گی۔”حکومت کی جانب سے 85 ارب روپے کی توقع کی گئی تھی، لیکن جب پی آئی اے کی نجکاری کی بولی کی گئی، تو صرف 10 ارب روپے کی پیشکش ملی۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور آئندہ کی کوششوں میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ایک دن کامیابی حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس ناکامی نے حکومت کے اتحادیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے، اور یہ معاملہ قومی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش پر اب تمام نظریں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی اور اس میں عوامی مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت کس طرح اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر اس مشکل عمل کو مکمل کرتی ہے۔نجکاری کے اس پیچیدہ عمل میں کامیابی نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

  • بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

    8 دسمبر 2021 کو ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر حادثہ، جس میں ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر فوجی اہلکار بھی جان سے گئے، یہ حادثہ تمل نادو کے علاقے کنور کے قریب پیش آیا تھا جب ایک ایم آئی-17 وی5 ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے روز ہیلی کاپٹر سولور ایئر بیس سے ولنگٹن دفاعی خدمات اسٹاف کالج جا رہا تھا۔ اس دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور 11 دیگر فوجی اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے کا واحد زندہ بچنے والا فرد شوریہ چکر اعزاز یافتہ گروپ کیپٹن ورون سنگھ تھا، مگر وہ بھی شدید زخمی ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر انتقال کر گیا تھا،پارلیمانی کمیٹی نے بتایا کہ 8 دسمبر 2021 کو ایم آئی-17 وی5 حادثے کے پیچھے انسانی غلطی کارفرما تھی

    حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس حادثے کی بنیادی وجہ انسانی غلطی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 13ویں دفاعی منصوبہ بندی کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے کل 34 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 9 حادثات 2021-22 میں اور 11 حادثات 2018-19 میں ہوئے تھے۔ ان حادثات کا تجزیہ کرنے کے بعد کمیٹی نے واضح کیا کہ اکثر واقعات میں انسانی چوک یا غفلت ملوث تھی۔ رپورٹ کے مطابق، وزارت دفاع نے اس حادثے کے اسباب کو دوبارہ دہرانے سے بچنے کے لیے تربیت، آلات، آپریشنز اور دیکھ بھال کے تمام پہلوؤں پر نظرثانی کی ہے۔ وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات نہ ہوں۔ ان اقدامات میں فضائی عملے کی تربیت کے معیار کو بہتر بنانا، ہیلی کاپٹر کے آلات اور دیکھ بھال کی پروسیجرز کی جانچ اور ضروری تبدیلیاں شامل ہیں۔

    یہ حادثہ نہ صرف ہندوستانی فوج کے لیے ایک سنگین سانحہ تھا بلکہ اس نے دفاعی نظام میں مختلف پہلوؤں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ تاہم، وزارت دفاع اور فوج کی جانب سے اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی مشکلات سے بچا جا سکے اور فوجی اہلکاروں کی زندگی کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔اس حادثے کی تحقیقات اور اس کے نتائج نے فوجی اداروں کی کارکردگی اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں، اور یہ واقعہ فوجی حادثات کی روک تھام کے لیے مزید احتیاطی تدابیر کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی فضائیہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ سامنے لائی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ہیلی موسم کی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا، رپورٹ میں کہا گیا کہ موسم غیر متوقع طور پرتبدیل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر بادلوں میں چلا گیا تھا ، بادلوں میں جانے سے پائلٹ موسم کو نہ سمجھ سکا،اس وجہ سے حادثہ ہوا ہے،بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت ہیلی حادثے کی تحقیقات کرنیوالے کمیٹی کی سربراہی ایئر مارشل مانویندر سنگھ نے کی، تحقیقاتی کمیٹی میں بھارتی فوج، بھارتی نیوی کے افسران بھی شامل تھے، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کے قریب گواہوں سے بھی تحقیقات کی اور انکا بیان لیا، تحقیقاتی ٹیم نے ہیلی کاپٹر کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کو بھی چیک کیا اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کو بھی چیک کر کے تحقیقات کا حصہ بنایا گیا،

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں تھا، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    جسٹس مرزا وقاص رؤف کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بریت کی درخواست خارج کی، فیصلہ میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے ابتدائی سٹیج پر بریت کی درخواست دائر کی ۔ کیس میں ابھی گواہ آنا باقی ہیں ٹرائل ہونا باقی ہے ۔ گواہ اور شہادتوں کو دیکھنے کے بعد عدالت بریت سے متعلق فیصلہ کرتی ہیں۔عدالت اس سٹیج پر بریت کی درخواست مسترد کرتی ہے۔ٹرائل سٹیج پر درخواست گزار کو بریت کی درخواست دائر کرنے میں آزادی ہوگی ۔ نئی بریت کی درخواست پر عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔درخواست گزار کے مطابق اسکے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق اسے سزا کا امکان نہیں۔ پولیس کے مطابق شریک ملزمان کے بیانات کی روشنی میں درخواست گزار کو نامزد کیا گیا۔

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ