Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان قاہرہ میں D-8 سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ خیر سگالی اور برادرانہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی ، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100% فزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سیکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلہ دیش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 47 سے متعلق الیکشن ٹریبونل کو کارروائی سے روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم پی ٹی آئی کے امیدوار شعیب شاہین کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے، جنہوں نے این اے 47 کے نتائج کو چیلنج کیا تھا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین کی الیکشن پٹیشن پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل کو شعیب شاہین کی درخواست کی حد تک کارروائی سے روک دیا ہے۔ شعیب شاہین نے این اے 47 سے طارق فضل چوہدری کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا اور اسے غیر قانونی قرار دینے کی درخواست کی تھی۔الیکشن ٹریبونل کو دیگر دو حلقوں سے متعلق کارروائی کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اسلام آباد کے تینوں حلقوں کی سماعت کو 24 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں کے نتائج کے حوالے سے کیس دائر کیا تھا اور عدالت نے آج ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا۔

    دوسری جانب، انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین کی عبوری ضمانتوں میں 15 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ یہ ضمانتیں ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کی گئی کارروائیوں سے متعلق مقدمات میں دی گئی ہیں۔انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی اور شعیب شاہین کی عبوری ضمانتوں میں مزید توسیع کرنے کا فیصلہ دیا۔ اس موقع پر شعیب شاہین کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر عائد الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی ضمانت میں توسیع کی جائے۔ عدالت نے وکیل کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے 15 جنوری تک ضمانت میں توسیع کر دی۔شعیب شاہین نے ڈی چوک احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انسداد دہشتگردی عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    نئی دہلی: لوک سبھا میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

    راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ارکان نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش کی بلکہ دھمکیاں بھی دیں۔ یہ تنازعہ اس وقت بڑھا جب راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ، جن میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی اور دیگر خواتین ارکان شامل تھیں، پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔راہل گاندھی نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں اپنے آئینی حق کے تحت داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بی جے پی کے ارکان نے مجھے دھکیلنا شروع کر دیا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ حملہ غیر جمہوری ہے اور ہم اپنے حق کے لیے پارلیمنٹ میں جائیں گے، ہمیں دھکم پیل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی جے پی ہمیں روک نہیں سکتی۔ ‘‘ راہل گاندھی نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی کارروائی سے باہر رکھا جا سکے۔ ’’یہ تمام کوششیں آئین کے خلاف ہیں اور بی جے پی اپنی تانا شاہی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،‘‘

    دوسری طرف، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاب سنگھ سارنگی نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی نے انہیں دھکیل کر سیڑھیوں سے گرایا جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ سارنگی نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر گئے اور زخمی ہو گئے۔‘‘ تاہم، راہل گاندھی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کو دھکیلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    کانگریس نے اس معاملے پر بی جے پی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعے سے بی جے پی کے ارکان کی غنڈہ گردی سامنے آئی ہے۔ کانگریس نے اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ارکان نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن ارکان کو روکا اور دھکم پیل کی۔ کانگریس نے اس رویے کو ’’جمہوری قدروں کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تانا شاہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ امت شاہ نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی شخصیت اور ان کے کام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

    آج لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین، جن میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی شامل تھے، وزیر داخلہ امت شاہ کے امبیڈکر پر دئیے گئے حالیہ بیان کے خلاف پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے امت شاہ سے معافی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نیلی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے، جبکہ پرینکا گاندھی نے بھی نیلی ساڑی زیب تن کی تھی، جو بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت تھی۔لوک سبھا میں اپوزیشن رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں بابا صاحب امبیڈکر کی مورتی کے سامنے احتجاجی مارچ نکالا۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے بابا صاحب کا مذاق اُڑایا ہے اور ان کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، جو ان کے مطابق بابا صاحب کے وقار کی توہین ہے۔

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن اراکین نے ’’جئے بھیم‘‘ کے نعرے لگائے اور لوک سبھا و راجیہ سبھا میں امبیڈکر کے خلاف بی جے پی کے بیانات پر احتجاج جاری رکھا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اجلاس کے آغاز میں ایک رکن کو سالگرہ کی مبارکباد دی، تاہم اپوزیشن کا احتجاج مسلسل جاری رہا۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی، جن میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا شامل ہیں، امت شاہ کے بیان پر شدید ہنگامے کی وجہ سے متعدد بار ملتوی کی گئی۔

    دوسری جانب بی جے پی نے بھی دہلی سنسد مارگ پر واقع پولیس اسٹیشن میں راہل گاندھی کے خلاف شکایت درج کرادی ہے۔ انوراگ ٹھاکر،بانسری سوراج تھانہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے کانگریس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔اب پولیس اس پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

  • ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے نئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) یاسر پیرزادہ کی تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شعیب کھوسو کی برطرفی کے بعد پی ایس بی کے ڈی جی کا عہدہ خالی ہو گیا تھا، تاہم قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے فوری طور پر یاسر پیرزادہ کو تعینات کر دیا گیا۔درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق ڈی جی شعیب کھوسو کی برطرفی کے بعد پی ایس بی میں ڈی جی کی اسامی خالی ہو گئی تھی، اور قانونی تقاضوں کے مطابق اس عہدے کی تشہیر کی جانی چاہیے تھی تاکہ ملک بھر سے اہل امیدوار اس عہدے کے لیے درخواست دے سکیں۔ تاہم، درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ بغیر قانونی طریقہ کار کو اپنائے یاسر پیرزادہ کو تین سال کے لیے ڈی جی تعینات کر دیا گیا، جو کہ غیر قانونی ہے۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) ظہور احمد کو پی ایس بی کے ڈی جی کا اضافی چارج دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود یاسر پیرزادہ کی تعیناتی کو قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں کیا گیا۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ یاسر پیرزادہ کی ڈی جی پی ایس بی کے طور پر تعیناتی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر نئے طریقہ کار کے تحت اسامی کی تشہیر کی جائے اور پھر نئے تعیناتی کے لیے حکم دیا جائے۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

  • نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باقاعدہ طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس کا افتتاحی کمرشل پرواز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی طرف سے چلائی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے پی آئی اے کی انتظامیہ اور ائیرپورٹس اتھارٹی کے درمیان ایک پانچ گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ائیرپورٹ کی آپریشنلائزیشن سے متعلق تمام تکنیکی اور انتظامی معاملات کو طے کر لیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی آئی اے آئندہ چند دنوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اپنے عملے کو تعینات کرے گا اور ائیرپورٹ پر چیک ان کے لیے کمپیوٹرز سمیت دیگر اہم سامان بھی نصب کرے گا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک سال تک قومی ائیرلائن پی آئی اے سے کوئی ائیرپورٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ائیرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ائیرلائن کو ائیرپورٹ چارجز کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور انہیں اس حوالے سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

    گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کے قریب چین کی 246 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر کا یہ جدید ائیرپورٹ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک (CPEC) کے تحت چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی فعالیت سے نہ صرف بلوچستان میں سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے بھی یہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی جانب سے اس ائیرپورٹ کو فعال کرنے کا فیصلہ، اور پی آئی اے کی طرف سے اس میں اہم کردار، پاکستان کے اسٹریٹجک تجارتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    18ویں 2روزہ سپیکرز کانفرنس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں جاری ہے

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں.اپنے خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سپیکرزکوکانفرنس میں خوش آمدیدکہتا ہوں.ہماری ہر کانفرنس اور فورم پر کشمیرایجنڈے کاحصہ ہوگا.سپیکرکانفرنس میں مستقبل کے لائحہ عمل کو بہتربنانے کیلئے تجاویزپر غور ہو گا.سپیکرکاکام ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی متوازن اندا ز میں چلائے.سپیکرکی نگاہ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان برابرہیں.بغیرکسی دباؤ کے ایوان کو چلانا سپیکرکی ذمہ داری ہے .سپیکرز کانفرنس سے اتحاد کا پیغام جا رہاہے.2013ء میں اسمبلی کے دروازے طلبہ کیلئے کھولے اور مہمان گیلری میں بٹھایا.یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کے طلبہ کیلئے ایوان کی کارروائی دکھانا ضروری ہے. نوجوانوں کے لیے اسمبلی میں انٹرن شپ ضروری ہے.قومی اسمبلی میں وہپ کا کردار وزراء سے بھی زیادہ مضبوط ہے.اسمبلی میں احتجاج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے.پارلیمانی عمل میں قائمہ کمیٹیوں کا کردارانتہائی اہمیت رکھتاہے.پارلیمنٹرینزکی تربیت اور آگاہی کیلئے پپس فورم کاکردار اہم ہے. مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا.تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے. اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ،مذاکرات تلخیاں مٹانے کا ذریعہ ہیں،

    کانفرنس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز شریک ہیں،سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمدخان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سپیکرزکانفرنس کا انعقادخوش آئندہے. کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سپیکر ایاز صادق کومبارکبادپیش کرتاہوں.سپیکرزکانفرنس کاانعقادہرسال ہوناچاہئے.تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرزکی قربانیاں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ہیں.پنجاب ایک بڑاصوبہ ہے.تمام صوبائی اکائیاں مرکزکی مضبوطی میں اہم کرداراداکرتی ہیں.صوبائی وزراء اداروں کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی نے سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون شہری کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس کارروائی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے ایک اہم کارروائی کے دوران ملزم محمد سعید کو راولپنڈی کے علاقے کلر سیداں سے گرفتار کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے متاثرہ خاتون کی ذاتی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم محمد سعید نے متاثرہ خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل کیں اور انہیں بلیک میل کرنے کی نیت سے ان تصاویر کو شیئر کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ملزم نے اس کے بعد خاتون پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے مطالبات کے مطابق عمل کرے، ورنہ ان ویڈیوز اور تصاویر کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی اے نے اس معاملے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملزم کی سرگرمیوں کو ٹریک کیا اور اس کی گرفتاری عمل میں لائی۔ ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون بھی برآمد کیا گیا، جس میں متاثرہ خاتون کے متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر اہم شواہد موجود تھے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کیس کے مزید پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید قانونی کارروائی جلد کی جائے گی۔ایف آئی اے نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی سرگرمیوں اور آن لائن ہراسانی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات اور مواد کی حفاظت کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی کے بارے میں فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کریں۔

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    فلم "مغل اعظم” کا مشہور گانا "پیار کیا تو ڈرنا کیا” میں دو مدھوبالا،کہانی کیا؟

    برطانوی نوجوان دبئی میں رومانوی تعلق پر گرفتار

  • بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ابھی تک پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا، اور اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو بار بار مشورہ دے چکے ہیں کہ حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ ان کے مطابق، اگر اپوزیشن جماعتوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو حکومت خود ہی مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے سول نافرمانی کی تحریک کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کی رائے کے بعد اس تحریک کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور سول نافرمانی کی تحریک جلد شروع ہو گی۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو کبھی مفاہمت اور کبھی مزاحمت کرتی ہے، اور اگر مخالفین کی ہٹ دھرمی برقرار رہے تو مزاحمتی سیاست کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچتا۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، مگر حکومت کو ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، عمر ایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو بے جا طور پر جیلوں میں رکھا گیا ہے، اور پی ٹی آئی کسی سے نہیں ڈرتی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کرے، ورنہ پی ٹی آئی کسی کے پاس نہیں جائے گی۔

    پی ٹی آئی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گی اور حکومت کو ہی پہل کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مفاد میں ہے کہ وہ باضابطہ مذاکرات کی پیشکش کرے، کیونکہ اگر بات چیت سے کوئی حل نکلتا ہے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کیا ہے، اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جس سے کمیٹی کی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ جب حکومت اپوزیشن کو سنبھال نہ سکے تو ملک کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشی استحکام اسی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھا لیا ہے، اور امن و امان کے مسائل کو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں، لیکن ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو انہیں حکومت کو مثبت پیغام دینا چاہیے، اور پی ٹی آئی کی کمیٹی مذاکرات کے لیے حکومت سے رابطہ کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی کہیں گے کہ وہ وزیر اعظم سے بات چیت کریں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے یا ملک میں سیاسی بحران مزید بڑھتا ہے۔

  • آئندہ  پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    قومی اسمبلی، وقفہ سوالات میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جوابات دیئے ہیں

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں.پی آئی اے کے یورپ کیلئے روٹس بحال ہو گئے ہیں.پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے.پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بہترین فرمز کی خدمات حاصل کی گئی.امید ہے آئندہ نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے.پی آئی اے کا اپنا بورڈ ہے، سی ای او کی تعیناتی بھی بورڈ ہی کرتا ہے.دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جن کی حکومت سرکاری ایئرلائن چلاتی ہے.پی آئی اے کے زیادہ شیئرز حکومت کے پاس ہی رہیں گے. پی آئی اے کی نجکاری ہو گی تو ایک فریم ورک دیا جائے گاجس کے مطابق وہ چلے گی،

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

  • فلم "مغل اعظم” کا مشہور گانا "پیار کیا تو ڈرنا کیا” میں دو مدھوبالا،کہانی کیا؟

    فلم "مغل اعظم” کا مشہور گانا "پیار کیا تو ڈرنا کیا” میں دو مدھوبالا،کہانی کیا؟

    1960کی فلم مغل اعظم کا جب بھی ذکر ہوتا ہے آج بھی فلم سامنے آ جاتی ہے فلم کا مشہور گانا دو دو مدھو بالا پر فلمایا گیا تھا

    پیار کیا تو ڈرنا کیا،1960 کی فلم کے اس گانے کا ڈانس مدھوبالا کے لئے آسان نہیں تھا حالانکہ ڈانس ڈائریکٹر نے بھر پور تیار کیا تھا، مدھو بالا جوہیروئن تھیں وہ دل کی مریض تھیں انکے دل میں سوراخ تھا،جس کی وجہ سے وہ زیادہ بھگدڑ نہیں کر سکتی تھیں،اس لئے یہ گانا دو دو مدھو بالا پر فلمایا گیا تھا.اس مشکل کا نایاب حل نکالا گیا کہ مدھو بالا ڈانس کریں گی لیکن جن سٹیپ پر مدھو بالا ڈانس نہیں کر سکیں گی وہاں پروفیشنل ڈانسر ڈانس کرے گی جو مدھو بالا کے لباس میں ہو گی اور وہ مکمل مدھو بالا کو دیکھ کر ڈانس کرے گی، اس کے لئے ایک ربڑ کا ماسک بنایا گیا جب ڈانسر نے مدھوبالا کے شکل کا ماسک پہنا تو ایسے لگا کہ مدھو بالا خود سامنے آ گئیں، دور سے ہر کسی کو لگا کہ یہ مدھو بالا ہی ہے، جس سٹیپ میں مدھو بالا کو دقت ہوتی تھی اس دوران لکشمی نارائن کے ساتھ گانا مکمل کیا جاتا تھا.

    1960 کی فلم مغل اعظم کا ذکر آج بھی سینما کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ اس فلم کے گانے "پیار کیا تو ڈرنا کیا” کا شمار نہ صرف اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے بلکہ اس کے منفرد انداز اور مدھوبالا کی لازوال پرفارمنس کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے۔ اس گانے کی مقبولیت آج تک برقرار ہے، اور اس کا رقص مدھوبالا پر فلمایا گیا تھا۔مدھوبالا کو جس طرح کی شہرت حاصل تھی، وہ اپنی اداکاری اور خوبصورتی کے لئے مشہور تھیں، لیکن ان کی زندگی میں ایک بہت بڑی مشکل بھی تھی، جو کہ ان کے دل کی بیماری سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ دل کی مریضہ تھیں اور ان کے دل میں سوراخ تھا۔ یہ بیماری ان کی روزمرہ زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ تھی، اور اس کا اثر ان کے کام پر بھی پڑتا تھا۔

    فلم کے اس گانے "پیار کیا تو ڈرنا کیا” میں مدھوبالا نے دلکش رقص کیا تھا، جو کہ ان کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔ اس گانے کے رقص کے لئے ڈانس ڈائریکٹر نے بھرپور تیاری کی تھی، اور مدھوبالا نے اپنے کام میں بہترین محنت کی۔ تاہم، ان کی صحت کی وجہ سے انہیں رقص کی ایک مخصوص شدت یا تیز رفتاری نہیں اختیار کرنی پڑی تھی۔

    فلم مغل اعظم کو 1960 میں جاری کیا گیا تھا اور یہ بھارتی سینما کی تاریخ کا ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم میں مدھوبالا نے آنارکلی کے کردار کو نبھایا تھا، جس کی محبت بادشاہ جہانگیر (دلیپ کمار) سے ہوتی ہے۔ اس فلم کی شان دار کامیابی کی ایک وجہ اس کا موسیقی اور گانے بھی تھے، جنہیں آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔مدھوبالا کا "پیار کیا تو ڈرنا کیا” گانا نہ صرف ایک کلاسک بن چکا ہے بلکہ ان کی جدوجہد اور ہمت کا بھی نمائندہ ہے۔ دل کی بیماری کے باوجود، انہوں نے سینما کے سنہری دور میں اپنے کام سے جو نقش چھوڑا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مغل اعظم کی یہ تاریخ اور اس میں مدھوبالا کی پرفارمنس آج بھی سینما کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔