Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک ہفتے میں تجاوزات ختم کرنے کا ہدف

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک ہفتے میں تجاوزات ختم کرنے کا ہدف

    صوبہ بھر میں ”نو ٹوپلاسٹک“مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت،میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس اپنانے کاحکم
    سڑکو ں پر بائیک لین مقرر کرنے،چینی ماڈل کے تحت جنگلہ اور چھوٹی دیوار سے الگ کرنے،ہیلمٹ،بیک لائٹ او رانڈیکیٹرز وغیرہ کی پابندی ضروری بنانے کی ہدایت
    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کا سکولو ں کے سامنے بچوں کیلئے زبیرا کراسنگ بنانے اور سکول وین کے فنٹس سرٹیفکیٹ پر زیرو ٹالرنس کا حکم
    سنگل لائن ریڑھی بازار کی پابندی یقینی بنانے کا حکم،شہروں میں جگہ جگہ نظر آنے والی خیمہ بستیاں متبادل مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت
    بس سٹینڈ ز کی صفائی،پنکھے،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بہترین نشست گاہ یقینی بنانے اورہر شہر کے بس سٹاپ اور لاری اڈوں کو ماڈل بنانے کا حکم

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں ایک ہفتے میں تجاوزات ختم کرنے کا ہدف دے دیا ہے اور ڈپٹی کمشنرز کے لئے کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن اوربہتر سسٹم ڈیزائن کرنے کا ٹارگٹ مقرر کر دیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ہر شہر میں سرکاری اراضی پر اربن فاریسٹ بنانے کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے صوبہ بھر میں ”نو ٹوپلاسٹک“مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس اپنانے کاحکم دیا۔ صوبہ بھر میں پالتوکتوں کوکالر پہنانا لازمی قراردیا گیا،خلاف ورزی پر جرمانہ اور کارروائی کی جائے گی۔ پالتو کتوں کی ویکسینیشن اور رجسٹریشن کا نظام نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سڑکو ں پر بائیک لین مقرر کرنے،چینی ماڈل کے تحت جنگلہ اور چھوٹی دیوار سے الگ کرنے اوربائیک سوار کے لئے ہیلمٹ،بیک لائٹ او رانڈیکیٹرز وغیرہ کی پابندی ضروری بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سکولو ں کے سامنے بچوں کے لئے زبیرا کراسنگ بنانے اور سکول وین کے فنٹس سرٹیفکیٹ پر زیرو ٹالرنس کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سڑکوں پر گندا پانی کھڑا ہونے سے نمازیوں اور شہریوں کو دشواری کی شکایت پر برہمی کا اظہار کیا اور شہروں میں جگہ جگہ نظر آنے والی خیمہ بستیاں متبادل مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سنگل لائن ریڑھی بازار کی پابندی یقینی بنانے کا حکم اور ہدایت کی کہ منظور شدہ ڈیزائن او رجگہ کے علاوہ کسی مقام پر ریڑھیاں نظر نہیں آنی چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے بس سٹینڈ ز کی صفائی،پنکھے،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بہترین نشست گاہ یقینی بنانے اورہر شہر کے بس سٹاپ اور لاری اڈوں کو ماڈل بنانے کا حکم دیا۔ اجلاس میں ہسپتالوں کے ایم ایس کی پرفارمنس کی مانیٹرنگ ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سرگودھا میں جامع صفائی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی اور صوبہ بھر میں کنٹرول ریٹ پرکھاد کی فراہمی یقینی بنانے پرانتظامیہ کو شاباش دی۔ میانوالی میں چوراہوں پر یاد گاریں،واٹر فال، خوبصورت ماڈل بنانے اور پارکس کی بیوٹی فکیشن پر بھی انتظامیہ کوشاباش ملی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ہر شہر میں گورننس کی ایکسی لینس نظر آنی چاہیے۔ کسی شہر میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں نظر نہ آئیں،پیچ ورک سے گڑھے پُر کئے جائیں۔سڑکوں پر سائن بورڈ واضح نظر آنے چاہئیں اور نئے سائن بورڈ بھی لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کو پنجاب میں کھلا پھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈی سی اپنی چھت ……اپنا گھر پروگرام کے تحت بننے والے مکانوں کی مانیٹرنگ بھی کریں۔ ہرشہر میں واٹرفلٹریشن پلانٹس فنکشنل ہونے چاہئیں۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ تمام شہروں کے لئے سیوریج او رسینی ٹیشن کا جامع پلان لے کرآرہے ہیں۔ تجاوزات ختم کرنے کے بعد دوبارہ نظر آنا انتظامی ناکامی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات بیچنے او ربنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پبلک پارکس میں گھاس اگائیں مٹی نظر نہ آئے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا انتظار کئے بغیر میسر وسائل سے صفائی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلیوں،بازاروں میں سٹریٹ لائٹس کو آپریشنل ہونا چاہیے۔ اوور ہیڈ بریج کے نیچے گرین بیلٹ بنائیں، منشیات کے عادی افراد نظر نہ آئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ڈی ایچ کیو سرگودھا کے بارے میں عوامی شکایات پر نا پسندیدگی اظہار کیا اور فوری ازالے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود مسائل حل نہ ہونے او ربہتری نہ آنے پر سخت ایکشن ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بیلا روس کے صدر کی آمد پر مری میں صفائی کے انتظامات کو سراہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں سرگودھا ڈویژن کے ”کے پی آئیز“ کا جائزہ لیا گیا۔ سرگودھا، خوشاب، بھکر او رمیانوالی کے ڈپٹی کمشنر ز نے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں صفائی،ہیلتھ، ایجوکیشن، پرائس کنٹرول اورآؤٹ سورس سکولوں کی مانیٹرنگ کے پی آئیز کا جائزہ لیا گیا۔ میرج ایکٹ کی پابندی، تجاوزات، صفائی، پارکس کی صورتحال، چوراہوں او رشہروں کی بیوٹی فکیشن پر رپورٹ پیش کی گئی۔ مین ہول کے ڈھکن، آوارہ کتے، سیوریج، ٹرانسپورٹ فٹنس سرٹیفکیٹ، اربن فاریسٹ ڈویلپمنٹ کے پی آئی ز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ڈپٹی کمشنرز کو گلی محلوں کی صفائی اور دیگر عوامی شکایات کی نشاندہی بھی کی

  • پنجگور آپریشن، مسنگ پرسن کا  ڈرامہ بے نقاب، ایک اور مسنگ پرسن دہشتگرد نکلا

    پنجگور آپریشن، مسنگ پرسن کا ڈرامہ بے نقاب، ایک اور مسنگ پرسن دہشتگرد نکلا

    پنجگور میں حالیہ آپریشن نے ایک ایسا چہرہ بے نقاب کیا ہے جو پہلے "مسنگ پرسن” کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر حقیقت کچھ اور ہی نکل کر سامنے آئی۔

    ذاکر عبدالرزاق، جس کی گمشدگی کا ڈرامہ رچایا گیا تھا اور بعد میں اس کی "گھر واپسی” کو پروپیگنڈے کا حصہ بنایا گیا تھا، دراصل ایک دہشتگرد تنظیم کا رکن تھا اور اس کا "مسنگ” ہونا صرف ایک جھوٹا دعویٰ تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ذاکر عبدالرزاق کبھی مسنگ نہیں ہوا،اس کی گمشدگی کے دعوے کے باوجود ذاکر عبدالرزاق اصل میں پہاڑوں میں چھپ کر دہشتگردوں کی صفوں میں شامل تھا۔ اس کی "واپسی” کو اس کے سہولت کاروں نے "بازیابی” کا رنگ دے کر سیکورٹی فورسز کو بدنام کرنے کی ایک گہری سازش تیار کی تھی۔

    14 دسمبر 2024 کو سیکورٹی فورسز نے پنجگور میں دہشتگردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا جس میں تین دہشتگرد مارے گئے۔ ان دہشتگردوں میں ذاکر عبدالرزاق کا نام بھی شامل تھا، جو اس آپریشن میں صف اول میں تھا اور جو دراصل دہشتگرد تنظیم کا حصہ تھا۔دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں نے اس آپریشن کے بعد اعتراف کیا کہ ذاکر عبدالرزاق بھی ان کے گروہ کا رکن تھا اور اس کی ہلاکت نے ان کے نیٹ ورک میں بڑا خلا پیدا کیا ہے۔ یہ اعترافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ذاکر عبدالرزاق کا تعلق دہشتگرد تنظیم سے تھا اور اس کی "گمشدگی” کا دعویٰ محض ایک سازش تھی۔

    پنجگور آپریشن میں ذاکر عبدالرزاق کی ہلاکت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کی طرف سے کیے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ آپریشن نہ صرف دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ان کی جانب سے اٹھائے گئے "مسنگ پرسن” کے دعوے کس حد تک جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستان کی فوج دہشتگردی کے خلاف اپنے عزم میں مستقل ہے اور ملک کے امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    اب اسلام آباد سے لوگ مسنگ ہونا شروع،حکومت کیا کر رہی ہے؟ عدالت

  • بلاول زرداری سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں

    بلاول زرداری سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے وزیر محمد علی ملکانی کی ملاقات ہوئی ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے وزیر محمد علی ملکانی نے محکمے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ لائیو اسٹاک کا ملک کے جی ڈی پی میں 14 فیصد حصہ ہے، سندھ کا انسٹی ٹیوٹ آف اینمل ہیلتھ 74 اقسام کی جانوروں کی ادویات خود تیار کرتا ہے، سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ جلد ایف ایم ڈی ویکسین تیار کرلے گا جو گوشت کی برآمد میں معاون ثابت ہوگی، سندھ میں جلد لائیو اسٹاک کی نمائش کا انعقاد بھی کیا جائے گا،

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی گھوٹکی کے رہنما اور پیٹرولیم اینڈ سوشل ڈولپمنٹ کمیٹی گھوٹکی کے چیئرمین عبدالباری خان پتافی نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر گھوٹکی کی سیاسی صورت حال کے علاوہ ضلع میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل پر بات چیت ہوئی۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تھرپارکر سے رکن سندھ اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر مٹھی کے عوامی مسائل اور ان کے حل پر بریفنگ دی گئی۔

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

  • لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    لاہور (اعجازالحق عثمانی سے) لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات کا انعقاد لاہور کے ویٹرنری ہسپتال ہربنس پورہ میں کیا گیا۔

    انتخابی عمل کے دوران پولنگ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، جن میں ایسوسی ایشن کے ارکان نے بھرپور شرکت کی۔انتخابی نتائج کے مطابق، شاہین گروپ پینل نے میدان مار لیا۔ سردار مقبول حسین ڈوگر نے صوبائی صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی، جبکہ ملک انوارالحق اعوان نے صوبائی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کامیابی حاصل کی۔ دونوں امیدواروں نے 19 ووٹ حاصل کیے، جس کے بعد ان کا پینل اپنے مخالفین سے ایک قدم آگے رہا۔

    دوسری جانب، الخدمت گروپ پینل کے امیدوار غلام حیدر خان نیازی اور ساجد رمضان چوہدری 17 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔

    انتخابات کے دوران ایسوسی ایشن کے ممبران میں جوش و خروش نمایاں تھا، اور پولنگ کا عمل خوشگوار ماحول میں مکمل ہوا۔ ووٹنگ کا عمل شفاف اور منصفانہ انداز میں جاری رہا جس نے تمام شرکاء کو مطمئن کیا۔نومنتخب صدر پنجاب سردار مقبول حسین ڈوگر اور جنرل سیکرٹری پنجاب ملک انوارالحق اعوان نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لائیو اسٹاک ایمپلائز کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایسوسی ایشن کے ارکان کی فلاح و بہبود ہوگی اور وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    نئے عہدیداروں کی کامیابی کے بعد، لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے مستقبل کے حوالے سے امیدیں روشن ہو گئی ہیں، اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ انتخابی کامیابی ایسوسی ایشن کی ترقی اور بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • ملک کی تمام خرابیوں کی صرف  ایک وجہ  "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما،سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے "الیکشن چوری”۔ جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جائے گا اور انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

    فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ "میں وکلاء کا مشکور ہوں کہ مجھے یہاں مدعو کیا گیا اور جو سوالات آپ لوگ یہاں اٹھا رہے ہیں، وہی سوالات سارا پاکستان کر رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئینی اور قانونی نظام کی مکمل عدم موجودگی کے باعث حالات بہتر نہیں ہو رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "آج پاکستان میں کچھ لوگ امیر ہو رہے ہیں، لیکن وہ ممالک جو اپنے نظام میں تبدیلی نہیں لاتے، وہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ہمارے ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہی، اور جب تک رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) قائم نہیں ہوتی، ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں سابق مشرقی پاکستان (آج کا بنگلہ دیش) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے 53 سال پہلے اپنا آدھا ملک کھو دیا تھا کیونکہ ایسٹ پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں جہاں انتخابات چوری ہوں اور عوام کی رائے کا کوئی احترام نہ ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔سابق وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ "آج کل رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کی جاتی ہیں، جو نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی خرابی کی اصل وجہ اس کا سیاسی نظام ہے، جہاں انتخابات کا عمل شفاف نہیں اور قانون کی حکمرانی مفقود ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کئے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا محض ایک سراب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی حکمرانی اور ایک ایسا نظام جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس آف پاکستان، یحییٰ خان آفریدی، آج سیشن کورٹ گھوٹکی پہنچے، جس کے ساتھ ہی شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی گھوٹکی آمد کے موقع پر شہید صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا نے احتجاج کیا۔ شہید صحافی کے بچوں اور دیگر اہل خانہ نے چیف جسٹس کے روٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نصراللہ گڈانی کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیں۔مظاہرین نے قومی شاہراہ پر کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کروایا اور نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کو ابھی تک پولیس نے گرفتار نہیں کیا، اور اس سنگین واقعے میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں تعینات رہ کر صورتحال پر قابو پایا۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

    یاد رہے کہ نصراللہ گڈانی 2023 میں ایک انتہائی وحشیانہ حملے میں شہید ہوگئے تھے، جس کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے کیس میں سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی جا رہی، جس کے باعث وہ چیف جسٹس سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔

    میر ماتھیلو :شہیدصحافی نصر اللہ گڈانی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

    میرپور ماتھیلو:نصراللہ گڈانی قتل کیس،گرفتارملزم کوانسداددہشت گردی عدالت میں پیش کیاگیا

    میرپورماتھیلو:شہید صحافی نصراللہ گڈانی قتل کیس، ملزمان کی ضمانتیں کنفرم نہ ہوسکیں