Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • ملک کی تمام خرابیوں کی صرف  ایک وجہ  "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما،سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے "الیکشن چوری”۔ جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جائے گا اور انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

    فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ "میں وکلاء کا مشکور ہوں کہ مجھے یہاں مدعو کیا گیا اور جو سوالات آپ لوگ یہاں اٹھا رہے ہیں، وہی سوالات سارا پاکستان کر رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئینی اور قانونی نظام کی مکمل عدم موجودگی کے باعث حالات بہتر نہیں ہو رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "آج پاکستان میں کچھ لوگ امیر ہو رہے ہیں، لیکن وہ ممالک جو اپنے نظام میں تبدیلی نہیں لاتے، وہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ہمارے ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہی، اور جب تک رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) قائم نہیں ہوتی، ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں سابق مشرقی پاکستان (آج کا بنگلہ دیش) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے 53 سال پہلے اپنا آدھا ملک کھو دیا تھا کیونکہ ایسٹ پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں جہاں انتخابات چوری ہوں اور عوام کی رائے کا کوئی احترام نہ ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔سابق وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ "آج کل رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کی جاتی ہیں، جو نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی خرابی کی اصل وجہ اس کا سیاسی نظام ہے، جہاں انتخابات کا عمل شفاف نہیں اور قانون کی حکمرانی مفقود ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کئے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا محض ایک سراب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی حکمرانی اور ایک ایسا نظام جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس آف پاکستان، یحییٰ خان آفریدی، آج سیشن کورٹ گھوٹکی پہنچے، جس کے ساتھ ہی شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی گھوٹکی آمد کے موقع پر شہید صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا نے احتجاج کیا۔ شہید صحافی کے بچوں اور دیگر اہل خانہ نے چیف جسٹس کے روٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نصراللہ گڈانی کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیں۔مظاہرین نے قومی شاہراہ پر کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کروایا اور نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کو ابھی تک پولیس نے گرفتار نہیں کیا، اور اس سنگین واقعے میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں تعینات رہ کر صورتحال پر قابو پایا۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

    یاد رہے کہ نصراللہ گڈانی 2023 میں ایک انتہائی وحشیانہ حملے میں شہید ہوگئے تھے، جس کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے کیس میں سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی جا رہی، جس کے باعث وہ چیف جسٹس سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔

    میر ماتھیلو :شہیدصحافی نصر اللہ گڈانی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

    میرپور ماتھیلو:نصراللہ گڈانی قتل کیس،گرفتارملزم کوانسداددہشت گردی عدالت میں پیش کیاگیا

    میرپورماتھیلو:شہید صحافی نصراللہ گڈانی قتل کیس، ملزمان کی ضمانتیں کنفرم نہ ہوسکیں

  • نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

    نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

    فیصل آباد: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل پر دو مختلف مقدمات میں فرد جرم عائد کر دی۔

    یہ مقدمات 9 مئی کے واقعات سے متعلق ہیں جن میں حساس ادارے پر حملہ اور تھانہ غلام محمد آباد کے جلاؤ گھیراؤ کے الزامات شامل ہیں۔ پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کی رہنما زرتاج گل پیش ہوئیں، جہاں عدالت نے دونوں مقدمات میں ان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں اس وقت 9 مئی کے چار مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں۔

    زرتاج گل نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے مختلف شہروں میں ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ زرتاج گل نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ساتھ کھڑی رہیں گی، چاہے جتنا بھی جبر اور ظلم کیا جائے۔زرتاج گل نے کہا کہ "ہمارا واحد جرم عمران خان سے وفاداری ہے” اور "ہم اپنے قائد کے ساتھ کھڑے رہیں گے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے قائد کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور بے گناہ افراد کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے،” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عمران خان نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک کی بہتری کے لیے بات چیت کی جا سکے۔

    فرد جرم صرف خودداری کی بات کرنے اور ملک سے نہ بھاگنے پر عائد کی گئی ،زرتاج گل
    زرتاج گل نے کہا کہ "یہ ہمارے لیے کمزوری نہیں ہے، بلکہ ہم مذاکرات کے ذریعے انتخابات سمیت تمام مسائل پر بات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ "اگر عمران خان سول نافرمانی کی کال دیتے ہیں تو پوری قوم ان کے ساتھ نکلے گی، کیونکہ ہم اپنے قائد کے اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔”پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ "عمران خان کا کوئی جرم نہیں ہے، ان پر فرد جرم صرف خودداری کی بات کرنے اور ملک سے نہ بھاگنے پر عائد کی گئی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو جب عمران خان کی جماعت توڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں کو نشانات الاٹ کیے گئے تو اس کے باوجود تین کروڑ سے زیادہ لوگ عمران خان کے نام پر ووٹ دینے کے لیے تیار تھے۔زرتاج گل نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک چھوٹی سی سیاسی جماعت کو قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے، حالانکہ عمران خان کو ملک میں سب سے زیادہ حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "جتنا برا سلوک عمران خان کے ساتھ جیل میں کیا جا رہا ہے، ویسا سلوک تو سزائے موت کے مجرموں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔”

    زرتاج گل نے کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے سیاسی مشکلات آنے کے باوجود، پارٹی اپنے موقف پر قائم ہے اور ملک کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری پارٹی مضبوط ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے قائد کی قیادت میں جلد کامیابی حاصل کریں گے۔”

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی، جن میں حساس اداروں اور اہم سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔ ان واقعات کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور زرتاج گل سمیت کئی دیگر رہنما عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے دفاع میں بیانات دے رہے ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    نوکری کا جھانسہ دےکر پیسوں کا الزام،زرتاج گل کی ضمانت منظور

    پنجاب سموگ سے سیل اور مریم نواز کی پرفضا مقام کی سیر،زرتاج گل برس پڑیں

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی  میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھو ں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے۔ نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے۔فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔ تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔

    سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج کے اندرونی تنازعات میں شدت،آپس میں لڑپڑے

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

  • انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی سخت کاروائی کی ہدایت،رپورٹ طلب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی سخت کاروائی کی ہدایت،رپورٹ طلب

    وزیر اعظم شہباز شریف نے یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی،

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، سید محسن رضا نقوی، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں انسانی سمگلنگ اور اسکی روک تھام کے حوالے سے لئے گئے اقدامات پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی.وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 174 کیسز کو عدالت میں پیش کیا جا چکا، جن میں سے 4 کو سزا ہوئی. وزیرِ اعظم نے اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی میں سست روی پر اظہار برہمی کیا، وزیر اعظم نے اس حوالے سے عوامی آگاہی کے لئے چلائی گئی مہم کی تفصیلات طلب کر لیں.وزیر اعظم نے ایف آئی اے اور وزارت خارجہ کو پچھلے ایک سال میں ہونے والے ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی شامل تھے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی.وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ اور معصوم پاکستانیوں کو بیرون ملک جانے کے غیر قانونی طریقوں کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کر دی ہے،وزیرِ اعظم نے گزشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی ملوث پائے گئے کی رپورٹ طلب کر لی. وزیرِ اعظم نے 2023 کے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد ایسے عناصر کے خلاف کاروائی میں سست روی پر اظہار برہمی کیا،وزیرِ اعظم نے انسانی اسمگلنگ اور معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک پہنچانے کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کے حوالے سے سست روی میں ملوث افسران کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2023 میں یونان کے اسی علاقے میں ایک دردناک واقع ہوا جس میں 262 پاکستانی جان سے گئے.انسانی سمگلنگ پاکستان کے لئے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ھے اور اسکو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے.سست روی سے لئے گئے اقدامات کی بدولت اس قسم کے واقعات کا دوبارہ رونما ہونا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے.

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    انسانی سمگلنگ مجرموں کے خلاف کاروائی،اداروں کو بااختیار بنایا، وزیر داخلہ

    انسانی سمگلنگ میں ملوث مجرم کو سزا

  • قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین  کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس میں ایکس سمیت سوشل میڈیا ایپس، انٹرنیٹ کی سست روی پر آج بحث کی گئی

    قومی فرانزک ایجنسی بل 2024 پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔ بل کے تحت ایک ایسی سزا تجویز کی گئی ہے جو قابل اعتراض ہے۔شق 25 میں ایجنسی کے ماہر کو غلطی پر جرمانہ محض ایک لاکھ روپے تجویز کیا گیا۔ شازیہ مری نے جرمانے میں اضافے کی تجویز دے دی۔شازیہ مری نے فرانزک ایجنسی بل 2024 میں ترامیم کی تجویز دے دی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج اگر بل منظور کر دیا جائے تو ترامیم کو بعد میں منظور کر لیا جائے گا۔ شازیہ مری نے اپنی تجویز کردہ ترامیم واپس لے لیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کی قومی اسمبلی میں گونج دکھائی دی، زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کیاایکس کو دوبارہ کھولنے کی کوئی امید ہے؟ سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر مملکت کی موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری جواب نہیں دے سکتا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کابینہ ڈویژن کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز کی اکثریت کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام ہیں۔

    وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ،عبدالقادر پٹیل
    سست انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش پر حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پیپلز پارٹی اراکین نےسست انٹرنیٹ اور فائروال پر حکومت پر سخت تنقید کی، شازیہ مری نے کہا کہ یہ کونسی فائروال ہے ہم کس سے جواب لیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کا ستیاناس کر دیا گیا۔ وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ہے۔ آئی ٹی سے جڑے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔اتنی بدحالی کبھی کسی وزارت کی نہیں دیکھی جتنی اب ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ ڈویژن نے کہا کہ وزارت داخلہ جونہی کہے گی حالات ٹھیک ہیں ہم ایکس کھول دیں گے۔

    اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے،شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ برائے سوالات میں سوشل میڈیا ایپ کی بندش سے متعلق جواب دیا اور کہا کہ پاکستان میں جتنی آزادی رائے ہے کسی اور ملک میں نہیں ہے.اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے.پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں.ہمارے متعلق نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے.پی ٹی اے ایک خودمختار ادارہ ہے. پی ٹی اے ریگولیٹر کے طور پر کانٹینٹ کاذمہ دار ہے.ایکس کی بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو سفارشات ارسال کی تھیں.قومی سلامتی کیلئے ڈیجیٹل حملوں سے بچنا ہوگا.دشمن ہروقت سوشل میڈیا کےذریعے سائبر حملوں کیلئے تیارب یٹھاہوتاہے.قومی سلامتی سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے.ملک کی معیشت سنبھل چکی ہے.حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے.مسلم لیگ ن نے چھ سالوں میں 10لاکھ سےزائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے،

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ سیخ پا ہو گئیں، بولیں، اگر یہ بل نہیں پاس کرانا چاہتے تو واپس پتھر کے زمانے میں چلے جاتے ہیں اپنی گاڑیاں اور ٹی وی بند کریں،

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت