Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعلیٰ سندھ  کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیڈٹ کالج پٹارومیں تقریب سے خطاب کیا ہے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیڈٹ کالج پٹارو ایک منفرد اور بہترین درسگاہ ہے.کیڈٹ کالج پٹارو میں طلبہ کواسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں.کیڈٹ کالج پٹارو نے ہرشعبہ زندگی کیلئے بہترین تربیت یافتہ افراد پیدا کیےہیں.کامیاب ہونیوالے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کرتاہوں.کیڈٹ کالج پٹارو میں غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ کے مستقبل کیلئےاہم ہیں.کیڈٹ کالج پٹارو کےطلبہ کےاساتذہ اور والدین مبارکباد کےمستحق ہیں.مصنوعی ذہانت کے علم کا حصول ملکی ترقی کیلئے بہت اہم ہے.وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان کیا،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیڈٹ کالج پٹارو کے عملے کیلئے 2اضافی تنخواہوں کا اعلان کیا.

    لڑکے کا لڑکی کا لباس پہن کر رقص،یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

  • لڑکے کا لڑکی کا لباس پہن کر رقص،یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    لڑکے کا لڑکی کا لباس پہن کر رقص،یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ نے حالیہ تقریب میں پیش آئے غیر اخلاقی واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث طالب علم اور دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، گومل یونیورسٹی میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے دوران ایک طالب علم نے خاتون کے لباس میں ڈانس کیا، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ یونیورسٹی کی اخلاقی اقدار اور ڈسپلن کے خلاف تھا جس نے انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ نے اس واقعے کو یونیورسٹی کے ڈسپلن رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر طالب علم کو یونیورسٹی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حرکتوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ، وائس چانسلر نے پروگرام کے منتظم طلبا کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا اور دو اساتذہ کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا۔ ان کی معطلی کے ساتھ ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور ذمہ دار افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔گومل یونیورسٹی کے ترجمان نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں اس طرح کے غیر اخلاقی رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے اور یونیورسٹی کی اخلاقی قدروں کا تحفظ کرنا ہے۔وائس چانسلر نے اپنے بیان میں کہا کہ "گومل یونیورسٹی کا وقار اور نظم و ضبط ہماری اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔”انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ اور اخلاقی طور پر مستحکم رکھا جائے گا تاکہ طلبا اور اساتذہ کا اعتماد قائم رہے اور کسی بھی غیر اخلاقی عمل کا سدباب کیا جا سکے۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کی جائے گی تاکہ گومل یونیورسٹی کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنایا جا سکے۔

  • مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی، ایاز صادق نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے ان کا دفتر اور گھر دونوں ہر وقت کھلے ہیں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ "سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور کل ایوان میں ہونے والی بحث بھی خوش آئند تھی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر بات چیت سے ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے۔میں کچھ مصروف تھا ،کل بھی ہاؤس نہیں جا سکا، مختصر وقت کے لئے گیا تھا، کل شیر افضل مروت،رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف نے جو بات چیت کی وہ میں نے دیکھی، سپیکر کا دفتر سب کا گھر ہوتا ہے، سپیکر کے دروازے ہر وقت ممبران کے لیے کھلے ہوتے ہیں،اپوزیشن و حکومت دونوں کے لئے چوبیس گھنٹے میرا دفتر ،گھر کھلا ہے اگر مذاکرات کی بات کرنا چاہیں، مل بیٹھ کر تلخی ختم کرنا چاہیں، ملکی مفاد پر مبنی چیزوں کو سامنے رکھ کر بات کرنا چاہیں، بے شمار اور چیزیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی، امن و امان، صوبوں کی خود مختاری ان پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، میرے لئے حکومت و اپوزیشن کے تمام اراکین قابل احترام ہیں.

    اس سے قبل، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر اسپیکر آفس کا رستہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سنجیدہ ہیں تو کم از کم حکومت کو مذاکرات کا پیغام تو بھیجیں۔” رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات کو مزید بڑھاتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بھی اس موقع پر کہا کہ "سیاسی قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے، کیونکہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک ہو کر نہیں بیٹھیں گی، مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔” ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر آ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر ایاز صادق نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    پاکستان کی سیاست میں اس وقت تناؤ کی صورتحال ہے اور ایسے میں مذاکرات کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر اپنی اپنی تجاویز دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرتی ہیں اور کیا ایاز صادق کی کوششیں اس بات چیت کے لیے زمین ہموار کر سکیں گی۔

  • محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو  دورہ پاکستان کی دعوت

    محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو دورہ پاکستان کی دعوت

    ریاض: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے سعودی عربیہ کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود سے ریاض میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے کرکٹ کے فروغ اور اسٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے قریبی تعاون کی ضرورت پر بات چیت کی۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی اور خاص طور پر کھلاڑیوں کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی دنیا میں سعودی عرب ایک ابھرتا ہوا نام بن رہا ہے، اور پی سی بی اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔محسن نقوی نے سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز کا مشاہدہ کر سکیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے فروغ کے لیے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پلیئرز ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے تحت سعودی عرب اپنے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیج سکتا ہے تاکہ وہ پاکستان کے کرکٹ ماحول میں تربیت حاصل کر سکیں۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سعودی عرب کے ساتھ کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے تمام وسائل فراہم کرے گا، چاہے وہ کھلاڑیوں کی تربیت ہو، اسٹیڈیمز کی تعمیر ہو یا کرکٹ کے فروغ کے دیگر پہلو۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سعودی عرب کے کرکٹ اسٹرکچر میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف، سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود نے کہا کہ سعودی عرب کرکٹ کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کرکٹ کی عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت رکھتا ہے اور سعودی عرب اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کرکٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔محسن نقوی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی سعودی عرب کے نائب وزیر کھیل بدر بن عبدالرحمن ال قادی سے ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں کرکٹ کے فروغ۔ پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی سعودیہ کے نائب وزیر کھیل کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز دیکھنے کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی،چئیرمین پی سی بی نے پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی،پاکستان اور سعودیہ کا ایمپائرز،کوچز اور کھلاڑیوں کے ایکسچینج پروگرام متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے وویمنز کرکٹ کے فروغ کیلئے مکمل سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ سعودی عرب میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ کے لئے ہر سطح پر معاونت فراہم کریں گے۔وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔ پی ایس ایل سے کھلاڑیوں کے پول میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نائب وزیر کھیل کو پی ایس ایل دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی،سعودیہ کے نائب وزیر کھیل نے چیمپئنز ٹرافی اور پی ایس ایل کے پاکستان دورے کی دعوت پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی،ایرانی سپریم لیڈر

    حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید روح اللہ خامنہ ای نے شام میں حالیہ اقدامات کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ شام میں ہونے والے اقدامات کے بعد مزاحمت ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کی جانب سے شام میں جارحیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے مزاحمت کی حمایت کی جائے گی۔

    ایران کے سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل کی فوج جنوبی شام میں اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے حملے شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایران نے بار بار اس بات کی تاکید کی ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کی مداخلت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

    دریں اثنا، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان نے ایک اہم ملاقات کی جس میں شام کی تعمیر نو اور مہاجرین کی واپسی کے لیے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ ترک صدر اور یورپی کمیشن کی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریق شام میں استحکام لانے کے لیے مل کر کام کریں گے اور یہ کہ شام کی تعمیر نو میں یورپی یونین کا کردار اہم ہو گا۔اس ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ترکی اور یورپ مشترکہ طور پر شام کے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیں گے تاکہ نہ صرف وہاں کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے بلکہ لاکھوں شامی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کے عمل کو بھی تیز کیا جا سکے۔

    اسی دوران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہوا جس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے نے شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شام میں جاری جنگ کی وجہ سے وہاں کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر عائد اقتصادی پابندیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ ان پابندیوں کو ختم کرکے شام کی تعمیر نو کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کی فوج جنوبی شام میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دریائے یرموک کے علاقے پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے اس علاقے میں موجود حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل کی فضائیہ نے مقبوضہ گولان کے علاقے قلمون میں بمباری کی ہے۔مقبوضہ گولان میں بمباری کا یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے اپنی جنگی حکمت عملی کو مزید تیز کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس سے خطے میں ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر شام کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے مزاحمت کے عزم کا اظہار، اسرائیل کی فوج کی جارحانہ کارروائیاں اور ترکی و یورپی یونین کا شام کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ اقدام، اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا جیو پولیٹیکل توازن بن رہا ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے شام پر پابندیوں کے خاتمے کی درخواست اور اسرائیل کی جارحیت خطے میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

  • لاڑکانہ کے خاندان کا اعزاز،پیدائش،شادی اور پھر سات بچوں کی ایک ہی تاریخ کو پیدائش

    لاڑکانہ کے خاندان کا اعزاز،پیدائش،شادی اور پھر سات بچوں کی ایک ہی تاریخ کو پیدائش

    سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے خاندان نے 3 عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیے

    سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے عالمی سطح پر منفرد کارنامہ سر انجام دے کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کی ہے۔ یہ خاندان دنیا کے اُن کم خاندانوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ایک نہیں بلکہ تین عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیے ہیں۔

    امیر آزاد منگی، جو کہ ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں، نے اپنی زندگی کے اہم ترین لمحے ایک ہی تاریخ میں گزارے ہیں۔ ان کی پیدائش، شادی، اہلیہ کی پیدائش، اور ان کے سات بچوں کی پیدائش سب یکم اگست کو ہوئی۔ اس کے علاوہ، خاندان کے تمام افراد اپنی سالگرہ بھی ایک ہی دن اور ایک ہی کیک پر مناتے ہیں۔ یہ انوکھی روایت اور عالمی ریکارڈز نے انہیں دنیا بھر میں پہچان دی ہے۔امیر آزاد منگی کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ ان کے خاندان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے حکومتی سطح پر کسی قسم کی حوصلہ افزائی یا اعزاز کی توقع نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ حکومت نے عالمی ریکارڈ حاصل کرنے کے باوجود انہیں کوئی مناسب پذیرائی نہیں دی، جو کہ افسوسناک ہے۔

    لاڑکانہ کے ممتاز اسکاؤٹ لیڈر نثار مغیری نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ ایک تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے اہم شہر رہا ہے اور یہاں کے لوگ مختلف شعبوں میں عالمی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ نثار مغیری کے مطابق، ماضی میں لاڑکانہ نے مختلف سیاسی اور سماجی میدانوں میں نمایاں اعزازات حاصل کیے ہیں، جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی اسلامی بلاک کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا انتخاب شامل ہیں۔

    امیر آزاد منگی کا خاندان گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں انوکھی کامیابی حاصل کرنے پر بہت خوش ہے اور اس کامیابی کو اپنے خاندان کی مشترکہ محنت اور محبت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ امیر آزاد منگی کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان اس عالمی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی کامیابی دوسروں کے لیے بھی ترغیب کا باعث بنے گی۔

    اس خاندان کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سب یکم اگست کو اپنی سالگرہ مناتے ہیں، اور سالگرہ کا کیک بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ اس ایک دن میں اس خاندان کے تمام افراد کی خوشیوں کا مرکز یکم اگست بن چکا ہے۔ امیر آزاد منگی کے مطابق، یہ ایک منفرد روایت ہے جس میں تمام افراد کی خوشیاں ایک ساتھ منائی جاتی ہیں اور اس سے خاندان میں محبت اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے۔

    اگرچہ امیر آزاد منگی اور ان کے خاندان نے عالمی ریکارڈ حاصل کر لیے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی توقعات حکومتی سطح پر مزید توجہ حاصل کرنے کی ہیں تاکہ اس کامیابی کو عالمی سطح پر اور زیادہ نمایاں کیا جا سکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لاڑکانہ کے دیگر افراد بھی اس کامیابی سے تحریک حاصل کریں اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں۔

  • لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت

    جنگ 1971کے ہیرو لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے

    لانس نائیک محفوظ شہید نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا خوف و خطر دشمن کی توپوں کو خاموش کرایا۔میدان جنگ میں لانس نائیک محفوظ شہید کا جرات مندانہ اقدام مادرِ وطن کے تمام محافظوں کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔پوری قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے،افواج پاکستان نے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے.

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر).لانس نائیک محمد محفوظ 25 اکتوبر 1944ء کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈملکاں میں پیدا ہوئے.پاک فوج میں شمولیت لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی دیرینہ خواہش تھی.آپ نےاسی خواہش کی تکمیل کے لئے8 مئی 1963ء کو پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی.لانس نائیک محمد محفوظ شہید، دین و دنیا میں ایک مثالی کردار کے حامل شخص تھے.1971ء کی جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید واہگہ اٹاری سیکٹر میں آپریشن کا حصہ تھے.17دسمبر کی رات ہدف کے حصول کے دوران آپ کی کمپنی کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا. دشمن کی پوزیشن تقریباََ 70میٹر کے فاصلے پر تھی، نتیجتاََ پیش قدمی روکنا پڑی.دشمن کی بھاری گولہ باری کے سبب آپ کی لائیٹ مشین گن تباہ ہو گئی. آپ نے ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھالی اور بھر پور انداز سے اُس ہندوستانی مشین گن کو نشانے پر رکھا جس نے آپ کی کمپنی کی پیش قدمی روک رکھی تھی. اس عمل کے دوران آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کی مشین گن بھی ناکارہ ہو گئی. آپ نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور اپنے زخموں سے بے نیاز آگے بڑھ کر بھارتی مشین گنرکی گردن دبوچ کر اسے ہلاک کر دیا.اس دوران اسی مورچے میں موجود دشمن کے سپاہیوں نے سنگین کے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا. آپ کی جرأت اور دلیری کا اعتراف ہندوستانی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے ان الفاظ میں کیا ؛” میں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں ایسا جرأت مند انسان نہیں دیکھا۔ اگر یہ میری فوج کا حصہ ہوتے تو میں ان کا نام بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کیلئے تجویز کرتا”بِلا شُبہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت افواج پاکستان کی مادر وطن کیلئے دی جانے والی قربانیوں کا مظہر ہے

  • اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہتے ہیں ناں مال مفت، دل بے رحم، اڈیالہ میں عمران خان کو 500 دن مکمل ہو چکے ہیں،دو کام ہوئے، تنزلی کا شکار معیشت میں بہتری آنا شروع ہوئی تو وہیں عمران خان کی رہائی کی ہر کوشش ناکام ہوئی، اب حالات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں دوبارہ یلغار کی سکت نہیں، سارے کے سارے جعلی انقلابی شہباز شریف سے منت ترلے کر رہے ہیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے حکومت کیا مذاکرات کرے، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کے پاس سوال کا جواب نہیں نہ ہی اسد قیصر،شبلی فراز کو کچھ پتہ، عمران خان کو یقین ہے اسکی رہائی ممکن نہیں اور واحد امید کی کرن ڈونلڈ ٹرمپ ہے کہ وہ عمران کی رہائی کی بات کرے گا، ٹویٹ کا انتظار کر رہے ہیں یہ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عمران خان نے عدلیہ پر بھی امریکی دباؤ ڈالنے کی سازش تیار کر لی ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں عمران خان کے حقوق اور آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کر کے امن کا ستیاناس کیا، معیشت تباہ کی،اور عدلیہ انکی سہولت کاری کرتی رہی، گڈ ٹوسی یو انہیں کہا جاتا رہا، اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کے مقدمات انکے سروں پر تلوار ہیں، اور خطرہ اب ٹلنے والا نہیں، امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے سارے ہتھکنڈے آزما چکا، اوباما کا دباؤ فیل ہوا تھا، عمران خان کی رہائی کے لئے ٹرمپ کا دباؤ بھی کام نہیں آئے گا

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیری مزاری پر فردجرم عائد کر دی گئی، تا ہم قریشی بچ گئے، علی امین گنڈا پور جیل گئے لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی، ٹارزن کو اس کی اوقات یاد دلا دی گئی،چڑیل کے مطابق فون پر ایک گھنٹے تک منتیں کرتا رہا، لیکن کسی نے گھاس نہیں ڈالی، گنڈا پور کو فائنل وارننگ دے دی گئی ہے، علی امین گنڈا پور اچھا بچہ ہے اسلئے وہاں سے فوری پشاور پہنچ گیا اور کوئی پریس کانفرنس نہ کی، پنکی پیرنی کو اس نے خبردار کر دیا کہ اسلام آباد کا موسم شدید سردی میں بھی گرم ہے، مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، انتشاری ٹولے نے عسکری اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی تو سیل بڑھنا شروع ہو گئی،شرح سود میں کمی ہو رہی ہے، ڈالر کی من مانی ختم ہو رہی ہے،بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے آئی پی پیزسے جان چھڑائی جا رہی ہے، مہنگائی میں کمی نہیں ہو رہی تو اضافہ نہیں ہو رہا،معاشی استحکام ایس آئی ایف سی کی مسلسل محنت و لگن کا نتیجہ ہے،

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل