Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیرِاعظم اور معروف سیاستدان حمزہ یوسف نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں سکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات میں اپنے ایم ایس پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے شیئر کی، جس میں کہا کہ وہ 15 سال کی سیاسی خدمات کے بعد آگے بڑھنے کا وقت سمجھتے ہیں۔

    حمزہ یوسف نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "میرے والدین تارکین وطن تھے، اور میں کبھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ میں اتنی شاندار سیاسی سفر پر گامزن ہوں گا۔” انہوں نے اپنے تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔یوسف نے مزید کہا کہ 2026 میں وہ سکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران اپنی ایم ایس پی کی سیٹ چھوڑ دیں گے تاکہ نئے سیاستدانوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔ ان کا کہنا تھا، "15 سال کی خدمت کے بعد، یہ وقت صحیح ہے کہ میں آگے بڑھوں اور دنیا کے سامنے کچھ نئی ذمہ داریاں اور چیلنجز اپنانے کا موقع تلاش کروں۔”

    حمزہ یوسف نے 2023 کے مارچ میں سکاٹ لینڈ کے وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن مئی 2024 میں انہوں نے "بیوٹ ہاؤس ایگریمنٹ” کے ٹوٹنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس دوران ان کا سیاسی سفر خاصا مشکل رہا، خاص طور پر گرین پارٹی کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کے بعد۔یوسف نے اس بارے میں مزید کہا کہ "بیوٹ ہاؤس ایگریمنٹ کے حوالے سے مختلف چیلنجز اور پارٹی کے اندرونی اختلافات نے ان کے استعفیٰ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔” ان کا کہنا تھا، "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، لیکن میں نے سوچا کہ اس صورت میں میرا استعفیٰ دینا درست ہے تاکہ میری جانشینی کسی رکاوٹ کے بغیر ممکن ہو سکے۔”

    حمزہ یوسف کی سیاسی زندگی میں کئی اہم وزارتیں شامل ہیں۔ انہوں نے سکاٹش حکومت میں صحت، انصاف، اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم محکموں میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2012 سے 2016 تک یوسف وزیرِیورپ اور بین الاقوامی ترقی کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر/X پر ایک انٹرویو شیئر کیا جس میں کہا کہ وہ اب "فرنٹ لائن سیاست” سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تاکہ نئے سیاستدانوں کے لیے جگہ بن سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے تجربات کا فائدہ اُٹھا کر عالمی سطح پر اپنی خدمات پیش کریں۔ "اب میں دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل کے لیے اپنی بصیرت اور تجربات سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔” یوسف نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ناکامیوں اور کامیابیوں دونوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، اور وہ اس علم کو عالمی سطح پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

    حمزہ یوسف کا یہ فیصلہ سکاٹ لینڈ کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے استعفیٰ کے اعلان کے بعد، سکاٹ لینڈ کی سیاست میں ایک نئی قیادت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مستقبل میں کون سی شخصیت ان کی جگہ لے گی۔

  • ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

    سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ لوگوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنا فریڈم آف اسپیچ نہیں ہے۔

    جامعہ کراچی میں بائیو ٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آج کل روایت چل پڑی ہے کہ لوگ سخت سوالوں سے ڈر جاتے ہیں،میں سوال کو نہیں روکتا، سوال کا مقصد سمجھانا ہے الجھنا نہیں، کیا فزکس یا کیمیا میں ترقی سے حکومت نے روکا ہے، کیا منع کیا گیا ہے کہ کیوں نیا مالیکیول دریافت کیا ہے،کیا فزکس اور کیمسٹری میں ترقی کرنے سے آئی ایس پی آر نے روکا ہے، کیا صرف گالیاں دینا تنقید ہے، ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، ہم شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں، ہمیں مکالمے کی ضرورت ہے،دوسری عالمی جنگ عظیم میں 5 کروڑ لوگ ہلاک ہوئے، تبدیلی انارکی کے خلاف ہونی چاہیے، چوائس ہمارے پاس موجود ہے

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جہانیاں ،سکول کی عمارت لرز اٹھی،طالبات کی بھگدڑ، 8 زخمی

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • جہانیاں ،سکول کی عمارت لرز اٹھی،طالبات کی بھگدڑ، 8  زخمی

    جہانیاں ،سکول کی عمارت لرز اٹھی،طالبات کی بھگدڑ، 8 زخمی

    پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل جہانیاں میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اسکول کی عمارت میں اچانک لرزنے کی وجہ سے طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس حادثے میں 8 طالبات زخمی ہوگئیں۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا سبب اسکول کے قریب سڑک پر جاری تعمیراتی کام ہے۔ وہاں پر ہیوی مشینری استعمال ہو رہی تھی، جس کے سبب سڑک کی سطح میں وائبریشن پیدا ہوئی۔ اس وائبریشن کی وجہ سے اسکول کی عمارت لرزنے لگی، جس سے طالبات خوفزدہ ہو گئیں اور وہ ایک دوسرے پر گر کر زخمی ہوگئیں۔اسکول کے ایک ٹیچر نے بتایا کہ اسکول سے ملحقہ سڑک پر حالیہ دنوں میں تعمیراتی کام جاری تھا۔ اس دوران ہیوی مشینری کی آواز اور تھرتھراہٹ سے طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول انتظامیہ نے فوراً ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی، اور زخمی طالبات کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق، زخمی ہونے والی طالبات کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر زخمی طالبات کو معمولی چوٹیں آئی ہیں،علاقے کی انتظامیہ نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی، اور اسکولوں کے قریب ایسے کاموں کی نگرانی سخت کی جائے گی۔

    اس واقعے کے بعد، مقامی شہریوں نے بھی سڑکوں پر کام کرنے والی مشینری کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے قریب اس طرح کے کاموں کے دوران مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کا ایسا حادثہ دوبارہ نہ ہو۔

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 16 دہشت گردگرفتار

    فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

  • ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    پاراچنار کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں 65 دنوں سے محاصرے کی حالت برقرار ہے۔ علاقے میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول ادویات، خوراک، اور پیٹرول کی کمی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، اور کئی معصوم بچے علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ہسپتال میں دواوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحت کے شعبے میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ڈاکٹر سید میر حسن جان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ "ہسپتال میں دواوں کا ذخیرہ پشاور ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے موصول ہوا تھا، لیکن یہ مقدار ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث دواوں اور سرجیکل سامان کا استعمال بہت زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں دواوں کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ڈاکٹر حسن جان نے بتایا کہ "اس وقت ہسپتال کے مختلف یونٹس میں دواوں کی شدید کمی ہے اور اس مسئلے کو انسانیت کے ناطے فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے۔” بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 29 بچے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دواوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ تھل-پاراچنار روڈ بند ہونے کے باعث دوا فراہم کرنے والی کمپنیاں دواوں کو پاراچنار تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس روڈ کی بندش کو 69 دن ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف دوا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ پاراچنار اور اپر کرم کے علاقے میں ضروری اشیاء جیسے کہ کھانے پینے کی چیزیں، ایندھن اور گیس کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سماجی کارکن اسد اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سرحد اور اہم شاہراہوں کو فوراً کھولا نہ گیا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "ہمیں فوری طور پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی امداد فراہم کرنی چاہیے کیونکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والی گرینڈ جرگہ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شاہراہوں کی بحالی اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔ اس جرگہ کا مقصد علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    پاراچنار کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ علاقے کے راستے کھولے جائیں تاکہ متاثرین کو ادویات، خوراک، اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا سکے۔ لیکن محاصرے کی وجہ سے ان تک امداد پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاراچنار میں ادویات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ کئی بچے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت تھی، وہ اس کمی کے باعث اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، علاقے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے روزے رکھنے والے عوام کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔پاراچنار میں پیٹرول اور دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ علاقے کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور لوگ اپنی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

    فیصل ایدھی ایئر ایمبولینس کے ہمراہ پارا چنار پہنچ گئے
    پاراچنار میں جاری اس انسانی بحران کے حل کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایدھی ایئر ایمبولینس کی پہلی پرواز پاراچنار ایئرپورٹ پر پہنچی ہے، جس میں فیصل ایدھی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاراچنار پہنچے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ خود یہاں آ کر عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ایدھی ایئر ایمبولینس کی پرواز کے ذریعے پشاور سے ادویات پاراچنار پہنچائی جائیں گی اور ساتھ ہی مقامی مریضوں کو پشاور منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ ان کی ٹیم پاراچنار کے ہسپتالوں میں ضروری امداد فراہم کرے گی اور جلد از جلد مزید امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے علاقے پارہ چنار ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 29 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا، مگر انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور نام نہاد جعلی انقلابی سب کے سب خاموش ہیں۔ لگتا ہے ان بچوں کی موت میں کوئی “سیاسی فائدہ” نہیں تھا، اس لیے نہ کوئی مارچ نکلا، نہ کوئی ٹویٹ ہوا۔ انسانیت یہاں مر گئی اور ضمیر کہیں بیچا جا چکا ہے۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 16 دہشت گردگرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 16 دہشت گردگرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 16 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ لاہور سے فتنہ الخوارج کا انتہائی خطرناک دہشت گرد عمر گرفتار ،دہشت گرد کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے

    ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 118 کارروائیاں کیں، جن میں 118 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 16 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشت گردوں میں طفیل ۔صدیق ۔ابراہیم ۔عمر ۔عبدالرشید ۔امام حسین ۔وقار ۔عدنان وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق فتنہ خوارج داعش اور دیگر تنظیموں سے ہے انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی گرفتاری لاہور ۔بہاولپور ۔منڈی بہاؤالدین ۔میاں والی ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔رحیم یار خان ۔چنیوٹ ۔وہاڑی ۔راولپنڈی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کی گئی۔ دھماکہ خیز مواد 1293 گرام، ڈیٹونیٹرز 3، سیفٹی فیوز وائر 12 فٹ، ائی ای ڈی بم 1 کالعدم تنظیم کے پمفلٹ 75، میگزین .57500 روپے نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے لاہور اور دیگر شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 15 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے دوران مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 4480 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 144842 افراد کو چیک کیا گیا، 431 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 402 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 323 بازیابیاں کی گئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،

    فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

  • فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہوزیر اعلی پنجاب آٹھ دن چائنہ کے سرکاری دورے پر تھی، یہ پہلی وزیر اعلی تھی جن کو ہیڈ آف اسٹیٹ کا وہاں پر پروٹوکول اور مرتبہ ملا،

    عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ٹائیگرز تلملا رہے تھے، یہ لوگ جن لوگوں کے ساتھ تصویریں کھنچوا کر خوش ہوتے تھے وہ ان ملاقاتوں میں انٹر پریٹر تھے، وزیر اعلی پنجاب کا دورہ سرکاری تھا لیکن مسلم لیگ ن کو ایک پارٹی کے طور پر ہائی لائیٹ کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایگری کلچر پر فوکس کیا ہوا ہے، ان کی کوشش ہے کہ ہمارے کسانوں کے پاس بھی وہی آلات ہونے چاہیے جو دنیا استعمال کررہی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان کو کہا کہ وہ پنجاب میں آکر اپنے پلانٹس لگائیں، اے آئی فورس کا ڈیلی گیشن ایک سے ڈیڑھ مہینے میں لاہور آئے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب کی والدہ کا انتقال کینسر سے ہوا تھا، نواز شریف کینسر ہسپتال میں کینسر کے علاج کے حوالے سے کیمو تھریپی چائنا میں بغیر تکلیف کے کی جاتی ہے اس کو یہاں لگایا جائے گا،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ لاہور کو جدید ترین اسمارٹ سٹی بنانےکا اب کام شروع ہوگا،پنجاب کی سڑکوں پر کچھ ماہ میں چارجنگ اسٹیشن بنتے نظر آئیں گے،وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے پنجاب کو سیف اور پروگریسو صوبہ بنانے کا جو عہد کیا ہے اس پر تیزی سے کام ہورہا ہے،چین کی پارٹی کے وائس چیئرمین نے مریم نواز کے متعلق کہا میں آپ میں ایک بڑی لیڈر دیکھ رہا ہوں،آپ آنے والے وقت میں پاکستان کی بڑی لیڈر ثابت ہونگی،

    ایک لاکھ 90ہزار مجھے تنخواہ ملتی اس میں اگر کوئی نارمل زندگی گزار سکتا ہے تو بتائیں۔ عظمیٰ بخاری
    اراکین اسمبلی کی تنخواہوں کے اضافے کے سوال پر عظمٰی بخاری نے کہا کہ ایک لاکھ 90ہزار مجھے تنخواہ ملتی ہے اس میں اگر کوئی نارمل زندگی گزار سکتا ہے تو بتائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی تنخواہ نہیں لیتیں۔2019 میں ایم پی ایز کی تنخواہ بڑھی تھی، اس وقت وزیروں کی نہیں بڑھی تھی، اگر فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، ثمرات لوگوں تک پہنچیں گے،ہم جتنا کام کرتے ہیں اور اگر ریزن ایبل تنخواہ ہو تو کوئی بری بات نہیں.

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے گواہوں کو تحریری گواہی دینے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ناقابل سماعت قرار دے دی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے یہ فیصلہ سنایا۔

    عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، تاہم انہیں ٹرائل میں طلب نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اور عدالت نے گواہوں کو تحریری صورت میں گواہی دینے کی اجازت دی ہے جو کہ غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گواہ کمرہ عدالت میں آ کر گواہی دیں، اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس درخواست پر گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور آج عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں کہا تھا کہ عمران خان نے میرے اوپر دھرنہ ختم کرنے کے حوالے سے پیسے دینے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، عمران خان نے کروڑوں روپے آفر کا بے بنیاد الزام عائد کیا،عمران خان کیخلاف 8 جولائی 2017 کو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ، شہباز شریف نے یہ درخواست وزیراعظم عمران خان کی25 اپریل 2017 میں شوکت خانم ہسپتال میں تقریر کے خلاف دائر کی تھی تقریر میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی.بعدازں عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران مالی پیشکش کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بہت قریبی ہے جولائی 2017 میں شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا.

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد