Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہوزیر اعلی پنجاب آٹھ دن چائنہ کے سرکاری دورے پر تھی، یہ پہلی وزیر اعلی تھی جن کو ہیڈ آف اسٹیٹ کا وہاں پر پروٹوکول اور مرتبہ ملا،

    عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ٹائیگرز تلملا رہے تھے، یہ لوگ جن لوگوں کے ساتھ تصویریں کھنچوا کر خوش ہوتے تھے وہ ان ملاقاتوں میں انٹر پریٹر تھے، وزیر اعلی پنجاب کا دورہ سرکاری تھا لیکن مسلم لیگ ن کو ایک پارٹی کے طور پر ہائی لائیٹ کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایگری کلچر پر فوکس کیا ہوا ہے، ان کی کوشش ہے کہ ہمارے کسانوں کے پاس بھی وہی آلات ہونے چاہیے جو دنیا استعمال کررہی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان کو کہا کہ وہ پنجاب میں آکر اپنے پلانٹس لگائیں، اے آئی فورس کا ڈیلی گیشن ایک سے ڈیڑھ مہینے میں لاہور آئے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب کی والدہ کا انتقال کینسر سے ہوا تھا، نواز شریف کینسر ہسپتال میں کینسر کے علاج کے حوالے سے کیمو تھریپی چائنا میں بغیر تکلیف کے کی جاتی ہے اس کو یہاں لگایا جائے گا،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ لاہور کو جدید ترین اسمارٹ سٹی بنانےکا اب کام شروع ہوگا،پنجاب کی سڑکوں پر کچھ ماہ میں چارجنگ اسٹیشن بنتے نظر آئیں گے،وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے پنجاب کو سیف اور پروگریسو صوبہ بنانے کا جو عہد کیا ہے اس پر تیزی سے کام ہورہا ہے،چین کی پارٹی کے وائس چیئرمین نے مریم نواز کے متعلق کہا میں آپ میں ایک بڑی لیڈر دیکھ رہا ہوں،آپ آنے والے وقت میں پاکستان کی بڑی لیڈر ثابت ہونگی،

    ایک لاکھ 90ہزار مجھے تنخواہ ملتی اس میں اگر کوئی نارمل زندگی گزار سکتا ہے تو بتائیں۔ عظمیٰ بخاری
    اراکین اسمبلی کی تنخواہوں کے اضافے کے سوال پر عظمٰی بخاری نے کہا کہ ایک لاکھ 90ہزار مجھے تنخواہ ملتی ہے اس میں اگر کوئی نارمل زندگی گزار سکتا ہے تو بتائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی تنخواہ نہیں لیتیں۔2019 میں ایم پی ایز کی تنخواہ بڑھی تھی، اس وقت وزیروں کی نہیں بڑھی تھی، اگر فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، ثمرات لوگوں تک پہنچیں گے،ہم جتنا کام کرتے ہیں اور اگر ریزن ایبل تنخواہ ہو تو کوئی بری بات نہیں.

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے گواہوں کو تحریری گواہی دینے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ناقابل سماعت قرار دے دی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے یہ فیصلہ سنایا۔

    عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، تاہم انہیں ٹرائل میں طلب نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اور عدالت نے گواہوں کو تحریری صورت میں گواہی دینے کی اجازت دی ہے جو کہ غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گواہ کمرہ عدالت میں آ کر گواہی دیں، اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس درخواست پر گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور آج عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں کہا تھا کہ عمران خان نے میرے اوپر دھرنہ ختم کرنے کے حوالے سے پیسے دینے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، عمران خان نے کروڑوں روپے آفر کا بے بنیاد الزام عائد کیا،عمران خان کیخلاف 8 جولائی 2017 کو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ، شہباز شریف نے یہ درخواست وزیراعظم عمران خان کی25 اپریل 2017 میں شوکت خانم ہسپتال میں تقریر کے خلاف دائر کی تھی تقریر میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی.بعدازں عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران مالی پیشکش کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بہت قریبی ہے جولائی 2017 میں شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا.

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

  • عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ضمانتوں میں توسیع عمران خان کے چھ اور بشریٰ کے ایک مقدمے میں کی گئی ہے

    یہ فیصلہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر کیا۔سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے بتایا کہ سینئر کونسل، جو مرکزی جیل اڈیالہ میں مصروف تھے، اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی اور اگلی سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عدالت کے اس فیصلے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مزید وقت مل گیا ہے تاکہ وہ مقدمات میں پیش رفت کر سکیں اور عدالت میں اپنے دفاع کے لیے تیاری کر سکیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی کی جانب سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں سے کچھ میں ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی دائر کی جا چکی تھیں، اور اس میں مزید پیش رفت کے لیے یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، نیویارک کے ایک امریکی جج نے ان کی ‘ہش منی’ کیس میں سزا منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اس فیصلے سے ٹرمپ کو ایک اور سنگین قانونی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ اب وہ 20 جنوری 2025 کو حلف اٹھانے کے باوجود سزا یافتہ صدر کے طور پر تاریخ رقم کریں گے۔رپورٹس کے مطابق نیویارک کی عدالت میں جج جوآن مرچن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکس اسکینڈل چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا۔ جج مرچن نے ٹرمپ کے وکیلوں کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اس طرح کے ایک ہی نوعیت کے کیس کو منسوخ کیا تھا۔ٹرمپ کے وکیلوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ٹرمپ کی حکومت میں کام کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ آئے گی، تاہم جج نے ان دلائل کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کی سزا کو برقرار رکھا۔

    یاد رہے کہ یہ کیس 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران فحش فلم کی اداکارہ اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ ٹرمپ کے مبینہ تعلقات سے جڑا ہوا ہے، جسے چھپانے کے لیے ٹرمپ پر 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مئی 2024 میں مین ہٹن کی جیوری نے ٹرمپ کو 34 مختلف الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی صدر یا سابق صدر کو کسی مجرمانہ کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہو۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ان کے 2024 میں ہونے والے انتخابات کی مہم کے دوران بھی ہو رہا ہے۔ٹرمپ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ایک سیاسی سازش ہے جس کا مقصد انہیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ اپنے تعلقات کو عوامی سطح پر چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں تبدیلی کی۔ اس معاملے کو امریکا کی عدلیہ میں ایک اہم قانونی اور سیاسی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک صدر یا سابق صدر کو مجرمانہ الزام کا سامنا ہے۔

    دوران پرواز ہوائی جہاز میں فحش فلم چل گئی

    ہاں،ٹرمپ نے جنسی تعلقات قائم کیے تھے، فحش فلموں کی اداکارہ کی تصدیق

    فحش فلموں کی اداکارہ اپنے کمرے میں پراسرار حالت میں مردہ پائی گئی

    رکن اسمبلی دوران اجلاس موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    فحش فلمیں دیکھنے والے ٹاپ 20 ممالک میں مسلمان ملک کا نام بھی آ گیا

  • فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    فیصل آباد: شہر میں پیزے کے شوقین ڈاکوؤں نے ایک اور ڈلیوری بوائے کو نشانہ بنایا اور اس سے پیزا چھین لیا۔

    یہ واقعہ گزشتہ دنوں تھانہ مدینہ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا جہاں دو موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے پیزا ڈلیوری بوائے کو لوٹ لیا۔ ڈاکوؤں نے نہ صرف پیزا اور پیزا بیگ چھینے بلکہ موبائل فون اور نقدی بھی لوٹ لی،پولیس کے مطابق واردات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پیزا ڈلیوری بوائے، امان اللہ، نے اپنے بیان میں کہا کہ دو ڈاکو موٹرسائیکل پر آئے اور ان سے پیزا، پیزا بیگ، موبائل فون اور تین ہزار روپے چھین کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    یہ واقعہ فیصل آباد میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پیزا خور ڈاکوؤں کی چوتھی واردات ہے۔ اس سے قبل تھانہ صدر اور مدینہ ٹاؤن کے علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی تین وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں ڈاکوؤں نے پیزا ڈلیوری بوائز سے پیزا، نقدی اور موبائل چھینے تھے۔ اس کے باوجود پولیس ابھی تک ان ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    پیزا خور ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کی وجہ سے ڈاکو مزید وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس اس گینگ کو پکڑنے کے لیے فوری طور پر مؤثر حکمت عملی اپنائے۔یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے پیزا ڈلیوری بوائز کی حفاظت بھی ایک سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ شہریوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ پیزا ڈلیوری بوائز کی حفاظت کے لئے فوری طور پر اضافی سیکیورٹی فراہم کرے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔فیصل آباد میں پیزا خور ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتیں شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہی ہیں۔ پولیس کے لئے یہ ایک چیلنج بن چکا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ پولیس جلد ملزمان کو گرفتار کر کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

  • یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    13 دسمبر کو یونان کے جزیرہ کریٹ کے جنوب میں ایک افسوسناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے اپنی دردناک کہانیاں اور حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر اس حادثے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    حادثے کے حوالے سے بچ جانے والے پاکستانیوں نے بتایا کہ یہ حادثہ 13 دسمبر کی رات، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا۔ ان کے مطابق سمندر میں حالات انتہائی خراب تھے اور کشتی پر 84 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی غیر قانونی طور پر لیبیا سے یونان جا رہی تھی، اور بدقسمتی سے اس حادثے میں کئی پاکستانیوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ متاثرین کے مطابق حادثے کے دوران درجنوں پاکستانیوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔متاثرین نے مزید بتایا کہ جس کشتی پر وہ سوار تھے، اس کا نہ انجن صحیح کام کر رہا تھا، نہ واکی ٹاکی (رابطہ کے آلات) درست تھے، اور نہ ہی کشتی کے کپتان کا رویہ مناسب تھا۔ ان کے مطابق کشتی کے حادثے کے بعد ایک کارگو شپ نے انہیں بچایا، لیکن اس دوران ان کے کپڑے، موبائل اور جوتے سمندر میں بہہ گئے۔ اس وقت ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں، نہ جوتے، اور نہ ہی ضروری سامان۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یونان کے ایک پناہ گزینی کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں انہیں عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے، جہاں وہ ڈیڑھ دو ماہ تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ پھر 11 دسمبر کو ان کی کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، اور 13 دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    یونان میں پاکستان کے سفیر، عامر آفتاب قریشی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی اب بھی لاپتا ہیں، اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، مگر بچ جانے کی امیدیں کم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا تاکہ ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات کے لیے آرام دہ حالات فراہم کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ یہ پانچ کشتیاں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے روانہ ہوئی تھیں، جن پر پاکستانی شہری سوار تھے۔ ان کشتیوں کو ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ان کشتیاں میں پاکستانی بچے بھی شامل تھے، جو اس خوفناک حادثے میں شامل ہوئے۔یونان میں ہونے والا یہ کشتی حادثہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس میں پاکستانیوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات اور بچ جانے والوں کے انکشافات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے سفر کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے،

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

  • حکومت واپوزیشن  عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی بقاء کی جنگ کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراتفری، انتشار اور دہشتگردی سے ملک پاکستان کو نجات مل سکےموجودہ حالات میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی اور بیروزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں جن پر قابو پانے کیلئے تمام پارٹیوں کو باہمی سیاسی رنجشیں ختم کر کے مشترکہ طور پر فیصلے کرنے ہوں گے تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے حصول کیلئے دربدر ہو رہے ہیں بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی روزمرہ زندگی مشکل میں ڈال دی ہے مرکزی مسلم لیگ ان حالات میں عوام کی خدمت کیلئے شانہ بشانہ ہے سستے سبزی بازار ، تندور اور دستر خوان لگا کر اپنا حصہ شامل کر رہی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی سیکریٹریٹ میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمرا ہ ضلعی صدر شہباز راجپوت ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری انجینئر مبین صدیقی، سینئر نائب صدر نثار خان، نائب صدر ملک شہریارکھوکھر، نائب صدرو عمر جنجوعہ، عبدالواحد، شیخ عبدالحنان ویگر بھی موجود تھےدریں اثناء نہوں نے ضلع راولپنڈی کی تنظیم کا باقاعدہ اعلان کی.ا پر یس کا نفرنس میں 16 دسمبر اے پی ایس واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی .خالد مسعود سندھو نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ جمہوریت، شخصی آزادی اور مساوات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے ، سیاسی کردار کےذریعے پاکستان کے تمام طبقات میں اتحاد و یکجہتی کے لیے کوشاں ہیں، ہمارا منشور شہریوں کو تعلیم ، صحت ، روز گار اور انصاف کے بلا تفریق مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشش کرنا ہے۔

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید