Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے سوہاوہ میں ایک اہم کارروائی کے دوران سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کرلی ہیں۔

    وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے چیف ڈرگ کنٹرولر کے ہمراہ سوہاوہ کے علاقے میں چھاپہ مارا، جس کے دوران 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چوری شدہ ادویات برآمد ہوئیں۔ذرائع کے مطابق یہ ادویات کھاریاں، راولپنڈی اور وفاقی اسپتالوں سے چوری کی گئی تھیں اور انہیں اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے دوران ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو سرکاری اسپتالوں سے ادویات چوری کر کے انہیں غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں بیچ رہا تھا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں سے ادویات کی چوری ایک سنگین جرم ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور چوری کی گئی ادویات کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔خواجہ عمران نذیر نے یہ بھی کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے اس نوعیت کی وارداتوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    یہ کارروائی عوامی صحت کے نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جارہی ہے۔ وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور چوروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ حکومت عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے اور سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کر رہی ہے۔

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو کے ریازان اسکو پروسپیکٹ پر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:11 بجے پیش آیا۔

    گواہوں کے مطابق، دھماکے سے کچھ گھنٹے پہلے ایک نامعلوم شخص نے ایک الیکٹرک سکوٹر عمارت کے داخلی دروازے کے قریب پارک کیا تھا جس کے ہینڈل پر ایک نامعلوم مواد سے بنا ہینڈ میڈ بم (آئی ای ڈی) موجود تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں روسی فوج کے ریڈی ایشن، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کرئیلوف بھی شامل ہیں۔ دوسری ہلاکت ان کے معاون کی ہو سکتی ہے۔مقامی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، دھماکے نے عمارت کے داخلی دروازوں کو اڑایا اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ جنرل کی سرکاری گاڑی بھی اس دھماکے میں تباہ ہو گئی۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ دور سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمبار یا ان کے معاونین دھماکے کے مقام سے دور تھے اور شاید انہوں نے عمارت کے داخلی کیمرے تک رسائی حاصل کی، جو بہت سے رہائشیوں کے لیے دستیاب ہیں۔روس کے ٹیلی گرام چینل "ماش” کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت لیفٹیننٹ جنرل کے ڈرائیور کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ صبح 6 بجے جنرل کو لینے آیا تھا تاکہ انہیں کام پر لے جا سکے۔

    رشوت لینے کے الزم میں پولیس کانسٹیبل گرفتار

    فی الحال، بم ڈسپوزل ماہرین ریازان اسکو پروسپیکٹ پر واقع عمارت کے ارد گرد کی علاقے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سکوٹر، جس پر آئی ای ڈی منسلک تھا، کو فرانزک معائنہ کے لیے بھیجا جائے گا۔اس واقعے نے ماسکو میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس دھماکے کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی مخصوص مقصد کے تحت کیا گیا تھا یا یہ ایک وسیع تر دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ تھا۔

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

    خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے چکیسر میں دہشتگردوں نے پولیس چوکی گنانگر پر دستی بم حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے رات کے وقت چکیسر کے گنانگر پولیس چوکی کو نشانہ بنایا۔ دستی بم حملے کے بعد پولیس اہلکاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملے میں اے ایس آئی حسن خان اور سپاہی نثار خان شہید ہوگئے جبکہ محرر ارشد خان، سپاہی ارشد خان اور رفعت زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر بٹ گرام اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی زندگی کو لاحق کوئی شدید خطرہ نہیں۔پولیس حکام نے حملے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور دہشتگردوں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم پولیس دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور عوام میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہ واقعہ صوبے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا ایک اور افسوسناک پہلو ہے، جس کے نتیجے میں عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

  • جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی افغان سفارتخانہ آمد

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی افغان سفارتخانہ آمد

    جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغان سفارتخانے کا دورہ کیا اور افغانستان کے سفیر سردار احمد جان شکیب سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے افغانستان کے معروف طالبان رہنما، ملا خلیل الرحمان حقانی کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے مرحوم ملا خلیل الرحمان حقانی کی روح کے لئے دعاء کی اور ان کی بلندی درجات اور مغفرت کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ "ملا خلیل الرحمان حقانی کی شہادت امارت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، اور یہ پورے امت مسلمہ کے لیے غم کا موقع ہے۔”جے یو آئی سربراہ نے افغانستان کی موجودہ حکومت امارت اسلامیہ اور مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس دکھ کی گھڑی میں افغانستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں۔”اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ جے یو آئی کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری اور مولانا جمال الدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس افسوسناک موقع پر اپنی حمایت اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    ملا خلیل الرحمان حقانی کی شہادت نے افغانستان اور عالمی سطح پر سیاسی و مذہبی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے، اور اس حوالے سے مختلف شخصیات کی طرف سے تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں۔

  • وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف 18 دسمبر 2024 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی ترقی پذیر آٹھ ممالک (D-8) کی گیارہویں سمٹ میں شرکت کریں گے۔

    اس سمٹ سے قبل، وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار 18 دسمبر 2024 کو D-8 وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گیارہویں D-8 سمٹ کا تھیم "نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ایز کی حمایت: کل کی معیشت کی تشکیل” ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اس سمٹ کے دوران نوجوانوں اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے تاکہ ایک مضبوط اور جامع معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ان کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت کو فروغ دینا اور مقامی کاروباری سرپرستی کو بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان D-8 کے مقاصد کے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کریں گے اور دوطرفہ فائدے اور خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کریں گے۔ وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مالی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی مراعات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان D-8 سمٹ کے دوران غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور تعمیر نو کے چیلنجز پر D-8 کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔سمٹ کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف مختلف شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں اہم اقتصادی، تجارتی اور سیاسی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

    یہ دورہ پاکستان اور D-8 ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

  • آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    نواب شاہ: رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے ضلع شہید بینظیر آباد میں پولیو کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس مہم کے تحت ضلع میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    آج نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور نے کی۔ اس موقع پر انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو ان کی متاثرکن کارکردگی پر اعترافی اسناد بھی دی گئیں۔رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی اور یہ سال کی آخری پولیو مہم ہے۔ اس سال پاکستان میں پولیو کے 64 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ "صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ہمیں اپنے دوستوں، خاندان، اور پڑوسیوں میں بھی پولیو سے متعلق آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ 5 سال سے کم عمر کا ہر بچہ پولیو کے قطرے ضرور پائے۔”

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ "یہ مہم صرف ایک صحت کی مہم نہیں، بلکہ قوم کی ذمہ داری ہے۔ پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہر بچے کے حق میں ہیں اور ہمیں اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔”

    اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور پولیو کے کیسز کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس دوران، علاقے بھر میں بچوں کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پھیلائیں گی اور والدین کو پولیو کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گی۔پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو کی روک تھام کی کوششیں جاری ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے بچایا جا سکے اور ملک کو پولیو فری بنایا جا سکے۔

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

  • پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کرک اور بنوں میں پولیو ٹیموں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے نہ صرف بزدلانہ فعل ہیں بلکہ یہ صحت عامہ کے لیے جاری قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،

    ان واقعات میں پولیس اہلکار ہیڈ کانسٹیبل عرفان کی شہادت اور پولیو ورکرز کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خالد مسعود سندھو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو مہم میں جان کی بازی لگانے والے شہداء اور ورکرز قوم کے ہیرو ہیں، پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے اور شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کی بھرپور مالی معاونت یقینی بنائی جائے۔ خالد مسعود سندھو نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ؤ حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اس قومی مشن کو محفوظ ماحول میں کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس قومی مقصد میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر ایکس پر پیغام میں کہا کہ کرک اور بنوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں کی شدید مذمت کرتی ہوں،یہ بزدلانہ کارروائیاں ہیلتھ ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف ہیں،برائے کرم ہر بار پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، اپنے دوستوں، خاندان، اور پڑوسیوں میں پولیو مہم کے حوالے سے بیداری پیدا کریں ،اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی کمیونٹی میں 5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں، ہم مل کر اپنے بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں اور پولیو کا خاتمہ کر سکتے ہیں،

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

  • سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دس سال قبل ہونے والے خون آلود حملے کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں ایک گھاؤ کی طرح تازہ ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ،پپپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اس سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر کہا کہ اس سانحے کے اثرات اور زخم آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر کا یہ واقعہ قوم کے دل میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا اور ہمیشہ کے لیے چبھتا رہے گا۔ اس وحشیانہ حملے میں 150 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے، اور یہ واقعہ انسانیت کو جڑ سے ہلا دینے والا تھا۔

    اپنے پیغام میں سحر کامران نے کہا، "قوم یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان بدصورت عناصر کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑے گی۔” انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم بہتری کو سراہا، جسے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تندہی اور جانفشانی کی بدولت ہی ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔تاہم سحر کامران نے اس عزم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی مکمل روح کے ساتھ عملداری ضروری ہے تاکہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور محفوظ مستقبل یقینی بنائیں گے۔”

    یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے، جو اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بنا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن،ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

    غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن،ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکی زر مبادلہ کی تجارت کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں جس کے باعث ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    ملک میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقم میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ نومبر تک پانچ ماہ میں 14.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔یہ اضافہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے ڈالر کی غیر رسمی خرید و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس کریک ڈاؤن کا مقصد ملک میں ڈالر کے غیر قانونی تجارت کو روکنا اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس سال ترسیلات زر 35 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال 30 ارب ڈالر تھیں۔

    پاکستان میں غیر قانونی ڈالر کی تجارت گزشتہ برسوں میں ایک سنگین مسئلہ بن چکی تھی، جس کے باعث ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا تھا اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ تاہم، حکومت کی حالیہ پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے بلکہ روپے کی قدر میں بھی استحکام آیا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان میں ترسیلات زر کا اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ حکومت کے اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں اور یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان کی معیشت میں ترسیلات زر کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ ملک کی درآمدات کی ادائیگی، اقتصادی ترقی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں ڈالر کی غیر قانونی تجارت اور کالے دھن کے حوالے سے ایک سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات غیر رسمی اور کالا مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں جہاں ایک طرف غیر قانونی ڈالر کی تجارت میں کمی آئی ہے، وہیں دوسری طرف ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بینکوں اور مالی اداروں کے ذریعے ڈالر کی خرید و فروخت میں محدودیت اور قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ کے باعث غیر رسمی مارکیٹس میں ڈالر کا کاروبار عروج پر تھا۔ ان مارکیٹس میں ڈالر کی قیمت بینکوں کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ غیر قانونی ذرائع سے ڈالر خریدنے لگے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچا۔غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود کالے دھن کے انخلاء کا مسئلہ بھی سنگین تھا۔ یہ کالے دھن کے سرمایہ کار اپنی دولت کو غیر قانونی ذرائع سے غیر ملکی کرنسی کے طور پر منتقل کرتے تھے، جس سے نہ صرف ملکی کرنسی پر دباؤ آتا تھا، بلکہ ڈالر کی قلت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔پاکستان کی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں سب سے اہم وہ قانونی اقدامات شامل ہیں جو کہ غیر قانونی ڈالر کی خرید و فروخت پر قابو پانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران پاکستان کے مرکزی بینک "اسٹیٹ بینک آف پاکستان” نے ڈالر کی خرید و فروخت کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو سخت کیا، اور غیر قانونی چینلز سے ڈالر کی خریداری پر پابندی لگائی۔اس کے علاوہ حکومت نے ملک بھر میں چھاپے مار کر غیر قانونی منی چینجرز اور کرنسی ڈیلرز کو گرفتار کیا اور ان کے کاروبار کو بند کر دیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی ڈالر کی مارکیٹ پر قابو پایا گیا، جس نے غیر رسمی مارکیٹوں میں ڈالر کی قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی۔

    پاکستانی حکومت کے اس کریک ڈاؤن کے اثرات نے ترسیلات زر کے حوالے سے بھی مثبت نتائج دکھائے ہیں۔ جب ڈالر کی قیمت غیر رسمی مارکیٹ میں مستحکم ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کے ذریعے ڈالر کی خرید و فروخت آسان اور محفوظ بن گئی، تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کی حکومت نے اس کریک ڈاؤن کو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔ غیر قانونی ڈالر کی تجارت کو ختم کرنے سے جہاں ملکی کرنسی کی قدر میں استحکام آیا ہے، وہاں ترسیلات زر کی بڑھتی ہوئی مقدار نے ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو بھی مستحکم کیا ہے۔پاکستان کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس کریک ڈاؤن کو جاری رکھا اور دیگر اصلاحات کی تو ملک کی معیشت میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کے مالیاتی اداروں کے ذریعے کاروبار کرنے والے شہریوں کو اعتماد ملے گا، اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اپنی ترسیلات زر کو محفوظ طریقے سے ملک میں بھیج سکیں گے۔

    پاکستانی حکومت کے اس کریک ڈاؤن کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہوا کہ غیر قانونی کرنسی مارکیٹس کا خاتمہ ہوا۔ ان مارکیٹس میں ڈالر کی قیمتیں اکثر مختلف ہوتی تھیں، اور ان مارکیٹس سے کرنسی خریدنے والے افراد نہ صرف مالی نقصان اٹھاتے تھے بلکہ اس سے ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا تھا۔ اب ان غیر قانونی مارکیٹس پر کنٹرول پانے کے بعد، پاکستانی شہریوں اور کاروباری افراد کو قانونی طریقے سے کرنسی کی خریداری میں سہولت ملے گی۔پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ایک واضح تبدیلی آئی ہے۔ حکومت کے اقدامات اور ترسیلات زر میں اضافے کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جس سے معیشت میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے اس طریقہ کار کو جاری رکھا اور دیگر اصلاحات پر عمل کیا تو پاکستان کی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • حادثے میں جاں بحق شخص کی لاش گدھا گاڑی پر ہسپتال منتقل، ویڈیو وائرل

    حادثے میں جاں بحق شخص کی لاش گدھا گاڑی پر ہسپتال منتقل، ویڈیو وائرل

    فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کو ایمبولینس کی عدم دستیابی کے باعث گدھا گاڑی پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس نے انسانیت کی تذلیل اور سرکاری نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے۔

    جڑانوالہ کے علاقے میں ایک ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیوں کے لیے ایمبولینس کو طلب کیا، لیکن ایمبولینس نہ آنے پر اس شخص کی لاش کو دیگر طریقوں سے ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب ایمبولینس کا کوئی انتظام نہ ہو سکا تو مقامی افراد نے لاش کو گدھا گاڑی پر ڈال کر تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس دوران گدھا گاڑی پر لاش کی منتقلی کا منظر ایک شخص نے کیمرے میں قید کر لیا، اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک لاش کو گدھا گاڑی پر لٹکایا گیا ہے اور اسے ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ یہ منظر نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ اس نے حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے فوری طور پر ایمبولینس کی فراہمی کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انسانیت کی تذلیل ہے اور سرکاری اداروں کی غفلت کی واضح مثال ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اگر ایمبولینس بروقت مل جاتی تو اس طرح کی صورتحال پیش نہ آتی۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بیشتر لوگوں نے سرکاری اداروں کی غفلت پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے فوری طور پر ایمبولینس خدمات کو بہتر بنایا جائے۔

    یہ واقعہ نہ صرف جڑانوالہ بلکہ پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک سنگین سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے صحت کے بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں؟ اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سرکاری نظام کی خامیوں کو عیاں کیا ہے، اور عوام کی جانب سے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی نادر بلوچ کہتے ہیں کہ پنجاب میں ائیر ایمبولینس سروس فراہم کرنے والی سرکار آنکھیں کھول کر دیکھے، جڑانوالہ میں سڑک حادثے میں جاں بحق شخص کی میت کےلئے ایمبولینس تک نہ مل سکی، لاش کو گدھا گاڑی پر اسپتال منتقل کرنا پڑا، شرمناک

    منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا، محسن نقوی

    سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں،چینی ڈپٹی مشن