Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    اسلام آباد: نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو جعلی ڈگری رکھنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ذوالفقار احمد کی ایم بی اے اور بی بی اے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد ان میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ذوالفقار احمد کی ایم بی اے ڈگری پر جو دستخط ہیں، وہ اس وقت کے صدر جارج میسن یونیورسٹی امریکہ کے نہیں تھے۔ جبکہ ان کی بی بی اے کی ڈگری میں بھی کالج کا نام وہ نہیں تھا جو اس وقت ڈگری کے اجراء کے دوران درست تھا۔نادرا نے اس معاملے پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے انکوائری کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام معلومات کی مکمل تصدیق کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ ذوالفقار احمد کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نادرا نے جو معلومات حاصل کی تھیں، وہ درست تھیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا کے انتظامیہ نے ذوالفقار احمد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اس پر چیئرمین نادرا نے ہائی کورٹ کے فیصلے اور شوکاز نوٹس کے غیر تسلی بخش جواب کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کی۔اس صورتحال کے بعد، نادرا کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ نادرا کی جانب سے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس سے ادارے کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔

    کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    ایف آئی اے کی کاروائی،جعلی ڈگری پر پی آئی اے میں 17 برس نوکری کرنیوالا گرفتار

  • وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بجلی صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں کو مزید کم کرنے اور مستقبل کے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے لائحہ پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں مستقبل کے لیے بجلی کے پیداواری منصوبوں، بجلی شعبے بالخصوص ترسیلی نظام پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس کو بجلی کے نئے مجوزہ منصوبوں، جاری منصوبوں کی تعمیر پر پیش رفت اور ملک میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بجلی کی موجودہ طلب اور استعداد سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی تحلیل اور ترسیلی نظام کی اصلاحات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا.

    وزیرِاعظم نے بجلی شعبے کی اصلاحات کیلئے تمام تر اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کم لاگت بجلی منصوبوں کو ہی ترجیح دی جائے.بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لیے مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے، وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں جاری پن بجلی کے منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبے کم لاگت بجلی کے ایسے ذرائع ہیں جن سے صارف کو ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم ہوگی.بجلی کی موجودہ استعداد کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے.دنیا بھر میں ماحول دوست کم لاگت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے. پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِاعظم کو زیادہ ایندھن سے کم بجلی بنانے والے غیر مؤثر بجلی گھروں کو ختم کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنے والے فرسودہ بجلی گھروں کو فوراً بند کیا جائے. ایسے بجلی گھروں کی بندش سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ صارف کیلئے بجلی کی لاگت بھی کم ہوگی. ایسے تمام افسران جو بجلی شعبے کی اصلاحات میں دانستہ طور پر رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے. بجلی ترسیل کے نظام میں جاری اصلاحات پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے. بجلی ترسیل کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے.بجلی کی پیداواری لاگت کے لحاظ سے کم لاگت بجلی کے انتخاب و ترسیل کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کے نفاذ پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے.

    بجلی تقسیم کاجدید نظام، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی سے 281 ارب روپے کا نقصان ہوا

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم راولپنڈی نے ریاستی اداروں، بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ پھیلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ملزم کی شناخت الیاس اعوان کے نام سے ہوئی ہے، جسے راولپنڈی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق، ملزم ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی معلومات اور ڈس انفارمیشن سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر اہم شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ ملزم سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایف آئی اے سائبر ونگ لاہور اور پنجاب نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والے 30 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزمان احتجاج اور لاشوں کے حوالے سے جھوٹے دعوے پھیلا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے لاہور اور پنجاب بھر میں اس حوالے سے 71 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جبکہ ملک بھر میں سائبر ونگ نے مجموعی طور پر 154 مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ایف آئی اے سائبر ونگ کی ٹاسک فورس نے بتایا کہ اس وقت 249 انکوائریاں زیر تفتیش ہیں، جن کے بارے میں مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں 52 ایف آئی آرز، کراچی میں 16، سکھر میں 4 اور حیدرآباد میں 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

    یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ایف آئی اے سائبر ونگ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی معلومات اور پراپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ عوام کو غلط معلومات سے بچایا جا سکے اور ریاستی اداروں کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • 24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی نےوزیر اعظم سمیت و دیگر کے خلاف کاروائی کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا

    بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کر دی،بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، خواجہ آصف ، عطا تارڑ کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے کمپلینٹ دائر کی،جس میں کہا گیا کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے فریقین کو طلب کیا جائے ،38 زخمیوں کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے،درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، مذاکرات کے حوالہ سے پی ٹی آئی قیادت میں بھی اختلافات دیکھنے کو ملے ہیں

    مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مذاکرات کا طریقہ غلط ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں کہ مذاکرات کریں،میں نے عمران خان سے بات کی انہوں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات چیت کا ،اس طریقہ کار سے عمران خان بہت غصے میں ہیں،ہم پر الزام تھا کہ بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ہم نے صرف مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،ہم نے مذاکرات بھی شرائط کے ساتھ رکھے ہیں،میری خواہش ہے کہ اگر مزاکرات ہوتے ہیں تو اس کا آغاز پارلیمنٹ سے ہو ،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اندر بات چیت کا آغاز کیا جائے،ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہونے چاہیے جو بااختیار ہو ،حکومت کو شاید ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا اس لیے وہ مزاکرات شروع نہیں کر رہے ۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، ابھی تو صرف سلام دعا ہوئی ہے، 15 دسمبر سے پہلے پہلے بات ہو جائے تو ملک کے لیے اچھا ہے، 15 دسمبر کو بانی نے ترسیلات زر سے متعلق کال دی ہوئی ہے، حالات جوں کے توں رہے تو کال پر عمل درآمد ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و تحریکِ انصاف کے رہنما احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ بااختیار لوگوں سے مذاکرات چاہتے ہیں، بااختیار حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ ہے، جب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ہو گی تب مذاکرات ہوں گے، 26 نومبر کو جو ہوا اس کے ذمے دار شہباز شریف ہیں ،24 سے 26 نومبر تک جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار پنجاب حکومت ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی حکومت کی نیت پر منحصر ہے، کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، آئین کی سپرمیسی ہو، عوام کی بات سنی جائے، عوام کو حقوق ملیں ،اختیار حکومت کے پاس ہے، ہم تو اپوزیشن میں ہیں احتجاج کر رہے ہیں، ہم پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے جا رہے ہیں.

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • وفاقی وزرا کی تنخواہ دو لاکھ ،95 فیصد وزرا تنخوا ہ نہیں لے رہے، وزیر قانون

    وفاقی وزرا کی تنخواہ دو لاکھ ،95 فیصد وزرا تنخوا ہ نہیں لے رہے، وزیر قانون

    سینیٹ اجلاس،وقفہ سوالات میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیئے ہیں

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہسپتال میں خالی آسامیوں پر 2ماہ میں تعیناتیاں کر دی جائیں گی.اسلام آباد میں آبادی کے حجم کے مطابق نیا ماسٹر پلان بنایا جائے.نئے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے،سمری جلد وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی، وفاقی وزراء کی تنخواہ 2 لاکھ روپے کے قریب ہے،وزیر کو 1500 سی سی گاڑی اور 400 لیٹر پیٹرول دیا جاتا ہے، 95 فیصد وزراء تنخواہ نہیں لے رہے، بجلی گیس کا بل وزراء خود دیتے ہیں، انہیں سرکاری مراعات نہیں دی جاتیں، اس تنخواہ میں اضافے کی بات ہو تو پارلیمنٹ خود کہتی ہے کہ معاشی تنگی ہے،رکن قومی اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 56 ہزار روپے ہے، پارلیمنٹیرین کو کوئی گاڑی نہیں دی جاتی، انہیں 8 ہزار روپے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں دیے جاتے ہیں۔

    سینیٹ اجلاس میں وقفۂ سوالات میں وزارتِ داخلہ نے تحریری جواب ایوان میں پیش کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 2 سال میں نادرا نے کفایت شعاری پالیسی کے مطابق کوئی گاڑی نہیں خریدی، 2022ء میں اسٹاف کے پک اینڈ ڈراپ اور آپریشنل مقاصد کے لیے بسوں اور کوسٹروں پر مشتمل 35 گاڑیاں خریدیں، 2022ء میں نادرا نے 26 کروڑ 43 لاکھ 34 ہزار مالیت کی گاڑیاں خریدیں جن میں 2 کوچز اور 1 بس ہے جو پک اینڈ ڈارپ کے لیے استعمال ہوتی ہیں، دنیش کمار نے سوال کیا کہ پرتعیش گاڑیاں کس کے پک اینڈ ڈراپ کے لیے ہیں.

    سینیٹر عون عباس نے چیئرمین سینیٹ سے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کی صحت درست نہیں ۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نےاعجاز چوہدری کے ریلیز کا معاملہ وزارت قانون ، وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ریفر کیا ہے میرا خیال ہے کہ حکومت اس کو سنجیدگی سے زیرغور لارہی ہے ،

    سینیٹ سے قانونی اعانت و انصاف اتھارٹی ترمیمی بل 2024 منظور کر لیا گیا،

  • دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    شام میں جاری بغاوت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، دہلی میں واقع شام کے سفارتخانے نے اپنا پرانا قومی پرچم اتار کر باغیوں کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ایک اہم سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں موجود شام کے سفارتکاروں نے باغیوں کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

    شام کے نئے جھنڈے میں سبز، سفید، سیاہ اور سرخ رنگ شامل ہیں، جو نہ صرف امید، آزادی، امن، جدوجہد اور انقلاب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس پر موجود تین سرخ ستارے شام کی انقلابی تحریک کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ یہ جھنڈا اس بات کی علامت ہے کہ شام میں جاری سیاسی تبدیلی اور باغیوں کی حکومت کی تسلیمیت میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔پرانے قومی پرچم میں دو سبز ستارے تھے جو شام اور مصر کے ماضی کے اتحاد کی علامت تھے۔ تاہم، اب جو نیا جھنڈا اپنایا گیا ہے، وہ شام کی انقلابی تحریک اور اس کے نئے سیاسی رخ کو ظاہر کرتا ہے۔

    شام کے مختلف شہروں میں بھی باغیوں کی حکومت کی جانب سے نئے پرچم کو اپنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ حمص، ادلب، حلب، حمہ، درعا اور دمشق جیسے اہم شہروں میں باغیوں نے اپنے نئے جھنڈے لہرا دئیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی دارالحکومت دمشق میں آئی ہے، جہاں باغیوں نے 11 دن کی سخت لڑائی کے بعد قبضہ مکمل کیا، جس کے بعد شام کے صدر بشار الاسد ملک چھوڑ کر روس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

    شام میں اس سیاسی تبدیلی کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔ برلن، استنبول اور ایتھنز جیسے شہروں میں باغیوں کے حامیوں نے نئے جھنڈے کو لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ مختلف ممالک، خاص طور پر ہندوستان جیسے بڑے ممالک، اب اس سیاسی تبدیلی کے بعد شام کی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کیسے ترتیب دیں گے۔ہندوستان کے لیے یہ نیا سیاسی منظرنامہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اس کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ تاہم، اب جب کہ باغیوں کی حکومت نے نئے جھنڈے کو اپنانا شروع کر دیا ہے، ہندوستان کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس نئی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا یا پھر اس کی پالیسی میں تبدیلی لائے گا۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ