Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلدیہ فیکٹری کیس ، مفرور ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری پر عدالت کا اظہار برہمی

    بلدیہ فیکٹری کیس ، مفرور ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری پر عدالت کا اظہار برہمی

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی کی گرفتاری میں ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ کس طرح بیرون ملک فرار ملزمان کی حوالگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں ڈپٹی پروٹوکول افسر اور سرکاری پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس آغا نے مفرور ملزم حماد صدیقی کی گرفتاری کی بابت سخت سوالات اٹھائے اور کہا کہ ملزم کو گرفتار کرکے وطن واپس کیوں نہیں لایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملزم پر سنگین الزامات ہیں، اس کے باوجود اس کی گرفتاری میں رکاوٹیں کیوں ڈالی جا رہی ہیں اور یہ بھی پوچھا کہ "ایسے شخص کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟”عدالت نے اس موقع پر حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ "حماد صدیقی کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اب تک اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے؟” اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ "یہ وزارت داخلہ کی نااہلی ہے کہ مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے واپس نہیں لایا جا رہا۔”

    اس کے علاوہ، عدالت نے اسٹیٹ لائف افسر امجد شاہ کے قتل میں ملوث ملزم تقی شاہ کی گرفتاری نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث مفرور ملزم خرم نثار کو وطن واپس نہ لانے پر سوال اٹھائے۔عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے رپورٹ طلب کی اور مفرور ملزمان حماد صدیقی، تقی حیدر اور خرم نثار کی گرفتاری کی بابت تفصیل پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی 17 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کیسز کی مزید سماعت کی جا سکے۔

    یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری 2012 میں پیش آیا تھا جس میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے، اور حماد صدیقی اس سانحہ میں اہم ملزم ہے، جس کی گرفتاری کو کئی سالوں سے التوا کا شکار ہے۔

  • انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتار نے نہ صرف عام عوام کی زندگی متاثر کی ہے بلکہ اس کا بڑا اثر فری لانسرز اور آن لائن کاروبار کرنے والوں پر بھی پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اب بھی سست ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں فری لانسرز کو کام کی فراہمی میں بڑی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    پاکستان کے فری لانسرز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سست رفتار کے باعث ان کے کام کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ انہیں اسائنمنٹس مکمل کرنے اور کلائنٹس کے ساتھ موثر طور پر رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے کئی فری لانسرز کی پروفائلز بھی بند ہو چکی ہیں کیونکہ وہ اپنے کام کو بروقت مکمل نہیں کر پاتے۔پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری نے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ پشاور کے اسپتالوں میں مریضوں کی رپورٹیں تاخیر سے ملنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی رپورٹیں اور ڈیٹا منتقل کرنے میں تاخیر کے باعث مریضوں کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ ان کے علاج میں بھی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

    انٹرنیٹ کی سست رفتار سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مارکیٹنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار کی کمی کے باعث آن لائن اشتہارات اور مارکیٹنگ کی کمپینز مؤثر طریقے سے نہیں چل پا رہیں، جس سے کاروباروں کو نقصان ہو رہا ہے۔ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری نہیں آئی، تو پاکستان کے فری لانسرز اور دیگر ڈیجیٹل ماہرین کے کلائنٹس بھارت، بنگلادیش یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو سکتے ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہے۔پاکستان کے فری لانسرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ نہ صرف ان کی روزگار کے مواقع بڑھیں بلکہ ملک میں آن لائن کاروبار کے شعبے کو بھی ترقی ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری کے بغیر فری لانسرز کی عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے کئی شعبوں میں مشکلات پیدا ہو چکی ہیں، خاص طور پر فری لانسرز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ماہرین کو اس سے سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنایا جائے تاکہ نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں بلکہ پاکستان کے فری لانسرز کی عالمی مارکیٹ میں مسابقتی حیثیت بھی برقرار رہے۔

  • شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    دمشق: شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور باغیوں کی فتح کے بعد ہزاروں قیدیوں کی قید سے رہائی کی خوفناک داستانیں سامنے آرہی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور باغیوں کی دمشق سمیت دیگر اہم علاقوں پر قبضے کے بعد، جیلوں سے آزاد ہونے والے افراد نے اپنی قید کے دوران کے المناک اور اذیت ناک تجربات کو دنیا کے سامنے لایا ہے۔رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک قیدی نے بتایا کہ "میرا کوئی نام نہیں تھا، صرف ایک نمبر تھا جس کے تحت مجھے قید کیا گیا۔ بشار الاسد کی حکومت نے مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور میرے خاندان والے یہ سمجھتے رہے کہ میں مر چکا ہوں۔” اس نوجوان قیدی نے مزید کہا کہ "میری طرح بہت سے افراد کو ان کے اہل خانہ سے چھپ کر جیل میں رکھا گیا، اور وہ سالوں تک وہاں رہے۔”

    ویڈیو میں دکھائے گئے قیدی نے بتایا کہ "کچھ قیدیوں کو تو اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ انہیں کب موت کا سامنا کرنا پڑے گا، اور وہ پھانسی کی سزا سے بچ گئے ہیں۔” ایک دوسرے قیدی نے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آج سے 30 منٹ پہلے ہمیں پھانسی دی جانے والی تھی، مگر اب ہم آزاد ہیں اور دمشق کے قلب میں کھڑے ہیں۔”

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے ایک اور قیدی علی حسن کی داستان بھی دل دہلا دینے والی ہے۔ علی حسن کو 1986 میں شامی فوجیوں نے شمالی لبنان کے ایک چیک پوسٹ سے گرفتار کیا تھا۔ اُس وقت وہ صرف 18 سال کے نوجوان تھے اور یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا اور وہ 39 سال تک شامی جیلوں میں قید رہے۔علی حسن کی رہائی کے بعد، ان کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے ایک صحافی نے کہا کہ "یہ ایک غیر معمولی اور دردناک تجربہ ہے۔ ایک نوجوان لڑکے کا 39 سال تک بغیر کسی جرم کے جیل میں قید رہنا اور پھر آزادی کا خواب دیکھنا، اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔”

    بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد، شام میں باغیوں کی فتح نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ لاکھوں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا تھا، اور بشار الاسد کی حکومت کے حامیوں کے مطابق ان قیدیوں کو "دہشت گرد” یا "دشمن” کے طور پر قید کیا گیا تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو ایک ظلم و ستم کی کارروائی قرار دیا تھا۔آزادی کے بعد ان قیدیوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حکومت کے قید خانوں میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے اور ان ظلموں کا حساب لیا جائے۔

    شامی جیلوں میں قید افراد کی رہائی نے نہ صرف شام کے اندر بلکہ دنیا بھر میں اس ظلم کا پردہ فاش کیا ہے جو بشار الاسد کی حکومت کے زیرِ تسلط رہا۔ ان قیدیوں کی کہانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کے دوران صرف فوجی نہیں، بلکہ بے گناہ شہری بھی اس جنگ کا شکار بنے اور انھیں اپنی زندگی کے بہترین برس قید میں گزارنے پڑے۔

  • بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے رجوع کرنے والی خاتون عدالت طلب

    بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے رجوع کرنے والی خاتون عدالت طلب

    لاہور ہائیکورٹ: کرکٹر بابر اعظم پر جنسی حراساں کرنے کے الزام کا کیس،کرکٹر بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کے حکم کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اندراج مقدمہ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع کر دی،عدالت نے بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے رجوع کرنے والی خاتون کو 12 دسمبر کو طلب کرلیا ،جسٹس محمد وحید خان نے سابق کپتان کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی درخواست پر حکم جاری کیا،درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹرحارث عظمت پیش ہوئے،بابر اعظم نے ٹرائل کورٹ کے اندراج مقدمہ کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے،سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی درخواست پر مزید سماعت 12 دسمبر کو ہو گی

    واضح رہے کہ خاتون حامیزہ کی طرف سے لاہور کی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعظم کے خلاف مقدمے کی درخواست پر بابر اعظم کے والد، بھائی، ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس اے اور دیگر افراد ہراساں کر رہے ہیں۔ بابر اعظم کا خاندان مقدمے کی درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔قبل ازیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کیخلاف اندراج مقدمہ کے لیے ہامزہ نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا،عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس کو بابراعظم نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا

    بابراعظم شادی کا جھانسہ دے کر10 سال تک زیادتی کرتا رہا:میں نے بابرکی خاطربڑی قربانیاں دیں :حامزہ نے سارےپردے فاش کردیے

    بابراعظم کس طرح حامزہ کوبلیک میل کرتے رہے:پردے میں ہونے والی گفتگو،رازونیاز کی باتیں سامنے آگئیں

    بابراعظم کی حامیزہ کے ساتھ جنسی زیادتی،بلیک میلنگ:پی سی بی”مٹّی پاو”کہہ کرمظلوم کی بجائےظالم کے ساتھ کھڑی ہوگئی

    بابر اعظم پر الزام لگانیوالی خاتون مدد طلب کرنے کہاں پہنچ گئی؟

    واضح رہے کہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامیزہ نے بابر اعظم پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بابر مجھے کورٹ میرج کے بہانے گھر سے بھگاکر لے گیا اور مختلف جگہوں پر کرائے کے مکانوں پر رکھتا رہا۔حامیزہ نامی لڑکی نے دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ زیادتی کرنے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ بابر اعظم ہے   بابر اعظم سے میرا تعلق اس وقت کا ہے جب بابر کرکٹ نے کرکٹ کی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا اور بابر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔

  • خاتون پر سابق شوہرکا تشدد،پولیس کی کاروائی،ملزم گرفتار

    خاتون پر سابق شوہرکا تشدد،پولیس کی کاروائی،ملزم گرفتار

    لاہور کے علاقے بادامی باغ میں ایک خاتون پر سابق شوہر نے سرعام بازار میں تشدد کیا، جس کی اطلاع خاتون نے فوری طور پر ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کو دی۔ سیف سٹی کے ترجمان کے مطابق، خاتون نے 15 پر کال کر کے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کو اپنی شکایت کی اور پولیس نے فوری کارروائی شروع کر دی۔

    متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کے سابق شوہر نے پرانی رنجش کی بنا پر بازار میں اس پر تشدد کیا۔ خاتون کے مطابق، اس کی 2 سال قبل طلاق ہو چکی تھی، لیکن اس کے سابق شوہر کی جانب سے اسے مسلسل ہراساں اور دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔سیف سٹی کے ترجمان نے کہا کہ ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کو اطلاع ملتے ہی قریبی تھانے کی پولیس فوراً موقع پر پہنچی اور خاتون کی نشاندہی پر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ سیف سٹی کی نگرانی کے تحت ریکارڈ کیا گیا، جس کی مدد سے پولیس نے فوری طور پر ملزم کو ٹریک کر کے گرفتار کیا۔

    ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن ایک جدید نظام ہے جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات پر فوری ردعمل دینا ہے۔ اس اسٹیشن کے ذریعے خواتین کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسانی کی شکایت سیف سٹی کے ذریعے فوری طور پر پولیس تک پہنچا سکتی ہیں، جس سے انہیں فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔اس واقعہ کے بعد شہریوں نے اس نظام کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

  • سپریم کورٹ،ارشد شریف قتل کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،ارشد شریف قتل کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی

    صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،وفاقی حکومت نے باہمی قانونی تعاون سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کیلئے ملہت مانگ لی،حکومت کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان کیساتھ کینیا حکومت کیساتھ ایم ایل اے کا معاہدہ تیار کرلیا ہے،کینیا کیساتھ ایم ایل اے کا معاہدہ پر کل دستخط ہو جائے گا،رپورٹ داخل نہیں کر سکا،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیکر سماعت ملتوی کردی،جسٹس امین الدین جان سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ارشد شریف کو دو برس قبل کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • پاکستان عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 ویں نمبر پر

    پاکستان عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 ویں نمبر پر

    ورلڈ پاپولیشن ریویو نے پاکستان کو عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 واں نمبر دیا ہے، جس سے ملک کا انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں تنزلی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ پوزیشن فلسطین، بھوٹان، گھانا، عراق، ایران، لبنان اور لیبیا سے بھی نیچے ہے۔

    ورلڈ پاپولیشن ریویو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اوسط موبائل انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 19.59 میگابٹس پر سیکنڈ (Mbps) ہے، جبکہ براڈبینڈ انٹرنیٹ کی اوسط اسپیڈ 15.52 میگابٹس پر سیکنڈ ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ کی رفتار دیگر ممالک کی نسبت خاصی سست ہے۔رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر موبائل اور براڈبینڈ دونوں انٹرنیٹ کی رفتار میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد سنگاپور موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اور قطر براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رفتار میں سر فہرست ہیں۔ ہانگ کانگ اور چلی بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں مسلسل کمی کی وجہ سے صارفین کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور متواتر انٹرنیٹ بندش کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، جو صارفین کو ویب سائٹس کھولنے، میڈیا ڈاؤن لوڈ کرنے اور شئیر کرنے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ اور دیگر مشہور پلیٹ فارمز پر میڈیا فائلز جیسے تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس بھی بھیجنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار کے باعث، صارفین کے لیے آن لائن کام، تعلیم، اور تفریح میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین، سید سجاد مصطفیٰ نے انٹرنیٹ کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان مسائل کو تین ماہ کے اندر حل کرنے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر واٹس ایپ پر پیغام بھیجا جا رہا ہو لیکن تصاویر نہیں بھیجی جا رہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مانیٹرنگ ہو رہی ہے۔”چیئرمین نے مزید کہا کہ فائر وال کی تنصیب کے باعث انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جو مزید سست رفتار انٹرنیٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری کی توقع ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں صارفین کی مشکلات اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔اس صورتحال میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور دیگر مسائل نے پاکستان کے لاکھوں صارفین کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالا ہے، اور ان کے لیے آن لائن کام کرنا، تعلیم حاصل کرنا اور تفریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • بشریٰ بی بی اڈیالہ پہنچ گئیں، گرفتاری کا امکان

    بشریٰ بی بی اڈیالہ پہنچ گئیں، گرفتاری کا امکان

    اڈیالہ جیل میں آج دو اہم کیسز کی سماعت کا معاملہ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچ گئیں

    بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت پیشی کے لئے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ،بشری بی بی گیٹ نمبر پانچ سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہو گئیں ،بشریٰ بی بی کی آج گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ آج عدالت آئیں تا ہم بشریٰ بی بی پر ڈی چوک سے فرار کے بعد متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے آج بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،

    گزشتہ دنوں‌جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دن بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا بعد ازاں عدالت نے عمر ایوب اور راجہ بشارت کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اسی کیس میں اٹک پولیس کی جانب سے بشریٰ بی بی کو بھی گرفتار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، آج امکان ہے کہ بشریٰ بی بی کو اٹک پولیس کی جانب سے ملنے والی ہدایت یا کسی اور مقدمے میں گرفتار کیا جا سکتا ہے

    دوسری جانب بشریٰ بی بی آج ڈی چوک احتجاج کی تفصلی رپورٹ بانی پی ٹی آئی کو پیش کریں گی، بشریٰ بی بی عمران خان کو تمام تر تفصیلات سے بھی آگاہ کریں گی

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • دہلی میں 40 سے زائد سکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    دہلی میں 40 سے زائد سکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں گزشتہ روز 40 سے زائد اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور اسکولوں کے تمام طلبہ کو گھر واپس بھیج دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، بم کی دھمکی ایک ای میل کے ذریعے بھیجی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہلی کے مختلف اسکولوں کی عمارتوں میں متعدد بم نصب کیے گئے ہیں۔ دھمکی میں یہ بھی کہا گیا کہ بم چھوٹے ہیں اور بہت ہی مہارت سے چھپائے گئے ہیں، جنہیں ناکارہ بنانے کے لیے 30,000 ڈالرز کی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ای میل میں مزید کہا گیا تھا کہ بموں سے عمارتوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا تاہم ان کے پھٹنے سے بہت سے لوگ زخمی ہو سکتے ہیں۔ دھمکی کی نوعیت نے اسکول انتظامیہ اور پولیس حکام کو فوری طور پر حرکت میں لا دیا۔

    دہلی پولیس ای میل کے آئی پی ایڈریس کی جانچ کر رہی ہے اور اس دھمکی کے پیچھے ملوث شخص یا گروہ کی تلاش میں مصروف ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے فائر بریگیڈ حکام، ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ اسکولوں کا جائزہ لیا اور سرچ آپریشن کیا، لیکن ابھی تک کسی بھی اسکول سے کوئی مشکوک مواد یا بم نہیں ملا۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ "ہم نے تمام اسکولوں میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا ہے اور ابھی تک کوئی خطرناک چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔ اس وقت ہم ای میل کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔”

    اس دھمکی کے پیش نظر، دہلی کے مختلف اسکولوں کی انتظامیہ نے طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں فوری طور پر چھٹی دے دی۔ اسکولوں کی عمارات میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول آنے کی بجائے گھر پر رکھیں۔

    دہلی کے متعدد اسکولوں کے انتظامیہ نے بم کی دھمکی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ان کی اولین ترجیح طلبہ کی حفاظت ہے۔ اسکولوں میں سخت سیکیورٹی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں اور کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

    دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ای میل بھیجنے والے شخص کا سراغ لگانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ اگر کسی کو اس دھمکی کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔

  • ریاستی اداروں کیخلاف اکسانے کی کوشش،عمران خان کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    ریاستی اداروں کیخلاف اکسانے کی کوشش،عمران خان کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بڑی کارروائی شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے عمران خان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    روزنامہ جنگ میں شائع خبر ،ذرائع کے مطابق، عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے ایک خصوصی کمپلینٹ تیار کی ہے، جس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ وزارت داخلہ کو وفاقی کابینہ کے لیے سمری تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اس کے بعد، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ٹرائل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ عمران خان نے اپنے بیانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔عمران خان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے چیپٹر 6 اور 9 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ان دفعات کے تحت کسی بھی فرد کی طرف سے ریاست کے خلاف بغاوت یا فساد پھیلانے کی کوشش کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سی آر پی سی (کریمینل پروسیجر کوڈ) کے سیکشن 196 کے تحت کمپلینٹ فائل کرنے کے لیے بھی وفاقی کابینہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    اس کارروائی کے بعد، وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ان کا ٹرائل شروع کرنے کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ملک کے آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا