Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی اہلیہ کی عدالت طلبی

    منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی اہلیہ کی عدالت طلبی

    لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل میں منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے راسخ الہٰی اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اس دوران عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما مونس الہٰی کی اہلیہ کو بھی کیس میں طلب کر لیا۔

    سماعت کے دوران مونس الہٰی کی اہلیہ کی طرف سے ایک درخواست دائر کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان خواتین کو مقدمے کی پیشیوں سے مستقل طور پر استثنیٰ دیا جائے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی اے نے سیاسی بنیادوں پر یہ مقدمہ درج کیا ہے اور ان خواتین کو بھی اس میں نامزد کر دیا ہے، حالانکہ تحقیقات میں ان کے خلاف ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔عدالت نے اس درخواست پر اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک یا دو سماعتوں میں ان خواتین کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، جس کے بعد عدالت درخواست پر غور کرے گی اور ممکنہ طور پر خواتین کو مقدمے کی پیشیوں سے استثنیٰ دے دیا جائے گا۔

    سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے راسخ الہٰی اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی مزید سماعت 6 جنوری 2024 کو ہوگی، جس میں عدالت مزید دلائل سن کر فیصلہ کرے گی۔

    یہ مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی اور ان کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے مالیاتی سرگرمیاں کیں اور منی لانڈرنگ کی۔ اس کیس کی سیاسی نوعیت بھی زیر بحث ہے اور اپوزیشن جماعتیں اسے سیاسی انتقام کے طور پر دیکھتی ہیں۔

    منی لانڈرنگ کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما مونس الہٰی کی اہلیہ کو عدالت نے طلب کر لیا ہے، اور خواتین کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ آئندہ سماعت تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ کیس کی تحقیقات اور سماعت 6 جنوری 2024 کو دوبارہ ہوں گی۔

  • شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت شام کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانیوں کے انخلاء کے حوالے سے اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف نے شام سے وطن واپسی کے خواہاں پاکستانیوں کے بذریعہ ہمسایہ ممالک جلد از جلد محفوظ انخلاء کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات لیے جائیں،شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کو معلوماتی ڈیسک اور پاکستانیوں سے رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک دفتر خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور شام اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہیں، ملاقات میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    جوبائیڈن کا شام میں 2012 سے قید صحافی کو واپس لانے کا اعلان

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • مذاکرات کیلئے تیار،بات نہ بنی تو سول نافرمانی تحریک ہو گی،عمر ایوب

    مذاکرات کیلئے تیار،بات نہ بنی تو سول نافرمانی تحریک ہو گی،عمر ایوب

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ پارٹی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے تیار ہے،

    عمر ایوب نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مذاکراتی پالیسی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ قومی حکومت ملک کے مسائل کا حل پیش نہیں کر رہی، اور اس وقت ملک میں صرف فاشزم اور ڈنڈا ہے، جبکہ عدل و قانون کی حکمرانی لانا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔علی امین گنڈا پور، اسد قیصر،سلمان اکرم راجہ و دیگر کمیٹی میں شامل ہیں، مذاکرات کے لئے شرائط یہ ہیں کہ نہتے لوگوں کے خلاف مقدمے ختم کئے جائیں، نومئی ،24 نومبر کے سانحہ پر عدالتی کمیشن ہونا چاہئے، عمران خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے، اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر ہم آزاد ہیں کہ پارٹی 13 دسمبر کو تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کر دے گی اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی جماعت جعلی کیسز کے ذریعے اپوزیشن کو مصروف رکھنا چاہتی ہے، تاکہ وہ اپنے حقیقی مسائل پر بات نہ کر سکیں۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت کے ایسے اقدامات سے صرف عوام میں مایوسی بڑھے گی اور ملک کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوں گے۔

    چند روز قبل، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔ علیمہ خان کے اس بیان سے پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی واضح ہوئی۔

    اس تمام صورتحال پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پچھلی تحریکوں کی طرح سول نافرمانی کی تحریک بھی بری طرح ناکام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایسے بیانات صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ہیں اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی پی ٹی آئی کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اب کبھی بھی دھرنا دینے کی پوزیشن میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے یا سول نافرمانی کی تحریک کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔

    تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی پالیسی کو مزید واضح کیا گیا ہے، جس میں حکومت سے مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی تحریکوں کو ناکامی کا سامنا کرنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

  • خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے اور ان کی رہائی جلد ممکن ہو۔

    پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، وہ غیر مناسب ہیں اور اس پر ہمیں کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔و لوگ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں کر رہے ہیں، وہ اپنی حد میں رہیں۔ ہم سول نافرمانی کی تحریک پر ابھی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں، اس پر بات چیت عمران خان سے ملاقات کے بعد کی جائے گی۔”میں کسی ایسی عورت کو وہ ماں ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے جو کرپشن کو پروموٹ کرتی ہے.

    نومبر کے آخری ہفتے میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کو اکیلے چھوڑ جانے کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا، "اس سوال کا جواب بشریٰ بی بی خود دے سکتی ہیں۔”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے نشتر ہال پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "نیب پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور اس کا کردار کرپشن کے خاتمے کے بجائے کرپشن کو پروموٹ کرنے کا بن چکا ہے۔ نیب کا کردار صرف انتقامی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔”ہم نے ابھی تک اپنے اندر سے احتساب شروع نہیں کیا۔ جب ہم کرپشن کو بُرا ماننا شروع کریں گے تو ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک نظام بنانے کی بات کی تھی، مگر اس کے باوجود کرپشن کے مسائل حل نہیں ہو پائے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا وپر نے ملک کے مختلف اداروں میں کرپشن کے معاملات کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ "تھانوں میں رشوت چلتی ہے، پٹواری پیسے لیتا ہے اور لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر 8 کروڑ روپے جمع کروا دیے جائیں تو جیل جانے سے بچا جا سکتا ہے۔”

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کرپشن معاشرتی سطح پر گہرا اثر ڈال رہی ہے اور اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہو رہا۔ "ہم سب کا اس کا حصہ بننا ایک المیہ ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکا، مگر حکومت نے آئندہ کے لیے اقدامات کیے ہیں اور 44 فیصد ریونیو بڑھایا ہے۔”علی امین گنڈاپور نے حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کے بارے میں کہا کہ "ہم اس نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے حکومتی سطح پر کام جاری ہے۔”

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،وکیل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن صلاح الدین نے کہا کہ تین سال ہو گئے ہیں اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی، مقدمہ ابھی بھی چلانا چاہتے ہیں،صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ ہراسمنٹ اب بھی جاری ہے جھوٹے مقدمے بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جو کیسز پہلے تھے وہ چھوڑ دیں اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہراسمنٹ کا سامنا ہے اسکو دیکھ لیتے ہیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ ایف آئی اے انکوائری کے لئے نوٹسز بھیجتی ہے پھر صحافیوں کو اٹھاتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو ہراسمنٹ نہیں ہونی چاہیے،صدر پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ عقیل افضل نے کہا کہ ہمارے کورٹ رپورٹر قمر میکن ان کے گھر پولیس نے چھاپہ مارا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس معاملے پر بھی دیکھ لیتے ہیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو معاملہ پر آئی جی اسلام آباد سے بات کر کے آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی، کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

  • ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    مدارس اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا

    مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا،اجلاس میں پاکستان بھر سے ہر مکتبہ فکر کے جید علما ء شریک ہوئے،اجلاس میں علماء کرام سے مدارس رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے مفصل مشاورت کی گئی،اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی بھی شریک ہوئے،اجلاس کے بعد پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مدرسے کے حوالے سے حکومت نے ہمارے مطالبے پرپالیسی کو تبدیل کیا، مدارس کی رجسٹریشن پر حکومت نے تفصیلی مشاورت کی، ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں، کیسے ممکن ہے اس معاملے پر سمجھوتہ کریں،2019میں فیصلہ ہواکہ نئے بورڈ بنائے جائیں گے، آج وہ تمام بورڈز بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں، کوئی بیرونی ایجنڈے والا مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ نہ پڑھاؤ اور یہ پڑھاؤ، ہم پر بلاوجہ کا خوف مسلط کیا جاتا ہے کہ بیرونی ایجنڈا آئے گا اور یہ ہو جائے گا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی قانون بنتا ہے تو اس کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسکو بناتے ،چلاتے ہوئے جو اس کے مقاصد تھے ،وہ پورے ہوئے یا نہیں، 2018 کی مدارس کی اصلاحات کے حوالہ سے کہنا چاہتا ہے کہ وسیع تر مشاورت کے بعد اس ملک میں مدارس کے حوالہ سے نظام وضع کیا گیا جس کا مقصد مدارس کو قومی دھارے میں لانا تھا تا کہ منفی چیزوں کا خاتمہ ہو سکے، سب سے اہم جزو طلبا ہیں جو مدارس سے فارغ التحصیل یا زیر تعلیم ہیں، تا کہ انکے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو،

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ مدارس کے نظام کو اب کسی بیرونی ایجنڈے سے خطرہ نہیں، مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ ہی منسلک ہونا چاہیے مدارس کا معاملہ تعلیمی معاملہ ہے سیاسی اکھاڑا نہ بنایا جائے، مدارس کے بورڈز میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، بی ایس ڈگری کے مساوی مدارس کے طلبہ کو سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیے،

    مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مفتی عبدالکریم
    مفتی عبدالکریم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پہلی دفعہ ہے حکومت مولانا سے بلیک میل نہیں ہورہی، ہمیں حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے،مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مولانا نے توہین کی ہے، معافی مانگیں،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے نمائندے ہیں، سیاستدان تو مدارس کے کئی سیاست میں ہیں، اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں‌کہ مولانا فضل الرحمان کو معافی مانگنی چاہئے، چار ہزار مدرسے موجود ہیں، مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے کس طرح ہیں، مدارس کے وفاق الگ ہیں ،انہوں نے کبھی مولانا فضل الرحمان کو اپنا نمائندہ نہیں کہا

    اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا عبدالکریم آزاد، مفتی عبدالرحیم، خرم نواز گنڈاپور، علامہ جواد حسین نقوی، مولانا طیب طاہری، محمد شریف چنگوانی،مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور علامہ ابتسام الہٰی ظہیر بھی شریک ہوئے۔

    مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے ڈی جی آر ای 22 اکتوبر 2019ء کو ملک بھر میں قائم کئے گئے پاکستان بھر میں 17653 مدارس ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ ہیں،598 مدارس کو 1196 اساتذہ فراہم کئے گئے ہیں، 163 مدارس میں قومی نصاب متعارف کرایا گیاہے،اب تک 1491 طالب علموں کو پاکستانی ویزے کے حصول اور توسیع میں مدد فراہم کی گئی ہے،

  • ہمارے 200 کارکن لاپتہ ہیں،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

    ہمارے 200 کارکن لاپتہ ہیں،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحت مند رکھے، انہیں خوش رکھے اور جلد ہی ان کی مشکلات ختم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جلد بازیابی اور رہائی کی دعا گو ہیں تاکہ وہ واپس عوام کی خدمت کر سکیں۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے تقریباً 200 کارکن ابھی بھی لاپتہ ہیں، اور ان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب نے بھی تفصیلات فراہم کی ہیں اور ہم مسلسل ان کارکنان کا ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ ان کارکنان کی بازیابی کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور ہر ایک کی تفصیل کا سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔فیصل واوڈا ایک سیاست دان ہیں اور وہ ان کے بیانات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف آراء ہوسکتی ہیں، لیکن فی الحال ان کا فوکس پارٹی کے کارکنوں کی بحالی اور عمران خان کی رہائی پر ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنان نے ہمیشہ پارٹی کے لیے قربانیاں دیں اور پارٹی ان کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پارٹی کی قیادت کا یہ عزم ہے کہ کارکنوں کے حقوق کی ہر ممکن طریقے سے حفاظت کی جائے گی اور ان کی بازیابی تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

  • مری میں برف باری،سیاحوں کے لئے ہدایات جاری

    مری میں برف باری،سیاحوں کے لئے ہدایات جاری

    مری: مری اور اس کے اطراف میں گزشتہ روز سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں تک مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ یہ صورتحال سردیوں کے موسم میں شدت کا سبب بن رہی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ بارش اور برفباری کے باعث مری اور گردونواح میں سڑکوں کی صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پر نمک چھڑک کر برف کو پگھلانے کا عمل جاری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے، عرفان علی کاٹھیا نے مری کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ "ہیوی مشینری کی مدد سے برف کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مری میں سیاحوں کے لیے 13 فسیلیٹیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ سیاحوں کو موسم کی صورتحال کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے سیاحوں سے گزارش کی ہے کہ وہ موسم کی پیشگوئی کا جائزہ لے کر سفر کرنے کا فیصلہ کریں اور اگر حالات ناسازگار ہوں تو سفر کو ملتوی کریں۔ مری اور گلیات میں سیاحوں کی بڑی تعداد ہر سال برفباری کے دوران آتی ہے، لیکن موجودہ موسم میں محتاط رہنا ضروری ہے۔

    اتوار کو مری، گلیات اور دیگر بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری ہوئی، جس کے بعد موسم سرد ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، پاکستان کے بالائی علاقوں میں 14 دسمبر تک سردی کی لہر کا امکان ہے، جس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر شامل ہیں۔ ان علاقوں میں دن کے درجہ حرارت 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔بلوچستان اور سندھ میں دن کے درجہ حرارت 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

    7 سے 11 دسمبر تک چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، بونیر، شانگلہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہستان، استور، غذر، گلگت، ہنزہ، اسکردو، وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، کوٹلی، حویلیاں اور باغ میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کی توقع ہے، ساتھ ہی پہاڑوں پر برفباری کا بھی امکان ہے۔

    مری میں بارش اور برفباری کے پیش نظر انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ راستوں کی صفائی کا عمل جاری رکھا جائے، تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر کارروائی کی جا سکے۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر کے دوران گرم کپڑے، رسد اور ضروری سامان ساتھ لے کر چلیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے محفوظ مقام پر وقت گزاریں۔مری میں موسم کی شدت کے پیش نظر حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مکمل حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ سیاحوں اور مقامی افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایک نیا تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا ہے، جب 100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ کامیابی مارکیٹ میں ہونے والی تیزی اور سرمایہ کاروں کی اعتماد کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

    پیر کو کاروبار کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 678 پوائنٹس کی کمی آئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 109375 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، کاروبار کے دوران مارکیٹ میں بہتری آئی اور انڈیکس میں تیزی دیکھنے کو ملی۔کاروبار کے دوران انڈیکس میں اضافہ ہوا، اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس 109868 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد مارکیٹ نے ایک اور نیا ریکارڈ بنایا اور انڈیکس میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1044 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 10 ہزار 98 تک جا پہنچا۔ یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوا۔

    سال 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے، اور اب تک 100 انڈیکس میں 70 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس زبردست اضافہ نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی ملک کی معیشت میں بہتری اور کاروباری ماحول کی استحکام کی علامت ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اس شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت میں مزید بہتری آئے گی، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج آنے والے دنوں میں مزید ترقی کرے گا۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ یہ انہیں مثبت سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری ترقی کا اثر ملکی معاشی استحکام، حکومت کی پالیسیوں اور بیرونی سرمایہ کاری پر بھی پڑے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ 2024 کے باقی حصے میں مارکیٹ اسی رفتار سے ترقی کرے گی۔