Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    وائیٹ ہاؤس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اسپین کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت پیغام کے بعد اسپین نے “امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔” ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اس وقت اسپین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ “تمام یورپ اور ہمارے یورپی اتحادی اس مشن میں تعاون کریں گے۔” انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی حکومت یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    تاہم اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”اسی طرح اسپین کے وزیر اعظم ، جو یورپ میں ٹرمپ پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ اسپین کسی ایسی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا جو “دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا ہمارے اقدار اور مفادات کے خلاف ہو، صرف اس لیے کہ کسی کے انتقامی اقدامات سے بچا جا سکے۔”

    ادھر امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ نے جنوبی ایران کے شہر مناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر مبینہ حملے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔کارولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا، “جہاں تک ہمیں علم ہے، امریکا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکا صرف “باغی ایرانی حکومت” کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایران پروپیگنڈا مہم کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔

    پریس بریفنگ کے دوران لیوٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے “ضرورت سے زیادہ صلاحیت اور اسلحہ موجود ہے۔” ان کے مطابق امریکا نہ صرف موجودہ فوجی آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھ سکتا ہے بلکہ “اس سے کہیں آگے جانے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”یہ بیان صدر ٹرمپ کے اُس سوشل میڈیا پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ امریکا کے پاس اسلحہ کا اچھا ذخیرہ موجود ہے لیکن “ہم وہاں نہیں ہیں جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں۔”لیوٹ نے وضاحت کی کہ صدر کا اشارہ سابق انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے اسلحہ کی طرف تھا، نہ کہ موجودہ فوجی تیاریوں میں کسی کمی کی طرف۔

  • قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بحیرۂ روم کے جزیرے سائپرس میں واقع برطانوی فوجی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    برطانیہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اڈے کو نشانہ بنانے والا یک طرفہ (ون وے) حملہ آور ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا۔برطانوی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز جاری بیان میں ڈرون کی اصل جائے پرواز کی وضاحت نہیں کی، تاہم اسے "شاہد طرز” (Shahed-like) قرار دیا۔ واضح رہے کہ "شاہد” سیریز کے ڈرون ایران میں ڈیزائن اور تیار کیے جاتے ہیں اور حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی تنازعات میں ان کا استعمال رپورٹ ہو چکا ہے۔

    قبرصی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ڈرون کا رخ لبنان کی جانب سے تھا۔ قبرص کے نائب حکومتی ترجمان نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ قومی گارڈ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ڈرون لبنان سے داغا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون "ون وے اٹیک ڈرون” تھا، یعنی اسے ہدف سے ٹکرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور واپسی کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس قسم کے ڈرون عموماً بارودی مواد سے لیس ہوتے ہیں اور کم لاگت کے باوجود مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اگر ڈرون حملے کا براہِ راست تعلق ایران سے جوڑا جاتا تو اس کے سفارتی اور عسکری اثرات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔دفاعی ماہرین کے مطابق "شاہد طرز” کی اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو ڈرون ایرانی ڈیزائن سے متاثر تھا یا اسی طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اسے ایران ہی سے لانچ کیا گیا ہو۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید کر دی گئی ہے، لیکن لبنان سے مبینہ لانچنگ بھی خطے میں جاری پراکسی کشمکش کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مختلف ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں میں بھی متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں کم از کم 1,097 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں 168 بچے اور 14 اساتذہ بھی شامل ہیں، جو ہفتے کے روز ایک امریکی،اسرائیلی حملے میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر بمباری کے دوران جان سے گئے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے سے ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔

    لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ تک یہ تعداد سامنے آئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مقامی نمائندے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کویت میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان میں چھ امریکی فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ کویتی فوج نے دو مقامی سروس ممبران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل میں ہفتے سے جاری حملوں کے دوران کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی ہنگامی سروس ے مطابق مختلف شہروں میں میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    عراق کے صوبہ دیالی میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار پاپولر موبلائزیشن فورس کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ملیشیا کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ حملہ اتوار کو کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم کچھ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

    بحرین کے سلمان انڈسٹریل سٹی میں ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ ایک غیر ملکی بحری جہاز پر گرا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق حالیہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاکستانی مسلح افواج نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے “ڈیبیلی ٹیٹنگ پنشمنٹ” کا نام دیا ہے۔

    اس کارروائی کا مقصد کالعدم تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سہولت کاری کو نشانہ بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت 55 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ٹی ٹی اے کی پوسٹوں اور بلوچ لبریشن آرمی ے لیے پناہ گاہوں یا لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ “فتنہ الہندوستان” کےعناصر سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے ہتھیار،اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ،راکٹ لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری،مین بیٹل ٹینکس ،مربوط حملوں کے لیے سوارم ڈرونزشامل ہیں،مزید بتایا گیا ہے کہ بعض منتخب مقامات پر زمینی دستے بھی پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق مختلف سرحدی سیکٹرز میں مرحلہ وار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں وارسالہ سب سیکٹر،ٹی ٹی اے کی پوسٹس 5 تا 9 کو نشانہ بناہا گیا،ژوب، سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ نشانہ بنایا گیا،قلعہ سیف اللہ اور پشین سیکٹر (کلیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)،لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، علا جرگہ، تور کچھ اور تروکئی تھانے)،بادینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے)،او جی جی سیکٹر (خار، سپنگئی، سرزنگل اور یونس تھانے)،چلتن رینجز، ششکہ اور خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3)،ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،نوشکی اور گردونواح میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، انی، جانی، ترکاشی، ظلمی، سوالی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرزکو نشانہ بنایا گیا،

    حکام کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہے اور مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے مبینہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرات کو غیر مؤثر بنا کر سرحدی علاقوں میں ڈیٹرنس (بازدار قوت) بحال نہیں کر دی جاتی۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

  • ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ،  اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ، اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی حکام نے وزراء اور ان کے قریبی ساتھیوں کو موبائل فون کی لوکیشن سروسز فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار اور معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق ایرانی سائبر خطرات میں نمایاں اضافے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔بدھ کے روز بھیجے گئے خصوصی پیغام میں وزراء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ایپلی کیشن یا سروس جی پی ایس کے ذریعے ان کی موجودہ لوکیشن تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ہدایت نامے میں خاص طور پر تصاویر، Facebook اور Google Maps سمیت دیگر ایپس کا ذکر کیا گیا۔ پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے سینئر اسرائیلی قیادت کا سراغ لگانے کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل نے کئی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی شہری کو سابق وزیرِ دفاع Yoav Gallant کے بارے میں حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی Shin Bet نے کی تھی۔فروری میں Shin Bet اور قومی سائبر ڈائریکٹوریٹ نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے اسرائیلی حکام کے موبائل فون ہیک کرنے کی "سینکڑوں” کوششوں کو ناکام بنایا۔ بیان کے مطابق خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد ایرانی سائبر سرگرمیوں میں "نمایاں اضافہ” دیکھا گیا، جس میں نجی گوگل اکاؤنٹس، کمیونیکیشن ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت نے بھی ایک بیان میں تمام طبی اداروں کو سائبر حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ صحت کے ادارے سائبر سیکیورٹی کے دوسرے بلند ترین درجے پر منتقل ہو جائیں تاکہ ممکنہ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

  • امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود شہری پرسکون، پرامید ہیں،بیشتر کاروباری مراکز بند تا ہم دکانیں کھلی ہیں، عوام میں کوئی خوف نہیں،سی این این نے ایرانی شہریوں سے بات کی ہے

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔

    تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے چار بنیادی مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے، چاہے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے ابہام کیوں نہ پایا جاتا ہو۔

    بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اہداف ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا،خطے میں ایران کی بحری موجودگی کو “نیست و نابود” کرنا،ایران سے منسلک مسلح گروہوں اور مبینہ پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا، جنہیں واشنگٹن کے مطابق امریکی اتحادی افواج پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے،ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی مزید کوششوں سے روکنا ہے،
    پریس سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والا آپریشن، جسے “Operation Epic Fury” کا نام دیا گیا ہے، اب تک “غیر معمولی حد تک کامیاب” رہا ہے۔لیویٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر امریکا بطور کمانڈر اِن چیف مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔

    ان کے بیان سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل Dan Caine نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایرانی سرزمین کے اندر “بتدریج مزید گہرائی تک” حملے شروع کریں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    جنگ اور امن کے معاملات میں ہر ذمہ دار ریاست کے لیے اصول و قواعد متعین ہوتے ہیں، مگر افغانستان کی جانب سے بعض شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں نہ تو پشتون روایات کے مطابق ہیں اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔

    اس کے برعکس، پاکستان نے ٹی ٹی اے کے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی لاشوں کو پوری عزت کے ساتھ افغانستان کے حوالے کیا اور زندہ گرفتار دہشت گردوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پیش آیا، جو جنگی اصولوں کی پاسداری کا واضح ثبوت ہے۔جبکہ ٹی ٹی اے کے کارندے اسلامی تعلیمات اور پشتون روایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر انسانی اور وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا

    اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی.اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں. ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں.

  • ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز IRIS Dena بھارت میں منعقدہ فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد جب بھارتی سمندری حدود میں سفر کر رہا تھا تو اسے ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد اہلکار لاپتہ ہو گئے۔

    ایرانی بحری جہاز IRIS Dena نے حالیہ دنوں میں بھارتی ساحل پر منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھارتی بحریہ نے کی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا تھا اور اسے خطے میں بحری تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جہاز کو بھارتی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ بھارتی بحریہ نے تلاش و بچاؤ (Search & Rescue) آپریشن نہیں کیا بلکہ سری لنکن نے 78 ایرانی ملاحوں کو بچایا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مرمت و دیکھ بھال معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکی بحری جہاز بھارتی شپ یارڈز میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی امریکی جہاز نے بھارتی بندرگاہ یا پانیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا؟امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ چند برسوں میں مضبوط ہوا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف براہ راست عسکری کارروائی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین یا پانیوں کے استعمال کا معاملہ انتہائی حساس اور بین الاقوامی قوانین کے تابع ہوتا ہے۔

    سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر سے متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں،ترجمان سری لنکا بحریہ کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے ملنے والی لاشیں جہاز کے عملے کی ہیں، تصدیق کا عمل جاری ہے، واقعہ سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا، سری لنکا مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرہ جہاز ایرانی بحریہ کا ہے،سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس مرحلے پر ہلاک افراد کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی، جہاز ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں، امدادی کارروائی کے دوران متاثرہ علاقے میں کسی اور جہاز کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا،خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک سری لنکن اپوزیشن رہنما نے سوال پوچھا کہ آیا جہاز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے حصے کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا؟ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔