وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے چار بنیادی مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے، چاہے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے ابہام کیوں نہ پایا جاتا ہو۔
بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اہداف ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا،خطے میں ایران کی بحری موجودگی کو “نیست و نابود” کرنا،ایران سے منسلک مسلح گروہوں اور مبینہ پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا، جنہیں واشنگٹن کے مطابق امریکی اتحادی افواج پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے،ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی مزید کوششوں سے روکنا ہے،
پریس سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والا آپریشن، جسے “Operation Epic Fury” کا نام دیا گیا ہے، اب تک “غیر معمولی حد تک کامیاب” رہا ہے۔لیویٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر امریکا بطور کمانڈر اِن چیف مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔
ان کے بیان سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل Dan Caine نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایرانی سرزمین کے اندر “بتدریج مزید گہرائی تک” حملے شروع کریں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”
