Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکا ایران کشیدگی،فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات ناکام ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم

    امریکا ایران کشیدگی،فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات ناکام ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک غیر روایتی مگر مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ پس پردہ رابطہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔جریدے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی، اقتصادی پابندیوں اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث مذاکرات پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی یہ کوششیں خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں، اور اگر یہ سفارتی کاوشیں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ وسیع تر علاقائی امن کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات

    اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی سے نیٹلی بیکر کی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر مسئلے کے پُرامن حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔محسن نقوی نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریقین سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتے ہوئے پرامن حل کو موقع دیں گے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اس موقع پر امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے خطے میں قیام امن اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، جو عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔

  • پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئےبھارتی ریاستی دہشتگردی کا ناپاک کردار بے نقاب

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئےبھارتی ریاستی دہشتگردی کا ناپاک کردار بے نقاب

    بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” ریاستی سرپرستی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم ہے

    پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر کلبھوشن یادو بھی بھارتی دہشت گردی کا برملا اعتراف کر چکا ہے،بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول بارہا بلوچستان کو توڑنے کی کھلےعام دھمکی دے چکا ہے،کینیڈا،امریکا اور دیگر ممالک میں بھارتی ریاستی سرپرستی میں سکھ رہنماؤں کے بہیمانہ قتل بھی بھارتی ریاستی دہشتگردی کاواضح ثبوت ہےماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت بیرون ممالک دہشت گردی اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے منظم حکمتِ عملی کے تحت مہم سازی کر رہاہے،

  • اٹک ریفائنری کے لیے خام تیل کی ترسیل بحال، فیول بحران کا خطرہ ٹل گیا

    اٹک ریفائنری کے لیے خام تیل کی ترسیل بحال، فیول بحران کا خطرہ ٹل گیا

    اسلام آباد: اٹک ریفائنری کے لیے خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق پابندی کے خاتمے سے ملک کے شمالی علاقوں میں ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ریفائنری ذرائع کا کہنا ہے کہ خام تیل کی فراہمی بحال ہونے کے بعد پیداوار جلد شروع ہونے کی توقع ہے، جس سے مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی بہتر ہوگی۔

    اس سے قبل خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث اٹک ریفائنری کی بندش کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جبکہ جیٹ فیول کی قلت کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے۔ ریفائنری حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر ٹریفک پابندیاں فوری طور پر نہ ہٹائی گئیں تو آپریشنز معطل کرنا پڑ سکتے ہیں۔مزید برآں، ریفائنری کی ممکنہ بندش کے باعث اسلام آباد اور پشاور کے ایئرپورٹس پر جیٹ فیول کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جو اب پابندی ختم ہونے کے بعد کم ہو گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بحالی سے نہ صرف مقامی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • کاشف ضمیر کیخلاف دھوکہ دہی کا ایک اور مقدمہ درج

    کاشف ضمیر کیخلاف دھوکہ دہی کا ایک اور مقدمہ درج

    سی ٹی ڈی کراچی کے پولیس اہلکار سے مبینہ فراڈ کے الزام میں معروف ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کراچی کے اہلکار کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر سے 2 سال قبل ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی تھی،سی ٹی ڈی اہلکار کے مطابق ایک سال پہلےکاشف ضمیر نے یورپ بھجوانےکے عوض 20 لاکھ روپے وصول کیے، رقم وصول کرنےکے بعد ملزم نے اس کا فون اٹھانا بندکردیا،پولیس حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جلد ملزم پولیس کی گرفت میں ہوگا۔

  • لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 مقامات پر چھاپے

    لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 مقامات پر چھاپے

    لندن: برطانیہ کے مالیاتی نگران ادارے ایف سی اے نے غیر رجسٹرڈ افراد کی جانب سے مبینہ غیر قانونی کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت لندن میں 8 مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائی پولیس اور کسٹمز حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی، جو اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    ایف سی اے کے مطابق گزشتہ ہفتے ان تمام مقامات پر "سیز اینڈ ڈسسٹ” نوٹسز جاری کیے گئے اور اہم شواہد بھی اکٹھے کیے گئے، جو جاری تحقیقات میں استعمال ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ میں غیر مجاز کرپٹو سرگرمیوں کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ستمبر 2027 سے اس شعبے کے لیے مزید جامع قوانین نافذ کیے جانے والے ہیں۔ایف سی اے کے قوانین کے مطابق 2020 سے کرپٹو ٹریڈنگ خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں اور افراد کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں اس وقت کوئی بھی پیئر ٹو پیئر (P2P) کرپٹو ٹریڈر یا پلیٹ فارم رجسٹرڈ نہیں ہے۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چھاپوں کا نشانہ بننے والے افراد پیئر ٹو پیئر ٹریڈنگ میں ملوث تھے، جس میں کرپٹو اثاثے براہ راست افراد کے درمیان خرید و فروخت کیے جاتے ہیں، بغیر کسی مرکزی ایکسچینج کے۔
    ایف سی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹر اسٹیو اسمارٹ کا کہنا تھا کہ "برطانیہ میں غیر رجسٹرڈ پیئر ٹو پیئر کرپٹو ٹریڈرز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور مالی جرائم کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ہم اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔”حکام کے مطابق ان مبینہ غیر قانونی ٹریڈرز کا سراغ "مارکیٹ انٹیلی جنس” اور دیگر اداروں کے تعاون سے لگایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کرپٹو کرنسیز کو جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے غیر قانونی رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ کرپٹو اثاثے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال ایف سی اے نے برطانیہ میں پہلی مرتبہ کرپٹو اے ٹی ایم نیٹ ورک چلانے کے جرم میں ایک ملزم کو سزا دلوائی تھی، جسے عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی تھی

  • آبنائے ہرمز،بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے بعد ایک جہاز ایرانی تحویل میں

    آبنائے ہرمز،بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے بعد ایک جہاز ایرانی تحویل میں

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی اقدام پر بھارتی جہاز کی ضبطی کا دعویٰ، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

    آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران نے دو جہازوں کو تحویل میں لیا ہے جن میں سے ایک بھارتی ہے،

    بھارتی معروف تجزیہ کار اشوک سوین کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس سے قبل بھی دو بھارتی جہازوں پر فائرنگ کر چکا ہے جبکہ آج ایک اور بھارتی جہاز کو آبنائے ہرمز میں ضبط کر لیا گیا ہے۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ایران پاکستانی اور بنگلہ دیشی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے، تاہم بھارتی جہازوں کو روکا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو بھارت کی خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہوئے کہا گیا کہ "بھارت، وزیر اعظم نریندر مودی کی اسرائیلی قیادت سے قربت کی قیمت ادا کر رہا ہے”۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں حالیہ دنوں میں کشیدگی اور بحری سلامتی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی ، ایران کے ہاتھوں تیسرا جہاز نشانہ، دو پہلے ہی تحویل میں

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی ، ایران کے ہاتھوں تیسرا جہاز نشانہ، دو پہلے ہی تحویل میں

    آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایران کی جانب سے تیسرا بحری جہاز نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں نور نیوز، فارس اور مہر کے مطابق “یوفوریا” نامی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایرانی ساحل کے قریب پھنس چکا ہے۔ تاہم اس واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دو دیگر جہازوں کو آبنائے ہرمز میں تحویل میں لے لیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہیں یا نہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جہاز MSC Francesca اور Epaminondas ہیں، جنہیں ایک گن بوٹ کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

    بحری سکیورٹی ادارے نے بھی تصدیق کی کہ دونوں جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔ماہرین کے مطابق MSC Francesca دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی MSC کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ Epaminondas یونانی کمپنی Kalmar Maritime کی ملکیت ہے۔اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز خلیجِ عمان کی جانب جا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔میرین ٹریفک ڈیٹا کے مطابق جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تھے، جو حملوں کے وقت دوبارہ فعال ہوئے۔

    آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔جنگ کے دوران ایران نے اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ادھر امریکہ بھی اس علاقے میں ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ نے ایک ایرانی جہاز کو تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔پینٹاگون کے مطابق امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک اور جہاز پر بھی کارروائی کی۔تازہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کے بعد صورتحال میں وقتی طور پر بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جسے سفارتی حلقے اس بات کی علامت قرار دے رہے ہیں کہ اس مرحلے پر جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ خطے میں بیانات کی شدت برقرار ہے، تاہم زمینی سطح پر کسی بھی جانب سے فوجی کارروائی یا مزید عسکری کشیدگی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع پاکستان کی درخواست پر کی گئی، جبکہ ایرانی مؤقف کے مطابق پاکستان اس عمل میں واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں ایک کلیدی اور مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    سفارتی و باخبر ذرائع کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس بارے میں حتمی صورتحال آئندہ پیش رفت پر منحصر ہوگی۔

  • الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے،وزیراعظم

    الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کے فروغ میں تیزی لانے کیلئے جاری اقدامات میں تیزی لائی جائے. موجودہ علاقائی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر ، EV گاڑیوں کے فروغ سے ناصرف ایندھن کے درآمدی بوجھ میں کمی آئے گی، بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور انرجی سیکیورٹی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے. قومی ای -وی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور اس اسکیم کے نفاذ میں مزید تیزی لائی جائے.

    اجلاس کو ای وی کی ملک گیر سطح پر ترویج کیلئے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشہ بنانے کیلئے 72 جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹ جاری ہو چکے. ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کیلئے اب تک 123 درخواستیں موصول ہوئی ہیں. آئندہ 5 سالوں میں ملک میں 30 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ہے، جس سے اندازا” 4.5 بلین ڈالر تک فیول کی بچت ہوگی. گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان قسطوں پر الیکٹرک بائیکس فراہم کئے جائیں گے.اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاللہ تارڑ ، اویس خان لغاری ، احسن اقبال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر ، چئیر مین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.