Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔

    حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”

    ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔

  • خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔

  • ایران میں کرد کون ہیں؟

    ایران میں کرد کون ہیں؟

    مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔

    کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق “فضاؤں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔” وزارت نے یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

    دارالحکومت ابوظہبی میں موجود غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق یہ خطرہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیز کر دی ہے، جس کے تحت قفقاز کے علاقے میں واقع اہم تیل پائپ لائن Baku‑Tbilisi‑Ceyhan pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ پائپ لائن آذربائیجان کے خام تیل کو Georgia کے راستے ترکی کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے جانے والا تیل اسرائیل کی تیل کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتا ہے، جس کے باعث اس حملے کو خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے صرف آبنائے ہرمز تک محدود رہنے کے بجائے توانائی کی سپلائی لائنز کو مرحلہ وار نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خلیج فارس سے لے کر قفقاز اور پھر بحیرۂ روم تک ان راستوں کو متاثر کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے مخالف اتحاد کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ان ممالک کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانا ہے جو ایران پر حملوں میں شامل رہے ہیں۔

    توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار اور کمپنی FGE کے مشرقِ وسطیٰ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کے پیداواری میدانوں اور پائپ لائنوں پر حملے جاری رہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ان کے مطابق ابھی تک صورتحال اپنی انتہا تک نہیں پہنچی اور آئندہ دنوں میں مزید سنگین پیش رفت کا امکان موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مستقبل میں خطے کی دیگر اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے،

  • کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف نے لاہور ڈویژن کی انتظامی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 3 کروڑ آبادی پر مشتمل 4 اضلاع میں پرائس کنٹرول کی صورتحال تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش ہے۔

    قصیر شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران کمشنر لاہور ڈویژن کی جانب سے صرف 3 فیلڈ وزٹس کیے گئے، جو کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہیں۔سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے قیصر شریف نے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق تقریباً 3 کروڑ کی آبادی اور 4 اضلاع پر مشتمل لاہور ڈویژن میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران پرائس کنٹرول کے حوالے سے کمشنر کی جانب سے صرف 3 دورے کیے گئے ہیں۔ ضلع لاہور میں صرف دو اور ننکانہ میں ایک دورہ کیا جبکہ قصور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں کوئی دورہ نہیں کیا گیا۔

    https://x.com/Qaisarsharif555/status/2029277798829842731

    قیصر شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، مگر انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس اور بیانات اپنی جگہ، مگر عملی اقدامات اور اچانک چھاپوں کی کمی نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لاہور ڈویژن سمیت پورے صوبے میں پرائس کنٹرول نظام کی ازسرنو نگرانی کریں اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیں۔قیصر شریف نے مزید کہا کہ اگر حکومتی مشینری عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے تو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا۔

    صدر ٹرمپ نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی کے حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے، ہم نے 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا ہے، ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جارہا ہے، ایران میں جو لیڈر بننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے، سابق امریکی صدر اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، وینزویلا سے تیل کی آمد شروع ہو گئی ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیز ہوتی ہے، ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، کسی نے مجھ سے پوچھا کہ 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟تو میں نے کہا 15 نمبر دوں گا، ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال دھوکہ سے بھی بہتر ہے

  • شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    "آپریشن غضب للحق” کے تحت پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ متعدد کالعدم تنظیموں کے شدت پسند ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں نے قندھار میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی بعض تنصیبات میں شدت پسندوں کو پناہ دے رکھی تھی تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم بارڈر کے مقام پر پاک فوج کے ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے آبادی والے علاقوں کی سمت مارٹر گولے بھی داغے گئے، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک سیکیورٹی فورسز نے ہیوی گنز کے ذریعے کسٹمز ہاؤس اور مبینہ طور پر افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شدید گولہ باری کے بعد مخالف فورسز نے پوزیشنیں خالی کر دیں۔ تھانہ آدم خان اور ایک نیا قائم کیا گیا تھانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان پر اسرائیل کی ممکنہ جارحیت ایک خواب ثابت ہوگی اور پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،موجودہ حالات میں امت کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے، صیہونی قوتوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کی جانب سے صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم ،مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری ،عبد الواحدسمیت دیگر قیادت نے شرکت کی ،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،ایٹمی پاکستان کی جانب کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،9 مئی کو پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو وہ سبق سکھایا جس کی گونج آج بھی عالمی دنیا میں موجود ہے ،امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے قابل مذمت ہیں،ایران کو جوابی کاروائی میں اپنے دشمن پرفوکس کرنا چاہیے، ہر وہ ریاست جہاں ظلم، جبر یا قبضہ ہو، وہ اس کی مذمت کرتے رہیں گے،ہم ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کے ساتھ ہیں گے۔مرکزی ترجمان تابش قیوم کاکہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر قائم نہیں رہتیں، جس کی وجہ سے وہ ڈیلیور نہیں کر پائیں۔ ، دشمن جانتا ہے کہ اگر پاکستان پرامن اور مستحکم ہو تو وہ مسلم ممالک کی مدد کر سکتا ہے، اسی لیے پاکستان پر نظریں رکھی جا رہی ہیں، پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی مرکزی مسلم لیگ کا مشن ہے اور اسی مقصد کے لیے میدانِ سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری،ترجمان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد عبدالواحد کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کا منشور معاشرے کی تشکیل اور تربیت ہے تاکہ شہری ایک قوم بن سکیں، مرکزی مسلم لیگ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے یونین کونسل سطح پر انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ہیں، اور جب اقتدار گراس روٹ لیول سے آئے گا تو سیاسی حالات بہتر ہوں گے.

  • سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا۔

    وفد میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سحر کامران کے ساتھ سینیٹر پلوشہ خان بھی شریک تھیں۔ رہنماؤں نے سفارتخانے میں تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے اور ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اپنے پیغام میں انہوں نے آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی مثالی جرات، بصیرت، اسلامی اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی اور قیامِ امن کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بابرکت زندگی امتِ مسلمہ کے لیے رہتی دنیا تک روشنی، حوصلے اور رہنمائی کا سرچشمہ بنی رہے گی۔

    رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سفارتی عمل کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جوہری معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر، ان کے اہلِ خانہ اور متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ مزید برآں، مناب میں ایک گرلز اسکول کو نشانہ بنانے کے واقعے کی بھی سخت مذمت کی گئی جس میں معصوم بچیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

    بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم دنیا کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہداء کے اہلِ خانہ، ایرانی عوام اور دنیا بھر میں سپریم لیڈر کے چاہنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وفد نے مسلم امہ کے اتحاد، امن کے قیام اور انصاف و خودمختاری کے دفاع کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خطے میں امن و استحکام قائم فرمائے۔