Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شادی کی تقریب میں فائرنگ سے فنکارہ کی موت،دلہا گرفتار

    شادی کی تقریب میں فائرنگ سے فنکارہ کی موت،دلہا گرفتار

    ٹنڈو جام میں شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ سے فنکارہ مہندی کی ہلاکت کے مقدمے کے نامزد ملزم دُلہا جمال سپیو کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ٹنڈو جام کے گوٹھ نصیر خان سپیو میں شادی کی تقریب میں فائرنگ کے دوران 22 سالہ مہندی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئی تھی۔خاتون 29 نومبر کو دورانِ علاج سول اسپتال حیدرآباد میں دم توڑ گئی تھی جس کے بعد پولیس نے دُلہا جمال پسیو اور ان کے بھائی جلال ظفر سمیت دیگر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کردی تھی،ایس ایچ او ٹنڈو جام کے مطابق واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

    درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ شادی کی تقریب میں مقتولہ مہندی، اس کی چچی و دیگر کو پرفارمنس کے لیے بلایا گیا تھا، تقریب میں دُلہا اور اس کے بھائیوں نے ہوائی فائرنگ کی جس پر مقتولہ اور اس کی چچی نے پرفارم کرنے سے انکار کیا تو زبردستی پروگرام شروع کروایا گیا، اس دوران ملزم نے فائرنگ کی جس سے دُلہا کا بھائی جلال اور مہندی زخمی ہوگئے، زخمی مہندی کو سول اسپتال لایا گیا جہاں وہ جمعے کی صبح دم توڑ گئی تھی۔

  • پی ٹی آئی احتجاج،بشریٰ،گنڈاپور،عارف علوی سمیت 96 رہنماؤں کے وارنٹ

    پی ٹی آئی احتجاج،بشریٰ،گنڈاپور،عارف علوی سمیت 96 رہنماؤں کے وارنٹ

    24 نومبر ،پی ٹی آئی احتجاج کے بعد درج مقدمات کا معاملہ، اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت 96نامزدملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ہیں

    اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں 24 نومبر کے احتجاج کے مقدمے میں پیشرفت ہوئی ہے۔اسلام آباد پولیس نے 96 نامزد ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے، پی ٹی آئی رہنماؤں شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب، شیر افضل مروت کا نام بھی لسٹ میں شامل ہے،کوہسار پولیس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بھی وارنٹ لے لئے، پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ، سیمابیہ طاہر، شعیب شاہین، علی بخاری کے وارنٹ بھی لے لئے گئے، ملزمان کی گرفتاری کے لئے اسلام آباد پولیس سپیشل ٹیمیں تشکیل دے گی، تمام پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی رہنماؤں عاطف خان، اسد قیصر،سہیل آفریدی،شہرام ترکئی،پیر نورالحق قادری،عمر امین گنڈا پور،مشال یوسفزئی، عارف علوی،زرتاج گل،شاہد خٹک،عمیر نیازی و دیگر کے وارنٹ بھی پولیس نے لے لئے ہیں،

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی، اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس پر حملوں، اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص سمیت پارٹی کے بانی عمران خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، ہزاروں نامعلوم افراد بھی ان مقدمات میں شامل کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں درج دفعات میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور عوامی تحفظ کے لئے نافذ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری عملے کو ہراساں کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • ڈی چوک احتجاج پر درج مقدمہ،گنڈاپور عدالت پہنچ گئے

    ڈی چوک احتجاج پر درج مقدمہ،گنڈاپور عدالت پہنچ گئے

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ڈی چوک احتجاج پر درج مقدمے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    علی امین گنڈاپور نے حاجی اجمل خان مہمند کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ڈی چوک احتجاج پر 26 نومبر کو درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں، احتجاج کے لیے آئینی حق استعمال کیا، پولیس نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا، 26 نومبر کو اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہوا، مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات کو معطل یا ایف آئی آر پر کارروائی روکی جائے، حتمی ریلیف کے طور پر تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات نکالی جائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخؤاست میں ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ اور اسٹیٹ کو بذریعہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد فریق بنایا گیا ہے۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

  • ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر رحیم اللہ عرف شاہد عمر افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے شرنگل میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی تک افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم عسکریت پسند تنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    افغان سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق شاہد عمر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغان طالبان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد واپس اپنے مقام پر جا رہے تھے۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ٹی ٹی پی کمانڈر شاہد عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک سینئر کمانڈر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کے علاوہ وہ ایک طویل عرصہ تک افغان طالبان کی جانب سے بگرام جیل میں قید رہا، جہاں اس نے آٹھ سال گزارے۔

    رحیم اللہ عرف شاہد عمر، ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند تنظیم کے فوجی کمیشن کا رکن بھی تھا اور اس نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ہونے کا بھی عہدہ سنبھالا تھا۔رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے مزید کمانڈروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔رحیم اللہ عرف شاہد عمر کی ہلاکت نہ صرف ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ سرحد پار پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی تھی۔ شاہد عمر کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

    کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کی نوعیت بھی اس واقعے کے بعد مزید زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ابھی تک پوری طرح سے قابو میں نہیں آ سکے، اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہوں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کو قتل کرنے کی ذمہ داری جبھتہ الرباط نے قبول کرلی
    افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں قتل ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انتہائی سینئر کماںدر شاھد عمر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھارہے تھے۔شاھد عمر ٹی ٹی پی کے بانیوں میں شمار ہونے والے رہنما فقیر محمد کے بھتیجے تھے اور ٹی ٹی پی میں ان کو اہم مقام حاصل تھا وہ 8 سال سابقہ افغان حکومت کی قید میں بھی گزار چکے تھے، ذرائع کے مطابق ان کو کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ایک اور رکن نے کھانے کی دعوت پر بلا کر کھانے کے دوران ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا کمانڈر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور حکومت نے ان کے سر پر ایک کروڑ پاکستانی کرنسی کا انعام بھی رکھا تھا۔

  • سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کا معاملہ،ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کیس سماعت کے لیے نیا بینچ بنے گا.

    ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کمیشن کے دو ممبران بینچ کا حصہ ہیں وہ کیسے کیس سن سکتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اعتراض لگا کر واپس کیا تو کیا آپ دوبارہ جوڈیشل کمیشن گئے،جوڈیشل کمیشن ایک نام تجویز کرتا ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی جاتا ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ سماعت کی

    دوسری جانب پاکستان تحریک نے سپریم کورٹ آئینی بنچ میں الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کیخلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کی غرض سے واپس لے لی، ریٹائرڈ ججز کی الیکشن ٹریبونل کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ٹیک اپ کر لیا ہے اسلیے پی ٹی آئی نے فی الحال آئینی بنچ سے درخواست واپس لےلی۔بیرسٹر گوہر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست واپس لے لی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ہم یہ اعتراضات دور کر کے دوبارہ درخواست دائر کریں گے،

  • خالہ زاد کو قتل کرکے انگوٹھا کاٹ کر ملزم نے اے ٹی ایم سے پیسےنکلوا لئے

    خالہ زاد کو قتل کرکے انگوٹھا کاٹ کر ملزم نے اے ٹی ایم سے پیسےنکلوا لئے

    پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیاہے ملزم نے ساتھیوں کی مدد سے خالہ زاد بھائی کو قتل کردیا۔

    ملزم نے خالہ زاد بھائی کو قتل کے اس کا انگوٹھا کاٹا اور اے ٹی ایم سے دس لاکھ روپے نکلوا لئے،پولیس حکام کے مطابق مشکوک گاڑی کی تلاشی لینے پر بوری بند نوجوان کی لاش ملی، ملزمان مقتول یاسین کی لاش ڈگی میں رکھ کر نہر میں پھینکنےجارہے تھےپولیس اس کیس سے متعلق مزید تحقیقات بھی کر رہی ہے۔

    دوسری جانب شیخوپورہ میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو ڈاکو مارے گئے ایک شدید زخمی ہو گیا،لاہور روڈ پر کوٹ عبدالمالک کے نزدیک ڈاکوؤں اور شہریوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا،مرنے والے دوسرے ڈاکو کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی،مرنے والے ڈاکو کی شناخت کلیم اللہ کے نام سے ہوئی ہے زخمی ڈاکو کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے،قصبہ کوٹ عبدالمالک کے علاقہ سجاد ٹاؤن کے نزدیک ڈاکو شہریوں کو لوٹ رہے تھے،ڈاکوؤں کی لوٹ مار دیکھ کر علاقہ کے متعدد مسلح افراد وہاں پہنچے تو فائرنگ کا تبادلہ ہو گیا

  • پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ، 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف اسلام آباد کے تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے امن و امان بحال کرنا تھا مگر آپ نے پورا اسلام آباد بند کر دیا، درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے کاروبار کو چلنے دیں، آپ نے میڈیا پر ہر جگہ کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر پر ہم اجازت نہیں دے رہے، عدالت نے آپ سے کہا تھا کہ شہریوں، تاجروں اور مظاہرین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں، وہ پی ٹی آئی سے بھی پوچھیں گے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا، درخواست گزار کا کیا قصور تھا، ان کے کاروبار کو کیوں بند کیا،

    اسٹیٹ قونصل ملک عبدالرحمٰن نے کہا کہ کچھ رپورٹس آگئی ہیں اور کچھ رپورٹس آنا باقی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹیٹ قونصل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں، یہ ماہرانہ رائے وہاں دینی تھی، آپ نے اسلام آباد کو ایسے بند کیا تھا کہ ججز سمیت میں بھی نہیں آسکا، میں اپنے ہی آرڈر کا خود ہی شکار ہوگیا تھا،عدالت نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • دورہ جنوبی افریقا کے لیے پاکستان کے اسکواڈز کا اعلان

    دورہ جنوبی افریقا کے لیے پاکستان کے اسکواڈز کا اعلان

    دورۂ جنوبی افریقا کے لیے پاکستان کے اسکواڈز کا اعلان کر دیا گیا

    10 دسمبر سے 7 جنوری تک اس دورے میں پاکستان ٹیم 3 ٹی ٹوئنٹی، 3 ون ڈے اور 2 ٹیسٹ کھیلے گی۔ٹیسٹ اسکواڈ میں فاسٹ بولر محمد عباس کی واپسی ہوئی ہے جبکہ ورک لوڈ مینجمنٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی کو وائٹ بال اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کرنے والے فاسٹ بولر محمد عباس ہیں جو آخری بار اگست 2021ء میں جمائیکا میں کھیلے تھے، انہوں نے 25 ٹیسٹ میں 90 وکٹیں حاصل کی ہیں اور موجودہ قائد اعظم ٹرافی کے 5 میچوں میں 31 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ سیریز کا آغاز 10 دسمبر کو ڈربن میں پہلے ٹی ٹوئنٹی سے ہو گا جبکہ پہلا ون ڈے 17 دسمبر کو پارل میں اور ٹیسٹ میچز بالترتیب 26 دسمبر اور 3 جنوری کو سنچورین اور کیپ ٹاؤن میں شروع ہوں گے۔

    گزشتہ ماہ سری لنکا اے کے خلاف پاکستان شاہینز کی جانب سے 15 وکٹیں لینے کے بعد فاسٹ بولر خرم شہزاد کو بھی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔میر حمزہ 15 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل چوتھے فاسٹ بولر ہیں اور اس وقت ایبٹ آباد میں لاہور وائٹس کے خلاف پشاور کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 19 وکٹیں لینے والے آف اسپنر ساجد خان ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، سلیکٹرز نے سنچورین اور نیولینڈز کی کنڈیشنز کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقا کو بطور مدمقابل مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک اسپیشلسٹ اسپنر نعمان علی کا انتخاب کیا ہے جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 20 وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ 17 ٹیسٹ میں 67 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ون ڈے میں بائیں ہاتھ کے اسپنر سفیان مقیم پہلی بار سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، انہوں نے زمبابوے کے خلاف 2 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 8 وکٹیں حاصل کیں جن میں دوسرے میچ میں 3 رنز کے عوض 5 وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے۔

    پاکستان کا ٹیسٹ اسکواڈ:
    ٹیسٹ اسکواڈ میں شان مسعود (کپتان) سعود شکیل (نائب کپتان) عامر جمال، عبداللّٰہ شفیق، بابر اعظم، حسیب اللّٰہ (وکٹ کیپر)، کامران غلام، خرم شہزاد، میر حمزہ، محمد عباس، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، نسیم شاہ، نعمان علی، صائم ایوب اور سلمان علی آغا ہیں۔

    ون ڈے اسکواڈ:
    ون ڈے اسکواڈ میں محمد رضوان (کپتان اور وکٹ کیپر )، عبداللّٰہ شفیق، ابرار احمد، بابر اعظم، حارث رؤف، کامران غلام، محمد حسنین، محمد عرفان خان، نسیم شاہ، صائم ایوب، سلمان علی آغا، شاہین شاہ آفریدی، سفیان مقیم، طیب طاہر اور عثمان خان (وکٹ کیپر) ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ:
    ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں محمد رضوان (کپتان اور وکٹ کیپر )، ابرار احمد، بابر اعظم، حارث رؤف، جہانداد خان، محمد عباس آفریدی، محمد حسنین، محمد عرفان خان، عمیر بن یوسف، صائم ایوب، سلمان علی آغا، شاہین شاہ آفریدی، سفیان مقیم طیب طاہر اور عثمان خان ( وکٹ کیپر) ہیں۔

    ممبر سلیکشن کمیٹی اور عبوری وائٹ بال ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ہم نے جس فارمیٹ کے لیے جو کھلاڑی ضروری ہے اسی سلیکشن کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تینوں اسکواڈ اچھی طرح سے متوازن ہوں اور جنوبی افریقا میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہوں۔

    ٹور شیڈول:
    10 دسمبر: پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل۔ ڈربن
    13 دسمبر: دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل۔ سنچورین
    14 دسمبر: تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل۔ جوہانسبرگ
    17 دسمبر: پہلا ون ڈے انٹرنیشنل۔ پارل
    19 دسمبر: دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل، کیپ ٹاؤن
    22 دسمبر: تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل، جوہانسبرگ
    26-30 دسمبر: پہلا ٹیسٹ، سنچورین
    3-7 جنوری: دوسرا ٹیسٹ، کیپ ٹاؤن

  • پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی سازش چل رہی ہے اور اس سازش کا ایک حصہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی ہے جو لاشوں کی سیاست کر رہی ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ "پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے اربوں روپے لابنگ کے ذریعے مختلف عالمی طاقتوں تک پہنچائے جا رہے ہیں”۔ پی ٹی آئی کے رہنما دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ سب ایک اسکرپٹ کے تحت ہو رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے عالمی اداروں اور فورمز پر پاکستان کے خلاف کام کرنے کے لیے منظم لابنگ کی ہے۔ اس لابنگ کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی اور معاشی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کر رہی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ہمیشہ سیاسی مفادات کے لیے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے، جبکہ ان کے بیانات اور اقدامات کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے ملک میں افراتفری پیدا کرنے اور معاشی بحران بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی کارکردگی بارے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے متعدد چیلنجز کے باوجود سندھ حکومت نے عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی ہے۔ سندھ میں 10 ہزار افراد کو آئی ٹی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکیں اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔سندھ حکومت نے 21 لاکھ بے گھر افراد کے لیے مکانات کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت ان افراد کو اپنے گھر دیے جائیں گے۔کراچی شہر میں متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں دو بڑے پراجیکٹس شامل ہیں، جن پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد کراچی کی انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کر دی گئی ہے تاکہ شہر کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور یہاں کے عوام کو بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ "پی ٹی آئی کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے، اور ان کی سیاسی حربے صرف ملک کی دشمنی میں ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے مختلف مواقع پر اداروں کے خلاف بیانات دیے ہیں جس سے ملک میں مزید سیاسی بحران پیدا ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کو خط لکھ کر پاکستان کی اقتصادی امداد بند کرنے کی کوشش کی۔ پی ٹی آئی کی قیادت ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے اور عالمی اداروں کے ساتھ ان کے تعلقات ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔

  • پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایس ایچ او طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایس ایچ او تھانہ نیو ائیرپورٹ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو میں لا اینڈ آرڈر کیلئے موٹروے پر تعینات تھا، رات تقریباً 11 بجے پرتشدد مظاہرین سے ہمارا سامنا ہوا یہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران آس پاس کی پہاڑیوں پر موجود شرپسند جن کے پاس آتشی اسلحہ تھا وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ان تمام شرپسندوں کے پاس تیس بور رائفل اور پسٹل تھے۔ ان شرپسندوں نے پہاڑوں پر آگ لگائی اور فائرنگ کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھنے لگے،شرپسندوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کھائی میں پھینک دیا جس سے میرا بازو فریکچر ہو گیا اور دیگر چوٹیں بھی آئیں اسی دوران ڈی پی او کے اسکواڈ نے مجھے کھائی سے ریسکیو کیا، اگر ایسا بروقت نہ کیا جاتا تو شاید آج میں یہاں موجود نہ ہوتا آج میں نے ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی کو جوائن کرلیا ہے اور میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہوں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی فائنل کال احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ شرپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا