Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شبلی فراز   جوڈیشل کمیشن سے  مستعفیٰ

    شبلی فراز جوڈیشل کمیشن سے مستعفیٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے جوڈیشل کمیشن سے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے بھی اسی کمیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ شبلی فراز کی جگہ اب سینیٹر علی ظفر جوڈیشل کمیشن میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے دو روز قبل قومی اسمبلی سے بیرسٹر گوہر اور سینیٹ سے سینیٹر علی ظفر کے نام جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی کے لیے تجویز کیے تھے۔ علی ظفر کے جوڈیشل کمیشن میں شامل ہونے کے بعد، پی ٹی آئی کے دونوں قائدین نے اس فیصلے کو پارٹی کے مفاد میں ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔شبلی فراز نے اپنے استعفے کے حوالے سے ابھی تک کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر وہ اپنی مصروفیات یا پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق کمیشن میں مزید وقت نہیں دے پائیں گے۔

    دوسری جانب، 2 روز قبل قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے بھی جوڈیشل کمیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ عمر ایوب نے اپنا استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو ان کی جگہ جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا تھا۔عمر ایوب نے اپنے استعفے کے حوالے سے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے خلاف درج مقدمات کے باعث کیا ہے، کیونکہ موجودہ قانونی چیلنجز ان کی کمیشن میں مؤثر کارکردگی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے مفاد میں ہے کہ وہ کسی اور کو اپنی جگہ نامزد کریں جو اس اہم کردار پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر سکے۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بعد بیرسٹر گوہر کا نام جوڈیشل کمیشن کے لیے تجویز کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا استعفیٰ جلد منظور کیا جائے اور بیرسٹر گوہر کو اس اہم منصب پر تعینات کر دیا جائے تاکہ کمیشن کی کارکردگی پر کوئی اثر نہ پڑے۔

    جوڈیشل کمیشن میں ان تبدیلیوں کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ ان کے رہنما اپنے قانونی امور پر توجہ دینے کے لیے یہ قدم اٹھا رہے ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ یہ فیصلہ اداروں کی بہتری کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

  • قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو،محسن نقوی کا دورہ،80 فیصد تعمیراتی کام مکمل

    قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو،محسن نقوی کا دورہ،80 فیصد تعمیراتی کام مکمل

    قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو۔ تعمیراتی کام نے سپیڈ پکڑ لی

    صرف 53 روز میں مجموعی طور پر 80 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو گیا،چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے قذافی سٹیڈیم کا تفصیلی دورہ کیا،مین بلڈنگ کا گرے سٹرکچر 100 فیصد جبکہ پویلین بلڈنگ کا گرے سٹرکچر 90 فیصد مکمل ہو گیا،انکلوژرز کے تعمیراتی کام 75 فیصد مکمل ہو گئے،نشستوں کے لیے سٹرکچر کی تعمیر اور خندق کا کام آخری مرحلے میں داخل ہو گیا،

    چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو کے کام کا معائنہ کیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے تعمیراتی کاموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نشتوں کے لئے تعمیرکردہ آخری سٹرکچر پر گئے اور گراؤنڈ کے ویو کو دیکھا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے آخری نشتوں سے گراؤنڈ کے نئے ویو کی تعریف کی،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی پویلین کے فلورز پر گئے اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے خندق کے دونوں اطراف دیدہ زیب گرل لگانے کی ہدایت کی،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا قذافی سٹیڈیم کے تعمیر نو کے کام پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ 10 اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو کے کام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ۔الحمد اللہ 53 روز میں انتہائی تیزی اور اعلی معیار کے ساتھ کام کیا گیا۔پوری ٹیم جانفشانی سے دن رات کام کر رہی ہے۔چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل پراجیکٹ کو مکمل کر لیں گے۔پورا سٹیڈیم سٹیٹ آف دی آرٹ اور عالمی معیار کا بنایا جا رہا ہے۔نئے سٹیڈیم میں تقریبا 34 ہزار شائقین کے میچ دیکھنے کی گنجائش ہو گی۔ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد۔ ڈائریکٹر انفراسٹرکچر۔ ایف ڈبلیو او اور نیسپاک کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

  • چیمپئنز ٹرافی،پی سی بی ہائبرڈ ماڈل پر مشروط آمادگی

    چیمپئنز ٹرافی،پی سی بی ہائبرڈ ماڈل پر مشروط آمادگی

    پی سی بی کا ہائبرڈ ماڈل کے لئے آمادگی کا اظہار، مگر بھارت میں عالمی ایونٹس کے لئے بھی یکساں حق کا مطالبہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہائبرڈ ماڈل پر غور کرنے کو تیار ہے، مگر اس کے بدلے بھارت میں ہونے والے عالمی ایونٹس کے دوران پاکستان کو بھی وہی آپشن ملنا چاہیے۔ پی سی بی نے اپنی تجویز آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے ساتھ دبئی میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پیش کی۔

    پی سی بی نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ عالمی ایونٹس کے حوالے سے ایک طویل المدتی اور مساوی معاہدہ چاہتے ہیں جو صرف 2025 کی چیمپئنز ٹرافی تک محدود نہ ہو، بلکہ اس میں پاکستان کو بھارت میں ہونے والے عالمی ایونٹس میں باہر کھیلنے کا اختیار بھی شامل ہو۔ تاہم یہ فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا کہ یہ معاہدہ اگلے تین سالوں کے لیے ہوگا یا 2031 تک

    بھارت میں ہونے والے عالمی ایونٹس میں تین بڑے مردوں کے ٹورنامنٹس شامل ہیں: 2026 کا ٹی20 ورلڈ کپ جو سری لنکا کے ساتھ مشترکہ طور پر ہو گا (فروری)، 2029 کی چیمپئنز ٹرافی (اکتوبر)، اور 2031 کا کرکٹ ورلڈ کپ جو بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوگا (اکتوبر-نومبر)۔ اس کے علاوہ، 2025 میں خواتین کا کرکٹ ورلڈ کپ بھی بھارت میں ہو گا۔ ان ایونٹس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز پر یہی مسئلہ برقرار رہے گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے دبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم کرکٹ کے لیے جو بھی بہتر ہوگا، وہ کریں گے۔ اگر ہم کوئی اور فارمولہ اپناتے ہیں تو وہ برابری کی بنیاد پر ہوگا۔ پاکستان کے لیے سب سے اہم چیز اس کی عزت ہے، باقی سب کچھ ثانوی ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ایک طرفہ انتظامات اب قابل قبول نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم بھارت جاتے رہیں اور وہ پاکستان نہ آئیں۔ جو کچھ بھی ہوگا، وہ برابری کی بنیاد پر ہوگا۔”

    بی سی سی آئی کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ ہائبرڈ ماڈل کو اپنانا چاہیں گے یا نہیں۔ تاہم، یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بی سی سی آئی عالمی ایونٹس کے دوران پاکستان کے لیے اسی طرح کے انتظامات کی مخالفت کر سکتا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے آئی سی سی بورڈ کا اجلاس دوبارہ ہو گا، جس میں پی سی بی کی تجویز پر غور کیا جائے گا اور اس کے بعد ایک حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں پی سی بی اور بی سی سی آئی کو اپنے اپنے حکومتوں سے اس فیصلے کی توثیق حاصل کرنا ہوگی۔ آئی سی سی نے اس اجلاس کی تاریخ 5 دسمبر متعین کی ہے۔

    اس وقت چیمپئنز ٹرافی کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں: ایک تو یہ کہ ٹورنامنٹ ہائبرڈ ماڈل کے تحت منعقد ہو، جس میں بھارت اپنے میچ پاکستان سے باہر کھیلے؛ دوسرا یہ کہ پورا ٹورنامنٹ کسی دوسرے ملک میں ہو؛ یا پھر بھارت کے بغیر ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے۔

    پچھلے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پی سی بی کو بی سی سی آئی کے ساتھ علیحدہ مذاکرات کرنے کے لیے وقت دیا جائے گا تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے، کیونکہ بی سی سی آئی نے آئی سی سی کو بتایا تھا کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی ٹیم کے بھارت آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پچھلے جمعے کو کہا تھا کہ "سیکیورٹی خدشات” کی وجہ سے بھارت پاکستان نہیں جا سکتا۔

    آئی سی سی میں حالیہ تبدیلی کے بعد جے شاہ، جو 2019 سے بی سی سی آئی کے سیکرٹری تھے، نے 1 دسمبر کو آئی سی سی چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اس کے بعد اب تک چیمپئنز ٹرافی کے مسئلے پر ان کی قیادت میں ایک اجلاس متوقع ہے۔

    ایسی صورتحال میں جب وقت کم ہے اور ایونٹ کے آغاز میں صرف 77 دن باقی ہیں، آئی سی سی کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی تک ٹورنامنٹ کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے، جو عموماً ایونٹ کے آغاز سے 100 دن پہلے جاری کر دیا جاتا ہے، اور نہ ہی ٹکٹوں کی فروخت کا عمل شروع کیا گیا ہے تاکہ مداح اپنی سفری انتظامات کر سکیں۔

  • فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    صدر میکرون کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وہ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جو جون میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی کوششیں کی جائیں۔صدر میکرون نے کہا کہ وہ اور سعودی ولی عہد فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اپنے سفارتی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، تاکہ اس بحران کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہوا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی شراکت داروں کو اس معاملے کے حل کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا؟ تو میکرون نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے جب یہ قدم دو طرفہ تسلیم کی تحریک کے آغاز کے طور پر اٹھایا جائے گا۔صدر میکرون نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اس بات کا خواہاں ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس یورپی اور غیر یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو اس دو ریاستی حل کی سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور فلسطین کے مکمل آزاد ہونے تک اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ یورپی یونین کے بعض نمائندوں نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ سفارتکاری کو سراہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بغیر فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

    فرانسیسی صدر کا یہ اعلان عالمی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب ہوتی ہے اور دونوں طرف سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے، تو یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازعہ کے حل کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی دینے سے معذرت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی پولیس کے اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے 3 دسمبر کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 23 سے 26 نومبر تک غیر حاضر رہنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ اس حوالے سے فہرستیں فوری طور پر طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سرکلر کی نقول اسلام آباد کے تمام اہم پولیس افسران جیسے ڈی آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی، ڈی آئی جی لاء اینڈ آرڈر، ڈی آئی جی سیفٹی، اے آئی جی لاجسٹکس اور اے آئی جی سپیشل برانچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

    اس وقت تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پولیس کی ڈیوٹی پر غیر حاضری ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام تھا کہ کچھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی ہمدردی کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنے فرائض سے گریز کیا،سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے ایسا رویہ اپنانے سے بچا جا سکے جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

    اس کارروائی کو حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں انضباطی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    نتیجہ:

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ کارروائی پولیس اہلکاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتی جائے گی، اور کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اپنے فرائض سے غفلت یا لاپرواہی برتے گا۔ اس کا مقصد عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

  • یونیورسٹی میں خاتون کو ہراساں کرنے پر پروفیسر برطرف،10 لاکھ جرمانہ

    یونیورسٹی میں خاتون کو ہراساں کرنے پر پروفیسر برطرف،10 لاکھ جرمانہ

    وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے وفاقی اردویونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈاکٹر حافظ اسحاق کو نوکری سے برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ 10لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا ہے۔

    فاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت(فوسپا) کی جانب سے جاری پریس ریلیزکے مطابق فوزیہ وقار نے عروج ملک بنام ڈاکٹرحافظ اسحاق کیس میں تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ یہ کیس پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں افراد کو ہراساں ہونے سے بچانے اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے فوسپا کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتا ہے ۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت(فوسپا) نے ملزم کو اس کے عہدے سے برخاست کرنے کا حکم دیا اور ملزم پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جس میں سے 8 لاکھ روپے شکایت کنندہ کو اور 2 لاکھ روپے ریاستی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ۔

    واضح رہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی (ایف یویواے ایس ٹی) کی لیکچرر عروج ملک نے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈاکٹر حافظ اسحاق کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی جس میں کئی سالوں تک بار بار جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ۔ اس مسئلے کو غیر رسمی طور پر حل کرنے کی کوششوں کے باوجود ہراساں کرنا جاری رہا اورعروج ملک کوقانونی نظام کے ذریعے انصاف حاصل کرنے پر مجبور کیا گیا ،اس کیس کو ابتدائی طور پر ادارہ جاتی سطح پر طریقہ کار میں تاخیر اور برطرفی کا سامنا کرنا پڑا جب ایف یویواے ایس ٹی کی انکوائری کمیٹی عروج ملک کی شکایت کو مناسب طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہی ۔ انکوائری کے عمل میں کارروائی اور اعتماد کی کمی سے ناخوش عروج ملک نے فوسپا سے رابطہ کیا ۔ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعدعروج ملک کی غیر چیلنج شدہ شہادت بھی ریکارڈ کی گئی ۔ فوسپا نے ڈاکٹر اسحاق کے اقدامات کو کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010 کے تحت ہراساں کرنے کے تحت پایا ،ملزم نے جسمانی طور پر ہراساں کیے جانے کا اعتراف کیا اور شکایت کنندہ سے ایسا کرنے پر معافی بھی مانگی ۔ وفاقی اردو یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان جرمانوں کو نافذ کرے اور 5 دسمبر 2024 تک فوسپا کو تعمیل کی رپورٹ پیش کرے ۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان و دیگر پر فردجرم کی کاروائی چھٹی بار مؤخر

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان و دیگر پر فردجرم کی کاروائی چھٹی بار مؤخر

    راولپنڈی: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی.ملزمان کے وکلاء نے انسداد دہشتگردی کی دفعات چیلنج کردی.وکلاء صفائی کی درخواست پر کل سماعت ہوگی.9 مئی جی ایچ کیوگیٹ حملہ کیس،وکلا صفائی نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں،مقدمہ متعلقہ عدالت کو بھجوایا جائے، مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا ،جی ایچ کیو حملہ کیس میں فرد جرم کی کارروائی آج چھٹی دفعہ ملتوی کی گئی، سماعت 5 دسمبر کو ہوگی، اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی۔

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی چالان تفصیلات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت ملزمان پر مجموعی طور پر 27 سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں،ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت قیادت میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا، جی ایچ کیو گیٹ پر دھاوا بولا گیا اور گیٹ توڑ دیا، فوجی جوانوں نے منع کیا مگر باز نہیں آئے اور توڑ پھوڑ کرتے رہے،ملزمان نے حساس عسکری املاک توڑی اور آگ لگا دی، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا، پیٹرول بم بھی مارا گیا، ملزمان جی ایچ کیو گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور فورسز سے بھرپور مزاحمت کی گئی، پاکستان میں بغاوت کا ساماں پیدا کیا گیا،جی ایچ کیو گیٹ پر پیٹرول بم ٹائر جلا کر آگ لگائی گئی اور بلڈنگ کے شیشے توڑے دیے گئے، پاک آرمی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری ملازمین پر حملے کیے گئے، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی کے نعرے اور خان نہیں تو پاکستان نہیں کے نعرے لگائے گئے،حساس دفاتر آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو عمارات پر حملے کیے گئے، مظاہرہ اور احتجاج منظم سازش مجرمانہ کے تحت کیا گیا، موقع پر 6 ملزم گرفتار کیے ان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں، چالان میں استدعا کی گئی کہ ملزمان کو سخت ترین عبرت ناک سزائیں دی جائیں

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو مظاہرین کی جانب سے جی ایچ کیو سمیت سرکاری املاک، فوجی چوکیوں اور تنصیبات کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں تا ہم پی ٹی آئی کے باقی رہنما ضمانتوں پر ہیں، نومئی کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، ڈیڑھ برس ہو چکا ہے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان 9 مئی جی ایچ کیو کے سامنے پر امن اختجاج کے بیان پر قائم ہیں،29 جولائی کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے وضاحت کے ساتھ دوبارہ اعتراف کرلیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی اعتراف نہیں کیا،میرے جی ایچ کے او کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کو اعتراف اور اقبال جرم بنا کر پیش کیا گیا،میں نے کوئی اعتراف یا اقبال جرم نہیں کیا۔ 9 مئی کے بعد میرے 3 وی لاگز بھی موجود ہیں، میں 9 مئی مقدمات کی تفتیش میں بھی کہہ چکا ہوں پر امن اختجاج کریں گے، 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہماری بے گناہی چھپی ہے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ جو عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جہیز کی یہ مروجہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت شکل اختیار کر گئی۔ برصغیر میں تو گاڑی بائک سونا زیور اور گھر کا فرنیچر پردے قالین وغیرہ تک مانگ لیا جاتا ہے
    دلہن کے مہر کے بدلے کے طور پر بھی جہیز کے تعین کی کوشش کی جاتی ہے
    اگرغور کیا جاۓ تو جہیز کے مطالبے کو رشوت کی ایک قسم کہا جا سکتا ہے
    آج کل ہر کوئی جہیز کو لعنت قرار دیتا ہے
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ الہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا نبی ص کی سنت کو لعنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے دراصل لعنت تو اسے ہم نے خود بنا دیا ہے محض جہالت اور لالچ کی وجہ سے،لڑکے والے خاص طور پر سامان اور کپڑوں کی لسٹیں بنا کر باقاعدہ ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ا س بات پر ذرا سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے….اپنے چار پانچ سو دوست، رشتےدار بھی شادی میں کھانے پر ضرور بلاتے ہیں اور ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں شادی پر وی آئی پی مہمان نوازی کی توقع کرتے ہیں وجہ یہ کہ ہم لڑکے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہٸے کہ لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی لڑکی کو کچھ نئی زندگی کی شروعات کے لۓ شادی پر دیں ،نہ کہ لڑکے کے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ سازو سامان کی بھی ذمہ داری اٹھایں_نجانے لڑکے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لخت جگر بیٹی کو بیس بائیس سال تک پالا پوسا، لاکھوں روپے خرچ کر کے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا اوراب وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایک دوسرے خاندان کے حوالے کرنے کا رسک لے رہے ہیں کہ نجانے لڑکا اور اسکا خاندان آگے جا کر کیسےنکلیں ، لڑکے والوں کو ایک ایسی شخصیت مل رہی ہے جو نہ صرف انکے خاندان کی نسل کو آگے بڑھائے گی بلکہ انکا گھر بھی سنبھالے گی

    اگر لڑکے والے صرف اتنا ھی سوچ لیں تو شاید طرح طرح کے مطالبات کر کے لڑکی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں ایسی سوچ لڑکے کی تربیت، تعلیم غیرت اور خاندانی ہونے پر منحصر ہے بےغیرت اور کم نسل لڑکے کو ایسی سوچ نہیں آتی نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے، گو کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے دونوں طرف سے چھان بین ہوتی ہے لیکن پھر بھی کل کا کسے پتہ………. اسلام شادی بیاہ میں لڑکی والوں پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں عائد کرتا کہ وہ شادی میں لڑکے کے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور لژکے والوں کی شرطیں پوری کرتے پھریں بلکہ لڑکے کی ذمہ داری ہے شادی اور شادی کے بعد کی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز کا پہلے سے خود بندوسبت کرکے رکھے پھر شادی کرے نہ کہ لڑکی سے کپڑے، کھانا اور سامان مانگے …… شادی کی خوشی میں وہ دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے اور تمام دوست رشتےداروں کو کھانا کھلائے شادی میں لڑکی والوں پر کھاناکھلانے کابوجھ نہ ڈالےاگر اپنے رشتے داروں کو بلانے کا بہت شوق ہے تو شادی میں بھی انکے کھانے کا بندوبست لڑکااپنی جیب سے خود ہی کرے…….لڑکے والوں کو چاہیئے اگر ان کی یا انکے لڑکے کی اتنی حیثیت نہیں ہے تو شادی کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیں جب تک اس قابل نہ ہو جائیں تاکہ لڑکی والوں کے آگے ننگا اوربھوکا نہ بننا پڑے شادی کے معاملات نمٹانے کا صحیح طریقہ جانننے کیلۓ اپنے بزرگوں کے ساتھ ساتھ علماۓ دین سے بھی پوچھا اور مشورہ کیا جاۓ.

    اللہ تعالی ہم سب کو شادی بیاہ کے معاملات میں سمجھداری اوردین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لڑکے اور اسکے خاندان کو بے غیرت کے بجائے غیرتمند، سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والا بنائے آمین…….. اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ماحول نے اسے اتنا ہی مشکل تر بنا دیا ہے ………ادھار قرضے لے کرغیر ضروی رسموں سہرا, بارات مہندی, بری, شو بازی , فنکشن, دکھاوا وغیرہ جو شادی کو مشکل تر بناتے ہیں ختم کر کے سادگی اپناٸی جاۓ مسجد میں نکاح کا اہتمام ہو اور اس کے بعد سادہ سی شادی کی دعوت تک محدود رہا جاۓ جو آج کے دور میں سمجھداری اور عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہے

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی کونسل کے 28ویں اجلاس میں شرکت کے لیے آج ایران روانہ ہوں گے۔ اس اجلاس میں اسحاق ڈار اپنے خطاب کے دوران پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے کہ وہ ای سی او کے منشور کے مطابق علاقائی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، اسحاق ڈار خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف اہم موضوعات پر بات کریں گے، جن میں ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی ترقی، ویزا کے نظام میں آسانی اور سرحدی طریقہ کار کو سادہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے ای سی او ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط اور بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں اور معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔

    نائب وزیراعظم اپنے خطاب میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ان کے خطے کی امن و سلامتی پر اثرات کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا بھی اعادہ کریں گے۔ نائب وزیراعظم اجلاس کے دوران دیگر وزراء اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے، تاکہ مختلف مسائل پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں اور خطے کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی اقتصادی ٹیم ایران روانگی کے لیے تیار ہے اور اس اجلاس کے دوران اس کی موجودگی خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    شیخوپورہ کے ایک اسکول کے پرنسپل کو خواتین  سے نازیبا حرکات کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم پرنسپل ارسلان ولد ریاست خواتین  کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرتا اور ان کی ویڈیوز بناتا تھا۔ یہ ویڈیوز بعد ازاں ملزم ان اساتذہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پرنسپل کے خلاف اس وقت کارروائی کی گئی جب خواتین  کی چار ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کی جانب سے خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، سکول میں لگے سی سی ٹی وی کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، ملزم نے خواتین کے ساتھ زیادتی کی اور نازیبا حرکات کیں، اس واقعے نے اسکول کے تعلیمی ماحول اور مقامی کمیونٹی میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ملزم نے اس نوعیت کی مزید ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی سرگرمیاں تو نہیں کیں۔

    اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد مقامی اسکول کے اساتذہ اور والدین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم پر سنجیدہ الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟