Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والی شخصیات و عناصر کی شناخت کے لیے ایک جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے۔ یہ ٹاسک فورس مختلف سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد حالیہ احتجاجات اور نازیبا پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ جوائنٹ ٹاسک فورس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں 10 اہم اداروں کے نمائندے شامل ہیں، جن میں پاکستان کی ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ٹاسک فورس کی سربراہی چیئرمین پی ٹی اے کریں گے جبکہ آئی ایس آئی، ایم آئی کا رکن، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس،ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم،جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی ،جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ،وزارت اطلاعات کا رکن ٹاسک فورس کے اراکین میں شامل کیے گئے ہیں

    جوائنٹ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد حالیہ احتجاجات کے دوران پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے والے افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہ ٹاسک فورس سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو ٹریک کرے گی تاکہ ملوث عناصر کا پتہ چلایا جا سکے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ٹاسک فورس کو اپنے کام کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران وہ اس پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تحقیق کرے گی اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔ حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ پاکستان کی سالمیت اور عزت کا دفاع کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

    social

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی رشتہ دار ثقلین خان گنڈاپور جاں بحق ہوگئے۔

    واقعہ ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ثقلین گنڈاپور کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول ثقلین گنڈاپور کے والد اسماعیل خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے رشتہ میں چچا ہیں۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، اور پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ ذاتی رنجش یا زمین کے تنازعے کے باعث ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ہم ہر ممکن اقدام اٹھا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور مقامی لوگ اس قتل کو ایک بڑے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔پولیس کی ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • ایس آئی ایف سی کی معاونت ، توانائی کے شعبے میں نجکاری کیلیے حکومتی اقدامات

    ایس آئی ایف سی کی معاونت ، توانائی کے شعبے میں نجکاری کیلیے حکومتی اقدامات

    پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتری کے لیے حکومت نے ایس آئی ایف سی کی معاونت سے اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں توانائی کے شعبے کے مسائل کے مؤثر حل اور اس کی ترقی کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔

    حکومت نے توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت حکومت نے تین بہترین کارکردگی دکھانے والی ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اہم پیشرفت کی ہے۔توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار کو بڑھانے اور اس کے انتظام میں بہتری لانے کے لیے ایس آئی ایف سی کو اہم کردار سونپا گیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی مدد سے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو جلد اور مؤثر طریقے سے مکمل کیا جائے گا تاکہ اس سے نہ صرف توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر ہو بلکہ ملک کی معیشت میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں۔

    حکومت نے ابتدائی طور پر 52 فیصد انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) میں سے تین اہم ڈسکوز کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے، جن میں اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی ڈسکوز شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کا انتظام حکومت کے زیرِ نگرانی ہے اور ان کی نجکاری توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔
    توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نجکاری کے ان اقدامات کا مقصد ملک میں توانائی کے نظام کو زیادہ مؤثر اور مستحکم بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، ان اقدامات سے توانائی کی ترسیل میں بہتری آئے گی اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت سے یہ اصلاحات توانائی کے شعبے کی مشکلات کے حل کے لیے اہم کردار ادا کریں گی اور اس کے نتیجے میں ملک کی توانائی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔

  • ہمیں متحدہ عرب امارات کے ترقی و خوشحالی کے شاندار سفر پر فخر ہے،وزیراعظم

    ہمیں متحدہ عرب امارات کے ترقی و خوشحالی کے شاندار سفر پر فخر ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے 53 ویں قومی دن کے موقع پر اس ملک کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد دی ہے۔ اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ "ہمیں متحدہ عرب امارات کے ترقی اور خوشحالی کے شاندار سفر پر فخر ہے جو عزت مآب شیخ زاید بن سلطان النہیان مرحوم کی دانشمندی اور فہم و فراست کی بدولت ممکن ہوا۔”

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ "جدت کے اس وژن کو میرے بھائیوں، عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان اور عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے آگے بڑھایا ہے۔”انہوں نے یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ "پاکستان ہمیشہ سے متحدہ عرب امارات کا ثابت قدم بھائی اور شراکت دار رہا ہے۔” وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں ایک باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔

    آخر میں وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستی کو سراہتے ہوئے کہا، "پاکستان متحدہ عرب امارات دوستی زندہ باد!”

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    مقامی ہوٹل میں متحدہ عرب امارات کے 51ویں قومی دن کی تقریب منعقد ہوئی

    ،پاکستان کو اپنے اماراتی بھائیوں کی زبردست ترقی پر فخر ہے

  • بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنزلی اور ناکامی کی وجوہات پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اور اس میں مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کو الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ابتداء 1980 کی دہائی سے ہوئی تھی، جب پی آئی اے کی کارکردگی میں کمی آئی اور اس کی کامیابی کے دن ختم ہوئے۔ پی آئی اے کی ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ شامل ہیں۔

    پی آئی اے کی بدحالی کا آغاز پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہوا، جب اس ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کی انتظامیہ میں اقربا پروری اور بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے، جس سے ادارہ مزید کمزور ہو گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ایئر لائن کی صلاحیتوں کو متاثر کیا، اور اس کے نتیجے میں ملازمین کی بھرتی اور دیگر اہم فیصلے ذاتی مفادات کے تحت ہونے لگے۔

    پی آئی اے کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ ایئرلائنز اپنی خدمات، معیار اور جدید طیاروں کے ساتھ پی آئی اے سے کہیں آگے نکل گئیں۔ یہ ایئرلائنز نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترجیح بن گئیں بلکہ انہوں نے پاکستانی مسافروں کے لیے بھی بہترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان ایئرلائنز نے اپنے نیٹ ورک، پائیداری اور وقت کی پابندی کے ذریعے پی آئی اے کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی۔

    پی آئی اے کی سروسز، نیٹ ورک اور وقت کی پابندی میں کمی کا شکار ہوئیں۔ صارفین کو ایسے ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا جو نہ صرف غیر مستحکم ہو بلکہ جس کے طیارے بھی پرانے اور غیر محفوظ ہوں؟ وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کے طیاروں کی حالت خراب ہوئی اور اس کی فضائی سروسز نے عالمی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی۔ اس کے نتیجے میں مسافر دیگر ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے۔

    پی آئی اے کی زبوں حالی میں ایک اور سنگین موڑ اس وقت آیا جب پی ٹی آئی دور حکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیر ہوابازی تھے اور انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے حوالے سے بیان دیا، اس کے بعد پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔پی ٹی آئی دور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو مزید بگاڑ دیا بلکہ ایئر لائن کے ادارتی ڈھانچے میں بھی بے ترتیبی پیدا کی۔ ان کے فیصلوں نے ایک طرف جہاں ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا، وہیں دوسری طرف پی آئی اے کی ساکھ اور شہرت بھی مزید خراب ہوئی۔

    اگر پی آئی اے کی موجودہ حالت میں کوئی بہتری لانا ہے تو حکومت کو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری کی روک تھام اور پیشہ ورانہ معیار کو دوبارہ قائم کرنا ایک لازمی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • نسان مالی بحران کا شکار،چیف فنانس آفیسر مستعفی

    نسان مالی بحران کا شکار،چیف فنانس آفیسر مستعفی

    نِسان کی مالی بحران کی حقیقت سامنے آئی، چیف فنانس آفیسر نے استعفیٰ دے دیا

    نِسان، جو جاپان کی معروف آٹوموبائل کمپنی ہے، ان دنوں شدید مالی بحران کا شکار ہے، اور اس کے نتیجے میں کمپنی کے چیف فنانس آفیسر اسٹیفن ما نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کمپنی کے بحران کی بنیادی وجہ چین سے آنے والی سستی برقی گاڑیاں بتائی جا رہی ہیں، جو نِسان کے لیے سنگین چیلنج بن گئی ہیں۔

    نِسان، جو برطانیہ میں 7,000 اور امریکہ میں 17,000 افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، اس وقت ایک بڑے لاگت کم کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 9,000 ملازمتیں ختم کرے گی اور اپنی عالمی پیداوار کی صلاحیت کا 20 فیصد کم کرے گی، تاکہ موجودہ مالی سال میں 2.6 بلین ڈالر (تقریباً 2 بلین پاؤنڈ) کی بچت کی جا سکے۔نِسان کا کہنا ہے کہ اس کی آمدنی میں کمی چین اور امریکہ جیسے اہم مارکیٹس میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے، اور اس کی حکمت عملی اب چین سے آنے والی سستی برقی گاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کی پیداوار کی لاگت کو 30 فیصد تک کم کرنا ہے۔

    چینی آٹوموبائل کمپنیاں جیسے BYD، چیری، جیلی، اور SAIC موٹر اپنی سستی برقی گاڑیوں کے ساتھ عالمی منڈی میں دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر BYD نے حال ہی میں ٹیسلا کو اپنے سہ ماہی ریونیو کی بنیاد پر پیچھے چھوڑا، جب کہ ٹیسلا کی آمدنی 25.2 بلین ڈالر تھی، جب کہ BYD کی آمدنی 28.2 بلین ڈالر تھی۔نِسان کے چیف ایگزیکٹیو، میکوتو اوچِڈا نے کہا کہ "ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ہم وقت کے ساتھ نہیں چل سکے اور ہم یہ پیش گوئی نہیں کر سکے کہ ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں اتنی مقبول ہوں گی۔”

    نِسان کی عالمی فروخت میں پہلی ششماہی کے دوران 3.8 فیصد کمی آئی ہے، جس میں چین میں 14.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ کمپنی کی مالی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نِسان 2026 تک اپنے سب سے بڑے قرض میں 5.6 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔نِسان نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی پیداوار کی صلاحیت کو 20 فیصد کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت 25 گاڑیوں کی پیداوار لائنز میں تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ آپریشنل لاگت میں کمی کی جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل میں آپریشنل عملے کی کارکردگی بڑھانے کے لیے پیداوار کی رفتار اور شفٹوں میں تبدیلیاں کرے گی۔

    nissan
    نِسان کی حکمت عملی میں چین اور امریکہ جیسے بڑے بازاروں میں برقی گاڑیوں کی فروخت کو بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں، لیکن ان کم قیمت برقی گاڑیوں کے خلاف کامیاب مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ، نِسان کو اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ وہ 2026 تک اپنے سب سے بڑے قرض میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، جس سے کمپنی کے مالی استحکام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    نِسان کے اندرونی ذرائع کے مطابق، کمپنی کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف 12 سے 14 ماہ ہیں۔ اس دوران اسے اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے جاپان اور امریکہ جیسے اہم مارکیٹس سے نقد رقم کی فراہمی کی ضرورت ہو گی۔ کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ نِسان جاپان کی دوسری بڑی کار ساز کمپنی ہونڈا کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کر سکتی ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ہونڈا نِسان میں ایک حصہ خریدے، حالانکہ یہ ایک آخری حربہ ہو گا۔

    برطانیہ میں برقی گاڑیوں کی فروخت میں کمی کے پیش نظر نِسان نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برطانیہ کی "زیرو ایمیشنز وہیکلز مینڈیٹ” کے تحت کار ساز کمپنیوں کو ہر سال اپنے برقی گاڑیوں کی فروخت کا تناسب بڑھانا ہوتا ہے، جو 2030 تک نئے پٹرول اور ڈیزل انجن والی گاڑیوں کی مکمل پابندی کی طرف لے جائے گا۔ نِسان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہدف پورا نہ ہوا تو کمپنیوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور انہیں برقی گاڑیوں کے مخصوص کریڈٹس خریدنے پڑیں گے، جن کی کوئی بھی مقامی پیداوار نہیں کرتا۔

    nissan
    نِسان کی موجودہ مالی حالت اور اس کے مستقبل کے لیے چیلنجز واضح ہیں۔ چینی برقی گاڑیوں کی سستی قیمتوں اور عالمی منڈی میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سامنے نِسان کو اپنے کاروباری ماڈل کو جدید بنانے اور کم قیمت برقی گاڑیوں کی پیداوار میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اداکارہ نگار چوہدری کے شوہر عماد بٹ کو منشیات برآمدگی کیس میں سزا

    اداکارہ نگار چوہدری کے شوہر عماد بٹ کو منشیات برآمدگی کیس میں سزا

    سیشن کورٹ لاہور نے پاکستانی اسٹیج اداکارہ نگار چوہدری کے شوہر عماد بٹ کو منشیات برآمدگی کے مقدمے میں 15 سال کی سزا سنادی ہے، اور ساتھ ہی ملزم پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

    عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے مطابق، عماد بٹ کو نہ صرف قید کی سزا کا سامنا ہوگا بلکہ جرمانہ نہ ادا کرنے کی صورت میں انہیں مزید ایک سال کی قید بھگتنی پڑے گی۔ ملزم عماد بٹ کو چند ہفتے قبل نارکوٹکس انویسٹیگیشن یونٹ (این آئی یو) نارتھ نے گرفتار کیا تھا۔ این آئی یو نارتھ کی طرف سے کیے گئے تحقیقات اور کامیاب کارروائی کے دوران ملزم سے بھاری مقدار میں مختلف اقسام کی منشیات برآمد کی گئی تھیں۔ منشیات کی مقدار اور نوعیت کے پیش نظر، ملزم کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ عماد بٹ مختلف ممالک سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔ ان ممالک میں اٹلی، اسپین، ہالینڈ اور بیلجیم شامل ہیں، جہاں سے وہ منشیات لانے کے بعد پاکستان میں ان کی غیر قانونی ترسیل کرتا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمہ تیار کیا اور اس کے خلاف کارروائی کی۔عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم عماد بٹ کو جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 15 سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ملزم پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق، اگر ملزم جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے مزید ایک سال کی قید بھگتنا ہوگی۔

    اس حوالے سے اسٹیج اداکارہ نگار چوہدری کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ نگار چوہدری پاکستان کی معروف اسٹیج اداکارہ ہیں اور ان کے شوہر کا اس سنگین جرم میں ملوث ہونا ان کے مداحوں اور شوبز صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔

    ملزم عماد بٹ کی گرفتاری اور اس کے نیٹ ورک کا بے نقاب ہونا ایک بڑی کامیابی ہے، جو منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم قدم ہے۔ عدالت نے اس کیس کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

    ملزم عماد بٹ کے وکلا کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی باقاعدہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر اپیل مسترد ہوتی ہے تو عماد بٹ کو 15 سال کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

  • پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالت کرے گی ،

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالت کرے گی، اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کی رہائی کا معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے، اور یہ عدلیہ کا فیصلہ ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ واقعات پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک دن بھی چلنے کا جواز نہیں مل رہا۔ "جو کچھ اسلام آباد میں ہوا ہے، وہ بہت افسوسناک اور اچھا نہیں تھا۔ حکومت کو فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے،” جے یو آئی کے سربراہ نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ممکنہ کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "کیا پاکستان کے فیصلے ٹرمپ کرے گا؟ انا للہ و انا الیہ راجعون، پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا۔” مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیاست اور فیصلے پاکستان کے عوام اور ان کی منتخب حکومت کے ہاتھ میں ہیں، نہ کہ کسی غیر ملکی قوت کے۔

    اس موقع پر انہوں نے موجودہ حکومت کے بارے میں بھی سخت تبصرہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ "عوامی رائے کے مطابق جو حکومت نہیں بنے گی وہ مسائل پر قابو نہیں پاسکتی۔” ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہاں حالات انتہائی ابتر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم صوبے کو مرکز سے لڑانے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی صوبے میں گورنر راج کے حق میں ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "کسی پارٹی پر پابندی لگانا یا گورنر راج نافذ کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس وقت ایسے حالات نہیں ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے کوئی امید رکھی جاسکے کہ مسائل حل ہو سکیں۔” مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کا حل نکالے اور بحرانوں کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک کے مفاد میں کام کریں، نہ کہ اپنی ذاتی مفادات کے لیے تصادم کریں۔ پاکستان کے مسائل کا حل صرف جمہوری طریقہ کار اور عوامی نمائندگی میں ہی ممکن ہے۔

  • ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں موجود اختلافات کے بارے میں وضاحت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں ہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی میں شدید اختلافات کی وجہ سے کوئی تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ واقع ہو سکتی ہے۔شوکت یوسفزئی نے مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔ مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں صوبائی حکومت کا ترجمان ہی وضاحت دے سکتا ہے۔شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات اور پارٹی کی موجودہ صورتحال نے انہیں مایوس کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت سے انہیں کچھ زیادہ توقعات تھیں لیکن اب وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترے۔

    شوکت یوسفزئی کے بیانات اور مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بعد پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں مزید کشیدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پارٹی کی قیادت کی طرف سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی مکمل وضاحت نہیں آئی، جس کے باعث پارٹی کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • چین کی طرف  سے وزیراعلیٰ پنجاب کو سرکاری دورے کی خصوصی دعوت

    چین کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کو سرکاری دورے کی خصوصی دعوت

    چین کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکو سرکاری دورے کی خصوصی دعوت دی گئی
    وزیراعلی ٰپنجاب کو چین کی طرف سے 8 سے 15 دسمبر تک دورے کی دعوت دی گئی ہے،مریم نواز چین کی حکمران جماعت کی دعوت پر چین کا دورہ کرنیوالی پہلی خاتون وزیراعلی ٰہونگی،چین کی حکمران کمونسٹ پارٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ مریم نوازکو باضابطہ دعوت نامہ موصول ہو گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اگلے ماہ چین کا 8 دن کا خصوصی دورہ کریں گی ،وزیراعلی پنجاب مریم نواز بیجنگ، شنگھائی اور گوانگ ڈونگ کے دورے کریں گی،سی پی سی کی خصوصی دعوت پر وزیراعلیٰ مریم نواز کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی چین جائے گا ،پنجاب اور چین کے نجی سیکٹرز کے درمیان کاروبار ی اور تجارتی روابط پر بھی غور کیا جائے گا ،دعوت نامے میں پاک،چین کے درمیان تعاون اور تعلقات کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہارکیا گیا ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز چین کے نمایاں قائدین اور اہم حکومتی زعما ء ملاقات کریں گی