Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو احتجاج، 23 نومبر سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اسلام آباد، کے پی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں معطل کی جا سکتی ہے،پی ٹی اے کی جانب سے 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹیو کر دی جائے گی، فائر وال ایکٹیو ہونے سے انٹرنیٹ سروس سلو جبکہ سوشل میڈیا ایپز پر ویڈیوز، آڈیوز ڈؤان لوڈ نہیں ہو سکیں گی،احتجاج کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کہتے ہیں کہ 24 نومبر احتجاج کےلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے کارکن صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکن مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے

    علاوہ ازیں تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے خصوصی اسکواڈ تیارکیا ہے، اسکواڈ میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے 9 ہزار کارکنان شامل ہوں گے، صوبائی وزیر مینا خان اور معاونِ خصوصی سہیل آفریدی اس اسکواڈ کی قیادت کریں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی پشاور کے اجلاس میں اسکواڈ کو جہادی قرار دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکواڈ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی اسکواڈ مرکزی قافلے کے آگے ہو گا اور اس اسکواڈ کو شیلنگ سے بچاؤ کا سامان بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے راولپنڈی میں کنٹینرز کا جال بچھا دیا گیا، دفعہ 144نافذ کی گئی ہے، راولپنڈی میں 26 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے جلسے جلوس،ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تو ہیں پی ٹی آئی جلسے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے راولپنڈی کو 50 مختلف مکامات سے بند کرنے منصوبہ بنا لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کو 50 پوائنٹس سے مال بردار کنٹینرز، اور خاردار تاروں سے سیل کر دیا جائے گا کیونکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت ضلعی پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علاوہ ازیں وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ 24 نومبر کے احتجاج میں کوئی بھی سرکاری مشینری، لوگ یا پیسہ استعمال نہیں ہو گا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل عمران خان کو ریلیف ملا ہے،باقی کیسز میں بھی ملے گا،قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے اور ریلیف مل جائے گا،پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، باقی کیسز میں بھی ریلیف ملے گا،

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پاکستانی تاجر کا چینی کمپنی کو "چونا”11 کروڑ میں معدنیات کی ڈیل کر کے مٹی بھیج دی

    پاکستانی تاجر کا چینی کمپنی کو "چونا”11 کروڑ میں معدنیات کی ڈیل کر کے مٹی بھیج دی

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کوآپریٹو کرائم سرکل نے ایک بڑے دھوکہ دہی کے کیس میں کارروائی کرتے ہوئے چینی کمپنی کو معدنیات کے بجائے 11 کروڑ روپے کے عوض کنٹینرز میں مٹی اور بجری بھر کر بھیجنے کے الزام میں ایک تاجر کو گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق، یہ کارروائی کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی جانب سے کی گئی، جہاں میسرز ڈنزو ٹریڈرز کے مالک سید ذیشان افضل بلگرامی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ یہ مقدمہ چینی درآمد کنندہ کمپنی میسرز ڈینزو ٹریڈرز کی خاتون نمائندہ مس کورائن چن کی شکایت پر فوجداری انکوائری کے بعد درج کیا گیا۔شکایت کے مطابق، ملزم سید ذیشان افضل بلگرامی نے چینی کمپنی جیانگسو پراونشل فارن ٹریڈ کارپوریشن کے ساتھ 17 جنوری 2024 کو ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ڈنزو ٹریڈرز نے 1500 میٹرک ٹن کروم ایسک چین برآمد کرنا تھی۔ تاہم، 11 فروری کو کراچی کی بندرگاہ سے چین کی بندرگاہ تک بھیجی گئی کھیپ میں قیمتی معدنیات کی جگہ مٹی، بجری اور پتھر بھرے ہوئے تھے۔

    مقدمے میں مزید انکشاف کیا گیا کہ کھیپ چین پہنچنے سے پہلے ہی ملزم نے اپنی کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں رکھے ایل سی کو دھوکہ دہی کے ذریعے کیش کرالیا۔ انہوں نے بینک میں جعلی انسپکشن سرٹیفکیٹ اور بوگس دستاویزات جمع کروائیں تاکہ جعلسازی سے اپنے حق میں رقم حاصل کی جا سکے۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے نہ صرف برآمدی دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا بلکہ جعلی دستاویزات کے ذریعے بینکنگ فراڈ بھی کیا۔ اس دھوکہ دہی سے چینی درآمد کنندہ کمپنی کو نقصان پہنچا اور ملک کی بدنامی کا سبب بھی بنا۔ حکام نے مزید بتایا کہ ملزم ذیشان کو ان کے دفتر سے، جو آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے، گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کروم ایسک ایک قدرتی معدنیات ہے جس میں کرومیم، آئرن اور آکسیجن شامل ہوتے ہیں، اور اسے اسٹین لیس اسٹیل میں استعمال ہونے والے اہم عنصر فیرو کروم کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےدریائے سندھ پر مزید کینالوں کے وفاقی منصوبے کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اگر سندھ و بلوچستان کے اعتراضات نہیں سنیں گے تو اس پورے منصوبے کو متنازعہ بنائیں گے۔ متنازع منصوبوں کو شروع کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں، اپنی رائے کے زبردستی نفاذ سے منفی اثر ہوگا۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڈھ کی ہڈی ہے۔ کوشش ہے کہ وفاقی حکومت کو سمجھائیں کہ ایسے منصوبے نہ بنائیں جو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ ہوں ،صوبوں کے درمیان اتفاق رائے بنائیں ہم گرین پاکستان منصوبے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ زبردستی رائے مسلط کرنے سے سیاسی عدم استحکام و معیشت پر منفی اثر ہوگا

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    سندھ کا پانی کسی صورت چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

  • پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    پنجاب کے شہر نارووال میں پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرکر زخمی ہونے والے پی ٹی آئی کارکن کی ہسپتال میں موت ہو گئی ہے

    نارووال میں پولیس چھاپے کے دوران تحریک انصاف کا ورکر یاسر ملہی جان کی بازی ہار گیا ،تحریک انصاف کے ضلعی صدر نے اپنے بیان میں کارکن کی موت کی تصدیق کر دی،پی ٹی آئی کارکن کے لواحقین نے تھانہ بدوملی کے سامنے پولیس کے خلاف احتجاج کیا، یاسر کے کمسن بیٹے نے بتایا کہ چھاپے کے دوران بابا گھر کی چھت پر چڑھ گئے تھے اور پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے سر پر اینٹ ماری تھی،دوسری جانب ترجمان ڈی پی او نے کہا کہ پولیس کا یاسر کی موت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ یاسر ملہی کی شہادت پر ہمیں پارٹی کے طور ہر سخت رد عمل دینا ہو گا۔ میں کوشش کروں گا کہ ہر فورم پر یہ مسئلہ اٹھے۔ پنجاب کے عہدیداروں کو فوری یاسر کے گھر جانا چاہئیے۔ خاندان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئیے۔ صدر نارووال کا بیان آ چکا۔ پارٹی کی سنئیر قیادت کی توانا آواز ضروری ہے۔

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • احتجاج رکوانے کی درخواست پر سماعت،آرڈر جاری کروں گا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    احتجاج رکوانے کی درخواست پر سماعت،آرڈر جاری کروں گا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی احتجاج روکنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف درخواست پر وزیر داخلہ ، سیکرٹری داخلہ کو آج ہی طلب کر لیا،درخواست گزار کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رویے کی وجہ اسلام آباد کو آئے روز ایسی صورتحال کا سامنا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس پر تو پہلے ہی میں نے آرڈر کیا ہوا ہے ، ڈویثرن بنچ کے بعد کیس کو آج ہی سنیں گے ، سماعت میں وقفہ ، ڈویژن بنچ کے بعد دوبارہ سماعت ہوگی

    24 نومبر کو بیلاروس کا 65 رکنی وفد آرہا ،میں ذاتی طور پر کینٹنر کے حق میں نہیں ، پچھلی بار ہمارا ایک بندہ شہید ہوگیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی
    پی ٹی آئی احتجاج رکوانے کے لئے دائر درخواست کی دوبارہ سماعت ہوئی،آئی جی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم جانتے ہیں پہلے بھی اس طرح کی پٹیشن آئی تھی ، پہلے بھی اس طرح کی صورت حال تھی،عام شہری کا کیا قصور ہے یہ بتائیں ، ایک صوبے کے وزیر اعلی اس احتجاج کی سرپرستی کر رہے ہیں ،میں عمومی طور پر وزرا کو نہیں بلاتا ، تھینک یو منسٹر صاحب ، وزیر داخلہ محسن نقوی نے عدالت میں کہا کہ 24 نومبر کو بیلاروس کا ایک وفدآرہا ہے ،پچھلی بار بھی ہمارا ایک بندہ شہید ہو گیا تھا، پچھلی بار 3 سو سے زائد افغانی بھی حراست میں لیے گئے،24 نومبر کو بیلاروس کا 65 رکنی وفد آرہا ہے،میں ذاتی طور پر کینٹنر کے حق میں نہیں ہوں ، پچھلی بار ہمارا ایک بندہ شہید ہوگیا ہے،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایک صوبے کےوزیراعلیٰ اسلام آباد پر لشکر کشی کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو صورتحال ہے وزیرداخلہ کیلئے بھی بڑی مشکل صورتحال ہے،کیا حل ہے کہ اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند نہ کیا جائے اور کوئی اور حل ہو، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بیلاروس کے صدر پاکستان آ رہے ہیں، پورا وفد ان کے ہمراہ ہے،یہ صورتحال ہو گی تو ہمارے ملک کا برا امیج جائے گا،کچھ دیر پہلے کئی لوگ شہید ہو گئے ہیں، ادھر فوکس کریں یا ادھر کریں،ہم نے ایف سی کسی ایک طرف دینی ہے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ پی ٹی آئی کو انگیج کر لیں؟ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ تاریخیں وہ رکھی جاتی ہیں جب باہر سے کوئی وفد پاکستان آ رہا ہوتا ہے، میں عدالت کو تفصیلات دے سکتا ہوں کہ کنٹینرز کا کتنا کرایہ دے رہے ہیں، کسی نے احتجاج کرنا ہے تو اپنے علاقوں میں کریں ہم نہیں روکتے، یہ کیا طریقہ ہے کہ احتجاج کیلئے اسلام آباد آ جائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ ہی یہاں صاحب اختیار ہیں، آپ نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کرنا ہے ؟ اس حوالے سے آرڈر کرکے دوبارہ کیس فکس کریں گے ،میں اس کیس میں آرڈر پاس کروں گا، میں ایک آرڈر کردوں گا،میرا پہلے والا آرڈر موجود ہے ، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 24نومبر کو بیلاروس کا ایک وفدپاکستان آرہا ہے،پہلے ایس سی او کانفرنس تھی اس وقت بھی یہ صورتحال تھی،ہم یہ نہیں کہتے کہ احتجاج نہ کریں، جس نے احتجاج کرنا ہے اپنے علاقوں میں کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنا یا انٹرنیٹ بند کرنا کوئی مسئلے کا حل نہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ میں آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، ہم نے ریڈ زون کا تحفظ کرنا ہے،پتہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ جہاد ہے اور قبضہ کرنا ہے،اللہ نہ کرے کہ اس صورتحال میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ ہو جائے،ہم نے چیک کیا ، انتظامیہ کو احتجاج کی کوئی درخواست نہیں دی گئی، انہوں نے بس احتجاج کا اعلان کیا ہے اور یہاں دھاوا بولنا ہے، احتجاج سے اسکولز بند اور کاروبارتباہ ہوتے ہیں، عدالت نے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کے احتجاج کیخلاف درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جائے گا،میں ایک آرڈر کروں گا، میرا پہلے والا آرڈر موجود ہے،

    اسلام آباد پر لشکر کشی کا تاثر ملا،پی ٹی آئی احتجاج رکوانے کی درخواست دائر
    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کو رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے،تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے اور غیر قانونی قرار دینے کیلئے اسلام آباد کے تاجروں نےاسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، اسلام آباد میں ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ پُرامن کاروبار اور دیگر فرائض کی ادائیگی ہر شہری کا حق ہے، پی ٹی آئی کا احتجاج بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، احتجاج سے اسلام آباد پر لشکر کشی کا تاثر ملا رہا ہے، بغیر اجازت اس قسم کے احتجاج سے ملک میں لاقانونیت کا تاثر ملتا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے غیر قانونی احتجاج کو روکنے کا حکم دیا جائے۔ سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی کو احتجاج روکنے کا حکم دیا جائے۔ اسلام آباد کے تاجروں نے رضوان عباسی ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال مناسب نہیں،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی ہے، جس کی کامیابی کے لیے بشریٰ بی بی بھی متحرک ہیں اور انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ پارٹی عہدیداروں کو بھی اہم ہدایات دی ہیں، اُدھر حکومت نے بھی تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کیلئے اسلام آباد میں ابھی سے اقدامات شروع کردیئے ہیں

    پی ٹی آئی کو احتجاجی مارچ سے روکا جائے،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست
    دوسری جانب پی ٹی آئی کا 24 نومبر کے احتجاج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی،درخواست گزار جلال الدین نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ،پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج سے امن کی صورتِ حال کو سنگین خطرہ ہے، صوبائی حکومت کے اعلانات کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے،پی ٹی آئی کو احتجاجی مارچ سے روکا جائے، احتجاج میں صوبے کے کروڑوں روپے ضائع ہوں گے، پہلے ہی صوبہ امن کی بدترین صورتِ حال سے دوچار ہے،صوبائی حکومت شہریوں کو آئینی حقوق دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

  • گوگل کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان،کروم کے خلاف امریکا کا بڑا اعلان

    گوگل کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان،کروم کے خلاف امریکا کا بڑا اعلان

    امریکی محکمہ انصاف گوگل کو اپنے کروم انٹرنیٹ براؤزر کو فروخت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جج سے درخواست کرے گا، بلومبرگ نیوز کے مطابق، یہ اقدام ان افراد کی معلومات پر مبنی ہے جو اس منصوبے سے واقف ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ انصاف جج سے درخواست کرے گا، جس نے اگست میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ گوگل نے غیر قانونی طور پر سرچ مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کی ہے، کہ وہ مصنوعی ذہانت اور اینڈرائیڈ اسمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم سے متعلق اقدامات کا حکم دیں۔گوگل کروم براؤزر کے ذریعے صارفین کو انٹرنیٹ کے مواد اور اشتہارات کی فراہمی کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ براؤزر عام طور پر گوگل سرچ استعمال کرتا ہے، اشتہارات کے کاروبار کے لیے اہم معلومات جمع کرتا ہے، اور عالمی براؤزر مارکیٹ کا تقریباً دو تہائی حصہ رکھتا ہے۔محکمہ انصاف نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ گوگل کی ریگولیٹری امور کی نائب صدر لی-این ملهولینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ انصاف ایک "انتہائی ایجنڈا” کو آگے بڑھا رہا ہے جو اس کیس کے قانونی مسائل سے کہیں آگے ہے اور صارفین کو نقصان پہنچائے گا۔

    اس مقدمے میں ایپل سمیت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ گوگل کے معاہدوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں گوگل نے ڈیفالٹ سرچ انجن ہونے کے لیے ادائیگی کی تھی،اس انتظام نے گوگل کو صارف کے ڈیٹا تک نمایاں رسائی دی، جس سے اسے سرچ مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے میں مدد ملی۔2020 میں گوگل نے امریکہ میں آن لائن سرچ کا 90 فیصد، اور موبائل آلات پر 95 فیصد کو کنٹرول حاصل کیا۔ حکومت اس بات کو بھی محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ گوگل کی مصنوعی ذہانت کس طرح ویب سائٹ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اور اینڈرائیڈ کو گوگل کی دیگر مصنوعات کے ساتھ بنڈل کرنے سے روک سکتی ہے،

    ٹیک انڈسٹری کے ایک گروپ کے سربراہ ایڈم کواسوچ نے حکومت کی تجاویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ، یہ بات سامنے آئی کہ گوگل ایک اجارہ داری کے طور پر کام کرتا ہے، اور جج اب اس مسئلے کو حل کرنے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ ایک ممکنہ ضرورت گوگل کو حریفوں کے ساتھ اپنے سرچ ڈیٹا کا اشتراک کرنا ہو سکتی ہے،گوگل کی جانب سے اپیل کرنے کا امکان ہے۔ گوگل ممکنہ طور پر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ جائے۔

    کروم نہ صرف گوگل کی دیگر سروسز، جیسے کہ گوگل سرچ، جی میل اور گوگل ڈرائیو تک بنیادی رسائی پوائنٹس کے طور پر کام کرتا ہے، بلکہ یہ اشتہاری آمدنی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے صارف کے ڈیٹا کی بھاری مقدار میں جاسوسی اور جمع بھی کرتا ہے،فی الحال، کروم کے پاس عالمی براؤزر مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہے، تقریباً دو تہائی انٹرنیٹ صارفین اسے استعمال کرتے ہیں۔اس کے برعکس، اس کی حریف، سفاری، کل مارکیٹ شیئر کا صرف 18 فیصد رکھتی ہے

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

  • سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ کے سامنے حمزہ شہباز کو وزیر اعلی سے ہٹانے کا معاملے پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظر ثانی پر پرویز الہی کو نوٹس جاری کردیا،آئینی بینچ نے ایڈیںشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے نظر ثانی پر سماعت کی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن پر وفاقی حکومت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس امین الدین ک سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کے لیے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر مؤثر ہو جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء کا نوٹس لے لیا۔عدالت نے کوئٹہ سے اغواء بچے کی بازیابی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں چھ دن سے ایک اغوا بچہ نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ایک بچہ کے اغوا پر پورا صوبہ بند ہے حکومت کو فکر نہیں۔یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟

    سپریم کورٹ،مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج
    مراد علی شاہ نا اہلی کیس،سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج کر دی ،عدالت نے عدم پیروی پر نا اہلی کی درخواست خارج کی،محمود اختر نقوی نے نا اہلی کی درخواست دائر کی تھی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ٹریفک حادثات میں اموات کے خلاف درخواست،سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا
    سپریم کورٹ،ملک کی مرکزی شاہراوں پر ہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، درخواست گزار عباس آفریدی نے کہا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کر کیوں سفر کرتے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی،جی ٹی روڈز پر اوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی

    ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت قرار
    سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا،عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی جوابات جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر سماعت کی ،میاں دائود ایڈووکیٹ ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا اہم معاملہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ صرف لاہور ہائیکورٹ کی بات کر رہے ہیں، باقی ہائیکورٹس میں شاید ایسا نہ ہوا ہو، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں نے بطور حوالہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام نوٹیفکشنز ساتھ لگائے ہیں،اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عدلیہ کی ساکھ مجروح کر دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چلیں اس مسئلے کو دیکھتے ہیں، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہم اس مسئلے کو دیکھیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی،درخواست میں پانچ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، چاروں صوبوں او روفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صوابدیدای اختیارات کا غیرآئینی استعمال کر تے ہیں،ہائیکورٹس کے اکثر چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری خزانہ بادشاہوں کی طرح لٹا تے ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اختیارات کے ناجائز استعمال بدترین مثالیں قائم کیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بہترین کارکردگی کے نام پر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے افسروں اور اہلکاروں میں 6 جولائی2021 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،عدالتی تاریخ میں آج تک کسی چیف جسٹس کے سٹاف کو اڑھائی برس کی مدت پر مشتمل ایڈوانس انکریمنٹ دینے کی مثال نہیں ملتی، سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل دیگر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی طور پر ایڈوانس انکریمنٹ دیئے گئے،ایڈوانس انکریمنٹ تبادلہ شدہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور دو ماہ قبل تعینات ہونیوالے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی دیئے گئےسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریڈر اور انکی اہلیہ سینئر سول جج کو 4 سال کی تعلیمی چھٹی بمعہ تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیگر متعدد ملازمین کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور اختیار کے چھ چھ ماہ، ایک ایک سال کی چھٹیوں کی منظوری دی،ریڈر اور انکی اہلیہ کی تعلیمی چھٹی کیلئے کسی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور قانون تقاضہ فائل کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 50 سے زائد ملازمین کی سزائیں ایک دستخط سے ختم کرنے کے درجنوں نوٹیفکیشنز ایک ہی دن جاری کئے گئے، صوابدیدی اختیارات کے تحت سزائیں ختم کرنا قانون تحت قائم سروس ٹربیونلز کو غیرفعال کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ کے دو ڈپٹی رجسٹرار شہباز انور اور شہباز اشرف کی سزائیں ختم کے انہیں بھی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کو سزائیں ختم کرانے کیلئے خود ہی اپنا نیا انکوائری افسر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی سزائیں ختم کر کےانہیں ترقیاں بھی دیدی گئیں،اب لاہور ہائیکورٹ کا کوئی نیا افسر دونوں ڈپٹی رجسٹرار کی فائلوں کی انکوائری کا ذمہ اٹھانے کو تیار نہیں ،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی فائلیں ایک برانچ سے دوسری برانچ گھوم رہی ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زیادہ تر نوٹیفکیشنز ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل 6مارچ کو جاری کئے گئے، ہائیکورٹس کے ملازمین کے ساتھ اقربا پروری کا سلوک کرکے عدلیہ کو بدنام کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوبائی اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ریٹائرمنٹ سے 1 ماہ قبل جاری کئے گئے تمام نوٹیفکشنز کا عدالتی جائزہ لیا جائے،لاہور ہائیکورٹس کے افسران کو دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس غیرقانونی قرار دے کر واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے،

  • پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف

    پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف

    وفاقی حکومت نےآئندہ پانچ سال کیلئے الیکٹرک وہیکلز پالیسی 2025-30 جاری کر دی،

    پالیسی کے مطابق پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف ہے، سال 2040 تک الیکٹرک گاڑیوں کا مجموعی ہدف 90 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے، ابتدائی پانچ برس میں 3 ارب روپے سرمایہ کاری پر مراعات دی جائیں گی،سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو 50 سال رعایتی لیز پر اراضی دی جائے گی، مخصوص پارٹس درآمد کرنے پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جائے گی، ملک میں الیکٹرک گاڑیوں سے 2064 تک درآمدی بل میں 64 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔

    وفاقی وزیر صنعت وپیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ غیر مقامی پارٹس پر 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ نئی پانچ سالہ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی 2025-30 کا مسودہ تمام شراکت داروں کی مشاورت سے تیارکیا گیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک وہیکل متعارف کروانے کے لیے اعلی سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ الیکٹرک وہیکل پالیسی حتمی کی جا سکے، کوشش ہے کمپنیوں کو زیادہ مراعات دیں تاکہ الیکٹرک وہیکلز کی پیداوار بڑھے آئندہ سال سے ملک میں فور ویل الیکٹرک وہیکلز بننا شروع ہونگی۔

    نئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک تہائی تک کمی

  • یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،

    اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند دن قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسی قسم کی پالیسی تبدیلی کی اجازت دی تھی۔روس کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ یوکرین نے امریکی فراہم کردہ آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) روس کے بریانسک علاقے میں داغے۔ایک روسی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، وزارت دفاع نے کہا کہ ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اسکائی نیوز کی سیکورٹی اور دفاعی ایڈیٹر ڈیبرہ ہینز نے کہا کہ اتحادی ممالک اس حکمت عملی کو مبہم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:”یہ دیکھنا باقی ہے کہ برطانیہ یا یوکرین کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے یا نہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے پاس اسٹورم شیڈو میزائلوں کا ذخیرہ محدود ہے، اس لیے ان کا استعمال صرف ایک حد تک اثر ڈال سکتا ہے۔اسکائی نیوز کے عسکری تجزیہ کار شون بیل نے کہا کہ وہ حیران ہوں گے اگر یہ پہلا موقع ہو جب یوکرین نے ان میزائلوں کو روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہو۔انہوں نے کہا:”یہ میزائل روس کے لاجسٹک مراکز، ہیڈکوارٹرز، اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنانے میں بہت مؤثر ہیں، اور امکان ہے کہ پہلے بھی استعمال ہو چکے ہوں۔”

    میزائل کی تفصیلات
    یہ میزائل فرانسیسی افواج کے زیرِ استعمال بھی ہیں، جہاں انہیں SCALP کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ میزائل اینگلو-فرانسیسی اسلحہ ساز کمپنی MBDA نے تیار کیے ہیں۔یہ پیش رفت یوکرین اور روس کے درمیان تنازعے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔