Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،

    اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند دن قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسی قسم کی پالیسی تبدیلی کی اجازت دی تھی۔روس کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ یوکرین نے امریکی فراہم کردہ آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) روس کے بریانسک علاقے میں داغے۔ایک روسی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، وزارت دفاع نے کہا کہ ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اسکائی نیوز کی سیکورٹی اور دفاعی ایڈیٹر ڈیبرہ ہینز نے کہا کہ اتحادی ممالک اس حکمت عملی کو مبہم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:”یہ دیکھنا باقی ہے کہ برطانیہ یا یوکرین کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے یا نہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے پاس اسٹورم شیڈو میزائلوں کا ذخیرہ محدود ہے، اس لیے ان کا استعمال صرف ایک حد تک اثر ڈال سکتا ہے۔اسکائی نیوز کے عسکری تجزیہ کار شون بیل نے کہا کہ وہ حیران ہوں گے اگر یہ پہلا موقع ہو جب یوکرین نے ان میزائلوں کو روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہو۔انہوں نے کہا:”یہ میزائل روس کے لاجسٹک مراکز، ہیڈکوارٹرز، اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنانے میں بہت مؤثر ہیں، اور امکان ہے کہ پہلے بھی استعمال ہو چکے ہوں۔”

    میزائل کی تفصیلات
    یہ میزائل فرانسیسی افواج کے زیرِ استعمال بھی ہیں، جہاں انہیں SCALP کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ میزائل اینگلو-فرانسیسی اسلحہ ساز کمپنی MBDA نے تیار کیے ہیں۔یہ پیش رفت یوکرین اور روس کے درمیان تنازعے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

  • کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    عالمی یوم اطفال کے موقع پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین صاحبزادہ حمید نے کی۔

    اجلاس میں "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل” پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بل کم عمری کی شادیوں کے خاتمے اور بچوں کو استحصال اور بدسلوکی سے بچانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سحر کامران، شرمیلا فاروقی اور وزارت قانون کی جانب سے پیش کیے گئے تمام بلز کو یکجا کر کے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ سحر کامران نے کہا کہ یہ اقدام ہماری آنے والی نسل کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔پاکستان، اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کا رکن ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کے تمام افراد کو بچہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے باعث بچے جسمانی اور ذہنی نقصانات کا شکار ہوتے ہیں، اور اس بل کا مقصد ایسی غیر قانونی اور غیر انسانی روایات کا خاتمہ ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچے کو تعلیم، صحت اور محفوظ بچپن کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ آئیں، ہم سب مل کر کم عمری کی شادیوں کے خاتمے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    سینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں آج آئی ہیں،ایک ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی، اس پر بہت لوگ مبارکبادیں دے رہے ہیں، قبل از وقت ہی، انکا خیال ہے آج نہیں تو کل عمران خان رہا ہو کر آ جائیں گے، میں نے کہا بتا دوں، یہ تکلیف دہ رات ہے، کچھ بھی ایسا نہیں ہونے والا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری خبر یہ کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لے لیا اور قلا بازی کھا کر دوسری طرف بیٹھ گئے اور بڑی بے فکری سے آ کر انہوں نے علامہ طاہر اشرفی سے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ ٹائپنگ کی غلطی ہے، عمران خان جیل سےباہر نہیں آ رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ توشہ خانہ میں ایک کیس کے ساتھ ضمانت اور وہ بھی شرط پر ہوئی ہے، عدالت نے کہا کہ اس کی‌میں رہائی کا حکم ہے، باقی کیسز پر نہیں، عدالت نے ملزم عمران خان کو پابند کیا ہے، کہ اگر وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا تو ضمانت منسوخ ہو جائے گی، عمران خان کے اوپر 12 اہم کیسز ہیں جن میں سے نومئی کے کیسز بھی ہیں،توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، ملک دشمن کاروائیوں کے کیس ہیں، ان میں کسی کیس میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، یہ بھول جائیں کہ عمران خان کل باہر آ رہے ہیں،ویوز لینے کے لئے جھوٹ بولا جا رہا،آج کی تاریخ میں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو ریلیف دیا یہ عارضی اور مشروط ہے،اگلے دو تین دن میں کوئی رہائی نہیں ہو رہی، لوگوں کو غلط انفارمیشن دی جا رہی پھر لوگ اسی طرح یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا فتوی نہیں تھا، ٹائپنگ کی غلطی تھی، اس سے بڑا جھوٹ کیا ہو سکتا ہے ،علما حکومت وقت کے فیور میں کچھ کرنا شروع ہو جاتے ہیں تو سوچیں وہ اللہ سے زیادہ کس سے ڈر کر رہے ہیں، مفتی راغب نعیمی پہلے اللہ سے معافی مانگتے اور پھر عوام سے، اس فتوے کے بعد راغب نعیمی کئی پروگرام میں بیٹھ چکے اور اس فتوے کی تصدیق بھی کر چکے ہیں،پہلے دن سے میں کہہ رہا ہوں،جس دن فتویٰ آیا تھا اس دن مولانا طارق جمیل پروگرام میں تھے تو ان سے سوال کیا تھا کہ اگر کوئی آدمی گھٹیا مواد پرنٹ کرتا ہے تو کیا اس پرنٹنگ پریس کو بھی غیر شرعی قرار دے دیا جائے گا، پرنٹ کرنے والا برا ہے، پرنٹنگ پریس تو نہیں، اسکو تو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا، یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمارے لوگوں میں دین میں اتنی مشکل پیدا کر دی ہے، ہمارے مسلکی اختلافات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ فتوے سن لیں، اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ایسے لوگوں سے بچائے، اگر انہوں نے حدیث پڑھی تو پہلی حدیث دیکھ لیں، جب مسلمان سنی سنائی بات آگے بڑھاتا ہے تو وہ اسکے منافق ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے، مفتی صاحب آپکو یہ ٹائپنگ کی غلطی چھ دن بعد یاد آئی، چھ دن تو اس پر آپ اپنے مؤقف پر رہے، پہلے آپ نے میرے پروگرام میں آنا تھا لیکن پھر آپ نے معذرت کر لی، آپ نے کہا تھا ساڑھے آٹھ بجے تک آ جاؤں گا،حافظ طاہر اشرفی نے ایک دن پہلے کنفرم کیاہوا تھا کہ میں آ رہا ہوں آپکے پروگرام میں پھر وہ بھی نہیں آئے،ان کو پتہ تھا کہ میں نے ان سے کیا پوچھنا ہے، ہم نے بتایا ہوا تھا،انکو اندھیرے میں نہیں رکھا ہوا تھا، جب آپ ان کو دینی تعلیم کے ساتھ انکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر یہ آئیں ، بائیں، شائیں، میرے ہی چینل میں دو پروگراموں میں مفتی راغب نعیمی آ کر بیٹھ گئے لیکن کھرا سچ میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینار کا دورہ کیا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دوست ممالک کے دفاعی مینوفیکچررز کی فعال شرکت کو سراہا۔نمائش میں کل 557 نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں جن میں سے 333 بین الاقوامی نمائش کنندگان ہیں جبکہ 224 ملکی نمائش کنندگان ہیں۔ 36 ممالک نے نمائش کنندگان کے اسٹالز لگائے جن میں سے 17 ممالک پہلی بار شرکت کر رہے ہیں۔تقریب میں 53 ممالک کے 300 سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی اور نمائش اور پاکستان کی دفاعی صنعت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    نمائش کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں موجود غیر ملکی فوجی حکام اور دفاعی مندوبین کے ساتھ بامعنی بات چیت بھی کی،نمائش میں پاکستان کی طرف سے تیار کردہ جدید ترین ڈرون ”شاہپر تھری“ کی خاص نمائش کی گئی، یہ ڈرون 35,000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور 24 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ شاہپر تھری بموں، میزائلوں اور ٹارپیڈو جیسے گولہ بارود کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    آئیڈیاز 2024 کا 12 واں ایڈیشن 19 نومبر کو شروع ہوا اور 22 نومبر 2024 کو اختتام پذیر ہوگا۔قبل ازیں آرمی چیف کی کراچی آمد پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پرتپاک استقبال کیا۔

    مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہر قائد کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے لوگ آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے، ایک سال پہلے چھائے ہُوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں،میں نے گزشتہ نشست میں بھی کہا تھا کہ "مایوسی مسلمان کے لیے حرام ہے”،آج پاکستان کی معیشیت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک انشاء اللہ مزید بہتر ہوں گے،کوئی چیز بشمول سیاست ملک سے مقدم نہیں، ہم سب کو ذاتی مفاد پر پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے، ریاست ماں کی طرح ہے اور اس کی قدر لیبیا، عراق اور فلسطین کے عوام سے پوچھنی چائیے،یاد رکھیں ! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے، جتنی بھی مشکلات ہوں اگر ہم سب مل کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، آپ اپنا پیسہ لے کر پاکستان آئیں، عوام بھی کمائے اور ملک بھی ترقی کرے،دہشت گردی کی پشت پناہی غیر قانونی کاروبار والے کرتے ہیں جن کے پیچھے مخصوص عناصر ہوتے ہیں، پاکستان کی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،

  • خیرات کا پیسہ ذاتی مقاصد کیلیے عمران نے استعمال کیا ،بختاور زرداری

    خیرات کا پیسہ ذاتی مقاصد کیلیے عمران نے استعمال کیا ،بختاور زرداری

    صدرمملکت آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور زرداری نے کہا ہے کہ جب عمران خان خود اسپتال کی خیراتی رقوم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو خیبر پختونخوا حکومت کے فنڈز کا غیر قانونی استعمال ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ یہ ایک گناہ ہے اور عدالت میں حکومتی فنڈز کے ناجائز استعمال، کرپشن اور چوری کا واضح مقدمہ ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بختاور زرداری نے ایک پوسٹ کی ہے جس میں بختاور بھٹو زرداری نے سخت الفاظ میں سابق وزیراعظم عمران خان اور خیبر پختونخوا کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص خیراتی اداروں کے فنڈز کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرے تو پھر سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنا بھی ان کے لیے معمول کی بات بن جاتی ہے۔بختاور کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسپتال کے خیراتی فنڈز، جنہیں عوام نے اعتماد کے ساتھ عطیہ کیا تھا، اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیے۔ اس بیان میں انہوں نے یہ واضح کیا کہ اگر ایک رہنما خیرات کے پیسوں کو اس طرح استعمال کرے تو یہ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی لحاظ سے بھی ناقابل قبول ہے۔

    بختاور نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ان کے فنڈز کو غیر قانونی طریقوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایک سنگین جرم ہے اور اس پر عدالت میں آسانی سے مقدمہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگی کا نہیں بلکہ کرپشن اور عوامی وسائل کی چوری کا بھی ہے۔بختاور نے عدالتوں کو اس معاملے پر فوری نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ اس طرح کی بدعنوانی اور عوامی وسائل کے غیر قانونی استعمال کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلا اور بند کیس ہے اور حکومت کو اس پر جوابدہ ہونا چاہیے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخواحکومت پر مختلف سطحوں پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بختاور بھٹو زرداری نے اپنے بیان سے یہ پیغام دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی وسائل کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی،

    واضح رہے کہ ایکس پر ایک صارف نے کہا تھا کہ 5 اکتوبر 2024 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے اخراجات خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ادا کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ یہ رقم کے پی کے کے لوگوں پر خرچ کی جائے، وہ ان فنڈز کو ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ پی ٹی آئی کا غیر ملکی اکاؤنٹ نہیں عوام کا پیسہ ہے۔

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • آج پھر دیکھ لیا،عمران کی اب بھی سہولت کاری جاری ہے،جاوید لطیف

    آج پھر دیکھ لیا،عمران کی اب بھی سہولت کاری جاری ہے،جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے ایک بار پھر اپنے بیان میں عمران خان کے سہولت کاروں بارے انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کچھ حلقے سہولت کاری میں مصروف ہیں، اور آج یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہو چکی ہے۔

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ سہولت کار نہ صرف آئین اور قانون کو نظرانداز کر رہے ہیں بلکہ ان کا رویہ اپنے مخصوص لاڈلے کے حق میں جھکاؤ کو واضح کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قانون کی بالادستی کو پامال کرتے ہوئے، مخصوص افراد کے لیے سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوریت کے لیے خطرناک ہے بلکہ عوام کے حقوق پر بھی کاری ضرب ہے۔ جاوید لطیف نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کو بحال کریں اور کسی بھی قسم کی جانبداری سے گریز کریں۔

    ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اب تحریک انصاف یہ شور کر رہی ہے کہ اسکے کارکنان کو پولیس گرفتار کر رہی ہے تاہم ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کی‌حقیقت سامنے رکھ دی ہے، پی ٹی آئی کی کال پر عوام اسلام آباد جانے کو تیار نہیں، کوئی بات نہیں سن رہا اسلئے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاریاں دے رہے ہیں تا کہ بدنامی سے بچا جا سکے

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر پولیس نے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی ہے تو وہیں کارکنان کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے ،تاہم حقیقت میں عمران خان کی کال پر اس بار عوام نکلنے کو تیار نہیں وہیں بشریٰ بی بی کی دھمکیوں اور ہتک آمیز رویئے کے بعد اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی نالاں ہیں کہ بشریٰ جو گھریلو خاتون ہے پارٹی سے تعلق نہیں اسکا حکم کیسے اور کیوں مانیں،اسی لئے پی ٹی آئی رہنما عوام کو نکالنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تو ہیں عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما بھی مایوس ہو چکے ہیں اور از خود پولیس کو گرفتاریاں دینا شروع کر دی ہین، ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پی ٹی آئی کا مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاری دے رہا ہے،اس ویڈیو نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال کی پول کھول دی ہے،

    تحریک انصاف کے سیاسی معاملات اور حکمت عملی کے حوالے سے حالیہ صورتحال نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عوامی جلسوں اور مظاہروں کے دوران کم ہوتی ہوئی عوامی شرکت کے ساتھ، پارٹی کے اندرونی معاملات اور موجودہ حکومتی دباؤ نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اپنی سابقہ مقبولیت کو برقرار رکھ سکے گی؟پی ٹی آئی کے ترجمانوں کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہیں۔ دوسری طرف، حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ کارروائیاں قانونی طور پر کی جا رہی ہیں اور یہ صرف ان افراد کے خلاف ہیں جنہوں نے قانون توڑا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ نو مئی, اکیس ستمبر اور پانچ اکتوبر پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پر گرفتاریاں شروع ہوئیں ،ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 92 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ۔گرفتار ملزمان نو مئی کے پر تشدد واقعات اکیس ستمبر کے جلسہ اور پانچ اکتوبر لاہور احتجاج میں ملوث ہیں ۔زیر التواء گرفتاریاں مکمل کرکے ملزمان کو مقدمات میں نامزد کیا جارہا ہے ،ملزمان کی شناخت کلوزسرکٹ فوٹیجز اور دیگر شواہد کی بناء پر کی جاچکی ہے ۔گرفتاریاں شاہدرہ ۔ راوی روڈ ۔ بادامی باغ ۔ مناواں کے علاقوں سے کی گئیں ۔ گرفتار ملزمان کے حوالے سے موجود شواہد پر تفتیشی دستاویزات مرتب کی جائیں گی ۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب عوام پریشان ہے، احتجاج ، دھرنوں سے جہاں سب کچھ بند ہو جاتا ہے وہیں دیہاڑی دار،مزدور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس وجہ سے عوام نہیں نکل رہے تو وہیں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور رہنماؤں کی تقسیم کی وجہ سے بھی کارکنان بھی نکل نہیں رہے کیونکہ پچھلی بار علی امین گنڈا پور اسلام آباد آ کر غائب ہو گئے تھے اور کوئی دیگر پارٹی رہنما منظر پر ہی نہیں آئے تھے،پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی کو بہتر نہ بنا سکی تو اسے مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی کال پر اب کوئی نکلنےکو تیار نہیں، وکیلوں نے تو پی ٹی آئی کا بیڑہ غرق کیا ہی تھا اب باقی کسر بشریٰ بی بی اور علیمہ خان نکال رہی ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    چولستان کینال،گرین پاکستان انیشیٹو کا ایک اہم ترین حصہ ہے جس سے چولستان کے 25,000 sq km پر پھیلے صحرا کو آباد کرنے کا شاندار منصوبہ ہے۔ اس پراجیکٹ سے پنجاب کی لاکھوں ایکڑ بنجر غیر آباد اراضی کو سیراب کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ چولستان صحرا میں پانی کی قلت کے مسائل کو حل کرے گا جو ہر قسم کی زندگی کو محفوظ بنانے کی ضامن بنے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ صلاحیت سے زیادہ اضافی پانی دستیاب ہوگا جو چولستان کینال میں استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز یکجا ہوکر قومی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پانی ہے تو زندگی ہے

    پاکستان میں چولستان نہر کی تعمیر کے حوالے سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے درمیان تعلقات اس منصوبے کے باعث کشیدہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جسے مفاد پرست گروہ اور پاکستان کے استحکام کے مخالف عناصر پھیلا رہے ہیں۔ اس مسئلے کو عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے معاشی وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکیں۔ ان دعووں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ چولستان نہر کے حوالے سے جو چند اہم نکات ہیں وہ درج ذیل ہیں:

    پاکستان کی زرعی معیشت: پاکستان کی معیشت کی بنیاد زرعی شعبے پر ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ سکڑ چکا ہے اور اب ملک کے کل 79.6 ملین ہیکٹر اراضی میں سے صرف 22 ملین ہیکٹر اراضی پر زراعت کی جا رہی ہے۔

    زرعی پیداوار میں کمی: پاکستان دنیا کا 15 واں بڑا زرعی پیدا کنندہ ہے اور گندم کا 8 واں بڑا پیدا کنندہ ہے، لیکن پھر بھی پیداوار اور مانگ میں فرق درپیش ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کی سالانہ گندم کی ضروریات 30.8 ملین میٹرک ٹن ہیں، جب کہ اس کی کمی 4 ملین میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث مہنگی درآمدات کرنا پڑتی ہیں۔

    حکومت نے گرین پاکستان منصوبے کے تحت بنجر زمینوں کی زراعت کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں تاکہ ملک بھر میں زرعی پیداوار بڑھ سکے۔

    چولستان نہر کا منصوبہ: حکومت نے چولستان، تھل اور تھر کے بیابان علاقوں کی آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھ اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جن میں چولستان نہر بھی شامل ہے۔

    چولستان کا جغرافیہ: چولستان صحرا کا رقبہ 26,300 مربع کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں واقع ہے۔ یہ صحرا بھارت کے راجستھان صحرا سے مشرق میں اور تھرپارکر سے جنوب میں ملتا ہے۔ یہاں کی معیشت زیادہ تر مویشیوں کی پرورش پر منحصر ہے۔

    چولستان نہر کی تعمیر کا مقصد: چولستان نہر کا مقصد دریائے ستلج کے سلیمانکی بیراج سے 4,120 کیوسک پانی کو 176 کلومیٹر کے فاصلے پر فورٹ عباس تک منتقل کرنا ہے، تاکہ 452,000 ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے۔

    چولستان نہر کی تکمیل: چولستان نہر کا یہ منصوبہ 225 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ اس کے ذریعے چولستان کے بیابان علاقے میں 1.2 ملین ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔

    صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم: پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991 کے واٹر اپورٹیمنٹ ایکورڈ کے تحت حل کیا گیا ہے، جس میں پنجاب کو 48 فیصد، سندھ کو 42 فیصد، خیبر پختونخواہ کو 7 فیصد اور بلوچستان کو 3 فیصد پانی کی فراہمی کا حق دیا گیا ہے۔

    چولستان نہر پر سیاسی پروپیگنڈا: کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ چولستان نہر سندھ کی زرعی زمینوں اور پانی کی فراہمی کو متاثر کرے گی۔ تاہم، اس منصوبے کو پنجاب کے پانی کے جائز حصے میں شامل کیا گیا ہے اور یہ 0.58 MAF پانی کا استعمال کرے گا، جو کہ سندھ کے پانی کے حصے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا۔

    آبی وسائل کے نظم و ضبط کے اقدامات: اس منصوبے کے تحت ایک جدید ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے جس کی قیمت 25 ارب روپے ہے۔ یہ سسٹم پانی کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کرے گا اور کسی بھی قسم کی دھاندلی یا بدعنوانی کو روکنے میں مدد دے گا۔

    چولستان نہر کا منصوبہ پاکستان کی زرعی پیداوار کو بڑھانے، بیابان زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کو سیاسی یا صوبائی مسائل کا شکار نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اسے اس کے اصل مقصد کے تحت دیکھا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اس کا مثبت کردار ادا کیا جا سکے

  • دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    پاکستان فوج دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے، جہاں فتنہ الخوارج اور بلوچ دہشت گردوں جیسے خطرات پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں حکومتی ناکامیاں اس مشن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، لیکن بدعنوانیوں، اسمگلنگ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت جیسے مسائل نے دہشت گردی کے خلاف پیش رفت کو کمزور کر دیا ہے۔ تحریک طالبان اور بیرونی دشمن عناصر کی پشت پناہی ان دہشت گردوں کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔

    دوسری طرف، سیاسی میدان میں انتشار نے قوم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بار بار احتجاجی کالز اور 24 نومبر کی احتجاجی مہم سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں، جبکہ فوج اپنے 60 سے زائد جوانوں کی قربانی دے چکی ہے جو کہ ایک مختصر مدت میں ایک بڑا نقصان ہے۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی فریضہ ہے۔ حکومتی کمزوریوں کو دور کرنا، اداروں کو متحد کرنا، اور اس فتنے کے خلاف ایک مشترکہ محاذ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان موجودہ چیلنجز کے پیش نظر مزید تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    عدلیہ کی توجہ سیاسی مقدمات پر،دہشتگردوں کو سزائیں کون دے گا؟
    پاکستان میں گورننس کی صورت حال اس وقت ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ عدلیہ کی موجودہ فعالیت پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کے کیسز نمٹانے میں زیادہ وقت صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ ملک میں دیگر اہم مسائل، خصوصاً دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے، مگر جب قومی سلامتی اور امن و امان کا مسئلہ درپیش ہو، تو عدلیہ کو صرف سیاست کے کیسز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

    دہشت گردی کے خاتمے کا حل تیز تر انصاف، فوجی عدالتیں
    دوسری جانب، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں تقریباً 60 جوانوں کی شہادت نے نہ صرف ان خاندانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے بلکہ یہ ایک علامت بن چکی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہیں۔ 60 لاشیں اور 60 برباد خاندان ایک سنگین حقیقت ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر کس قدر شدت اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام معاملات میں فوج تنہا ہے۔ فوج کے جوان اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے اس وقت ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ملک میں فوجی عدالتیں نہیں ہیں، جو دہشت گردوں کو تیزی سے سزا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے دہشت گردوں کی جرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ عدلیہ ان معاملات میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی ہے۔ جب تک عدلیہ اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، دہشت گردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔

    یہ صورتحال ایک چیلنج ہے جس کا حل صرف عدلیہ یا پولیس کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔ حکومت، عدلیہ، اور سیکیورٹی اداروں کو مل کر اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم گورننس کی بہتری، عدلیہ کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر توجہ نہ دیں تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، اور ملک کے استحکام کے لئے یہ سنگین خطرہ بن سکتے ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر کا شکار ہو رہا ہے، جہاں دہشت گردی کے خاتمے کا بھاری بوجھ پاک فوج کے کندھوں پر ہے، جو اپنے جوانوں کے خون سے یہ قیمت ادا کر رہی ہے۔

    قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ان علاقوں کو سول انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا، لیکن سول حکومت اس امن کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی، جو پاک فوج کی بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں ممکن ہوا تھا۔حکومت کی ناکامی، اسمگلنگ کو روکنے میں ناکامی، خوارج کی فتنہ پرور سوچ کی بحالی اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی مسلسل کارروائیاں ملک کو سنگین چیلنجز میں دھکیل رہی ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں 60 سے زائد فوجی شہید ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔کمزور انسدادِ دہشت گردی عدالتیں اور مفلوج عدالتی نظام دہشت گردوں کو سزائیں دینے میں ناکام رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان دوبارہ دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ فوجی عدالتوں کی بحالی نہایت ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ جب ملک میں 4.5 لاکھ سے زائد مقدمات عام عدالتوں میں زیر التوا ہیں، تو فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو فوری سزا دینا ہی امن کی بحالی کا مؤثر ذریعہ ہے۔پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تقاضا ہے کہ بروقت اور مضبوط انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ وطن عزیز ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے۔

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گورننس میں متعدد خامیاں موجود ہیں جو صورتحال کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی کمی اور پالیسیوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانا مشکل ہو رہا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں وسائل کی کمی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بیرونی عناصر کی مداخلت اور وسائل کی غیر مؤثر تقسیم نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں اور عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ امن و استحکام حاصل کیا جا سکے