Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب میں سموگ کا راج برقرار،شہری بیمار

    پنجاب میں سموگ کا راج برقرار،شہری بیمار

    پنجاب میں اسموگ کا راج برقرار، لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست ہے،

    سموگ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئےپنجاب حکومت نے اہم فیصلے کئے ہیں، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سموگ کی وجہ سے لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے او پی ڈیز کا وقت رات 8 بجے تک بڑھا دیا گیا،سکول مزید ایک ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کرتے ہیں،ریسٹورنٹس شام 4 بجے تک کھلے رہیں گے۔رات 8 بجے تک ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔دونوں شہروں میں آئندہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔ سموگ کے خلاف احتیاطی تدابیر پرعمل کرناہوگا۔ میڈیا ا س حوالےسے عوام میں آگہی پیداکرے،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ہیلتھ ڈیسک اور اسپتالوں میں اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں، محکموں کو ادویات وافر کرنے کی ہدایت کی جب کہ شہری موٹر سائیکل پر ایمرجنسی کے سوا باہر نہ نکلیں اور ماسک کا استعمال کریں،بدھ تک ڈیٹا دیکھیں گے، اسموگ ہیلتھ کرائسس میں تبدیل ہو چکا ہے، پنجاب حکومت اسموگ کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے اور اسموگ کی روک تھام کیلئے 10 سال کی پالیسی دے دی ہے، حکومت کے مختلف محکمے اسموگ کی روک تھام کیلئے دن رات کام کررہے ہیں، زگ زیگ ٹیکنالوجی پر نہ آنے والے بھٹے مسمار کیے جارہے ہیں تاہم اسموگ پر قابو پانا ایک لانگ ٹرم پراسیس ہے، اس پر قابو پانے کیلئے تین 3 ماہ کے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسموگ کے باعث اسکول مزید ایک ہفتے تک بند رہیں گے، کالجز اور یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز ہوں گی، ریسٹورینٹس کو شام4بجے تک کا وقت دیا ہے تاہم ریسٹورینٹس سے کھانا لے جانے کی اجازت رات 8 بجے تک ہوگی۔

    لاہور میں صبح کے اوقات میں ائیر کوالٹی انڈیکس 710 ریکارڈ کیا گیا،پنجاب کے آلودگی کے متاثرہ شہروں میں رحیم یار خان میں پارٹیکولیٹ میٹرز 826 پر آگئے جب کہ ملتان میں 710 ریکارڈ کیا گیا ہے،لاہور میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے، صوبے میں اسموگ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، لاہور کے ہسپتالوں میں گزشتہ دنوں میں مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں ،سانس،گلے میں درد، بخار کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں ملا ہے، بچے اور خواتین بھی مریضوں میں شامل ہیں، لاہور میں سید مراتب علی روڈ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1404، امریکن کونصلیٹ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 826 جبکہ ڈی ایچ اے کے علاقے کا اے کیو آئی 916 ریکارڈ کیا گیا،سموگ سے نمٹنے کیلئے لاہور کے مختلف علاقوں میں موبائل ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن انسٹال کر دیئے گئے، گرین لاک ڈاؤن والے علاقوں میں سموگ کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔

    سموگ کی وجہ سے شہری سانس،دمے،فالج، دل کے امراض میں مبتلا
    پنجاب میں اسموگ کے باعث اکتوبر میں 19 لاکھ سے زائد افراد اسپتال پہنچے،محکمہ صحت پنجاب کی رپورٹ کے مطابق اسموگ کے باعث شہری سانس، دمے، دل کے امراض اور فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں،اکتوبر میں 19 لاکھ 34 ہزار 30 افراد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں،دمے سے 1 لاکھ 19 ہزار 533 اور دل کے امراض کے 13 ہزار 773 مریض سامنے آئے،اکتوبر میں فالج کے پنجاب بھر میں 5 ہزار 184 مریض رپورٹ ہوئے۔

    دوسری جانب لاہور میں شدید دھند کے باعث ائیرپورٹ، کینٹ اور اطراف میں حد نگاہ صفر ہوگئی جب کہ موٹروے ایم 2 اسلام آباد سے لاہور، ایم 3 لاہور سے درخانہ اور ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان، ایم 5 ملتان سے جلال پور، ایم 11 لاہور سے کامونکی اور لاہور سیالکوٹ موٹروے مکمل بند کردی گئی ہے،

    سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر کا کہنا ہے کہ وارننگ و آگاہی مہمات کے بعد اب بس کریک ڈاؤن جاری ہے، ٹریفک پولیس نے 24 گھنٹوں میں دھواں چھوڑنے والی 3176 گاڑیوں پر 63 لاکھ کے جرمانے کیے،خطرناک حد تک دھواں چھوڑنے پر 1579 موٹرسائیکلوں کو 32 لاکھ کے جرمانے کیے، 264 موٹرسائیکلیں اور 153 ٹریکٹرٹرالیاں مختلف ٹریفک سیکٹرز میں بند کردی گئیں،آرٹیفشل انٹیلیجنس سسٹم کی مدد سے بھی دھواں چھوڑنے والی 240 وہیکلز کو ای چالان جاری ہوئے، شہر میں 41 اینٹی اسموگ اسکواڈز تشکیل دیے گئے ہیں جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر 12 ناکے بھی قائم ہیں،کمشنر لاہور کی ہدایت پر قائم 14 انسداد تجاوزات کیمپس بھی مزید متحرک ہیں، آج لاہور میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بند ہوگا۔

    پنجاب میں شدید دھند کی وجہ سے مختلف ایئر پورٹس پر فلائٹ آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے،شدید دھند کے باعث 11 پروازیں منسوخ کر دی گئی جبکہ 3 پروازوں کو متبادل ایئر پورٹس پر اتارا گیا اور 53 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی سے فیصل آباد پی کے 340، 341، لاہور کوئٹہ کی پی آئی اے کی پروازیں پی کے 322، 323 منسوخ کر دی گئیں، جدہ سے لاہور غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ایس وی 739، مسقط سیالکوٹ کی پی آئی اے کی پروازیں پی کے 281،282 اور اسلام اباد گلگت کی 4 پروازیں پی کے 601، 602، 605، 606 منسوخ کر دی گئی ہیں،دوحہ سے ملتان پہنچی غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز کیو آر 616 اسلام آباد اتاری گئی اور موسم ٹھیک ہونے پر پرواز کو اسلام آباد سے واپس ملتان لایا گیا،جدہ سے لاہور کی پرواز ایس وی 738 کو بھی اسلام آباد اتار لیا گیا جبکہ دمام سے سیالکوٹ کی پرواز پی کے 244 کو لاہور ایئر پورٹ پر اتارا گیا،لاہور سے کوالالمپور کی پرواز او ڈی 132 اور لاہور سے بینکاک کی پرواز ٹی جی 346 بھی آج صبح تک ٹیک آف نہ کر سکی ،لاہور ایئر پورٹ پر آمد اور روانگی کی 19 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں،لاہور سے دبئی اور ابوظبی کی 3 پروازوں کی روانگی میں 6 گھنٹے سے زائد کی تاخیر ہوئی ہے۔

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے  ،عدالت

    دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے ،عدالت

    اہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی
    عدالت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے واپس آئے تو آپ کو اسموگ پر لانگ ٹرم پالیسی پر بات کرنی چاہیے ،جسٹس شاہد کریم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ کم از کم دس سالہ پالیسی بنانی چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں ای الیکٹرک بسیں چلنے کے لیے بجٹ مختص کردیا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ اقدام تو بہت اچھا ہے ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اگلے سال جون سے قبل یہ بسیں روڑز پر ہونگی،ہم فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات بھی کررہے ہیں ،سیلاب کی صورتحال سے نمٹانے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں ،ہم بارشی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کو چاہیے اعلان کرے کہ ایگری کلچر لینڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی نا بنائی جائیں،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم لینڈ ایکوشن ایکٹ پر کام کررہے ہیں،عدالت نے کہا کہ زیر زمین پانی محفوظ کرنے والا ایک پودہ ہے جس کو زیادہ سےزیادہ لگایا جائے ،دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے

  • آصف زرداری کے قتل کی سازش، شیخ رشید مقدمے سے بری

    آصف زرداری کے قتل کی سازش، شیخ رشید مقدمے سے بری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف قتل کی سازش کرنے کے کیس میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو بری کر دیا ہے

    جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کی درخواست بریت پر محفوظ فیصلہ سنایا، گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، شیخ رشید کے خلاف تھانہ آبپارہ میں 2023 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، شیخ رشید کے خلاف سازش، عوام کو اکسانے کی دفعات مقدمے میں لگائی گئی تھیں،

    عدالتی فیصلے کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے وکلا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کیس لڑا اب، صرف 14 کیس دہشت گردی عدالت میں رہ گئے ہیں وہاں سے بھی انصاف ملے گا، 37 سو کیسوں میں میرے وکلا نے لوگوں کو ضمانت دلوائی، آج جو بلاول نے بیان دیا کہ ہماری بات نہیں سنی جا رہی، آپ کی بات سن کون رہا ہے، اب اگر ن لیگ اور پی پی میں دوریاں ہوتی ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو کام لیناتھا وہ لے لیا گیا ہے، اب یہ بھوسے کے ڈھیر ہے، پڑھے لکھے لوگ آپ کے خلاف ہو چکے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چودہ کیسز جو موجود ہیں ان سے بھی بری ہو جاؤں گا، میں نے عدالت میں کہا کہ ہمارے گھروں سے جو سامان لے گئے ہیں وہ واپس کر دیں،نہ میری گھڑیاں، کمپیوٹر نہ گاڑیوں کا سامان واپس ہوا ہے،

  • چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو لندن ٹرین میں قتل کی دھمکی دینے، ہراساں کرنے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا معاملہ ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پاکستان ہائی کمیشن لندن آمد ہوئی ہے

    خواجہ محمد آصف نے پاکستان ہائی کمیشن میں مقامی پولیس کو ٹرین واقع کی رپورٹ درج کرادی،خواجہ محمد آصف نے پولیس کو ٹرین میں چھری سے قتل کی دھمکی اور ہراسگی واقع کی تفصیلات سے آگاہ کیا ،واقع کی تحقیقات لندن ٹرانسپورٹ پولیس کر رہی ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ افسوسناک واقع 11 نومبر 2024 سہ پہر قریباً ساڑھے تین بجے الزبتھ لائن میں پیش آیا۔لندن میں نجی دورہ پر ہوں، اپنے ایک عزیز کے ہمراہ الزبتھ لائن کے ذریعے ریڈنگ جا رہا تھا۔ تین سے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے افراد نے ٹرین میں ہراساں کیا، بلا اجازت ویڈیو بنائی، نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور چھری سے قتل کرنے کی دھمکی دی۔ واقع میں ملوث کسی فرد کو نہیں پہچانتا۔ لندن ٹرانسپورٹ پولیس سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے متعلقہ ملزمان کا سراغ لگائے ،قتل کی دھمکیاں اور ہراساں کرنے کے ایسے مذموم واقعات برطانیہ میں مقیم 17لاکھ پاکستانی نثراد برطانوی شہریوں کے لیے بھی باعث شرم اور قابل افسوس ہیں۔

    واضح رہے کہ لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیوں اور چاقو حملے کی دھمکیوں کی ویڈیو منظر عام پرآئی تھی،لندن گراؤنڈاسٹیشن پر نامعلوم شخص نے خواجہ آصف کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چاقو حملے کی دھمکی دی تھی،خواجہ آصف کے قریبی ذرائع نے واقعےکی تصدیق کی ہے،

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان بھی سامنے آیا ہے، خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ وہاں کیمرا بھی لگا ہوا تھا، میں دھمکی دینےوالے کو نہیں پہچانتا، دھمکی دینے والے واقعےکو رپورٹ کرانے کا پراسیس چل رہا ہے

    علاوہ ازیں لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف مرد مجاہد ہیں جہاں کھڑے ہو جاتے ہیں پھر بیٹھتے نہیں، خواجہ آصٖف نے ہمیشہ ہرصورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے، خواجہ آصٖف کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں، جن لوگوں نے خواجہ صاحب کے ساتھ یہ حرکت کی، ان کے نصیب میں یہی ہے، لوگوں کے پیچھے بھاگنا ، یہی ان کی ٹریننگ اور گرومنگ کی گئی ہے۔

    لندن میں موجود جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی ہے.

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر،عشائیہ تقریب

    فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر،عشائیہ تقریب

    سابقہ وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر ہیں

    فردوس عاشق اعوان کے اعزاز میں بروکلن نیو یارک میں عشائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی امریکی کمیونٹی ، سماجی تنظیموں کے علاوہ میڈیا اور خواتین نے روائتی ڈھوک بجا کر استقبال کیا اور بھولوں کے گلدستے پیش کیے ۔ بروکلن نیو یارک میں ڈاکٹر فردوس عاشق کے اعزاز میں عشائہ تقریب صحافیوں کی عالمی تنظیم فورتھ پلر ، پاکستان ہاؤس اور سمال بزنس مائنورٹی ارکینائیزشن نے منعقد جس میں کمیونٹی کی ممتاز شخصیات ، تنظیموں کے علاوہ میڈیا نے شرکت کی

    تقریب میں فاروق مرزا نے تمام تنظیموں کے اراکین کا تعارف کروایا اور کہا کی بروکلن کونی آئی لینڈ پاکستانی ثقافت اور تہذیب کا مرکز ہے اور یہاں کے پاکستانی پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگاتے ہیں اور پاکستان کا وقار بلند کرتے ہیں ،تقریب میں ممتاز صحافی راجہ ابرہیم نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا رویہ رکھتی تھیں اور عزت بھی کرتی تھیں۔ تقریب میں اورسیز فاؤنڈیشن کے سرپراہ ظہیر مہر، نیو یارک میئر کی معاون خصوصی عطیہ شہناز ، پاکستان ہائوس کے صدر علی ذئی ، ڈپٹی قونصل جنرل محمد عمر نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور ریاست کے رول کو بھی اہمیت دینی چاہیے ۔تقریب میں خواتین کی مختلف تنظیموں کی سربراہان نے بھی خطاب کیا ۔

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں  مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
    فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ۔ صدق اللّٰہ العظیم

    حضرات علماء کرام، برطانیہ میں میرے ہم وطنوں، میرے بزرگوں، میرے دوستو اور بھائیو! کافی عرصہ ہوا جہاں میں تقریبا ہر سال برطانیہ آیا کرتا تھا کوئی سات آٹھ سال کے بعد آپ کے پاس حاضر ہو رہا ہوں۔یہاں کے احباب، یہاں کی جمیعت علماء اور بالخصوص برادر عزیز مولانا اسلام علی شاہ صاحب کی محبت ہے ان کا خلوص ہے کہ اپ حضرات کے ساتھ اج اس جامعہ مسجد میں ملاقات ہو رہی ہے اور مجھے اپ کی زیارت اور آپ کی ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا آپ پر اور ہم سب پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارا تعلق علمائے کرام کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور ہمارے ملنے جلنے کا مرکز مساجد کو بنا دیا ہے اور دین کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مدارس دینیہ کا جال بچھا دیا ہے۔ یہ ہماری اور آپ کی دنیا اور اخرت کو سنوارنے کے لیے ہے۔ اس میں خیر خواہی کے علاوہ اور کوئی تصور ہو ہی نہیں سکتا بس بات اتنی ہے کہ ہم اس کی قدر کر سکیں اس بات کو سمجھ سکیں یہ میرا اللّٰہ اس بات پر قادر تھا کہ ہمیں گمراہوں میں بٹھا دیتے، چوروں اور ڈاکوں کے گروہوں میں بٹھا دیتا، غلط راہ پر چلنے والوں کے گروہوں میں حصہ بنا دیتا، لیکن اس سے بچا کر اللّٰہ رب العزت نے اپنے پیارے بندوں کے ساتھ ہماری بیٹھک بنائی ہماری مجلس بنائی ہمارا تعلق بنایا اور ہم جس اسلام کی بات کرتے ہیں جو دین ہمارا رہنما ہے یہ وہ عظیم الشان دین ہے کہ جو ہماری مملکتی زندگی میں، ہماری قومی زندگی میں، ہماری ملی زندگی میں ہماری دو ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ایک ہمارا انسانی حقوق اور دوسرا ہماری معیشت، ایک مملکت کے لیے ایک ایسا نظام کہ جو ہمارے انسانی حقوق کا محافظ ہو اور انسانی حقوق کا تعلق تین باتوں سے ہے انسان کی جان، انسان کا مال اور انسان کی عزت و آبرو، پوری دنیا میں چاہے مسلم ہو یا نان مسلم وہ جو اپنی قانون سازی کرتے ہیں تو یہ تین چیزیں ان کے نظر میں ہوتی ہیں۔ پوری قانون سازی ان تین چیزوں کے گرد گھومتی رہتی ہے انسانی حقوق ان کا تعین کرنا پھر انسان حق کا تحفظ کرنا پھر انسانی حق کی تلافی کرنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی توحید کا درس دیا۔ شرک کے خلاف لڑے یہاں تک کہ اگ میں جھونک دیے گئے بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم کرنے کے لیے تمام تکلیفیں برداشت کی، ہر امتحان سے گزرے اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے،
    وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ
    جب اس کے رب نے بہت سی باتوں پر ان کا امتحان لیا اور وہ اس پر پورے اترے۔ ہر منصب کے لیے پہلے انٹرویو ہوتا ہے ناں تو اللہ نے امتحان لیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے اس کے بعد اپ کو امامت کبریٰ کا منصب عطا کیا،
    قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-
    پوری انسانیت کا تمہیں امام بنانے والا ہوں۔ توحید کی طرف دعوت یہ ایک سبق تھا، تمام تر مشکلات کو آپ نے عبور کیا لیکن اس کی انتہا ایک اجتماعی زندگی اور منظم اجتماعی زندگی جس میں اپ کو مملکت کا امام بنا دیا گیا، انسانیت کا امام بنا دیا گیا اور ذمہ داری تبدیل ہو گئی پہلے کچھ فرق تھا اضافہ ہو گیا اب امامت کبریٰ پر فائز ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ترجیحات کو ذرا مطالعہ کیجئے، اب فرماتے ہیں،
    وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ
    اے اللّٰہ اس شہر کو اس ابادی کو امن نصیب فرما یہاں کے لوگوں کی جان مال اور عزت آبرو کی حفاظت فرما۔ ایسا نظام عطا فرما کہ جس نظام کے ذریعے سے انسانی حقوق محفوظ ہو جائے اور خوشحال معیشت کی دعا کی پھل فروٹ کی بات کی دال ساگ کی بات نہیں کی لیکن اپ نے فرمایا کہ یا اللّٰہ انہیں پھل فروٹ عطا فرما لیکن ان کے لیے جو ایمان لائے اللّٰہ پر اور یوم اخرت پر، تو اللہ تعالی نے فرمایا نہیں دنیا میں تو ان کو بھی دوں گا یعنی ایک اسلامی معاشرے میں بھی اسلامی مملکت کے اندر بھی مسلم نان مسلم کے حقوق کو برابر کر دیا۔ اگر وہ جنگ نہیں لڑتے امن سے رہتے ہیں پرامن برادرانہ زندگی گزارتے ہیں تو ان کی جان بھی ایسی ہی محفوظ جس طرح کے اپنی، ان کا مال بھی ایسا ہی محفوظ جس طرح اپنا مال اور ان کی عزت و آبرو بھی اسی طرح محفوظ جس طرح کہ اپنی، اب اس تصور کے بعد جس اللّٰہ نے ہمیں پیدا کیا تو حکم بھی اسی کا چلے گا، تخلیق کائنات بھی اپ نے کی ہے اور ان پر حکم بھی آپ کا چلے گا اور پھر سب سے اولین پیغام وہ اس کے امن کا ہے۔
    سوچنے کی بات ہے کہ وہ دین اسلام اور اس دین اسلام سے وابستہ مسلمان وہ کیسے کرہ ارض پر فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام کے معنی دوسرے کو سلامتی دینا، ایمان کے معنی دوسرے کو امن دینا، جس دین کے ناموں کے اندر امن اور سلامتی کے معنی پنہاں ہوں اس حوالے سے الٹا تاثر قائم کرنا یہ پھر دین اسلام کے ساتھ بے انصافی ہے اور پھر یاد رکھے عام طور پر جب ہم آپس میں بیٹھتے ہیں جرگوں میں یا اس میں پھر دو فریق ہوتے ہیں تو ہمیشہ اقرار کرنے والا صلح کا ذریعہ بنتا ہے اور انکار کرنے والا جھگڑے کا سبب بنتا ہے اب مسلمان تو سب کو مانتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب بائبل پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت موسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، اس کی تورات پر بھی ایمان لاتا ہے۔ جب ہم سب کو مانتے ہیں سب کی کتابوں کو مانتے ہیں ان کو اسمانی کتاب مانتے ہیں تو پھر مسلمان کبھی بھی فساد کا سبب نہیں بنتا، پھر جو ہمارا انکار کرتے ہیں وہ اپنے گریبان میں جان کر خود اپنے سے کچھ سوالات کریں کہ دنیا میں جو اس وقت شورش ہے بد امنی ہے اس کے اسباب کیا ہے۔ ہم بھی ان چیزوں کو تلاش کریں۔
    ہمارے علماء ایک بڑی خوبصورت بات کرتے ہیں فرماتے ہیں ایک یہ کہ انسان کو راستہ چاہیے اگر راستہ ہی نہیں تو جائے کدھر اور جب اس کو راستہ مل جاتا ہے تو پھر اس کو راستے پر چلنے کا اسلوب بھی چاہیے اس کا ڈھنگ بھی چاہیے اس کو اور اس راستے میں اگر کوئی رکاوٹ اتی ہے کہیں پتھریلی زمین اجاتی ہے کبھی جھاڑیاں اجاتی ہیں کبھی پانی اجاتا ہے تو اس مشکل مرحلے کو عبور کرنا یہ بھی تو راستے کے لوازمات ہے۔ تو ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ راستہ تو شریعت ہے اور راستے پر چلنے کا اسلوب طریقت ہے اور راستے کے مشکل کو دور کرنا اور مشکل کا مقابلہ کرنا سیاست ہے۔ یہ تینوں موالید اسلام ہے، شریعت کو ہماری کتابوں میں تعلیم الاحکام سے تعبیر کیا جاتا ہے، طریقت کو ہماری کتابوں میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور سیاست کو ہماری کتابوں میں تنظیم الاعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جناب رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے خود اعلان کیا کہ میں اخری سیاست دان ہوں اور اس سے پہلے بنی اسرائیل کے اندر انبیاء اتے تھے اور وہ سیاست کرتے تھے یعنی مملکتی اور اجتماعی زندگی میں تدبیر و انتظام کیا کرتے تھے۔ چارہ گری کرتے تھے۔
    كانت بنو إسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدی
    بنی اسرائیل کے انبیاء سیاستدان تھے امور مملکت اس کا انتظام و انصرام ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا ایک جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا تھا اب میں آخری پیغمبر ہوں اب یہ باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہے۔
    ولا نبیا بعدی
    میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا اور وسيكون خلفاء، میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بڑی تعداد میں ہوں گے۔ میں اپنے علماء کرام سے بھی کبھی کبھی الجھتا ہوں کہ یہ جو اپ جلسوں میں کہتے ہیں کہ ختم نبوت جو ہے سیاست سے بالاتر ہے یہ امت کا متفقہ مسئلہ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اب تو اس حدیث کے بارے میں ذرا سوچیں اپ کہاں کھڑے ہیں کہ جو وظیفہ انبیاء کرام کا تھا اور اس کے آخری کڑی خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہاں ہم نے اس کو خالصتاً دنیا داری کہہ دیا ہے۔ جھوٹ بولو، دھوکہ دو تاکہ منصب تک پہنچ سکو، اس میں کوئی کامیاب ہو گیا تو ہم کہتے ہیں یہ کامیاب سیاستدان ہے۔
    تو ہم نے شریعت کے ایک اصطلاح کو کیا معنی پہنا لیا ہے، کیا مفہوم پہنا دیا اس کو، بحیثیت مسلمان ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے علمی لحاظ سے غور کرنا چاہیے۔ مسائل اتے ہیں اور دین اسلام کا جو اولین تقاضہ ہے جس پر آپ کی سماجی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے آپ کی معاشی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے، آپ کے معاشرت کا نظام بھی اسی کے اوپر کھڑا ہے وہ ہے آزادی، یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے شریعت کو ایک مشکل گزرگاہ سے تعبیر کیا ہے۔
    فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ،
    جب جب انسان گھاٹی میں داخل ہو اور جانتے ہو گھاٹی کیا ہے گھاٹی کیا ہوتا ہے مشکل گزرگاہ کو کہتے ہیں، پہاڑوں کے اندر جو چھوٹے درے ہوتے ہیں جب اپ اس سے گزرتے ہیں تو پتھریلی زمین بھی ائے گی، پانی بھی ائے گا، جھاڑیاں بھی ائے گی، کانٹیں بھی ائیں گے۔ اب اس مشکل گزرگاہ میں داخل ہو جانا، شریعت کو قبول کر لینا، دین اسلام پر ایمان لے انا، اس کا جو اولین تقاضہ ہے خود رب العالمین نے فرمایا فَكُّ رَقَبَة، گردن چھڑانا، اب جس زمانے میں غلام رکھے جاتے تھے اس زمانے میں تو یہ بات سمجھ میں اتی تھی کہ غلام ازاد کردو۔ تمام مفسرین نے ان کو آزاد کرنے کے معنی سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن یہ تو قرآن ہے اللّٰہ کا کلام ہے جتنا اللّٰہ عظیم ہے اس کا کلام اتنا ہی عظیم، اس کے معنی مفہوم میں بھی وہی وسعت ہوگی۔ ایک فرد کو آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ پورے قوم کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین ترجیح ہے، انسانیت کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین تقاضہ ہے۔ آج آزادی کے حق کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ نو آبادیاتی نظام کے بعد ہر ایک کہتا ہے انسان آزاد ہے۔ انسان کی آزادی کے تصور کو تو کوئی اختلاف نہیں، اس کو آزادی حاصل ہوگا، انسانی حق کو تو کوئی جھگڑا نہیں ہے یعنی حق کی تعریف کرنا، حق کی تفصیل بیان کرنا اس میں شائد فرق ہو، آزادی کے تصور پر کوئی اختلاف نہیں البتہ آزادی کی مفہوم پر بحث ہو سکتی ہے۔
    میرے دوست تھے آزاد خیال قسم کے، ابھی بھی حیات ہے مجھے کہنے لگے کہ آپ مولوی صاحبان سارا دن مسجد میں بیٹھ کے اللّٰہ کی بندگی اور اللّٰہ کی بندگی ہو اللّٰہ کی بندگی اور سوائے بندگی سکھانے کی کوئی اور کام تمہارا نہیں ہے لیکن جب سڑکوں پہ آتے ہو روڈوں پہ تو آزادی اور آزادی اور یہ عذاب ہے کہ مسجدوں میں اور حجروں میں تو آپ لوگوں کو غلامی اور بندگی پڑھا رہے ہوتے ہیں اور روڈوں کے اوپر پھر آزادی اور آزادی کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپ شائد آزادی کا معنی سمجھے نہیں ائیے ہم اپنے خاندان میں آتے ہیں اور خاندان میں ا کر ہم اس کو پھر سمجھتے ہیں۔ جس طرح کائنات میں کائنات کا خالق ایک ہے۔ جس طرح ہر انسان کا باپ ایک ہوتا ہے۔ انسان کی جو ظاہری تخلیق ہے اس کا جو ظاہری ہے سبب ہے وہ باپ ہے۔ اب جب اس باپ کی اولاد اور وہ اولاد اپنے والد کی خدمت کرتا ہو، اس کی فرمانبرداری کرتا ہو، اس کی دکان پر بیٹھتا ہو، اس کی زمین پر محنت کرتا ہو، کیا ہمارے معاشرے میں اس بیٹے کو باپ کا نوکر کہا جاتا ہے، باپ کا مزدور کہا جاتا ہے، باپ کا مزارع کہا جاتا ہے، کبھی نہیں، اپنے جائیداد کا مالک کہا جاتا ہے لیکن اگر معاشی مجبوری ہو جائے پھر کسی طاقتور آدمی کے سامنے، کسی بڑے زمیندار کے، کسی بڑے کاروباری کے، کسی کارخانہ دار کے، ان کے سائے میں زندگی گزارنا تو جب آپ کسی طاقتور کے ساتھ اپنی ضرورتوں کی وجہ سے زندگی گزارتے ہیں تب آپ کو نوکر بھی کہا جائے گا، مزدور بھی کہا جائے گا، مزارع بھی کہا جائے گا لیکن اپنے والد کی اطاعت میں سب کچھ کرنا اس کو ہمارے معاشرے میں کبھی مزدور یا نوکر نہیں کہتے۔
    تو یہ شخص جو اپنے والد کا اطاعت گزار ہے، اس کا فرمانبردار ہے اسے ہمارے معاشرے میں نوکر اور مزدور نہیں کہا جاتا باپ کا، لیکن اگر وہ بوجہ مجبوری اپنی ضرورتوں کے تحت کسی کے گھر جا کر نوکری کرتا ہے، کسی کی زمین پر مزارع بنتا ہے، کسی کے کارخانہ میں کام کرتا ہے کسی کے دکان پہ بیٹھتا ہے تو اپ اس کی ملازم بھی کہتے ہیں، مزدور بھی کہتے ہیں، مزارع بھی کہتے ہیں۔
    اسی طریقے سے اگر ایک قوم اپنے خالق کائنات کی اطاعت میں زندگی گزارے اور اس کے قانون کی پیروی کرتی نظر ائے وہ قوم ازاد کہلائے گی۔ اور اگر ہم اللّٰہ کے علاوہ کسی دوسرے انسان کے بنائے ہوئے نظام کی پیروی کریں گے تو پھر ہمیں غلام کہا جائے گا۔ ہمیں اگر پاکستان میں چاہیے تو یہ نظام چاہیے اور یہ کوئی اسان کام نہیں ہے اور ہم نے اس کے لیے پُرامن راستے چنے۔ جمہوری راستہ، الیکشن کا راستہ، پارلیمنٹ کا راستہ، قانون سازی کا راستہ، کسی کو کنونس کرنے کا راستہ، طریقے سے اس کو اپنی بات پر آمادہ کرنا اور قائل کرنا، اور یہی دعوت کا تقاضا ہے کیونکہ یا تو آپ نے مقام عبدیت میں رہنا ہے یا مقام حکومت میں رہنا ہے۔ جب تک آپ مقام حکومت میں نہیں پہنچتے اور وسائل پر اپ کی گرفت نہیں اتی تب تک آپ مقام دعوت پر ہو تو دعوت والا جو ہے وہ پھر اپنا ہی مقام رکھتے ہیں وہ گالم گلوچ نہیں دیتا، لڑائی جھگڑا نہیں کرتا، مقام دعوت سے بالکل نیچے نہیں اترتا، جیسے کہ اللہ رب العزت نے کچھ لوگوں کو بھیجا،
    واضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ،
    دو بندوں کو بھیجا پھر تیسرے کو بھیجا اور اس لیے تاکہ وہ اللہ کے دین کی طرف دعوت دے ان کو، لیکن انہوں نے جھٹلایا، پھر دھمکیاں تک دی پھر کہا یہ تمہاری وجہ سے نحوست ہے نعوذ باللہ،
    قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
    اب وہ منکر ہے یہ داعی ہے منکر گر رہا ہے، بد اخلاقی کی طرف جا رہا ہے، دھمکیوں کی طرف جا رہا ہے، مار کٹائی کی طرف جا رہا ہے، سنسار کرنے کی طرف جا رہا ہے اور وہاں ان سے کہا جاتا ہے،
    قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ۔
    کوئی اللہ نے کچھ نہیں کیا تم بھی ہماری طرح انسان ہو، کیا اللّٰہ اللّٰہ کی باتیں کرتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، لیکن وہ کہتا ہے نہیں،
    قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ
    تمہارا اللّٰہ جانتا ہے ہم اسی کی طرف سے آئے ہیں۔ اللّٰہ کی دعوت دے رہے اپنے مقام سے نیچے نہیں اتر رہے، کوئی بد اخلاقی نہیں کر رہا، کوئی سختی نہیں، یہاں تک کہ وہ جو گاؤں والا نصرت کے لیے آتا ہے اس کو شہید کر دیتے ہیں اور جب اس کو قبر میں اتارا جاتا ہے اور اس کو کہا جاتا ہے قبر میں اتار کر اس کو کہا جا رہا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، انسانیت کی طرف بلاؤ، اللّٰہ کے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ، حکمت اور دانائی جس کو مل گئی حکمت تو ایسی چیز ہے جس کو مل گئی بس خیر کثیر اسی کو مل گئی اور حکمت جو ہے جو مسئلہ اپ بیان کر رہے ہیں اس کے موقع محل کو سمجھنا، میں کس سے بات کر رہا ہوں، سننے والے کا مزاج کیا ہے، اس کی تربیت کہاں ہوئی ہے وہ نرم دل والے ہیں یا سخت دل والے ہیں، میری بات کو وہ قبول کرے گا نہیں کرے گا۔ اگر اپ سمجھتے ہیں کہ اج وہ قبول نہیں کرتا تو اس کو دوست بنا لو تاکہ مانوس ہو جائیں اپ کے ساتھ، اس قابل ہو جائے کہ اپ کی بات کو قبول کر سکے اور آپ کی گفتگو میں شائستگی ہو، ہاں دعوت دینے والا اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے کہیں پر کوئی الجھ آگئی ان کے بیچ میں، اپس میں الجھ گئے تو اس مرحلے پر ا کر بھی اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جھگڑے والا اور جدال والے ماحول کو بھی شائستگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا، یعنی دعوت کے ذریعے تو دو ہیں ایک حکمت اور ایک حسن موعظت، جدال جھگڑا یہ نظریہ دعوت نہیں ہے لیکن اگر درپیش ہو جائے تو پھر اس جدال کو بھی اس طرح انجام تک پہنچاؤ کہ جو نتیجہ حکمت اور حسن موعظت کا ہے وہی نتیجہ و معال اپ کے جدال میں بھی ہو۔
    تو اختلاف اجاتا ہے مظاکرہ ہوتا ہے لیکن وقار کے ساتھ، گالیوں کے ساتھ نہیں، سیاست گالیوں سے نہیں ہوتی، عبادت گالیوں سے نہیں ہوگی، عقیدے کا بیان گالیوں سے نہیں ہوگا، گالیوں سے شدت آتی ہے وہ آپ کے لیے نرم نہیں ہوگا کہ آپ کو قبول کر سکے۔ قبول نہ کرنے کا نہ ہونے کا ثبوت بن سکتا ہے تو قبول کرنے کا نہیں بن سکتا۔
    تو اس انداز کے ساتھ ہم اختلاف رائے بھی کریں گے اور ہم انسان ہیں جو بات ہم کہہ رہے ہیں کیا واقعی ہم خود بھی اس معیار پر پورے اترتے ہیں، یقیناً ہم بھی قصور وار ہوں گے لیکن جہاں ہم قصور کرتے ہیں، سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں جہاں اپنے مخالف کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرتے ہیں ہمیں داد بھی اسی پہ ملتی ہے۔
    تو یہ ساری چیزیں اس میدان کی اصلاح کی چیزیں ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ انسانی حقوق کیا ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ مملکتی اور قومی زندگی کا دارومدار معاشی ترقی پہ ہے۔ اس سے اگے اپ کے لیے اپنی نماز ہے اپ کا اپنا مسلک ہے جس طرح پڑھیں جہاں پڑھیں روزہ رکھیں جس طرح رکھے اپ کے اعمال ذاتی اعمال ہیں۔ لیکن مملکت اپ سے دو چیزیں مانگتا ہے ایک انسانی حقوق کا تحفظ اور ایک خوشحال معیشت، لوگوں کو روزگار دینا، لیکن جب اللّٰہ اپ پر ان دونوں چیزوں کا انعام کر دے پھر شکر گزار ہونا چاہیے نا شکری اللّٰہ کو قبول نہیں۔
    وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے ایک ابادی کی مثال دی ہے کہ وہاں امن بھی تھا سکون بھی تھا۔ جب امن ہوگا سکون بھی ہوگا اطمینان بھی ہوگا۔ ہر طرف سے رزق کچ کچ کے آتا تھا ان کے پاس، خوشحال معیشت تھی وہاں، لیکن جب انہوں نے اللّٰہ کی ناشکری کی، کفران نعمت کیا، اللّٰہ کی عبادت سے انکار کر دیا، عیاشیوں کی طرف چلے گئے، اپنی مرضی کی زندگی گزارنا جس طرح حیوانات گزارتے ہیں اور اسی کو ازادی کہہ دیا اس نے، تو پھر اللّٰہ رب العزت نے ان کو مزہ چکھایا کن چیزوں کا، دو باتوں کا، ایک بھوک کا اور ایک بد امنی کا، اللّٰہ نے ان پر بھوک اور بد امنی مسلط کر دی اور یہ ایک ایمان والوں سے بات ہو رہی ہے اپ کہیں گے کہ بھئی کافر دنیا، کافر دنیا کی تو کمٹمنٹ بھی نہیں ہے نا، آپ نے تو اللہ کے ہاں بیعت کی ہوئی ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا ہوا ہے کلمہ پڑھا ہوا ہے آپ نے، جو آپ کے ساتھ کمٹمنٹ کرتا ہے اس کے بارے میں اپ کا رویہ اور ہو سکتا ہے جس کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا فنا ہونے والی چیز اور اخرت ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ ترغیب اسی پہ ہے کہ اخرت کو مد نظر رکھ کر اسی پہ گزارا کرو۔ لیکن کیا یہ دنیا کی نعمتیں جو اللّٰہ نے پیدا کی ہیں اس کو لات مار دیں، یہ تو اللّٰہ تعالیٰ بھی نہیں کہتا، اللّٰہ رب العزت فرماتے ہیں لوگوں سے کہہ دو یہ جو میں نے اپنے بندوں کے لیے نعمتیں پیدا کی ہیں پاک رزق پیدا کی ہے کس نے تم پر حرام کیا ہے۔ کہہ دو یہ سب کچھ دنیا میں تمہارے لئے ہے لیکن مجھے نہ ماننے والا بھی دنیا میں شریک ہوگا اور قیامت کے دن خالصتاً آپ لوگوں کے لیے ہوگا۔ یہ جو نعمتیں دنیا میں ہے یہ ہمارے لیے ہی ہے۔ ایمان والوں کے لیے ہے لیکن اگر ایمان کا رشتہ ہی اللّٰہ سے ٹوٹ جاتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے پھر تو پڑوسی ان پر قبضہ کریں گے نا، دنیا کی نعمتوں پر اگر اج دوسری دنیا کا قبضہ ہے تو گلا اپنے سے کرو ان سے کیوں کرتے ہو، کیوں معیشت ان کے قبضے میں ہے اور کیوں ہم ان سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ ملک ہم نے اس لیے تو حاصل نہیں کیا تھا۔ ہم نے تو اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم ازاد ہوں گے، ہماری معیشت بہتر ہوگی، ہمارے حقوق محفوظ ہوں گے لیکن سب سے زیادہ بدامنی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ معاشی بدحالی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ اس ملک کے لیے فکر مند ہونا یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے فکرمند ہو، اس کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے، اس کو پرامن بنانے کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے خوشحال معیشت کے لیے ہم کردار ادا کریں اور دین اسلام کے رہنمائی میں، ہم کہتے ہیں کہ سود حرام ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ جو لوگ سودی کاروبار کہتے ہیں وہ اللّٰہ سے جنگ کے لیے تیار رہے۔ اللّٰہ سے جنگ بھی تو ہے اسلام کے نام پر حاصل کیے ہوئے ملک میں ستتر سال ہو گئے ہم آج تک اللّٰہ کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں اور پھر بھی ہم خوشحالی کی بات کرتے تھے۔ آبادی کی بات کرتے ہیں، امن کی بات کرتے ہیں۔ فلاں ذمہ دار ہے، اس کا قصور ہے، اس کا قصور ہے، اور وہ نااہل ہے یہ نااہل ہے اسی طرح گزر رہی ہے۔ لیکن اصل مرض کو ہم نے اج تک پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔
    تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس کے لیے ایک منظم جدوجہد کی ضرورت ہے انفرادی کام نہیں ہے اس کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ آپ حضرات اگر عملاً شریک نہیں ہو سکتے یہاں دعا تو کر سکتے جو کام کر رہے ہیں ان کو اللہ توفیق دے، اللّٰہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت عطا فرمائے، جو کام کر رہے ہیں اللہ ان کو کامیابی نصیب فرمائے۔
    تو اچھا ہوا آج کی اس مجلس سے کچھ فائدہ ہم نے اٹھا لیا ہے اور کچھ دل کی باتیں ایک دوسرے سے کہہ دی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو قبول فرما لے اور ہر قسم کے ازمائشوں سے اللّٰہ تعالی ہمیں محفوظ فرمائے، جو خطائیں ہم نے کی ہیں اللہ اپ کو معاف فرما دے اور اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے پردے میں رکھے اور رسوائی سے دنیا میں بھی محفوظ رکھے اور آخرت میں بھی محفوظ رکھے۔

    وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔*

  • پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی اجلاس،:پنجاب اسمبلی نے زرعی ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا

    پنجاب بھر میں زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ کردیاگیا،پنجاب زرعی ترمیم بل ایکٹ 2024،نئی شک (D) کے تحت زرعی ترمیمی بل میں زرعی کے ساتھ لائیو سٹاک پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،نئی شک 3AB کے تحت زیادہ آمدن والے اشخاص پر سپر ٹیکس لاگو کیا گیا،ترمیمی بل کے ذریعے زرعی زمین پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی،زرعی زمین کے ساتھ لائیو سٹاک سے کمائے جانے والی آمدن پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،لائیو سٹاک پر ٹیکس بھی زرعی ٹیکس میں شمار کیا جائے گا،لائیو سٹاک کا تصور پنجاب لائیو سٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کے مطابق ہو گا،بل کے مطابق سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت زرعی ٹیکس نا دہندہ کو ٹیکس رقم کا 0.1 فیصد ہر اضافی دن کا جرمانہ عائد ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت 12 لاکھ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 10 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 25 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے زیادہ زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 50 ہزار جرمانہ ہو گا،زرعی ٹیکس کا مسودہ کمیٹی سے بھی پاس ہو چکا ہے،

    پیپلز پارٹی نے ایگریکلچر انکم ٹیکس بل کی مخالفت کردی ،علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بل پر مشاورت نہیں کی ،حکومت کو ہمارے ووٹوں کی ضرورت نہیں،کسان پہلے پسا ہوا ہے اس بل پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے ،احتجاجا اس بل کے خلاف واک آوٹ کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی نے زرعی ٹیکس بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا

    پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر میں اہم ترمیم کر دی گئی،،پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے ایڈوائز کو ایوان میں داخلے اور بات کرنے کی اجازت ہوگی۔

    ایوان اقبال میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں کو پنجاب اسمبلی نے قانونی تحفظ فراہم کردیا۔ایوان اقبال کو قانونی تحفظ کےلئے قرارداد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کی۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دو سیشن جون 2022 کے دوران ایوان اقبال اور پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوئے، دونوں اجلاسوں کے سالانہ بجٹ 2022-23 اور سیپلیمنٹری بجٹ 2021-22ء کو آمدنی ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا ہے اور قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے،

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ قطر،نائب وزیراعظم،وزیر دفاع سے ملاقات

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ قطر،نائب وزیراعظم،وزیر دفاع سے ملاقات

    جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ریاست قطر کا سرکاری دورہ

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، اپنے سرکاری دورے کے دوران ریاست قطر پہنچے، جہاں انہوں نے قطر کے نائب وزیرِ اعظم شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی اور وزیرِ دفاع، سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے پاکستان اور قطر کے مابین مضبوط برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا اور دفاعی و سیکیورٹی کے شعبوں میں فوجی سطح پر تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر قطر کی قیادت نے پاکستان کی جانب سے خطے میں استحکام کے قیام میں مثبت کردار کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کی قدر کی۔

    اس سے قبل، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا قطر کی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں قطری فوج کے دستے نے انہیں "گارڈ آف آنر” پیش کیا۔دونوں جانب سے خطے میں پائیدار امن کے قیام اور باہمی دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

  • مختار جاوید فافن کے نئے چیئرپرسن منتخب

    مختار جاوید فافن کے نئے چیئرپرسن منتخب

    ملک کے نامور اور تجربہ کار سول سوسائٹی ایکٹوسٹ مختار جاوید ،3 برس کیلئے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن ) کے نئے چیئرپرسن منتخب ہوگئے ہیں ۔

    فافن کی 20 رکنی نیشنل کونسل نے ووٹنگ کے ذریعے ان کا انتخاب کیا ۔ الیکشن کے بعد مختار جاوید نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا ۔ فافن چیئرپرسن عہدہ سے سبکدوش ہونے والی محترمہ مسرت قدیم اور کونسل کے دیگر 18 ارکان نے انہیں فافن کا نیا چیئرپرسن بننے پر مبارکباد دی ۔ مختار جاوید ملک کے نامور اور تجربہ کار سول سوسائٹی ایکٹوسٹ ، شاعر اور لکھاری ہیں ، وہ فافن کے بانی رکن بھی ہیں ۔ اپنے 30 سالہ پیشہ ورانہ کیرئیر میں وہ جمہوریت کے مقصد ، پائیدار ترقی اور شمولیت والی حکمرانی کے داعی رہے ہیں ۔

    اپنے انتخاب کے بعد مختار جاوید کا کہنا تھا کہ وہ انتخابی ، قانون سازی اور لوکل گورننس میں مزید اصلاحات کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے ، یہ اصلاحات پاکستان میں جمہوری استحکام کیلئے ناگزیر ہیں ۔ انہوں نے فافن نیٹ ورک کی بنیادی قدر ” غیر جانبداری ” کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جوکہ اس نے تحقیق ، ایڈووکیسی کے ذریعے ملک کے انتخابی فریم ورک کو مزید شمولیت پر مبنی اور حقیقی نمائیندہ بنانے کیلئے کاوشوں سے حاصل کی ۔ انہوں نےسیاسی پولرائزیشن والے برسوں کے چیلنجز پر مبنی ماحول میں فافن کی ساکھ ایک غیر جانبدار سول سوسائٹی نیٹ ورک کے طور پر قائم رکھنے پر سبکدوش ہونے والی چیئرپرسن مسرت قدیم کومبارکباد دی ۔ فافن کونسل نے اس موقع پر نو منتخب چیئرپرسن کے ان خیالات کی بھرپور حمایت کی جن کا انہوں نے سبکدوش ہونے والی چیئرپرسن کیلئے اظہار کیا اور جس میں فافن کیلئے مسرت قدیم کی انتھک کاوشوں اور خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا

  • ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئےجبکہ 2 فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے جوانوں میں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد شامل ہیں،ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تاہم اس دوران میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں،میجر محمد حسیب کا تعلق ضلع راولپنڈی سے تھا، 38 سالہ حوالدار نور احمد کا تعلق ضلع بارکھان سے تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کے دفاع میں ان کی ثابت قدمی اور بہادری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    28 سالہ میجر محمد حسیب شہید نے 8 سال 6 ماہ تک دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔شہید کے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی شامل ہیں، 38سالہ حوالدار نور احمد شہید کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے، انہوں نے 14 سال تک وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔حوالدارنور احمد شہید کے سوگوران میں اہلیہ،3بیٹے اور بیٹی شامل ہیں۔

    صدر مملکت کا ہرنائی میں جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا،صدر مملکت نےمیجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم کی جانب سے سلام پیش کیا اور کہا کہ دفاع وطن کے دوران بڑی قربانی پیش کرنے پر پوری قوم شہداء کی ممنون ہے، صدر مملکت نے کاروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا،اور کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے کاروائیاں جاری رکھیں گے،قوم شہداء اور اُنکے خاندان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی،

    پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعظم نے شہداء کی بلندی ء درجات کی دعاء اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہرنائی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان
    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہا ہے جبکہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے بہادری سے جام شہادت نوش کرنے والے فورسز کے عظیم سپوتوں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیر اعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ہرنائی میں شہید ہونے والے میجر حسیب نے نہایت جرات و بہادری سے کارروائی میں فورسز کی کمانڈ کی اور تین دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اس دوران انہوں نے اپنے ایک ساتھی حوالدار نور محمد کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا، قوم کو اپنے ایسے بہادر جوانوں پر فخر ہے جنہوں نے وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کردی اور دہشتگردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ان کی عظیم قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر جمیل کے لئے دعا کی

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت