Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہےنہ سیاست کی جاتی ہے، بلاول

    وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہےنہ سیاست کی جاتی ہے، بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سیل کا دورہ کیا ہے

    بلاول زرداری نے بلاول ہاؤس، کراچی میں مانیٹرنگ روم اور نیوز سیکشن سمیت مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا.بلاول زرداری نے بلاول ہاؤس میں موجود صحافیوں سے بھی غیررسمی ملاقات کی۔اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم میں مصروف تھاحکومت نے پیٹھ پیچھے کینالزکی منظوری دی،ن لیگ پیپلزپارٹی کیساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، وفاقی حکومت نے آئین سازی کے وقت برابری کی باتیں کیں ،

    بلاول زرداری نے صدر مملکت آصف زرداری کی طبیعت کے حوالہ سے صحافیوں کو بتایا کہ صدر زرداری صاحب کی طبیعت بہتر ہے،ان کے پاؤں میں4 فریکچر ہوئے ہیں، صحت مکمل بہتر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بلوچستان میں مہمان نوازی ثقافت کا حصہ ہے، دہشتگردی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، چین کےشہری ہمارےنہ صرف مہمان بلکہ دوست بھی ہیں، چین ہماری معیشت اور عوام کو فائدہ پہنچاناچاہتاہے، عوام کا مطالبہ ہےکہ دہشتگردی کےواقعات کا سدباب ہو۔بلوچستان سےلیکر قبائلی علاقوں تک دہشتگردی کی آگ پھیلی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہےکہ وہ صورتحال پر ایکشن لے، عادت بن چکی ہےکہ دہشتگردی کےواقعےپر بیانات ،تعزیتی دورے ہو جاتے ہیں، عوام کا مطالبہ ہےکہ حکومت باتیں نہیں عمل کرکے دکھائے، حکومت دہشتگردی کے مقابلے کے لیے کیاکررہی ہے۔

    ہم پاکستان کےمفاد کو مدنظر رکھتےہیں، امریکہ کی ہم امریکی سیاست میں ری پبلیکن،ڈیموکریٹس کی طرفداری نہیں کرتے، ذاتی تعلقات سیاست میں ہوتےہیں، ٹرمپ کےداماد اور بیٹی کو جانتاہوں، بی بی شہید کو بھی ٹرمپ نےکھانےپر مدعو کیاتھا، آصف علی زرداری ٹرمپ کو صدر بننےسے پہلے جانتے ہیں۔ ذاتی تعلقات کی ڈپلومیسی میں اہمیت محدود ہوتی ہے، جیوپولیٹیکس کا اثر زیادہ ہوتاہے، پاکستان امریکا کےتعلقات بلکل اچھےنہیں،جب وزیر خارجہ تھا اس وقت بھی امریکا سےتعلقات زیادہ بہتر نہیں تھے، اس وقت امریکا کےساتھ بدترتعلقات ہیں۔

    وی پی این کی بندش اورانٹرنیٹ اسپیڈ پر بلاول بھٹو نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ اور وی پی این بندش سےمتعلق ہم سےمشاورت نہیں کی گئی، فیصلے کرنےوالوں کو وی پی این کا پتہ ہی نہیں، انٹرنیٹ وی پی این معاملے پرحکومت مشاورت کرتی تو سمجھاتے۔بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ زراعت اور ٹیکنالاجی ہی ایسے شعبےہیں جو معیشت کو سہارا دےسکتےہیں، بدقسمتی سےحکومت زراعت ٹیکنالاجی کےشعبےکو نقصان دےرہی ہے، اب زمانہ انٹرنیٹ وی پی این اور انٹرنیٹ اسپیڈ کا ہے،یہ کہتےہیں کہ حکومت فور جی سروس دےرہی ہے، فورجی انٹرنیٹ کےحوالے سےجھوٹ بولاجاتاہے، تھری جی انٹرنیٹ سروس دی جارہی ہے، اب انٹرنیٹ اسپیڈ مزید سست کردی گئی ہے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نےآئین سازی کےوقت برابری کی باتیں کیں، جوڈیشل کمیشن سےاحتجاجا الگ ہوام میں اگر جوڈیشل کمیشن میں ہوتا تو آئینی بینچ میں فرق پر بات کرتا، میں نےاپنا نام جوڈیشل کمیشن سےاحتجاجا واپس لیا، آئین سازی کےوقت حکومت کی گئی اپنی باتوں سےپیچھے ہٹ گئی، دیہی سندھ سےسپریم کورٹ میں ججز ہوتےتو برابری کی بات کرتا ہمیں انصاف کےسب سےبڑےادارے میں برابری کی نمائندگی چاہیے، ایک ملک میں دو نظام نہیں چل سکتے، وفاقی آئینی بینچ میں الگ ،سندھ کےلیےالگ طریقہ اختیار کیاگیا، سندھ کےساتھ بار بار تفریق ،الگ سلوک نظرآتاہے، کچھ ججز کا طریقہ ہےکہ بینچ سےسیاست کریں، چیف جسٹس ،آئینی بینچ کےسربراہ کو غیر متنازعہ ہوناچاہیے،عوام کا سب سےزیادہ واسطہ لوئر کورٹس سےہے، وزیراعلی سندھ کو کہاہےکہ چیف جسٹس سےرجوع کریں، لوئر کورٹس میں اصلاحات کےلیےبات کریں، جب تک لوئرکورٹس میں اصلاحات نہ ہوں مشن نامکمل ہے بطور پارٹی چیئرمین ذمہ داری ہےکہ سی ای سی کو زمینی حقائق سےآگاہ کروں، حالات ایسے ہیں کہ سیاسی استحکام آسانی سےآسکتاہے، قانون سازی پر پوری طرح سے مشاورت ہونی چاہیے، یہ عجب ہےکہ پہلےفلور پر بل پھر مجھےکاپی دی جائے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاست عزت کےلیےہوتی ہے، سیاست میں ناراضگی نہیں ہوتی، حکومت کے ساتھ ناراضگی کا سوال ہی نہیں، وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہے نہ سیاست کی جاتی ہے، دنیا میں حکومت پارٹنرز کےساتھ معاہدوں پر عمل کرتی ہے، ہم دیکھیں گےکہ معاہدےپر عمل درآمد کیا ہوا،سلم لیگ ن پیپلزپارٹی کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، طےہوا تھاکہ پی ایس ڈی پی مشاورت سےبنائی جائےگی، میں 26ویں ترمیم میں مصروف تھا، حکومت نےپیٹھ پیچھےکینالز کی منظوری دی، ہم نئےکینالز پر اتفاق نہیں کرتے،میں سمجھتاہوں اتفاق رائے کہ مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، حکومت کینالز پر جو طریقہ اپنارہی ہےوہ ٹھیک نہیں۔

  • لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی میں گزشتہ روز مزید 6 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران ایک کیپٹن سمیت 6 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مزید توسیع کا اعلان کیا تھا، اور یہ اسرائیلی فوج کا پہلا بڑا جانی نقصان ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق، فوجی ایک سرحدی گاؤں میں واقع عمارت میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے تمام فوجی گولانی بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک 47 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں
    لبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے اطراف میں اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جھڑپیں ایترون گاؤں کے قریب اور عیناتا گاؤں کی سمت میں ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔دوسری جانب، جنوبی لبنان کے حباریہ گاؤں میں اسرائیلی فضائی بمباری سے ایک کسان، یاسین عبداللہ ابو قیس، ہلاک ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے 146ویں ڈویژن کے لیے شمال مشرقی نیٹیو حیشیارا سیٹلمنٹ اور نہاریا شہر کے مشرق میں ایک لاجسٹک بیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی سرحدی پوسٹ، جَل العالَم اور شہر نہاریا پر بھی راکٹ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافاتی علاقوں حریت حرک اور برج البراجنہ سے مقامی افراد کو نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بیروت کے علاقے شوفیحات، العَمروسیہ اور غوبیریہ سے بھی اسی طرح کے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی ڈرون کا ایک حملہ بھی اس علاقے میں ہوا۔اسرائیلی فوج نے نگیو کے علاقے میں واقع غیر تسلیم شدہ گاؤں ام المسمیر پر دھاوا بول کر وہاں کی آخری عمارت، ایک مسجد، کو منہدم کر دیا، جس کی تصدیق فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نے کی ہے۔

    دریں اثناء، اسرائیل کی آبادکاری کی وزیر اورریٹ اسٹروک نے ایک اسرائیلی اخبار "یدعوت احرونوت” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں مزید زمینوں پر قبضہ کرنا چاہیے تاکہ حماس کو یہ سمجھا سکے کہ کچھ قیمتیں ایسی ہیں جو وہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ: اسرائیل کا جنگی رویہ نسل کشی کے مترادف
    اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی رویے کو "نسل کشی کے مترادف” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی، انسانی امداد کی رکاوٹ، اور شہریوں و امدادی کارکنوں پر حملے کے ذریعے جان بوجھ کر موت، قحط اور سنگین زخمیوں کو پیدا کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی بمباری اور جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال نے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو جنم دیا ہے، جو اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب تدابیر اپنائے۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے حملوں نے "ماحولیاتی تباہی” مچا دی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

  • فتنہ الخوارج کے اندرونی تنازعات میں شدت،آپس میں لڑپڑے

    فتنہ الخوارج کے اندرونی تنازعات میں شدت،آپس میں لڑپڑے

    فتنتة الخوراج کے اندرونی تنازعات میں شدت سامنے آ گئی ہے

    13 اور 14 نومبر2024ء کی رات، میران شاہ کے گاؤں تپی کی ایک مسجد میں زور دار دھماکے کے نتیجے میں قریبی مکانات منہدم ہو گئے،دھماکے سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق جبکہ جیش عمری گروپ کے 5 اہم دہشت گرد بھی ہلاک ہو گئے،فتنتہ الخوارج اور حافظ گل بہادر گروپ کے درمیان دشمنی اور تنازعہ شدت اختیار کر گیا، کل رات ضلع شمالی وزیرستان کے علاقےتپی میں خارجی نور ولی گروپ کی طرف سے حافظ گل بہادر گروپ کے مرکز پرخود کش حملہ کیا گیا ، آج صبح حکیم خیل گاؤں میں خارجی گل بہادر گروپ نے خارجی نور ولی محسود کے اہم کمانڈر ظفرالدین عرف مخلص کو جہنم واصل کر دیا

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنتہ الخوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کو دہشتگردی کے مقاصد کیلے استعمال کرنا شرمناک ہے ،شریعت کے دعویدار فتنة الخوراج مساجد کو دہشت گردی کے مقاصد کیلئے استعمال کر کے ان کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں،فتنة الخوارج آبادی والے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں اور معصوم شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی واضح مثالیں ماضی سے بھی ملتی ہیں،دراصل فتنةالخوراج اپنی دہشتگردی کی کارروائیوں کو انجام دینے کیلئے رہائشی علاقوں میں پناہ لینے کے ساتھ ساتھ وہاں دھماکہ خیز مواد بھی تیار کرتے ہیں جو عام شہریوں کی جان و مال کے لیے بڑا خطرہ ہے، ایسے واقعات فتنة الخوراج کے اندرونی اختلافات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خوراج کے مختلف دھڑوں کی اندرونی لڑائیاں کھل کر سامنے آتی ہیں ،فتنة الخوراج کے حملوں میں عملاً حصہ لینے والے عام جنگجو افغانستان میں بیٹھی قیادت سے تنگ آچکے ہیں، اس کا واضح ثبوت خارجی نور ولی محسود کی حالیہ منظر عام پر آنے والی آڈیو لیک ہے،فتنتہ الخوارج کی افغانستان میں محفوظ پناگاہیں افغان طالبان کی براہ راست مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں،فتنتہ الخوارج افغان سرزمین سے افغان طالبان کی مکمل حمایت سے پاکستان میں دہشتگرد حملے کرتے ہیں ،یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فتنتہ الخوارج اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کے پاکستان کی طرف سے موثر کارروائیوں سے خوارجین کے لیے افغانستان کی زمین تنگ ہو گئی ہے”

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • پی ٹی آئی کیخلاف اقدامات،سپریم کورٹ میں عمران خان کی درخواست

    پی ٹی آئی کیخلاف اقدامات،سپریم کورٹ میں عمران خان کی درخواست

    اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے پی ٹی آئی کے خلاف حالیہ اقدامات پر سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، کابینہ ڈویژن اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، اور اس پر جوڈیشل انکوائری کی استدعا کی گئی ہے۔ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پی ٹی آئی مخالف اقدامات کی تحقیقات کریں اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے احکامات جاری کریں۔ مزید برآں، درخواست میں دفعہ 144 کے غلط استعمال کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ ایم پی او کے تحت سیاسی گرفتاریوں پر پابندی عائد کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کروائی جائے، تین رکنی جوڈیشل انکوائری میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو بھی شامل کیا جائے۔

  • گوتم اڈانی کا امریکی توانائی کے شعبے میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ

    گوتم اڈانی کا امریکی توانائی کے شعبے میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ

    اڈانی گروپ کے چیئرمین،گوتم اڈانی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا کہ اڈانی گروپ امریکہ کے توانائی کے شعبے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد امریکی توانائی کی سلامتی اور مضبوط انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو فروغ دینا ہے، جس سے تقریباً 15,000 نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اڈانی نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ بھارت اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے خوش ہیں اور اس بات پر خوشی محسوس کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شراکت داری میں مزید گہرائی آ رہی ہے۔ امریکہ کے ساتھ اڈانی گروپ کی شراکت داری بھارتی معیشت اور عالمی سطح پر ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگی۔

    گوتم اڈانی کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف امریکہ کی توانائی کی سلامتی کو مضبوط کرے گی بلکہ اس سے امریکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ اڈانی گروپ توانائی کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجیز اور انفراسٹرکچر پر کام کرے گا، جس سے امریکہ میں توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے جدید حل فراہم کیے جائیں گے۔اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں تقریباً 15,000 نئی ملازمتوں کے پیدا ہونے کی توقع ہے، جو کہ امریکی ورک فورس کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ اڈانی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بلکہ امریکی معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔

    گوتم اڈانی نے اپنے بیان میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارت کی معیشت میں تیزی سے ترقی اور امریکہ کے ساتھ تجارتی شراکت داری کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔اس اعلان کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری نہ صرف بھارت کے لئے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں نئی تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔

    گوتم اڈانی کا یہ بیان بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اور سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، وہیں اڈانی گروپ کی جانب سے کی جانے والی یہ بڑی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری میں مزید گہرائی لانے کا سبب بنے گی۔ اس طرح کی سرمایہ کاری سے نہ صرف امریکہ میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کی توانائی کی پائیداری میں بھی بہتری آئے گی۔

  • بہن سے تعلقات کیوں،بھائی نے نوجوان کو قتل کر کے لاش کے کیے 7 ٹکڑے

    بہن سے تعلقات کیوں،بھائی نے نوجوان کو قتل کر کے لاش کے کیے 7 ٹکڑے

    بہن سے ناجائز تعلقات، بھائی نے نوجوان کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے ساحل کے قریب پھینک دیئے

    واقعہ بھارت کا ہے،ممبئی پولیس نے ایک نوجوان کے گھناؤنے قتل کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا، جس کی مسخ شدہ لاش کچھ دن پہلے گورائی کے ساحل پر سات ٹکڑوں میں برآمد ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، ملزم کی شناخت محمد ستار کے طور پر کی گئی ہے جس نے مبینہ طور پر 31 اکتوبر کو 21 سالہ رگھونندن پاسوان کو ذاتی وجوہات کی بنا پر جان بوجھ کر قتل کر دیا تھا۔مقتول رگھونندن ستار کی بہن کے ساتھ تعلقات میں تھا،جس پر ملزم نے پہلے اعتراض کیا تھا۔ ستار نے اپنی بہن سے دور رہنے کی مبینہ دھمکیوں کے باوجود دونوں نے رابطہ برقرار رکھا جس کے نتیجے میں پاسوان کی موت واقع ہوئی۔

    تفتیشی افسر کے مطابق 17 سالہ لڑکی کا پاسوان سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد اس کے بھائی اسے ممبئی لے آئے۔ تاہم، پاسوان نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ تعلقات کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ اس سے لڑکی کے گھر والوں کو غصہ آیا،”قتل بھئیندر میں ہوا تھا اور لڑکی کے بھائیوں نے لاش کو آٹو رکشا میں گورائی لایا اور وہاں پھینک دیا۔ آٹو رکشہ ڈرائیور کی شناخت کر لی گئی ہے اور اسے بھی حراست میں لے لیا گیا ہے،

    مقتول کا تعلق بہار کے دربھنگہ ضلع کے کنہولی گاؤں سے ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انہوں نے متاثرہ کے ایک دوست کو بھی حراست میں لیا ہے جس پر شبہ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث ہے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قتل 31 اکتوبر کو ہوا تھا۔ ملزمان نے لاش کو مختلف حصوں میں کاٹ کر پلاسٹک کے تھیلوں میں پیک کیا۔ اس کے بعد وہ یکم نومبر کو ایک آٹورکشا میں لاش کے اعضاء کو گورائی بیچ لے گیا، جہاں تھیلوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔

    مقتول کے والد جتیندر پاسوان نے اس دوران اس بات کی تصدیق کی کہ ملزم اور مقتول کی بہن آپس میں رشتے میں تھیں اور مؤخر الذکر نے اپنے ہاتھ پر ٹیٹو بنوایا تھا جس میں ان دونوں کے ابتدائی نام "RA” تھے۔ بظاہر، رگونندن کے ساتھ تعلق رکھنے والی لڑکی کے نام کا ابتدائیہ A تھا۔ منگل کو کرائم برانچ کے اہلکاروں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے ٹیٹو کی مدد سے اپنے بیٹے کی لاش کی شناخت کی اور پولیس کے ساتھ معلومات شیئر کیں۔ کرائم برانچ کے اہلکاروں نے لڑکی کے دو بھائیوں میں سے ایک کو پکڑ لیا ہے اور دوسروں کی تلاش کر رہے ہیں،

    اطلاعات کے مطابق، متاثرہ، رگھونندن اور اس کے والد پونے میں ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرتے تھے۔ وہ حال ہی میں تہواروں میں اپنے آبائی شہر بہار گئے تھے۔ تاہم ملزم کے بھائی نے متاثرہ کو دھوکے سے پونے بلایا اور اسے ٹور پر لے جانے کی آڑ میں ممبئی لے گیا۔متاثرہ کا فون بند ہونے اور اس کا رابطہ منقطع ہونے کے بعد، پہلے پونے گئے اور پھر ممبئی کے اندھیری علاقے گئے، جہاں سے متاثرہ کا پتہ لگایا جا سکتا تھا۔ بعد میں والد نے اندھیری پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔اتوار کو، بابر پاڑا کے شیفالی گاؤں کے رہائشیوں نے رگھو نندن کی لاش کو ایک بیگ سے بدبو آنے کے بعد دریافت کیا۔ انہوں نے پولیس کو آگاہ کیا، جس نے بیگ کو کھولنے پر اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے اور چار ڈبوں میں بند پایا۔ اس معاملے میں ملزم، آٹورکشا ڈرائیور اور راگھونندن کے ایک دوست کو اب تک حراست میں لیا گیا ہے۔ کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • اڈیالہ جیل کا قیدی خونی انقلاب کے خواب دیکھ رہا ہے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل کا قیدی خونی انقلاب کے خواب دیکھ رہا ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ لاشوں کی سیاست بانی پی ٹی آئی کا پرانا وطیرہ ہے، اڈیالہ جیل کا قیدی خونی انقلاب کے خواب دیکھ رہا ہے،

    اپنے ایک بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کو حکومتی امور چلانے کیلئے مریم نواز کے ویژن سے سبق سیکھنا چاہیے، جو پیسہ کے پی کے کی عوام کی فلاح بہبود پر خرچ ہونا چاہیے وہ علی امین گنڈا پورجلسے اور احتجاج پر خرچ کر رہے ہیں ،عدالت کو علی امین سے ان پیسوں کا بھی حساب لینا چاہیے،پچھلے 8ماہ سے کے پی کی عوام کیلئے ایک بھی فلاحی منصوبہ شروع نہیں ہوسکا جبکہ وزیر اعلی مریم نواز نے پنجاب میں 8ماہ میں 84نئے عوامی فلاح کے منصوبے شروع کئے ہیں اور مزید منصوبوں کے آ غاز کر رہے ہیں،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلی مریم نواز کی کارکردگی کو دیکھ کر پنجاب کے منصوبوں کو علی امین گنڈاپور کاپی کرنے کے اعلانات تو کرتے ہیں لیکن ان کی عملی کارکردگی صفر ہے اڈیالہ جیل کا قیدی خونی انقلاب کے خواب دیکھ رہا ہے ، اسے جیل سے نکلنے کیلئے لاشوں کی ضرورت ہے کیونکہ لاشوں کی سیاست بانی پی ٹی آئی کا پرانا وطیرہ ہے۔

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

  • توشہ خانہ کیس،عمران، بشریٰ   کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا

    توشہ خانہ کیس،عمران، بشریٰ کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ون میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،عمران خان اور بشریٰ کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر رہا ہوں،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ دے دیں، اس متعلق پریشان نہ ہوں، آرڈر کر دیں گے۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں بھی استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض نہیں کروں گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا پیپر بُکس بنی ہوئی ہیں،نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نے کہا کہ میں خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں، میں نے اعتراف کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کا بیان دیا تھا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کر دیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسکیوٹر امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پہلے علی ظفر کو سن تو لینے دیں کہ وہ کیا کہتے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ یہ ایک جیل ٹرائل تھا، 29 جنوری کو جرح کا حق ختم کیا گیا، 30 جنوری کو بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان رات 11 بجے کے قریب ریکارڈ کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس وقت عمران خان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا؟علی ظفر نے کہا کہ 31 تاریخ کو سوال نامہ عمران خان کو دیا گیا، میں عدالت کے سامنے ثبوت پیش کروں گا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے علی ظفر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے وقت دے دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ نیب پراسیکیوٹر کے بیان پر کیا کہتے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اس حوالے سے اپنی گزارشات رکھنا چاہتا ہوں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2 ہی طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ امجد پرویز جو بات کر رہے ہیں اُس کو مان لیں، آپ دوسری استدعا یہ کر سکتے ہیں کیس ٹرائل کورٹ میں فردِ جرم سے دوبارہ شروع ہو، اگر آپ یہ دونوں نہیں مانتے تو ہم پھر تکنیکی خرابیوں کی طرف جائیں گے ہی نہیں، آگر آپ یہ نہیں مانیں گے تو پھر ہم میرٹ پر کیس سُنیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں سزا کا یہ فیصلہ برقرار رہ ہی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ کی اپیلوں پر سماعت 21 نومبر تک کے لئے ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کے نیب پراسیکیوٹر کے بیان سے متعلق ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کرنے کیلئے 21 نومبر تک وقت دیدیا

  • سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    فضائی آلودگی اور سموگ چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور ضعیف العمر افراد کی صحت اور زندگیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید سموگ کی وجہ سے تمام شہری متاثر ہورہے ہیں تاہم سب سے چھوٹے بچوں کی صحت داؤ پر لگی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو میں پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی سے بچے اس لیے زیادہ متاثر ہو تے ہیں کیونکہ ان کے پھیپڑے کمزور اور ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ آلودہ ذرات بچوں کے پھیپڑوں اور دماغ کی نشونما پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، آلودہ فضا میں سانس لینے سے دماغی ٹشوز متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب حاملہ خواتین آلودہ فضا میں سانس لیتی ہیں تو ان کے بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا امکان زیادہ ہوتاہے یا سٹل برتھ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح عمر رسیدہ افراد اور ذیابیطس امراض قلب میں مبتلا مرد خواتین سموگ کی وجہ سے جلد سانس کی بیماری، دمہ اور پھیپھڑوں کی انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں جو انکے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، بچوں کو سیر تفریح اور کھیل کے میدانوں میں سموگ کے دنوں میں نہ لیکر جائیں۔ فیس ماسک کا استمعال لازمی کریں، زیادہ مقدار میں پانی پئیں، قہوہ چائے کا استمعال کریں چہرہ آنکھیں تازہ پانی سے دھویں تاکہ سکن الرجی اور آنکھوں کی انفیکشن، جلن سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں