Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • امریکی صدارتی انتخابات،پاکستان کی داخلی سیاست پر کیا پڑے گا فرق

    امریکی صدارتی انتخابات،پاکستان کی داخلی سیاست پر کیا پڑے گا فرق

    امریکا میں آج صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ، ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس آمنے سامنے ہیں، ایسے میں ان دونوں میں سے جو بھی منتخب ہوا اس سے پاکستان کی داخلی سیاست پر کیا اثرات پڑیں گے

    امریکی انتخابات دنیا بھر میں بڑی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک کے لئے جن کی امریکہ کے ساتھ اقتصادی، سیاسی، اور فوجی تعلقات ہیں۔ پاکستان کے لئے بھی یہ انتخابات اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات تاریخ کے مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔اس ضمن میں نجی ٹی وی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن امیدوار ہیں اور روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا پاکستان کے بارے میں رویہ معاندانہ رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ریبلکن کے دور اقتدار میں ہی امریکہ نے پاکستان کو سب سے زیادہ امداد دی،یہ امداد سوویت یونین کے خلاف جنگ اور بعد ازاں سابق آرمی چیف جنرل ر پرویز مشرف کی حکومت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملی تھی،

    ڈیموکریٹک کے اقتدار کے دوران پاکستان پر پابندیاں لگائی گئیں ساتھ ہی ڈیموکریٹک پاکستان میں جمہوریت اور شخصی آزادیوں کے حامی رہے ہیں، پرویز مشرف کے دور میں امریکہ میں‌ڈیموکریٹک صدر کا اس وقت کے زیرحراست پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائی کیلئے کردار ادا کرنا ایک مثال ہے۔

    اب 2024 میں حالات الگ ہیں ، امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ ،ایک مقبول ترین رہنما اور دوسری طرف خاتون کملا ہیرس ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیتے تو پاکستان کے ساتھ امریکا بدستور لا تعلقی یا عدم توجہی کا رویہ اپنائے رکھے گا تاہم کملا ہیرس کی جیت کی صورت میں پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور شخصی آزادیوں کے بارے میں سختی آنے کی توقع ہے۔پاک امریکا تعلقات اہم ہیں،اس میں اتار چڑھاؤ بھی آتا رہتا ہے ،دنیا میں‌جتنے بھی مسائل ہوئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، افغانستان میں جنگ کے وقت امریکہ نے پاکستان کی مدد کی ،

    پاکستان ہمیشہ سے امریکی سیاست کے اہم کھلاڑیوں کے درمیان تعلقات کی تبدیلیوں کو بڑی قریب سے دیکھتا آیا ہے۔ امریکی صدر کا انتخاب نہ صرف امریکہ کی داخلی سیاست کو متاثر کرتا ہے، بلکہ اس کے عالمی تعلقات اور پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔افغانستان کا مسئلہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ہمیشہ ایک اہم سنگ میل رہا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اس وقت پاکستان کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے قیام کے لئے کئی اہم اقدامات کئے۔جو بائیڈن کی حکومت نے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا اور دونوں ممالک نے افغانستان سے متعلق اپنے مشترکہ مفادات کے بارے میں بات چیت کی۔ امریکہ نے پاکستان کو ایک کلیدی پارٹنر کے طور پر دیکھنا شروع کیا، خصوصاً جب بات افغانستان میں امن قائم کرنے کی ہوئی۔

    پاکستان کے لئے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی اہمیت یہ ہے کہ یہ تعلقات اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی کافی وسیع ہیں اور امریکہ پاکستان کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، لیکن ان تعلقات کی بنیاد ہمیشہ مشترکہ مفادات اور عالمی امن کے لئے تعاون پر رہی ہے۔

    ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • اعظم سواتی جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    اعظم سواتی جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    راولپنڈی: پی ٹی آئی رہنما اعظم خان سواتی کوٹیکسلا پولیس نے گرفتار کر لیا،

    اعظم خان سواتی اٹک جیل سے رہا ہوئے تھے، اعظم خان سواتی کا جسمانی ریمانڈ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، اعظم خان سواتی کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،اعظم خان سواتی ٹیکسلا میں درج مقدمے میں مطلوب تھے،

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی 8 مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی،جس کے بعد اعظم سواتی کے مچلکے جمع ہونے کے بعد روبکار جاری کی گئی تھی، 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، عظمی خان، رہنما اعظم سواتی سمیت کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

  • ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    امریکہ میں آج صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ، کون وائیٹ ہاؤس پہنچے گا فیصلہ عوام کریں گے تا ہم مستقبل پر نظر رکھنے والے پنڈتوں نے ٹرمپ کی شکست کی پیشگوئی کی ہے

    امریکی مورخ لچ مین،جو امریکا میں ہونے والے گزشتہ دس انتخابات کی پیش گوئی کر چکے ہیں اور ان میں سے نو درست ثابت ہوئی ہیں کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ صدارتی الیکشن ہار جائیں گے،لچ مین کی 2000 کی پیش گوئی صرف غلط ہوئی تھی ، اسکے علاوہ تھامس ملر نے 2016 میں ٹرمپ کی جیت کا کہا تھا اورو ہ اس بار کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ہاریں گے اور کملا ہیری جیتیں گی،امریکی جریدے فارچیون کے مطابق، مہم کے آخری مرحلے میں یہ پیش گوئیاں اچانک ٹرمپ سے ہٹ کر کملا ہیرس کی طرف آ گئی ہیں، ایک ہفتہ پہلے تک پیش گوئیاں ٹرمپ کی جیت کی طرف اشارہ کر رہی تھیں، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور کملا ہیرس کو برتری حاصل ہے۔

    یہ پیش گوئیاں اس بات کی غماز ہیں کہ انتخابات کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ ایک طرف، جہاں لچ مین جیسے مورخ کی درست پیش گوئیاں ماضی میں قابل اعتماد رہی ہیں، وہیں تھامس ملر کا بدلا ہوا موقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی نتائج میں کوئی بڑا موڑ آ سکتا ہے۔ کملا ہیرس کی جیت کی پیش گوئی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عوامی رائے میں تبدیلی آ رہی ہے، اور سیاسی منظرنامہ وقت کے ساتھ بدل رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، بیلٹ باکسز، پیپرز اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پولنگ سینٹرز میں پہنچادی گئیں، جہاں 24 کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے،امریکی صدارتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور الیکشن عملے پر تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتطامایت کیے گئے ہیں امریکی ریاست اوریگان، واشنگٹن اور نیواڈا میں نیشنل گارڈز کو فعال کردیا گیا جبکہ خطرات کے پیش نظر ایف بی آئی کی جانب سے بھی کمانڈ پوسٹ قائم کردی گئی جبکہ ایری زونا، مشی گن اور نیواڈا سمیت 19 ریاستوں میں 2020 سے الیکشن سیکیورٹی قوانین نافذ ہیں، 7 سوئنگ ریاستوں میں ووٹرز کے اعتماد، سیکیورٹی اور شفاف الیکشن کے لیے حکام بھی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • محلے دار نے چیز کے بہانے دس سالہ بچی کے ساتھ کی زیادتی

    محلے دار نے چیز کے بہانے دس سالہ بچی کے ساتھ کی زیادتی

    پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی
    پنجاب کے شہر فیصل آبادمیں دس سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، واقعہ فیصل آباد کے علاقے بوگنی میں پیش آیا جہاں بچی کا محلے دار کاشف نامی ملزم 10 سالہ بچی کو چیز دلانے کے بہانے ویرانے میں لے گیا اور جنسی زیادتی کی،بعد ازاں ملزم فرار ہو گیا، اہل علاقہ نے بچی کو ہسپتال منتقل کیا، والدین نے مقدمہ درج کروا دیا ہے، پولیس کا کہنا ہے جلد ملزم کو گرفتار کر لیں گے

    شہریوں‌کا کہنا ہے کہ کمسن بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے، دوسری جانب ڈی پی او نے متعلقہ تھانے کو ملزم کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں

  • قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی اور عدالتی نظام میں بہتری: حکومت کے اصلاحاتی فیصلے قابلِ تحسین

    حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سروسز چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ایک دانشمندانہ قدم ہے جو قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ کسی بھی سروسز چیف کو اپنی پالیسیوں کے موثر نفاذ اور پچھلی حکمت عملیوں کے نتائج کو جانچنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 3 سال کی مختصر مدت میں اہم پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل ہے۔ خاص طور پر خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ سروسز چیف کی مدت طویل ہو، تاکہ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

    اسی طرح، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے، اور ججز کی کم تعداد کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ججز کی تعداد میں اضافہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا، اور عام شہریوں کے لیے فوری انصاف کا حصول ممکن بنائے گا۔

    یہ دونوں اقدامات نہ صرف ملکی استحکام بلکہ عوامی فلاح اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہوگی

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے

    بل کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

    چیف آف آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی تعیناتی کے مختلف ملکوں میں مختلف دورانیہ ہیں: مثلا امریکہ میں چار سال انگلینڈ میں تین سے چار سال، بھارت میں تین سال چائنہ میں پانچ سال، فرانس میں چار سال روس میں غیر معینہ مدت، جرمنی میں تین سے پانچ سال، جبکہ آسٹریلیا میں چار سال ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان میں سروسز چیفس کی مدت تعیناتی میں اضافہ کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے "تو اس میں کوئی نئی بات نہیں، ملکی مفاد میں حکومت کو اچھے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، حکومت کا یہ فیصلہ ملکی سلامتی و دفاع کے لئے بہترین اور شاندار ہے

    کسی بھی ملک کے سروسز چیفس مختلف ممالک میں اپنی اپنی روایات اور چیلنجز کا سامنا کر تے ہیں،ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کم از کم پانچ برس ہو،

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • سروسز چیف کی مدت ملازمت  تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    آرمی ایکٹ میں ترمیم لا کر سروسز چیف کی مدت ملازمت کو تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ ہے

    آرمی ایکٹ کے مطابق سروسز چیف کی مَدت ملازمت تین سال مقرر تھی جسکو قومی اسمبلی میں با ذریعہ ترمیمی بل تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا ہے یہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی خاطر یہ قدم انتہائی ضروری تھا،سروسز میں اور نیشنل پالیسی لیول پر تین سال کے قلیل عرصے میں کسی بھی بڑی پالیسی فیصلہ سازی اور انیشییٹو کو منطقی انجام تک پہنچانا کافی مشکل کام تھا کیونکہ بڑے فیصلوں کی تکمیل وقت مانگتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کے ایک پالیسی پر عمل داری کے درمیاں جب مُدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی لیڈرشپ آتی ہے اُس سے جاری پالیسی بھی اثر انداز ہوتی ہے اور نئے سرے سے کام از سرے نو  شروع ہو جاتا ہے اور نتیجتاً سروس اور ملک دونوں اُس تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں اب سروسز چیف کی مُدت ملازمت پانچ سال ہو چکی ہے جس سے پالیسیوں کے تسلسل میں اور استحکام میں کافی فائدہ ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

  • سیکورٹی فورسز کی کاروائی،خیبر پختونخوا میں 6 خوارج جہنم واصل

    سیکورٹی فورسز کی کاروائی،خیبر پختونخوا میں 6 خوارج جہنم واصل

    ملک دشمن عناصر کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دوسالی میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں خوارج کے ایک ٹھکانے کا مؤثر طور پر پتہ لگایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خارجی، احمد شاہ عرف انتظار جہنم واصل ہوا،پاک افغان سرحد پر خوارج کے گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جو پاکستان میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے خرمنگ میں بھی خوارج کو دیکھا اور ان کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں 5 خوارج ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان بارہا عبوری افغان حکومت سے یہ درخواست کرتا رہا ہے کہ وہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے۔ امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی۔ توقع ہے کہ افغان حکومت خوارج کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال سے روکے گی۔ آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے دوسالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقے خمرنگ میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب سیکیورٹی آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نے کامیاب آپریشن میں 6 خارجیوں کو جہنم واصل کرنے اور 3 کو گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی کی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو اس طرح خاک میں ملاتے رہیں گے، پوری قوم افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری پر سلام پیش کرتی ہے،دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں سے ہماری جنگ جاری رہے گی،

    بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کا وارنٹ جاری کرنے کی استدعا

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

  • آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش ہونے کا امکان،سروسز چیف کی مدت ملازمت 5 سال

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش ہونے کا امکان،سروسز چیف کی مدت ملازمت 5 سال

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    ن لیگ کے ذرائع کے مطابق حکومت آرمی ایکٹ میں ترمیم پر مشاورت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سروسز چیف کی مدت ملازمت بڑھانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جس کے تحت سروسز چیفس کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کا منصوبہ ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ن لیگی رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔وزیر اعظم پاکستان نے نئی مجوزہ ترامیم پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا

    دوسری جانب، حکومت نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کرنے کی تجویز بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ججز کی تعداد بڑھانے کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور منظور کرنے کا امکان ہے۔ یہ فیصلہ کہ ججز کی تقرری کب کرنی ہے، جوڈیشل کمیشن کرے گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس جلد شروع ہونے والا ہے، جس میں اہم قانونی سازی کا امکان ہے۔

    سپریم کورٹ میں بنچز کی تشکیل کے لئے قائم پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں ایک بار پھر تبدیلی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، تیسرے سینئر جج کی جگہ آئینی بنچ کے سربراہ کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے،سُپریم کورٹ کے ججز کی تعداد دگنی کئے جانے کا بھی امکان، تعداد 34 تک جانے کا امکان، ایک چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے