Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ صوبائی وزیراطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو جاری رکھنا ایک اہم کام تھا۔ حکومت سندھ خود اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عید سے پہلے اطراف کی سڑکوں پر موجود مسائل ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔کوشش ہے کہ پورا پروجیکٹ، خاص طور پر یونیورسٹی روڈ والے علاقے کو جلد مکمل کیا جائے۔

    سینئر وزیر نے کہا کہ کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں۔ شارعِ بھٹو پر دی گئی سہولت مارچ کے آخر یا اپریل کے پہلے ہفتے تک قائد آباد تک مکمل ہو جائے گی اور بعد میں اس کو ایم نائن تک بڑھایا جائے گا۔ یہ ٹریفک کے مسائل کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مایوسی پھیلانے یا سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ٹارگٹ یہی ہے کہ ہر حال میں پروجیکٹس مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کی زندگی آسان اور معیاری ہو۔ دیگر اضلاع میں بھی ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور حکومت تمام چیلنجز حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج سے قطر کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر وفاقی وزراء بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف دوحہ میں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔ دورے کا مقصد پاک قطر برادرانہ تعلقات اور کثیر جہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور معاشی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں سیاسی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر تبادلوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تجارت، انفراسٹرکچر کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں گے۔ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی سیاسی تبدیلیوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

  • پاکستان میں الجزیرہ ٹی وی پر پابندی کی خبریں بے بنیاد قرار

    پاکستان میں الجزیرہ ٹی وی پر پابندی کی خبریں بے بنیاد قرار

    اسلام آباد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں کہ پاکستان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ پر پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری ذرائع کے مطابق بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ حکومتی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔

    تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الجزیرہ کے خلاف خاصا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کرنل شہزادہ گلفراز کو شہید کرنے والے عناصر کو "دہشت گرد” کہنے کے بجائے "فائٹرز” (جنگجو) قرار دیا گیا، جس پر پاکستانی عوام کے ایک طبقے نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا، اس قسم کی اصطلاحات دہشت گردی کے واقعات کی سنگینی کو کم کر کے پیش کرتی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری مہم میں بعض صارفین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر ریاستِ قطر کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے گریز کیا جا سکے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کو دہشت گردی جیسے حساس معاملات میں محتاط اور ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔

  • دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہو گئی

    31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا ،فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ،فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ،یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں

    مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے.بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا ،2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ، نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا

    سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ ;نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے،فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے

    ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے، نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے,

  • جیل میں تو  آنکھ تک کا علاج نہیں دل کا علاج کیا کریں گے،جسٹس عقیل عباسی

    جیل میں تو آنکھ تک کا علاج نہیں دل کا علاج کیا کریں گے،جسٹس عقیل عباسی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کے مقدمے میں گرفتار مجرم کو میڈیکل سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے قیدی کے علاج کے حوالے سے اہم ریمارکس دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔

    سماعت جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں ہوئی۔ دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور جیل میں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ “میرا موکل سنگین قلبی مرض میں مبتلا ہے، جیل میں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتی، ایسے میں اُس کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔”جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔” عدالت نے استفسار کیا کہ کیا قیدی کا باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ہے اور کیا متعلقہ اسپتال کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔

    وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدی کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طور پر ماہر امراضِ قلب سے علاج کی ضرورت ہے، لہٰذا اسے کسی مستند کارڈیالوجی مرکز منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد قیدی کو پشاور کارڈیالوجی سینٹر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ جیل حکام اور صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ قیدی کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔

  • ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست کردی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے فی الحال درخواست لینے سے معذرت کرلی۔

    سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشنل کمیشن کی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جاری ہے، ایم کیو ایم نے کمیشن سے فریق بننے کی درخواست کردی۔جسٹس آغا فیصل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست لینے سے فی الحال معذرت کرلی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فی الحال معذرت چاہتے ہیں، سماعت جاری ہے، آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں۔وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ درخواست اس سے پہلے ہی دائر کردی گئی ہے۔ جس پر جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ درخواست آپ نے دی، فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا،

    ایم کیوایم پاکستان نے گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کردہا،فاروق ستار نے کہا کہ سب سے پہلے ایم کیوایم نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم جس طرح تحقیقات ہورہی ہیں ہم مطمئن نہیں ہیں،

    ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی،ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے،انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں،ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔

    کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں،ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے، ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔

    ڈائریکٹر سول ڈیفنس کا گل پلازہ کمیشن تحقیقات کے دوران انکشاف، اپنے ادارے کی حالت زار بتادی،جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کیا ہر سال عمارتوں کی انسپکشن کرنی ہوتی ہے؟ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے کہا کہ سول ڈیفنس کے پاس عملے اور گاڑیوں کی کمی ہے، سالانہ انسپکشن نہیں کرسکتے ،

  • کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر قتل، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

    کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر قتل، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

    کوہاٹ: کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک لیڈی ڈاکٹر جاں بحق ہو گئیں، واقعے کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ طبی برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقتولہ لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد رکشہ کے ذریعے گھر واپس جا رہی تھیں کہ کے ڈی اے ڈبل روڈ پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔

    دوسری جانب واقعے کے خلاف ڈاکٹرز برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ بعض مقامات پر او پی ڈیز کی جزوی بندش بھی دیکھنے میں آئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طبی عملہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات ان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کے قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی کی فراہمی میں ناکام رہے تو احتجاج کا دائرہ کار صوبہ بھر تک بڑھایا جا سکتا ہے،ڈاکٹرز رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں اور طبی عملے کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے اور اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک؛ چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں

    افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کیخلاف غیر ملکی افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، افغان طالبان رجیم کی ناکامی بے نقاب، سیکیورٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت،چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں ہیں،امریکہ کی اسٹمسن انسٹی ٹیوٹ کی محقق سارہ گوڈاک کے مطابق افغان طالبان رجیم چینی کارکنان کو مقامی شدت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ،طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان-تاجکستان بارڈر پر موجود سونے کی کانوں کو چینی مزدوروں کیلئے مہلک محاذ بنادیا ہے،ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک، افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے، جس میں نو چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے،بھاری منافع کے عوض چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی حفاظت طالبان رجیم نے سنبھالی ہے، مگر چینی کارکن اب بھی شدت پسند گروہوں کے آسان ہدف پر ہیں،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے بجائے اپنے داخلی معاملات، سیکیورٹی اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے،چینی مزدوروں پر بار بار حملے واضح ثبوت ہیں کہ طالبان غیر ملکی کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہیں،

  • نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی،انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی،انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد کیا گیا،

    یہ بین الاقوامی ورکشاپ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز ریسرچ اینڈ انیلسز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی،عالمی سطح پر امن، خوشحالی اور تعاون کے فروغ کیلئے ورکشاپ میں 50 ممالک کے 100سے زائد مندوبین نے شرکت کی،ورکشاپ میں دنیا بھر کے دانشور، سفارت کار اور پالیسی سازوں نے خطہ کے مسائل کا حل کیلئے سیر حاصل گفتگو کی، بین الاقوامی ورکشاپ کا مقصد جغرافیائی سیاسی چیلنجز، اقتصادی استحکام اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر پالیسی سازی کرنا ہے،یہ ورکشاپ نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کرتی ہے، ورکشاپ میں بین الاقوامی شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ ورکشاپ این ڈی یو کا احسن اقدام ہے جو دنیا بھر کے لیڈرز کومسائل کے حل پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے،

    شرکاء کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی جیسے شاندار اقدام اور بہترین مہمان نوازی پر پاکستان کے بھرپور شکر گزار ہیں،

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا یہ شاندار اقدام علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کی روشن مثال ہے.

  • حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی شازیہ بتول نے معذوری کو شکست دیکر تعلیمی اور سماجی میدان میں اپنا نمایاں اور باوقار مقام بنایا،فخر پاکستان شازیہ بتول ( تمغہ امتیاز ) کہتی ہیں کہ ہمیشہ مشکلات کو کمزوری نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی طاقت سمجھا ہے ،عزم، صبر اور مستقل مزاجی وہ اوصاف ہیں جن سے ہی ناممکن کو ممکن بنایاجاسکتا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے “پرائیڈ آف آنر”ملنا ان کی نمایاں خدمات کا قومی سطح پر اعتراف ہے، اگر ہمت جواں ہو تو جسمانی رکاوٹیں خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں،میری کامیابی ہر اس فرد کیلئے پیغام ہے جو مشکلات کا بہادری سے سامنا کر رہا ہے اور ہمت نہیں ہارتا، مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر ہمت، ایمان اور محنت کے ذریعے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے،

    حکومت کی جانب سے نمایاں افراد کی حوصلہ افزائی باصلاحیت لوگوں کو مواقع اور اعتراف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ ہے