Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    فری ادویات کا اعلان وہ تو سارا دن کہتی رہتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فری میڈیسن ویژن کا ٹی ایچ کیو میں تمسخر
    آپریشن تھیٹر کے باہر مریض خوار، فارمیسی سے سامان غائب مریضوں کو لوٹنے کا بازار گرم شہریوں کا محکمہ صحت کی غفلت پر شدید احتجاج
    گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صحت سہولت پروگرام کے بلند و بانگ دعووں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ اور عملے نے نہ صرف حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا بلکہ وزیر اعلیٰ کی ذات کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ اور توہین آمیز رویہ اپنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو جس میں آپریشن کے لیے آئی ایک غریب مریضہ کو ہسپتال عملے نے سرجری کا سامان باہر سے خریدنے کا حکم دیا۔ جب مریضہ کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ ہسپتالوں میں تمام ادویات اور سامان مفت ملے گا، تو وہاں موجود عملے نے مبینہ طور پر انتہائی شرمناک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مریم نواز تو سارا دن یہی کہتی رہتی ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی توہین ہیں بلکہ اس کرپٹ مافیا کی عکاسی کرتے ہیں جو غریب مریضوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مریضہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو نے ہسپتال انتظامیہ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ فارمیسی سے ادویات کی عدم فراہمی اور ڈاکٹر کی جانب سے طلب کردہ دو جوڑے گلوز تک نہ ملنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں سرکاری ادویات یا تو غائب کی جا رہی ہیں یا پھر جان بوجھ کر مریضوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں کی کایا پلٹنے کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کا یہ ہسپتال ان کے ویژن کے لیے شرمناک دھبہ بن چکا ہے۔


    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف بیانات تک محدود نہ رہا جائے، بلکہ گوجرخان ہسپتال کے اس باغی اور بدتمیز عملے کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کے احکامات کی اہمیت ان کے اپنے ملازمین کی نظر میں سارا دن کی باتوں سے زیادہ نہیں، تو پھر ایسے ہسپتالوں کو بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

  • پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی چیز حتمی نہیں، اور جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے اس وقت تک کسی فیصلے کو یقینی نہ سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ ایک ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر امریکی وفد ایران کے ساتھ اگلے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد ہی جائے، جہاں گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی حکام سے مذاکرات کی قیادت کی تھی،ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔

    پریس سیکریٹری نے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت امریکا مکمل طور پر مذاکراتی عمل میں مصروف ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کا آپشن اب بھی موجود ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے۔

  • اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    معروف صحافی اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے اے آر وائی نیوز سے 21 سالہ وابستگی کے بعد باقاعدہ استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اے آر وائی نیوز اور اپنی سیاسی تحریک “عوام راج” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، لہٰذا انہوں نے “عوام راج” کا راستہ اختیار کیا۔اقرار الحسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 21 سال کا شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے پروگرام “سرِ عام” کو ملنے والی محبتوں، دعاؤں اور عوامی پذیرائی پر ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے شمار یادوں کے ساتھ اس نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

    اقرار الحسن نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز اُس وقت کیا تھا جب اے آر وائی نیوز کی نشریات دبئی سے جاری ہوتی تھیں۔ ابتدائی دور میں انہوں نے بطور نیوز کاسٹر اپنی شناخت بنائی، جبکہ بعد ازاں کرپشن کے خلاف اپنے مشہور پروگرام سرِ عام کے ذریعے ملک بھر میں شہرت حاصل کی۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک وہ اے آر وائی نیوز کا نمایاں چہرہ رہے اور پاکستانی میڈیا میں ایک بااثر آواز کے طور پر جانے گئے۔ ان کی صحافتی خدمات اور تحقیقاتی رپورٹس نے انہیں عوامی حلقوں میں خاص مقام دلایا۔

    اقرار الحسن کے استعفے کی بنیادی وجہ ان کی نئی سیاسی جماعت عوام راج کو قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافت اور سیاست کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت کے مشن کو ترجیح دی۔اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے اے آر وائی نیوز کی قیادت، ساتھیوں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 سال ان کی زندگی کا یادگار ترین باب رہے گا۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “عوام راج پائندہ باد” کے نعرے بھی درج کیے

  • عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کروانے کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ان کا اعلیٰ سطحی استقبال کیا گیا۔

    تہران آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے وفد کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امریکہ ایران مذاکراتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات گہرے، تاریخی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شاندار میزبانی اور مثبت کردار قابلِ تحسین ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

    مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاک ایران تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

  • ایرانی سفیر کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    ایرانی سفیر کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے وفد کے ہمراہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں حالیہ امریکا ایران جنگ کے اثرات ، مضمرات سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق ایرانی سفیرکا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ کے بارے میں آپ کے جاندار مؤقف پر ایرانی قوم کی طرف سے شکرگزار ہوں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی پاکستان کا اعزاز ہے، جنگ بندی کی توقع اور مستقل امن کی تمنا کے ساتھ اسلامی بلاک کا قیام ہماری تمنا ہے، اسلامی بلاک جے یو آئی کے منشورکا حصہ ہے، اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیے، وحدت کے بغیر ہم ہمیشہ استعمال ہوں گے، اسلامی ممالک کی خود مختاری کا احترام ہونا چاہیے، مسلم اُمّہ کا مل بیٹھ کر مضبوط قوت سے مسائل کو حل کرنا وقت کا تقاضہ ہے، بیت المقدس کا تحفظ اور اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزادکرانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

    ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ میں آپ کے اس مؤقف کی تائیدکرتا ہوں، امریکی جارحیت پر مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستانی عوام کا ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستانی عوام، علما اور مختلف طبقہ فکرکا مضبوط اور متوازن مؤقف قابل تحسین ہے۔

    قبل ازیں امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں اہم امور ، عالمی حالات اور خطے کو درپیش امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امریکا ایران مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران مجوزہ قانون سازی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا،ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری،کامران مرتضٰی، اسلم غوری، مولانا اسعد محمود اور مولانا اسجد محمود شریک تھے۔

  • وائٹ ہاؤس کی  امریکا کی جانب سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی تردید

    وائٹ ہاؤس کی امریکا کی جانب سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی تردید

    امریکا نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کی درخواست سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایسی رپورٹس درست نہیں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج صبح کچھ غلط رپورٹس سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ بندی کی مدت بڑھانے کی رسمی درخواست کی ہے، لیکن یہ بات سراسر غلط ہے۔اس وقت امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر نے بھی حالیہ دنوں میں واضح کیا ہے کہ یہ رابطے مثبت انداز میں جاری ہیں اور پیش رفت ہو رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے اچھا احساس ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کامیاب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

  • ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

    ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔حکام کے مطابق ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے

    امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے

    امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور امریکی اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات میں منگل کے روز پیش رفت ہوئی۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، دو امریکی حکام نے بتایا کہ منگل کو ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت سامنے آئی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث معاہدہ ابھی یقینی نہیں،امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم مسلسل رابطوں اور مسودوں کے تبادلے میں مصروف ہے،ویب سائٹ کے مطابق تیسرے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ایرانی حکومت کے کچھ حصے بھی اس کے خواہاں ہیں لیکن اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہاں پوری حکومت کو اس پر آمادہ کیا جائے،

    علاوہ ازیں امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا جنگ بندی میں 2 ہفتوں کی توسیع پر غور کر رہے ہیں، جنگ بندی میں توسیع کا مقصد مذاکرات کیلئے مزید وقت حاصل کرنا ہے، ثالث ممالک مسائل کے حل کیلے تکنیکی بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے، ان مسائل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کی جوہری افزودگی شامل ہے۔ تکنیکی مذاکرات کامیاب ہوئے تو اگلے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ جنگ بندی میں توسیع ہو گی اور امریکا نے تاحال اس پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی،دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نےاس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

  • افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری،2 بچوں سمیت تین  افراد شہید

    افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری،2 بچوں سمیت تین افراد شہید

    بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر باجوڑ کے مقام پر پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد شہید ہوگئے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان نے سول آبادی پر بلا اشتعال جارحیت کی، یہ بلااشتعال جارحیت باجوڑ کے سرحدی علاقے کٹ کوٹ کے گاؤں ملک شاہین میں کی گئی،سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری میں 2 بچوں سمیت 3 افراد شہید اور 3 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلا اشتعال گولہ باری میں ایک ہی گھر سےخاتون اور 2بچوں سمیت 3افراد شہید ہوئے،افغان طالبان کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان داخل کرانے کی کوشش کر رہے تھے جو پاک فوج کی بروقت کارروائی کی وجہ سے فتنہ الخوارج کی در اندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی، اس ناکامی سے مایوس افغان طالبان نے آج کٹ کوٹ میں پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنایا،پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے اور باجوڑ سے ملحقہ تمام افغان طالبان پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، افغان طالبان کا بھاری جانی نقصان ہوا۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    امریکا ،ایران مذاکرات، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    چیف آف آرمی اسٹاف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ وفد بھی تہران پہنچا۔ فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے،تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دیگر ایرانی حکام کے ہمراہ فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    اس سے پہلے ایرانی وزارت کارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے تسلسل میں ایران آج پاکستانی وفد کی میزبانی کرے گا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔ کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گورنر جدہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف آج سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔