Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا،عدالت

    ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کردی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کی، ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کرکے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے،عدالت نے کہا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائےتو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا، دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں،ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3گولیاں لگیں، دورانِ تفتیش ملزم سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا، زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے، چند گھنٹوں کی تاخیر سےکیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا، پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں،ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیےکافی ہے، وہ ضمانت کا حقدار نہیں، یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔

  • دو ایرانی شہری پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے دوران گرفتار

    دو ایرانی شہری پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے دوران گرفتار

    پنجگور: پنجگور کے سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کی سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ حکام کے مطابق دو مشتبہ افراد کو جلیل شہید نالہ کے قریب سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد کو سرحدی حدود میں نقل و حرکت کرتے دیکھا گیا جس پر فوری طور پر کوئیک ری ایکشن فورس کو الرٹ کیا گیا۔ فورس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا گھیراؤ کیا اور دونوں افراد کو حراست میں لے لیا۔گرفتار افراد کی شناخت ذوالفقار اور شہر ام کے نام سے ہوئی ہے، جو ایران کے علاقے گشتگان کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے ایرانی شناختی کارڈ،ایرانی سم کارڈز کے ساتھ دو موبائل فون،دو چاقو،ایرانی کرنسی،آئس اور آئس بنانے کا سامان ملا ہے،ابتدائی تفتیش کے دوران دونوں افراد سے سرحد عبور کرنے کے مقصد سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ دراندازی کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھی یا انفرادی کوشش۔

    سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی کا طوفان

    پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی کا طوفان

    کابل: پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کی عارضی بندش کے بعد افغانستان میں اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    تاجروں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیوں کی قیمتیں دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستے خصوصاً طورخم بارڈر اور چمن بارڈر بند ہونے سے درآمدی اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان اپنی خوراک اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کے لیے بڑی حد تک پاکستان پر انحصار کرتا ہے، اور سرحدی بندش کے باعث سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے سے مارکیٹوں میں قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ مال نہ پہنچنے کے باعث ذخیرہ اندوزی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مصنوعی مہنگائی کو تقویت مل رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور سرحدی علاقوں میں جہاں پہلے ہی غربت کی شرح بلند ہے، وہاں انسانی بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

  • فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں ملزم کو کیفے میں داخل ہوکر خاتون کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزم مدثر نے کیفے کی مالک مریم کو مبینہ طور پر کاروباری پارٹنرشپ کی پیشکش کی تھی۔ خاتون کی جانب سے انکار کرنے پر ملزم طیش میں آگیا اور کیفے میں گھس کر نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ خاتون پر تشدد بھی کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت کیفے میں دیگر افراد بھی موجود تھے جنہوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، تاہم ملزم مشتعل حالت میں خاتون کو ہراساں کرتا رہا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاتون نے پولیس کو اطلاع دی جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور متاثرہ خاتون کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ خواتین کاروباری شخصیات کو تحفظ کا احساس دلایا جاسکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا تشدد کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔

  • ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

    ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا، صدر نے اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطا بق 150 دن کےلیےامریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی،مستثنیٰ اشیا میں معدنیات،کھاد، دھاتیں اور توانائی کی آلات شامل ہیں۔ زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی درآمدی ڈیوٹی سے متثنیٰ ہوگا، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔

    اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا، قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔.ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، فیصلے سے دنیا خوش ہوگی مگر اس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہے گی ، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا،ٹرمپ نےفیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے ساری دنیا پر 10فیصد ٹیرف لگا نے کا اعلان کیا تھا۔

  • سندھ صوفیوں کی دھرتی ، امن اور محبت کی سرزمین ہے،شرجیل میمن

    سندھ صوفیوں کی دھرتی ، امن اور محبت کی سرزمین ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، امن اور محبت کی سرزمین ہے، اور اس خطے نے ہمیشہ فراخ دلی اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔

    سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند روز قبل کراچی میں گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جس انداز سے الفاظ اور خیالات کا انتخاب کیا گیا، وہ نہایت افسوسناک تھا۔ اس تقریب میں مقررین کی جانب سے نفرت انگیز اور لسانی تعصب پر مبنی گفتگو کی گئی، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی ایک ایسا شہر ہے جو ماضی میں نفرت، تعصب اور لسانی کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے، اور ایسی گفتگو نے پہلے بھی اس شہر کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے حالات میں اس نوعیت کے بیانات دینا شہر کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تقریب میں نہ صرف نفرت اور تعصب پر مبنی باتیں کی گئیں بلکہ بعض ریاستی اداروں پر بھی نامناسب تنقید کی گئی۔ گورنر ہاؤس جیسے آئینی اور باوقار ادارے میں اس طرح کی گفتگو نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی اداروں کے وقار اور شہری ہم آہنگی کے لیے محفوظ۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایسے مقامات پر بیٹھ کر تعصب پر مبنی پیغامات دینا دراصل اسی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے جسے کراچی پہلے ہی دیکھ اور بھگت چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزِ اظہار کی کسی صورت گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اور اس میں کی گئی گفتگو شہر کے امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف تھی، اور آج ایم کیو ایم کے ایک منتخب نمائندے کی جانب سے ایم کیو ایم کے دوسرے نمائندے کے لئے اس نوعیت کے بیان کا سامنے آنا مزید تشویش کا باعث ہے۔

  • کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    رکن پنجاب اسمبلی ملک فیر شیر اعوان نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ تعلیم کو بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے ، تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے، کوٹگلہ کے عوام باشعور اور فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کا افتتاح اس کی واضح مثال ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب میں مہمانانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی ملک فلک شیر اعوان اور پیر محمود الحسن آستانہ عالیہ کوٹگلہ شریف تھے۔ تقریب میں ملک شوکت ایڈووکیٹ، ملک قاسم اعوان (موگلہ)، منور اعوان، ملک عمیر، سینئر صحافی ملک ارشد کوٹگلہ، باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان ، رفیق پٹواری ، مولانا خضر حیات ، ملک غلام حیدر سمیت معززینِ علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ملک فلک شیر اعوان تقریب مین پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا“ہم نے جب پنجاب کالج کی بنیاد رکھی تو کہا جاتا تھا کہ پہلے دو سال صرف نام پر داخلے ہوں گے، اصل امتحان اس کے بعد آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت ضائع نہیں ہونے دی۔ ادارہ بنا لینا آسان ہے، مگر اسے کامیابی سے چلانا اصل کام ہے۔ والدین کو کیا ڈلیور کرنا ہے، یہی اصل سوال ہے۔ کوٹگلہ کے لوگ باشعور ہیں، تعلیم کو صرف بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ بچوں کی صلاحیت کے مطابق تعلیم دی جائے۔”انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سکولوں کی عمارتیں، پینے کا پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔“میں نے کبھی ایم پی اے ہونے کا غرور نہیں کیا، نیک نیتی ہو تو اللہ خود مدد کرتا ہے، یہ میں نے آزما کر دیکھا ہے۔

    ملک شوکت ایڈووکیٹ نے ملک ذوالقرنین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ذوالقرنین نے پہلے بھی بہترین کام کیا ہے، اسی لیے ہمیں امید ہے کہ یہاں بھی معیاری تعلیم فراہم کریں گے۔ استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، استاد علم نہیں بلکہ علم کی پیاس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی علاقے کی بسمہ علی نے پنڈی بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تلہ گنگ آج تعلیم کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔“تعلیم ہمارا بزنس ضرور ہو سکتا ہے، مگر نیت یہ ہے کہ اس کے ثمرات سب تک پہنچیں۔ ایئر مارشل نور خان مرحوم نے تعلیم کی جو بنیاد رکھی، اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ استاد نسل کو قوم بناتا ہے۔”مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پنجاب کالج جیسے اداروں کے ساتھ چلنا ہے تو معیار، نتائج اور تربیت ہر سال ثابت کرنا ہوگی، تاکہ بچوں میں مثبت تبدیلی آئے اور تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جا ئے۔تقریب کے اختتام پر ملک ذوالقرنین نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اہلیان علاقہ کے لیے کیا کہ 25 فروری تک فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی فیس معاف ہو گی ۔

  • جنوبی وزیرستان اپر،دہشتگردوں کا ججز رہائش گاہ پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    جنوبی وزیرستان اپر،دہشتگردوں کا ججز رہائش گاہ پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کمپاؤنڈ کے اندر قائم ججز کی رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت اور وہاں کھڑی سرکاری گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ رات گئے کیا گیا، جس کے دوران ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے کے بعد ڈی سی کمپاؤنڈ اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ججز رہائش گاہ کی بیرونی دیواروں اور کھڑکیوں کو نقصان پہنچا جبکہ کمپاؤنڈ میں کھڑی چند گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ خوش قسمتی سے حملے کے وقت رہائش گاہ میں موجود افراد محفوظ رہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور حالیہ مہینوں میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے سیکیورٹی اداروں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

  • کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن نے شمولیت، ہمدردی اور مشترکہ روحانی اقدار کے عزم کو ایک خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کے انعقاد کے ذریعے مزید مستحکم کیا۔

    اس تقریب میں لینٹ اور رمضان کے مقدس روزہ دار موسم کی مناسبت سے مسلم اور مسیحی معاون عملے میں نقد تحائف تقسیم کیے گئے۔ یہ تقریب بدھ، 18 فروری 2026 کو صبح 11:30 بجے کنیرڈ کے ہلاڈیا ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ڈینز، انتظامی سربراہان اور تمام معاون عملے نے شرکت کی تاکہ اتحاد، روحانی غور و فکر اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔یہ تقریب پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم کی قیادت میں منعقد کی گئی، جن کا وژن باہمی احترام اور تنوع کے احترام پر مبنی اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔ تقریب ایسے موقع پر منعقد ہوئی جب ایش وینزڈے (مسیحی روزوں کے آغاز کا دن) رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن پہلے آیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور بائبل مقدس کی تلاوت سے ہوا، جن میں روزے کو خدا تعالیٰ کی عبادت کے ایک اہم عمل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم نے مختلف مذاہب کو جوڑنے والی مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مذاہب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور چونکہ ہماری ملازمتیں بھی اسی کی عطا کردہ نعمت ہیں، اس لیے ہمیں اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ایمانداری سے انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روزے کے ذریعے حاصل ہونے والی خود ضبطی، نظم و ضبط اور پاکیزگی کی صفات صرف روزوں کے موسم تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ پورا سال ہماری زندگیوں میں نمایاں رہنی چاہئیں۔

    تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت کالج کے تمام معاون عملے میں نقد تحائف کی تقسیم تھی، جس کے ذریعے ان کی محنت، لگن اور ادارے کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا گیا۔ یہ اقدام لینٹ اور رمضان دونوں کے جذبۂ شکرگزاری، خدمت اور باہمی خیال رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ فیکلٹی ممبران اور انتظامی قیادت نے اس تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کالج میں احترام کی ثقافت کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    یہ بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کنیرڈ کالج کے اس وسیع تر مشن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ایک ایسی جامع کمیونٹی کی تشکیل ہے جو صرف برداشت یا قبولیت تک محدود نہ ہو بلکہ تنوع کا جشن منائے اور ایسی خواتین قائدین تیار کرے جو معاشرتی ضروریات سے باخبر رہتے ہوئے ان اقدار کو آگے بڑھائیں۔ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے کالج مسلسل تنوع، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کیمپس اور معاشرے میں مضبوط تعلقات قائم کر رہا ہے۔

  • عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا۔

    جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا،امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

    امریکی عدالت کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی، امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے ،مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، دیگرممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی ، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے ، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے ،عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائےگا، ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

    صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل رقم واپس کرنا ہوگی؟ جس پر جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹیرف سے حاصل رقم واپسی پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی ،بھارت کےساتھ تجارتی معاہدے پرکچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرارہیں،صرف طریقہ کارمختلف ہوگا، ہتر ہوگا ایران مناسب ڈیل کیلئے مذاکرات کرے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیے تو اثرات سنگین ہوں گے،امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہو گا،ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔