Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چین کو ڈیل کرنا کوئی آسان کام نہیں،ٹرمپ

    چین کو ڈیل کرنا کوئی آسان کام نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے تمام پل اور بجلی گھر ایک گھنٹے میں تباہ کرسکتے ہیں لیکن کرنا نہیں چاہتے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ جنگ وقت سے پہلے ختم ہوگی، ہوسکتا ہے جلد ختم ہوجائے، لوگ کہہ رہے تھے تیل کی قیمت 200 ڈالر ہوگی، آج 92 ڈالر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے چینی صدر کو خط لکھا کہ ایران کو ہتھیار نہ دیں، چینی صدر کا جواب آگیا، وہ کہتے ہیں چین ایسا نہیں کررہا، ایران کو ایٹمی قوت بننے سے بچانے کیلئے یہ چھوٹی قیمت ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین یورپ کی کار انڈسٹری کو تباہ کررہا ہے، میں چین کے خلاف سب سے سخت مؤقف اپناتا ہوں، ہمارے ملک میں چین کی ایک بھی گاڑی نہیں آتی، چین کو ڈیل کرنا کوئی آسان کام نہیں، چین اور امریکا ایک دوسرے پر سائبر حملے کرتے رہتے ہیں۔

  • بھانجے سے تعلقات چھپانے کے لیے بہو نے ساس کو زہریلی روٹی کھلا دی

    بھانجے سے تعلقات چھپانے کے لیے بہو نے ساس کو زہریلی روٹی کھلا دی

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ایک ہولناک اور سنسنی خیز قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے بھانجے کے ساتھ ناجائز تعلقات چھپانے کے لیے اپنی ساس کو زہر دے کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ شریک ملزم کی تلاش جاری ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ لکھنؤ کے علاقے کاکوری کے ابراہیم گنج گاؤں میں پیش آیا، جہاں 65 سالہ شانتی دیوی کی پراسرار موت نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولہ کی بہو شالینی کے اپنے بھانجے کرن کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات تھے۔ دونوں کافی عرصے سے خفیہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے رہے اور گھر والوں کو دھوکا دیتے رہے۔ایک روز شانتی دیوی کو ان دونوں کے تعلقات کا علم ہو گیا۔ ساس نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور بہو کو روکا ٹوکا، جس پر شالینی شدید مشتعل ہو گئی۔پولیس کے مطابق 5 اپریل کو شالینی نے اپنے بھانجے کرن سے زہر منگوایا۔ بعد ازاں اس نے روٹی تیار کی اور اس میں زہر ملا کر اپنی ساس شانتی دیوی کو کھلا دی۔زہریلی روٹی کھانے کے بعد شانتی دیوی کی طبیعت بگڑ گئی اور اگلے روز یعنی 6 اپریل کو ان کا انتقال ہو گیا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ شالینی اور کرن نے موت کے فوراً بعد جلد بازی میں لاش کو دفن کر دیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور معاملہ خاموشی سے ختم ہو جائے۔متوفیہ کے بیٹے اور شالینی کے شوہر منوج کو اپنی والدہ کی اچانک موت پر شک ہوا۔ اس نے سوال اٹھایا کہ والدہ اچانک کیسے انتقال کر گئیں۔ شک بڑھنے پر اس نے اپنی بیوی شالینی اور کرن کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرا دی۔

    ایف آئی آر کے بعد پولیس نے لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ تین ڈاکٹروں پر مشتمل پینل نے معائنہ کیا۔ اگرچہ ابتدائی رپورٹ میں موت کی واضح وجہ سامنے نہ آ سکی، تاہم پولیس نے تفتیش جاری رکھی۔بعد ازاں پولیس کو معلوم ہوا کہ شالینی نے زہر منگوایا تھا۔ جب اس سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے جرم قبول کر لیا۔پولیس کے مطابق شالینی نے اعتراف کیا کہ اس کی ساس اس کے اور کرن کے تعلقات میں رکاوٹ بن رہی تھی، اسی لیے اس نے اسے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔پولیس نے ملزمہ شالینی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے، جبکہ شریک ملزم کرن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • ایران کی پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق

    ایران کی پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا محور مکمل جنگ بندی ہوگا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دونوں جانب متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں کئی اہم نکات زیر بحث آئے، جن میں مکمل جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے جیسے معاملات شامل تھے۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی آئندہ سفارتی پیش رفت کو صرف اس صورت میں آگے بڑھائے گا جب اس کا مقصد مستقل اور مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہو۔

  • بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا علمبردار،امریکا ،ایران کے مابین مذاکرات کے لئے دوبارہ اسلام آباد کی کوششیں قابل تحسین ہیں،بلوچستان پاکستان کا دل،بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان سمیت تمام صوبوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی، کارکنان بھر پور طریقے سے تیاری کریں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان عقیل احمد لغاری، سردار احمد مجتبی رند، حافظ ادریس، عبداللہ شر و دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان بھی شریک ہوئے، اس موقع پرجنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ میر شاہجہان گرگناڑی کی طرف سے سیف اللہ قصوری کو روایتی بلوچی دستار بھی پہنائی گئی، اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر بننے والا ملک پاکستان آج امن کا علمبردار بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہے، امریکا ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کا کردار عالمی دنیا تسلیم کر رہی ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں،بلوچستان میں دشمن قوتیں دہشتگردی و تخریب کاری کروا رہی ہیں تا کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکے،مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ نہ صرف دہشت گردی کی مذمت کی بلکہ اس فتنے کے خلاف قوم کو متحد و بیدار بھی کیا،ایک قوم بن کر رہیں گے تو ملک مضبوط ہو گا،دفاع وطن کے لئے اہل بلوچستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں،بلوچستان کی محرومیوں کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ ہر ممکن کوشش کرے گی، آئی ٹی تربیتی پروگرام شروع کر کے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں گے،

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں مرکزی مسلم لیگ حصہ لے گی،کارکنان اس ضمن میں تیاریاں شروع کر دیں، ہم سیاسی سطح پر کوئی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بھی حصہ لیں گے،عوامی مسائل کے حل کے لئے مرکزی مسلم لیگ کوشاں رہے گی، خدمت کی سیاست ہمارا منشور اور مرکزی مسلم لیگ کی خدمت ملک بھر میں دیکھنے کو ملے گی.

  • امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    اسلام آباد: پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ تیاری شروع نہیں کی گئی، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ ملاقات کے لیے خالی رکھے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں فریقین سے آئندہ مذاکرات کے وقت کے تعین پر رابطے میں ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نے اس ہفتے نئے مذاکرات کے امکان سے متعلق سوالات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "مذاکرات کے آئندہ ادوار کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی باضابطہ نہیں۔”ایک اور ایرانی ذریعے کے مطابق گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے بھی تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ انہیں اس وقت تک کسی نئے مذاکرات کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی غیر معمولی سیکیورٹی یا انتظامی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو کسی بڑے سفارتی اجلاس کی نشاندہی کریں۔ایک پاکستانی اہلکار، جو گزشتہ مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات سے واقف تھے، نے کہا "کیا آپ کو کہیں تیاری نظر آ رہی ہے؟ اس وقت سب کچھ صرف سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔”دفتر خارجہ کے ایک دوسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ کسی نئے مذاکرات کے مقام یا تاریخ کی ابھی تک توثیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ اور مقام طے پا جاتے تو انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا، شہر کو عملاً لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود تھی اور فوج، رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔میڈیا نمائندگان کے لیے خصوصی میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا، جہاں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو حکومتی سیکیورٹی میں مقامِ مذاکرات تک لے جایا گیا، جبکہ اہم شاہراہیں بند رکھی گئی تھیں۔حکام کے مطابق اگر اس جمعے تک نئے مذاکرات متوقع ہوتے تو اس نوعیت کے اقدامات پہلے سے نظر آنا شروع ہو جاتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نیا دور طے پاتا بھی ہے تو یا تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے یا پھر اچانک مختصر نوٹس پر انعقاد ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔اہم اختلافی نکات میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل تھا، جو عالمی تیل تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے پر مؤثر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکا اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی محدود یا مکمل طور پر روکنے کی تجاویز پیش کیں، جبکہ ایران نے اپنے جوہری حقوق تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ گزشتہ منگل کو اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ایران چاہتا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہوں، مگر امریکا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس سے وسیع تر امن معاہدے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں

  • بجلی کی لوڈشیڈنگ،نظام زندگی مفلوج،حکمران ہوش کے ناخن لیں، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    بجلی کی لوڈشیڈنگ،نظام زندگی مفلوج،حکمران ہوش کے ناخن لیں، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے،حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں،لوڈشیڈنگ نےنظام زندگی مفلوج کر دیا،حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلائے

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ابھی گرمی کا آغاز ہی ہوا ہے لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، لاہور سمیت بڑے شہروں میں بغیر کسی شیڈول کے آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، اگر یہی حالات برقرار رہے تو شدید گرمی میں عوام کو بجلی کے بغیر زندگی گزارنا پڑے گی،درحقیقت حکمرانوں کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں بلکہ کچھ اور ہیں، اگر وہ عوام کے خیر خواہ ہوتے تو اس قدر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی، ایک طرف سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث غریب طبقہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف بجلی کی طویل بندش سے کاروبار اور روزمرہ زندگی مزید متاثر ہو رہی ہے، حکومت فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے اور بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسز بھی ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے،

  • شرجیل میمن کا سکھر سے شکارپور پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے شروع کرنے کا اعلان

    شرجیل میمن کا سکھر سے شکارپور پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے شروع کرنے کا اعلان

    کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں عوامی سفری سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے سکھر سے شکارپور تک پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے سے شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی نئے روٹس، خواتین کے لیے خصوصی اسکیموں اور جدید بسوں کی خریداری کے منصوبوں پر پیش رفت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ اعلان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو آرام دہ، محفوظ اور سستی سفری سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سکھر سے شکارپور روٹ پر پیپلز بس سروس باقاعدہ طور پر آئندہ ہفتے شروع کردی جائے گی۔ اس منصوبے سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ روزگار، تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ترجمان محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق خواتین کے لیے خصوصی سہولتوں کے تحت سکھر اور حیدرآباد میں پنک اسکوٹیز دینے کی تقریبات بھی جلد منعقد کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے الیکٹرک وہیکلز (EV)، ہائبرڈ اور ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس منصوبے سے نہ صرف ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں کو جدید اور آرام دہ سفری سہولتیں بھی میسر آئیں گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتے سفری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے روٹس متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا۔

    شرجیل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے لیے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ حیدر چوک تا کوہسار اور حیدرآباد تا ٹنڈو الہیار روٹس پر بھی جلد پیپلز بس سروس شروع کی جائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال مزید بسیں ٹرانسپورٹ سسٹم کا حصہ بنیں گی، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار بس سروس کا آغاز کیا جائے گا۔سینئر وزیر نے مزید بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک ای وی ٹیکسی منصوبے سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں مکمل کرلی جائیں گی، جس کے بعد صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹیکسی سروس متعارف کرائی جائے گی۔

  • غیر قانونی سگریٹس  کاروبار کے خاتمہ کیلئے  موثر اقدامات کررہے،  بلال اظہر کیانی

    غیر قانونی سگریٹس کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہے، بلال اظہر کیانی

    وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ حکومت غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے اورا س ضمن میں نفاذِ قانون کو مزید مضبوط بنایا جارہاہے ۔

    انہوں نے یہ بات اکسفورڈاکنامکس کے زیراہتمام غیرقانی سگریٹ سے متعلق کاروبار متعلق جائزہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی غیر قانونی سگریٹ کے بڑے مسئلے کاسامنا ہے اور اندازوں کے مطابق سگریٹ کی پیداوار اور استعمال کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ یعنی تقریباً 20 ارب سگریٹ ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ تقریباً 137 سے 200 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہورہاہے۔ زیرمملکت نے کہاکہ یہ مسئلہ بڑی حد تک اندرونی نوعیت کا ہےجس کی بنیادی وجوہات غیر قانونی پیداوار اور وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیار شدہ سگریٹ یا خام مال کی سمگلنگ بھی اہم کردار ادا کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2025 میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی اس میں ایک جامع ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا نفاذ شامل تھا، ان کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں غیر قانونی فیکٹریوں، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیاجس کے نتیجے میں غیر قانونی پیداوار کے پورے نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تمام کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ مسلسل بدلتی ہوئی نوعیت کا حامل ہے۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس تیزی سے خود کو ڈھال رہے ہیں اور حکومتی اقدامات سے بچنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں جن میں پیداوار کی جگہوں کو منتقل کرنا،سمگلنگ کے نئے راستے قائم کرنا، اورخام مال پر ڈیوٹی سے بچنے کے لیے سپلائی چین کے ابتدائی مراحل میں مداخلت کرنا شامل ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ وزیرِ اعظم نے اس مسئلے کا براہِ راست نوٹس لیا ہے اور وہ ان بدلتی ہوئی حکمت عملیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سخت کارروائیوں کے باعث غیر قانونی مینوفیکچررز نے اپنی سرگرمیاں چھوٹے اور خفیہ مقامات، جیسے رہائشی گھروں اور زرعی زمینوں، میں منتقل کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بدلتی ہوئی صورتحال حکومت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر رہی ہے تاہم مشکلات کے باوجود حکومت سگریٹ کے غیرقانونی صنعت اورکاروبار کے خاتمہ کیلئے قوانین کومزید مضبوط بنانے سرکاری محصولات کے تحفظ میں پرعزم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت جائز کاروباروں کی حمایت اور قانون کی بالادستی کو برقرار کھیں گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے اورجائز وقانونی کاروبارکے فروغ سے سرمایہ کاری میں اضافہ کی کوششوں کوتقویت ملےگی۔

  • کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 3 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 3 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کے ایک اور کیس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد شہر میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 3 تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ کیس ملیر کے علاقے سے سامنے آیا ہے جہاں 40 سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔

    حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے کیس سامنے آنے کے بعد مریض کے قریبی رابطوں کی نشاندہی اور اسکریننگ کا عمل بھی شروع کردیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔سربراہ سندھ انفیکشیئس ڈیزیز ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے بتایا ہے کہ ایک اور مشتبہ مریض کو بھی آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ شخص میں بھی منکی پاکس جیسی علامات پائی گئی ہیں اور اس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی شخص میں بخار، جسم پر دانے، سوجن یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرل مرض ہے جو متاثرہ شخص کے قریبی جسمانی رابطے، آلودہ اشیا یا متاثرہ مواد کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ عوام کو صفائی، احتیاط اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی تاکید کی گئی ہے

  • پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان

    پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان

    پاور ڈویژن نے ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پیک آورز کے دوران روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے بچانے اور بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    پاور ڈویژن کے ترجمان نے پیک آورز ریلیف اسٹریٹیجی سے متعلق بیان میں کہا کہ حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافے کی صورت میں درپیش ہے۔ اسی لیے ان اوقات میں روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق تمام ڈسکوز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ بجلی بندش کے شیڈول اور اوقات کار سے صارفین کو پیشگی آگاہ کریں تاکہ شہری اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو اسی حساب سے ترتیب دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمرشل مارکیٹس کو بروقت بند کرنے سے بھی بجلی کی طلب میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر طلب کم ہوئی تو بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید محدود کیا جا سکے گا۔

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی کی پیداواری لاگت کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ منتقل ہونے سے روکا جا سکے گا۔ترجمان کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ سستی ہوئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کم لاگت ذرائع سے بجلی پیدا کرنے اور موجودہ پیداواری صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے سے نظام پر دباؤ کم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلی اور انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات میں بھی کمی کی گئی۔پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر سخت معاشی حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اور موجودہ وقت میں ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایات پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور واضح ٹاسک دیا گیا ہے کہ کسی بھی صورت بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کر دی گئی ہے، جس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ منیجمنٹ سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ لوڈ منیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ ممکنہ اضافہ روکنا ہے، جبکہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کے لیے تیار رہنا ہوگا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث اس اضافے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی کوشش جاری ہے۔