Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک اہم سیکیورٹی آپریشن کے دوران ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کی مبینہ سازش ناکام بنا دی گئی۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں 24 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس کی شہریت پہلے ہی منسوخ کی جا چکی تھی۔

    وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے بڑی مالی رقوم برآمد ہوئیں، جن کا تعلق غیر قانونی سرگرمیوں سے تھا۔ اسی کارروائی کے دوران بیرون ملک فرار 8 شہریوں کا بھی سراغ لگایا گیا، جن میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کی شہریت ختم کی جا چکی ہے۔بیان کے مطابق ملزمان منظم نیٹ ورک کے تحت مذہبی مقاصد اور خیراتی سرگرمیوں کے نام پر رقوم جمع کرتے تھے۔ عوام ان افراد پر اعتماد کرتے ہوئے نیک نیتی سے چندہ دیتے رہے، کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ رقوم جائز اور انسانی فلاح کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی۔تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جمع کی گئی رقم کو اصل مقاصد کے بجائے غیر قانونی اور مشتبہ تنظیموں کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ عمل عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین دھوکا اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    حکام نے مزید بتایا کہ ملزمان نے رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے تجارتی و پیشہ ورانہ اداروں کو بطور پردہ استعمال کیا۔ رقم کی منتقلی کے لیے پیچیدہ طریقے اپنائے گئے، جن میں مختلف افراد کے ذریعے فضائی اور زمینی راستوں سے رقوم منتقل کرنا شامل تھا تاکہ شک و شبہ سے بچا جا سکے۔وزارت داخلہ کے مطابق تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید ملوث عناصر کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست ہر اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے جو ملک کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالے یا کویت کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے لیے استعمال کرے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قانون کی عملداری، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کا سختی سے تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

  • تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ غزہ،ایران اور لبنان میں جاری تمام جنگیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بمباری اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ امن اور سفارتکاری سے حقیقی سلامتی مل سکتی ہے۔

    احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے حکومت کے خلاف منفرد انداز اپنایا۔ بعض مظاہرین نے اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی وزیر اتمار بین گویر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے ماسک پہن رکھے تھے۔ کچھ افراد نارنجی قیدی لباس میں ملبوس تھے جبکہ دیگر نے "موت کے فرشتے” جیسا روپ دھار رکھا تھا۔ مظاہرین نے علامتی الاؤ کے گرد رقص کیا اور پیغام دیا کہ موجودہ قیادت موت، خوف اور خونریزی کی سیاست کر رہی ہے، اور ایک دن انہیں اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔

    ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مئی 2000 میں لبنان سے آخری فوجی نکالا تھا، لیکن اب دوبارہ وہاں جانا ایک المناک غلطی ہے۔ ان کے بقول، "یہ پاگل پن ہے، میں سمجھ نہیں سکتی کہ ہم پھر اسی راستے پر کیوں جا رہے ہیں۔”احتجاج کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قانونی مشکلات بھی زیر بحث رہیں۔ مظاہرین نے تنقید کی کہ وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق اتوار کو ہونے والی عدالتی سماعت میں گواہی مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے، جو ان کے نزدیک عوامی اعتماد سے فرار کی کوشش ہے۔

    گزشتہ ہفتے پولیس نے اسی نوعیت کے احتجاج کو منتشر کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بڑے اجتماعات سکیورٹی ہدایات کے خلاف ہیں۔ اس بار بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور حکام نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایک ہزار سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں۔ تاہم مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد بظاہر اس حد سے کہیں زیادہ دکھائی دی۔احتجاج کے منتظم اور تحریک "اسٹینڈنگ ٹوگیدر” کے رہنما نے کہا کہ اگر پولیس طاقت استعمال کرے گی تو اس سے تحریک کو مزید توجہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں جب احتجاجی رہنما ایلون لی گرین سے بیروت کی تباہی کی تصاویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے افسردگی سے جواب دیا "میرا دل ٹوٹ گیا۔”

    یہ الفاظ نہ صرف احتجاجی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اسرائیلی معاشرے کے اس طبقے کی بھی نمائندگی کرتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ مسلسل جنگ نے خطے کو مزید غیر محفوظ اور انسانیت کو مزید زخمی کر دیا ہے۔

  • بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خزانہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں نے علاقائی صورتحال اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ جئے شنکر نے یو اے ای میں مقیم بھارتی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے شیخ عبداللہ کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان موجود جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کا اعتماد ظاہر کیا۔

    قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے اپنے دورے کے آغاز پر وہاں موجود بھارتی کمیونٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باوجود بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے لیے ہندوستانی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشکل حالات میں مقامی معاشرے میں بھارتی کمیونٹی کے قیمتی کردار کی تعریف کی اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے بھارتی برادری کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں دی گئی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آبادمیں موجود ملکی و غیر ملکی صحافی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی اصل سرگرمیاں ایک جانب جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا نمائندوں کے لیے الگ سے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ طویل انتظار کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔

    پاکستان میں مذاکرتی عمل کی کوریج کےلیے غیرملکی میڈیا کے نمائندوں میں مردوں سے زیادہ خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد آئی ہے جوکہ خوش آئند بات ہے۔خواتین صحافی اسلام آباد کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہورہی ہیں۔
    اسلام آباد کا مشہور جناح کنونشن سینٹر، جہاں عام طور پر ایوارڈ تقریبات، سرکاری تقریبات اور بڑے قومی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اس بار عالمی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں میڈیا مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آئے رپورٹرز، اینکرز، پروڈیوسرز اور کیمرہ ٹیمیں موجود ہیں جو مذاکرات کی ہر پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    اصل مذاکراتی نشستیں سڑک کے دوسری جانب واقع فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں جاری ہیں، تاہم صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر کو مرکزی میڈیا حب بنایا گیا ہے۔طویل مذاکرات کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کو مفت کافی مسلسل فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے میں مختلف اقسام کے کھانوں پر مشتمل بوفے بھی موجود ہے۔بوفے میں روایتی سالن، باربی کیو، چاول، سلاد اور دیگر اشیاء شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس اہم موقع پر مہمان نوازی کا خاص اہتمام کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا عملہ بھی جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہے، جو صحافیوں کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان سہولیات میں انٹرنیٹ، نشریاتی انتظامات، رہنمائی اور دیگر میڈیا ضروریات شامل ہیں تاکہ کوریج کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اس اہم سفارتی عمل کو نمایاں کرنے کے لیے مقام پر خصوصی سفارتی سجاوٹ بھی کی گئی ہے۔ مرکزی ہال میں بڑے بڑے بینرز آویزاں ہیں جن پر “Islamabad Talks” درج ہے، جبکہ امریکہ، پاکستان اور ایران کے جھنڈے ایک ساتھ نمایاں انداز میں رکھے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر توجہ کے لیے کنونشن سینٹر کے فرش پر #IslamabadTalks کا بڑا سائن بھی نصب کیا گیا ہے، جس کے سامنے آرام دہ صوفے رکھے گئے ہیں تاکہ صحافی انتظار کے دوران آرام بھی کر سکیں اور براہِ راست اپ ڈیٹس بھی دیتے رہیں۔

    مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حساس مذاکرات کی میزبانی کی ہے بلکہ میڈیا مینجمنٹ، سفارتی ماحول اور عالمی صحافیوں کی سہولت کے حوالے سے بھی مثبت تاثر دیا ہے۔ ایک طرف بند کمرے میں مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا کو منظم اور باوقار انداز میں سہولیات فراہم کرنا پاکستان کی سفارتی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ان مذاکرات کو خطے اور دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، جبکہ ہر نئی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک جناح کنونشن سینٹر میں صحافیوں کی سرگرمیاں، تجزیے اور لائیو اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اسرائیل ان کی قیادت میں ایران کے “دہشت گرد نظام” اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں ترک صد رجب طیب اردگان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے حمایتی عناصر کو جگہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک قیادت پر سخت تنقید کی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔پاکستان میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے سخت بیانات سے علاقائی تناؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

  • اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد میں جاری اہم امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک نہایت محتاط، منظم اور مؤثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے محفوظ رکھا۔ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا، ملکی صحافیوں اور سوشل میڈیا کی غیر معمولی دلچسپی موجود تھی، تاہم حکام نے اطلاعاتی ماحول کو اس انداز میں سنبھالا کہ تمام توجہ صرف مذاکرات کے اصل مقصد یعنی امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز رہی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکراتی ٹیموں کو مکمل سکون اور رازداری فراہم کی تاکہ حساس اور اہم معاملات پر سنجیدہ انداز میں گفتگو ممکن ہو سکے۔ حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی قسم کی غیر ضروری میڈیا ہلچل یا قیاس آرائی مذاکراتی عمل پر اثر انداز نہ ہو۔اسلام آباد میں قائم میڈیا سینٹر میں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے لیے آرام دہ اور بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، جہاں دنیا بھر سے آئے نمائندے موجود رہے۔ اس مرکز نے نہ صرف صحافیوں کے لیے رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ماحول فراہم کیا بلکہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے بھی مناسب سہولتیں مہیا کیں۔اطلاعات کی فراہمی صرف سرکاری ذرائع اور باضابطہ چینلز کے ذریعے کی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد اطلاعات کی فوری تردید اور روک تھام کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس مذاکرات میں غیر مصدقہ اطلاعات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے معلومات کے اجرا میں نظم و ضبط ضروری تھا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات شہ سرخیوں کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاموش اور سنجیدہ سفارت کاری ہی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ماہرین نے پاکستان کے کردار کو ذمہ دارانہ اور بالغ نظر سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے رازداری، تدبر اور بروقت معلوماتی نظم و نسق ناگزیر عناصر ہیں

  • اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دونوں وفود نے زیرِ بحث امور سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اب “ماہرین کی سطح” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی، عسکری، قانونی اور جوہری معاملات پر خصوصی کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں۔بیان کے مطابق مذاکرات کا مقصد اب تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینا ہے

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اہم معاملات پر پیشرفت کی اطلاعات ہیں،پہلا مرحلہ دو گھنٹے جاری رہا، کھانے کا وقفہ ہوا، دوبارہ پھر مذاکرات شروع ہوئے، دونوں فریقین نے انتہائی سخت مطالبات سے آغاز کیا، کئی اہم معاملات میں پیشرفت ہوئی، لبنان جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت میں مثبت اشارے ملے،

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی وفد میں مجموعی طور پر 71 افراد شامل ہیں، جن میں اعلیٰ مذاکرات کار، جوہری ماہرین، قانونی مشیران، میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد بھی متعلقہ شعبوں کے مکمل ماہرین کے ساتھ پاکستان پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین بھی آن لائن اور سفارتی سطح پر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیراڈ کشنر بھی موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق نائب صدر کے قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے خصوصی مشیر مائیکل وینس بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی مذاکرات امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان آمنے سامنے جاری ہیں، جہاں پاکستان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکراتی عمل میں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مذاکرات اتوار تک بھی جاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے اور دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں کے معاملات حل ہونے اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

  • اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز، ایران نے ریڈ لائنز بتا دیں

    اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز، ایران نے ریڈ لائنز بتا دیں

    اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے اہم امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندہ وفود پاکستان کے دارالحکومت میں موجود ہیں، جہاں سفارتی سطح پر رابطے تیز ہوگئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے پاس ہے۔ دونوں وفود نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وفود سے الگ الگ ملاقاتوں میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، بحری راستوں کی سلامتی اور سفارتی حل کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ تاہم ابھی تک اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز اور "سرخ لکیریں” پاکستان کے وزیراعظم تک پہنچا دی ہیں۔ ایران کے اہم مطالبات میں آبنائے ہرمز کی حیثیت، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور پورے خطے میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔ایرانی حکومت کی ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن مکمل احتیاط کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اعتماد کے فقدان سے بخوبی آگاہ ہے، اس لیے سفارتی ٹیم انتہائی محتاط حکمت عملی کے تحت مذاکرات میں داخل ہو رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد میں جاری ان اہم بات چیت پر مرکوز ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد میں ممکنہ پاک، ایران اور امریکا سفارتی رابطوں کے دوران ایران نے اپنی تجاویز اور اہم شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے اپنے مؤقف سے پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تاہم تاحال اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی سرخ لکیروں میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے بھر میں جنگ بندی شامل ہیں۔ ان نکات کو ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ٹرائیگر پر انگلی رکھ کر مذاکرات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اعتماد کے فقدان سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے ایرانی سفارتی ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس عمل میں داخل ہو رہی ہے۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں 25 فیصد کمی کا اعلان

    پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں 25 فیصد کمی کا اعلان

    مہنگائی سے پریشان شہریوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن نے ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت کرایوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔

    ذرائع کے مطابق آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن اور مختلف بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے نمائندوں نے سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی لاہور محسن رانا سے ملاقات کی، جس میں موجودہ کرایوں، عوامی مشکلات اور ٹرانسپورٹ نظام سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران فیڈریشن کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری طور پر 25 فیصد کمی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو سفری اخراجات میں سہولت فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر انٹر سٹی بس سروس چلانے والی 6 بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے آپریشن مینیجرز بھی موجود تھے، جنہوں نے سیکریٹری آر ٹی اے کی موجودگی میں اپنے کرایوں میں بھی 25 فیصد کمی کا اعلان کیا۔

    اس فیصلے کے بعد روزانہ سفر کرنے والے طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور دیگر شہریوں کے سفری اخراجات میں واضح کمی آئے گی۔ خاص طور پر بین الاضلاعی سفر کرنے والے افراد کو اس اقدام سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق نئے کرایوں کا اطلاق فوری طور پر یا جلد از جلد مرحلہ وار کیا جائے گا، جبکہ تمام کمپنیوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ نئے کرایہ نامے نمایاں طور پر آویزاں کریں۔شہریوں نے کرایوں میں کمی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ٹرانسپورٹ ادارے اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔