Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، وزیر خزانہ

    ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، وزیر خزانہ

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔

    لاہور میں ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، پراپرٹی سیکٹر کے متعدد ٹیکسوں کی شرح کی کمی پر غور کریں گے، ہمیں مختلف سیکٹرز کے ایشوز کے ساتھ اپنے فنانس کو دیکھنا ہوتا ہے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے، آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کا مستقبل ہیں، یہ آئی ٹی ایکسپورٹس 3 سے 4 ارب ڈالرز کی ہیں، آئی ٹی سیکٹر برآمدات میں کردار ادا کر سکتا ہے، آئی ٹی سیکٹر 8 سے 10 ارب ڈالرز برآمدات کا پوٹینشل رکھتا ہے، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4 سے 5 ارب ڈالرز باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے، اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی، عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔

  • اسلام آباد میں خاتون خودکش حملہ آور کی موجودگی والا سوشل میڈیا پیغام جعلی قرار

    اسلام آباد میں خاتون خودکش حملہ آور کی موجودگی والا سوشل میڈیا پیغام جعلی قرار

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ خاتون خودکش حملہ آور کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کو مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پیغام وائرل ہو رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک مشتبہ خاتون خودکش حملہ آور کی موجودگی کے حوالے سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ تاہم متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی الرٹ کسی مجاز ادارے کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق یہ پیغام بدنیتی پر مبنی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے اور کسی غیر معمولی خطرے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، لہٰذا عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

  • وزیراعظم کا 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان

    وزیراعظم کا 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔

    وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے اجرا کی تقریب کے دوران سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بریفنگ دیتے ہوئے شہباز شریف کو بتایا کہ اس سال رمضان پیکج کے تحت رقم 13 ہزار روپے کردی گئی ہے، پیکج کا مقصد مستحق افراد کو باعزت ریلیف فراہم کرنا ہے۔سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2025 میں رمضان پیکج کے تحت مستحقین کو 5 ہزار روپے دیے گئے تھے، مستحق افراد کور قوم بینکوں کے ذریعے براہ راست فراہم کی جائیں گی،وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کا حجم 38 ارب روپے ہے، وزرا پر مستمل کمیٹی رمضان پیکج کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی، وزیراعظم خود اس نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پچھلے سال رمضان میں مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم فراہم کی، پچھلے سال رقم 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس سال رمضان پیکج کے تحت 38 ارب روپے مقرر کیے ہیں، چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رقم شفاف نظام کے ذریعے رمضان ریلیف پیکج کی رقم تقسیم ہوگی، مستحقین کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

  • وزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، خصوصاً وفاقی دارالحکومت کی امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات، انسداد دہشت گردی اقدامات اور حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سرحدی صورتحال، بڑے شہروں میں سیکیورٹی چیلنجز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا۔وزیراعظم کو اسلام آباد کی موجودہ مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، سیف سٹی منصوبے کی بہتری اور حساس مقامات کی نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورت حال اور دیگر انتظامی معاملات کو نہایت احسن انداز سے حل کیا جائے اور عوامی سہولت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ملاقات میں داخلی سلامتی سے متعلق مستقبل کی حکمت عملی، اہم قومی تقریبات کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں حفاظتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی کے آئندہ دورہ سری لنکا پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ جلد سری لنکا کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ سری لنکن صدر کو وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام پہنچائیں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعاون، سیکیورٹی معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

  • میرے لیے تمام 15 کھلاڑی اہم ہیں، کوئی بھی کھیل سکتا ہے،سلمان علی آغا

    میرے لیے تمام 15 کھلاڑی اہم ہیں، کوئی بھی کھیل سکتا ہے،سلمان علی آغا

    قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھارت کے خلاف بڑے میچ سے قبل اسپنر عثمان طارق کو ٹرمپ کارڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اچھی کرکٹ کھیلنا ہوگی۔

    کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا ہمارے لیے یہ سب کھلاڑی ایک جیسے ہیں، عثمان طارق کو آپ سب نے بنایا، وہ ہمارے لیے ٹرمپ کارڈ ہیں،عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق بات چلتی رہی ہے، عثمان طارق دو مرتبہ کلیئر ہوچکا، پتا نہیں اس کے ایکشن پر بات کیوں ہو رہی ہے، لیکن عثمان طارق پر اس سب کا کوئی اثر نہیں پڑتا، کسی کی رائے کو روک نہیں سکتے، سب کو اجازت ہے،کل بھی ایک بڑے لیول کا میچ ہوگا، ہم تیار ہیں ہمیں اچھی کرکٹ کھیلنا ہے، یہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہیں اور پچ کا بھی علم ہے، بارش کا کچھ نہیں کر سکتے، اگر بارش کی وجہ سے اوور کم ہوتے ہیں تو اس کا بھی پلان کر رکھا ہے،میرے لیے تمام 15 کھلاڑی اہم ہیں، کوئی بھی کھیل سکتا ہے، کنڈیشنز کو دیکھ کر ہی اپنی پلیئنگ الیون بنائیں گے، بابر اعظم رنز کر رہے ہیں، ہمارے لیے پریشانی کی بات نہیں ہے، امید ہے بابراعظم کل بھی رنز کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں سلمان علی آغا کا کہنا تھا انڈیا کے خلاف ہمارا ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا، لیکن ہم نے تاریخ سے سیکھا ہے اور کوشش ہو گی کہ کل اچھا کھیلیں، انڈیا کی پوری پلئینگ الیون کے لیے پلان کیا ہوا ہے،بھارت کے جارح مزاج بیٹر ابھیشک شرما سے متعلق سوال پر پاکستان کے کپتان نے کہا امید ہے ابھشک کی ری کوری اچھی ہو رہی ہو گی اور وہ اپنی ٹیم کو دستیاب ہوں گے،جب آپ کپتانی کر رہے ہوتے ہیں تو یہ اضافی ذمے داری ہوتی ہے، دباؤ بھی ہوتا ہے، آپ ملک کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں تو سب کی نظریں آپ پر ہوتی ہیں، ہمیں میدان میں اچھی کرکٹ کھیلنا ہو گی۔

  • بھارت میں 25 ہزار سے زائد پائلٹس کے لائسنس،بے روزگار کتنے؟ڈیٹا موجود نہیں

    بھارت میں 25 ہزار سے زائد پائلٹس کے لائسنس،بے روزگار کتنے؟ڈیٹا موجود نہیں

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے لوک سبھا کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں اس وقت مجموعی طور پر 25 ہزار 1 پائلٹس ایسے ہیں جن کے لائسنس تاحال مؤثر اور کارآمد ہیں۔ تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان میں سے کتنے پائلٹس عملی طور پر ملازمت کر رہے ہیں یا بے روزگار ہیں، اس حوالے سے کوئی مرکزی ریکارڈ موجود نہیں۔

    وزارت شہری ہوابازی کے وزیر مملکت نے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ اعداد و شمار ڈی جی سی اے کے پاس موجود ڈیٹا پر مبنی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد 65 برس سے کم عمر اُن پائلٹس پر مشتمل ہے جن کے لائسنس اس وقت فعال ہیں۔ترنمول کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے لائسنسز کی کیٹیگری کے لحاظ سے تفصیلات بھی پیش کیں ،10,261 پائلٹس کے پاس ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL) موجود ہے، جو کمرشل طیاروں کی کمان سنبھالنے کے لیے اعلیٰ ترین سرٹیفکیشن تصور کیا جاتا ہے۔ان میں سے 10,051 پائلٹس ہوائی جہاز (ایروپلین) کے لیے مستند ہیں۔جبکہ 210 پائلٹس ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے منظور شدہ ہیں۔12,480 پائلٹس کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس (CPL) برائے ایروپلین ہے۔777 پائلٹس ہیلی کاپٹر کے لیے سی پی ایل رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ 1,477 افراد کے پاس پرائیویٹ پائلٹ لائسنس (PPL) برائے ایروپلین ہے، جبکہ صرف 6 افراد ہیلی کاپٹر کے لیے پی پی ایل کے حامل ہیں۔

    حکومت نے واضح کیا کہ ڈی جی سی اے صرف لائسنسوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، پائلٹس کی ملازمت یا بے روزگاری سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا جاتا۔ اس وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ کتنے سی پی ایل یا اے ٹی پی ایل ہولڈرز اس وقت روزگار کی تلاش میں ہیں یا فعال پروازوں میں شامل نہیں۔وزیر مملکت کے مطابق سال 2014 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 6,775 اے ٹی پی ایل جاری کیے گئے۔سب سے زیادہ 752 لائسنس سال 2019 میں جاری ہوئے۔تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 398 رہ گئی۔بعد ازاں ہوا بازی کے شعبے میں بحالی کے ساتھ لائسنسوں کے اجرا میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    ماہرین کے مطابق ایک جانب پائلٹس کی بڑی تعداد موجود ہے، تو دوسری جانب ان کی ملازمت سے متعلق مربوط ڈیٹا کی عدم دستیابی پالیسی سازی اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی میں ایک خلا کو ظاہر کرتی ہے۔ مستقبل میں ہوا بازی کے بڑھتے ہوئے شعبے کے پیش نظر حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ نہ صرف لائسنسنگ بلکہ روزگار کے رجحانات پر بھی جامع نگرانی کا نظام وضع کرے۔

  • انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوبال میں ایک سنسنی خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے جہاں 33 سالہ خاتون کی مسخ شدہ لاش خالی پلاٹ میں قائم سیپٹک ٹینک سے برآمد ہوئی۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اندوہناک واردات کو 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کر لیا گیا، جس کی کہانی محبت، دھوکہ، بلیک میلنگ اور قتل جیسے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت اشرفی عرف سیا کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست مہاراشٹر کے ضلع گونڈیا کی رہائشی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق سیا کو پیر کے روز اس کے شادی شدہ عاشق سمیر نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا، جس میں اس کے اہلِ خانہ نے بھی معاونت کی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل سیا اور سمیر کی ملاقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ہوئی۔ ابتدا میں عام نوعیت کی گفتگو جلد ہی معاشقے میں بدل گئی۔ محبت میں اندھی سیا تقریباً تین ماہ قبل اپنا گھر چھوڑ کر بھوبال منتقل ہو گئی اور سمیر کے ساتھ رہائش اختیار کر لی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کر رہی ہے۔تاہم سمیر پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ جب سیا اس کے علاقے کملہ نگر کے گھر میں رہنے لگی تو روزانہ کی بنیاد پر جھگڑے شروع ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیا اور سمیر کی بیوی کے درمیان اکثر تلخ کلامی ہوتی تھی جبکہ پڑوسیوں نے بھی گھر میں کشیدگی اور چیخ و پکار کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ سیا سمیر پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس نے شادی سے انکار کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ گھریلو حالات مزید کشیدہ ہو گئے اور سمیر کی بیوی مبینہ طور پر حالات سے تنگ آ کر اپنے میکے جَبَل پور چلی گئی۔پیر کی شام سیا اور سمیر کے درمیان ایک اور شدید جھگڑا ہوا۔ پولیس کے مطابق طیش میں آ کر سمیر نے سیا کا گلا دبا دیا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے سمیر نے مبینہ طور پر اپنے بھائی، والدہ اور بہن کی مدد سے لاش کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور پیر اور منگل کی درمیانی شب گھر کے قریب ایک خالی پلاٹ میں موجود سیپٹک ٹینک میں پھینک دیا۔جمعرات کی شام قریبی علاقے میں کھیلنے والے بچوں نے ٹینک سے اٹھنے والی شدید بدبو کی شکایت کی۔ مکینوں نے اندر لوہے کا صندوق تیرتا دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی تو صندوق کے اندر سے سیا کی بری طرح مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔لاش کافی حد تک گل چکی تھی جس کے باعث واضح زخموں کے نشانات نظر نہیں آ رہے تھے، تاہم ہاتھ پر بنے چراغ کے مخصوص ٹیٹو اور تاریخ "26 مئی 1992” سے شناخت ممکن ہوئی، جو غالباً اس کی تاریخ پیدائش تھی۔

    نشات پورہ تھانے کے انسپکٹر منوج پٹوا کے مطابق لاش تین سے چار روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور ابتدائی شواہد گلا دبانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پولیس نے سمیر کے بھائی، والدہ اور بہن کو لاش ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سمیر تاحال مفرور ہے۔ اس کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد کو بھی علم تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق سیا کی ذاتی زندگی بھی پیچیدہ تھی اور اس کی اس سے قبل تین شادیاں ہو چکی تھیں، جن میں سے بعض ریاست مہاراشٹر اور راجستھان میں ہوئیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل محرک اور واقعات کی مکمل ترتیب فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کی تلاش تیز کر دی ہے جبکہ علاقے میں اس لرزہ خیز واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے

  • عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کی غیرموجودگی میں علاج قبول نہیں کریں گے،علیمہ خان

    عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کی غیرموجودگی میں علاج قبول نہیں کریں گے،علیمہ خان

    بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے ابھی تک بانیٔ پی ٹی آئی کے علاج کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

    علیمہ خان نے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے تفصیلات اس وقت ملیں جب وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، سلمان صفدر نے بتایا کہ ملاقات کے دوران بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا، بانیٔ پی ٹی آئی نے بتایا کہ 3 ماہ سے دھندلا نظر آ رہا تھا، آنکھ درد کی شکایت پر آئی ڈراپس دیے گئے، آنکھ کا علاج نہ کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹرز مجرم ہیں، رات کو فون آیا تھا کہ اسپتال میں علاج کروا دیں گے مگر ان کے ڈاکٹر اور فیملی ممبر نہیں ہوں گے، ہمیں چُھپا کر علاج کرانا قبول نہیں، بانیٔ پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کی موجودگی کیوں قبول نہیں کر رہے؟ ہم آپ کی رپورٹس پر اعتبار نہیں کریں گے، کے پی کے تمام ایم این ایز، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے احتجاج پر شکر گزار ہیں۔

    دوسری جانب لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 5 اکتوبر کو سڑک بلاک کرنے اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کر دی،عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ طلب کر لیا۔

  • عمران خان کی توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست دائر

    عمران خان کی توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل پر حتمی فیصلے تک عمران خان کی سزا معطل کر کے انہیں رہا کیا جائے، عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے کی وجہ سے نظر شدید متاثر ہوئی ہے اور بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف کی رپورٹ کے مطابق عمران خان آنکھ کی تکلیف کا علاج جیل کی حدود میں ممکن نہیں ہے، عمران خان کی عمر 73 سال ہے اور ان کی مسلسل قید ان کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اسپیشل جج سینٹرل ون اسلام آباد نے 20 دسمبر 2025 کو عمران خان کو غیر قانونی طور پر سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو دفعہ 409 پی پی سی کے تحت 10 سال قید اور 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانے کی سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے کرپشن کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2) کے تحت کو مزید 7 سال قید کی سزا بھی سنائی، عمران خان پر ایک ہی الزام میں دو مختلف قوانین کے تحت سزائیں دینا قانون کی خلاف ورزی اور ڈبل جیپرڈی کے زمرے میں آتا ہے،عمران خان پبلک سرونٹ کی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان پر دفعہ 409 کا اطلاق غلط کیا گیا،توشہ خانہ پالیسی کے تحت تحائف کی قیمت کا 50 فیصد ادا کر کے انہیں قانونی طور پر اپنے پاس رکھا گیا تھا، سیاسی مخالفین کے ایما پر ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی اور گواہ انعام اللہ شاہ کے بیانات میں تضادات سے بھرپور ہیں،

  • ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جرائم میں کمی اور امن و امان کی بہتری سندھ پولیس کی کامیابی ہے، حکومت سندھ پولیس کی بہتری اور فلاح کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    کراچی میں شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد میں پولیس کے ریکروٹ ٹریننگ کورس کی 131ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے،انسپکٹر جنرل سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا استقبال کیا۔ آئی جی پولیس جاوید عالم اڈھو نے مہمانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کی،پولیس کے 889 اہلکاروں نے ریکروٹ ٹریننگ کورس مکمل کیا ہے، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہلکاروں میں انعامات تقسیم کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاسنگ آؤٹ ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پولیس ٹریننگ سعید آباد میں جدید تربیت دی جا رہی ہے، آپ عوام کے جان و مال کے محافظ ہیں، سندھ پولیس سے عوام کو بڑی توقعات ہیں، موجودہ حالات میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف سندھ پولیس نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں،ہ سندھ حکومت پولیس کی بہتری اور حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، پولیس ٹریننگ میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، سندھ پولیس کے بہادر افسران و جوانوں کی وجہ سے صوبے میں امن قائم ہوا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے دادو میں 3 بہادر سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا، صوبے میں چند ماہ میں پولیس کے افسران و جوانوں نے بہادری کی شاندار مثال قائم کی، کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا کو شہید کر دیا گیا۔ کراچی میں جب کچھ سال پہلے دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا تو کانسٹیبل شہید ہوئے، پچھلے سال جنوری سے دسمبر تک 1325 پولیس مقابلے ہوئے، 207 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا۔ پولیس نے 418 ڈاکوؤں کو زخمی کیا، 1138 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جبکہ 114 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا، اس سال یکم جنوری سے آج تک 115 پولیس مقابلے ہوئے،27 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 82 زخمی ہوئے، پولیس نے 81 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا اور 153 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا،امید کرتا ہوں کہ سندھ پولیس ایسے ہی بہادری سے کام کرتے ہوئے کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرے گی، ایک وقت تھا کہ دہشت گرد روزانہ کئی لوگوں کو شہید کر دیتے تھے، یہاں بم دھماکے ہوتے تھے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی،ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، سندھ پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ نئے جوان جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔