Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مذاکرات، صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،عطا تارڑ

    مذاکرات، صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی غیر ملکی صحافیوں کو فراہم کی گئی سہولیات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے صحافیوں کے لئے ویزا آن ارائیول ہوگا،کوریج کے لئے دنیا بھر سے صحافی پاکستان پہنچ رہے ہیں،

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، 50 کے قریب صحافی پاکستان پہنچ چکے ہیں،چین، سعودی عرب، جاپان، جرمنی، کوریا سمیت مختلف ممالک سے صحافیوں نے ویزا کی درخواستیں دی ہیں،وزارت اطلاعات و نشریات نے جناح کنونشن سنٹر میں صحافیوں کے لئے ایک چھت تلے تمام ضروری سہولیات میسر کی ہیں، ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، پرنٹرز، کمپیوٹرز اور سکرینز نصب کی گئی ہیں،صحافتی امور انجام دینے کے لئے درکار تمام سہولیات یہاں میسر کی گئی ہیں،جناح کنونشن سنٹر سے ریڈ زون قریب ہے، صحافی یہاں سے باآسانی کوریج کر سکتے ہیں،صحافیوں کو کارڈز جاری کئے گئے ہیں، تمام سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ صحافیوں کو کوریج میں کوئی دقت نہ پیش آئے،کوریج کے لئے آنے والے غیر ملکی صحافیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،

  • امریکا،ایران مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    امریکا،ایران مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، پوری قوم دعاگو ہے کہ یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں ،مذاکرات کا سہرا پاکستان کے سر سج چکا ہے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی اور خطے میں استحکام کا خواہاں رہا ہے۔اللہ رب العزت نے پاکستان کو ایک باوقار مقام عطا کیا ،آج عالمی برادری پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کر رہی ہے، فاتح پاکستان کا روشن اور فعال کردار دنیا کے سامنے ایک مثال بن چکا ہے ، پاکستان نہ صرف خود امن پسند ملک ہے بلکہ وہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، موجودہ حالات میں پاکستان کا یہ کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے اور عالمی سطح پر اس کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے ، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں، مذاکرات کی کامیابی سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی آئے گی

  • پاک سعودی مشترکہ دفاعی تعاون ،پاکستانی فوجی دستہ سعودیہ پہنچ گیا

    پاک سعودی مشترکہ دفاعی تعاون ،پاکستانی فوجی دستہ سعودیہ پہنچ گیا

    سعودی عرب کے وزرات دفاع نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی ایک فوجی فورس مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئی ہے۔ یہ تعیناتی دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق پاکستانی دستہ پاکستان ایئر فورس کے جنگی اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی کو فروغ دینا، آپریشنل تیاری کی سطح کو بلند کرنا اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے اور عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

    پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کہتے ہیں کہ سعودی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا فوجی دستہ مشرقی ریجن میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    اسلام آباد میں آج اہم امن مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی نائب صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی امریکی نائب صدر کے ہمراہ تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں وفود کے تعمیری انداز میں مذاکرات کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • مذاکرات،امریکہ کی ایران سے متعلق اہم مطالبے کی تردید

    مذاکرات،امریکہ کی ایران سے متعلق اہم مطالبے کی تردید

    امریکی حکومت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن نے ایران کے ایک اہم مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    اس سے قبل ایک رپورٹ میں ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہونے اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمزکو دوبارہ کھولنے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے اس نوعیت کا کوئی معاہدہ یا وعدہ نہیں کیا۔

    دوسری جانب آج پاکستان میں اہم امن مذاکرات متوقع ہیں جن میں دونوں فریقین کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے اور انہیں خطے میں ممکنہ امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ملاقات میں خطے کی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔وزیراعظم کے مطابق پاکستان چاہتا ہے کہ یہ بات چیت مثبت نتائج دے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

    مزید پیش رفت کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے اور عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والی ان بات چیت پر مرکوز ہیں۔

  • بائننس کا یو اے ای میں عملے کو عارضی منتقلی کا اختیار

    بائننس کا یو اے ای میں عملے کو عارضی منتقلی کا اختیار

    عالمی کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائننس نے اپنے متحدہ عرب امارات میں تعینات ملازمین کو علاقائی کشیدگی کے پیش نظر عارضی طور پر دیگر ایشیائی شہروں میں منتقل ہونے کا اختیار دے دیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق ملازمین کو ہانگ کانگ، ٹوکیو، کوالالمپور اور بینکاک جیسے شہروں میں وقتی طور پر کام جاری رکھنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال کے دوران انہیں زیادہ لچک اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ایک ترجمان نے کوئن ڈیسک کو بتایا کہ یہ اقدام “ملازمین کی حفاظت اور سہولت” کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بائننس ایک ریموٹ فرسٹ کمپنی ہے، اس لیے اس طرح کی عارضی منتقلی سے کاروباری سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ترجمان نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کمپنی کی تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں موجود بڑی تعداد میں ملازمین نے ملک میں ہی رہنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائننس متحدہ عرب امارات کو اپنے اہم علاقائی مراکز میں سے ایک سمجھتی ہے اور وہاں طویل مدتی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔ تقریباً چھ ہفتوں کی کشیدہ صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے، جبکہ ملک کے دفاعی نظام نے سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسی دوران خطے میں متعدد بڑے کاروباری اور ٹیکنالوجی ایونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دبئی میں ہونے والی TOKEN2049 Dubai کو 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ TON Gateway کو سیکیورٹی اور سفری خدشات کے باعث منسوخ کیا گیا۔

    دسمبر میں ابو ظہبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) نے کہا تھا کہ بائننس کا عالمی پلیٹ فارم اس کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرے گا، جو کمپنی کے ڈھانچے کو باضابطہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کمپنی کے مطابق تقریباً 1000 ملازمین، یعنی اس کی عالمی افرادی قوت کا 20 فیصد، متحدہ عرب امارات میں موجود ہے، جبکہ عالمی آپریشنز کا ایک بڑا حصہ ابو ظہبی سے بھی سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان میں ایران، امریکا مذاکرات، اہم نکات

    پاکستان میں ایران، امریکا مذاکرات، اہم نکات

    ایران کی بنیادی شرط ہے کہ باقاعدہ مذاکرات تبھی ہوں گے جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی ضمانت دے گا، امریکا اور اسرائیل لبنان میں جنگ بندی کو مذاکرات کا حصہ نہیں مانتے

    ایران منجمند اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے،امریکا رعایت دینے کو تیار ہے لیکن بدلے میں جوہری اور میزائل پروگرام پر بڑی رعایتیں مانگ رہا ہے،ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس چاہتا ہے جبکہ امریکا اسے ہر قسم کی فیس اور پابندی سے آزاد رکھنے کا مطالبہ کررہا ہے

    امریکا اور اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام میں بڑی کٹوتی چاہتے ہیں جسے تہران نے یکسر ناقابل گفت و شنید قرار دیدیا ہے،ایران خطے سے امریکی افواج کی واپسی چاہتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں امن معاہدہ تک فوجی موجودگی برقرار رہے گی ورنہ جنگ میں شدت لائی جائے گی

  • امریکہ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی

    امریکہ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن مذاکرات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں آئندہ امن مذاکرات کی تیاری جاری ہے، جن کی میزبانی مبینہ طور پر پاکستان کر رہا ہے۔امریکی و ایرانی وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں،ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران اس فیصلے کو امریکہ کی جانب سے سنجیدگی اور دیرپا امن معاہدے کی خواہش کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اثاثوں کی واپسی کو براہِ راست خطے میں بحری راستوں کی سلامتی سے جوڑا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خاص طور پر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے معاملے سے منسلک ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل و گیس ترسیلی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ایرانی فریق کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے اقتصادی دباؤ میں نرمی اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منجمد اثاثوں کا بڑا حصہ قطر میں موجود مالیاتی اداروں میں رکھا گیا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث غیر فعال تھا۔تاحال امریکی حکومت کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ تاہم سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو ایک ممکنہ "بریک تھرو” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لا سکتا ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، اپر کوہستان اسکینڈل،احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار

    پشاور ہائیکورٹ، اپر کوہستان اسکینڈل،احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار

    پشاور ہائی کورٹ نے اپر کوہستان اسکینڈل میں منجمد اثاثوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کا 31 اکتوبر 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس صاحبزادہ اسد اللّٰہ نے اپیلوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کیس احتساب عدالت کو دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا،عدالت نے حکم دیا کہ احتساب عدالت 1 ماہ کے اندر اندر اعتراضات پر دوبارہ فیصلہ کرے،
    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر انکوائری اور شواہد کے اپیلیں خارج کرنا شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سننے اور شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے،پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ احتساب عدالت متنازع جائیدادوں کے قبضے سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرے اور کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے،عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلے تک درخواست گزاروں کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

  • سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں سنائیں کھری کھری

    سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں سنائیں کھری کھری

    سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں کھری کھری سُنادی۔

    امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے فیصلہ کن کردار سے بھارت اور گودی میڈیا میں صف ماتم بچھ گیا۔گودی میڈیا مودی حکومت کو خفت سے بچانے کیلئے پاکستان کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کا سہارا لینے پرمجبور ہوچکا ہے،پاکستان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی پر احمقانہ سوال کرنے پر بھارتی اینکرکو سابق امریکی سفارتکار جیفری گنٹر نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر پاکستان میں مکمل محفوظ ہیں،بھارتی میڈیا سکول کے بچوں والا طرز عمل دکھا رہا ہے۔یہ زندگیوں کا معاملہ ہے،یہ روزگار کا معاملہ ہے اوریہ مہنگے پٹرول کا معاملہ ہے،سابق امریکی سفارتکار نے کہا کہ بھارتی میڈیاکا اس نازک معاملے کو بھارت پاکستان تنازع میں تبدیل کرنا افسوسناک ہے۔میں بھارتی میڈیاکو اسکے شرمناک رویے پر بطور سزا 30 منٹ کیلئے کمرے میں بند کرنا چاہوں گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو بے کار بحث و مباحثے میں الجھنے کے بجائے جنگ بندی کو سراہنا چاہیئے۔

    ماہرین کےمطابق امن مذاکرات جیسے حساس معاملے کو متنازع بناکر گودی میڈیا خطے میں کشیدگی بڑھانے کی شرمناک روش پرقائم ہے۔پاکستان مخالف پروپیگیندےکی کوشش میں مودی حکومت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہوچکی ہے اور گودی میڈیا کی چیخیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔