Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا،شرجیل میمن

    سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ میڈیا کی توجہ اصل معاملات سے ہٹ گئی ہے، میڈیا اور ٹی وی چینلز صرف سیاسی موضوعات پر بات کرتے ہیں، غیر نتیجہ خیز مسائل کو پیش کرتے ہیں اور عوام کے اصل مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں

    کراچی میں ایسوسی ایشن آف کنسلٹنگ انجینئرز پاکستان کی کانفرنس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ کانفرنس میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کے مواقع پر اہم تبادلہ خیال ہوا۔شرجیل میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر کمیٹی بنائی گئی۔ وزیر اعلی سندھ کمیٹی کے سربراہ تھے، سانحہ گل پلازہ رپورٹ نیک نیتی اور ایمانداری سے شائع کی گئی، سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنایا۔ گل پلازہ میں آگ بجھانے کے آلات نہ ہونے کی 2 بار وارننگ دی گئی، حفاظتی انتظامات مکمل نہ ہونے پر عمارت کو سیل کردیا جائے گا،بلڈنگ بننے کی زمہ داری حکومت کی ہوتی ہے اگر کوئی بلڈنگ بننی ہے تو اس کی زمین کی سوائل ٹیسٹنگ ہونی لازمی ہے ۔سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا، 2 بار وارننگ دی لیکن انتظامیہ نے توجہ نہیں دی،اس سانحے میں 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ عمارت کے مالک نے غیرقانونی طور پر اضافی منزلیں تعمیر کیں اور منظور شدہ نقشے کی خلاف ورزی کی

  • کچے کے ڈاکوؤں کیلیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ، پنجاب اب محفوظ ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    کچے کے ڈاکوؤں کیلیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ، پنجاب اب محفوظ ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ راجن پور اور کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے 100 فیصد کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

    کچا میں آپریشن پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہوئی تھی اور خوف کا ماحول پیدا کر رکھا تھا، لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کر لیا جاتا تھا، مجھے بتایا گیا تھا کہ کچے میں آپریشن بہت مشکل ہے، ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کیا، پاک فوج نے آپریشن کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی، کچے کے علاقوں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایک ڈاکو کو ٹریک کیا گیا، آپریشن کے دوران جدید ترین سرویلنس اور ہیومن سرویلنس کا استعمال کیا گیا، ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا، سندھ پولیس اور حکومت سندھ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے بھی آپریشن میں بھرپور ساتھ دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا راجن پور اور کچے کا علاقہ 100 فیصد ڈاکوؤں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے، حکومت کی رٹ ان علاقوں میں بحال ہو گئی ہے، اس آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، خوف کے علاقے سے قانون کی عملداری کا علاقہ بن گیا ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے، کچے کے ڈاکوؤں کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے، 500 سے زائد ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا ، الحمدللہ پنجاب اب محفوظ ہے۔

  • پاکستان کی خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کیخلاف ایک اور بڑی کامیابی

    پاکستان کی خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کیخلاف ایک اور بڑی کامیابی

    بحیرہ عرب میں پاکستانی اداروں نے مشترکہ آپریشن کرکےاربوں روپے مالیت کی منشیات سمگل کرنیکی کوشش ناکام بنادی

    اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگرایجنسیاں منشیات کی روک تھام کیلئے بھرپور کردار ادا کررہی ہیں،اے این ایف کی فراہم کردہ اطلاع پربحریہ عرب میں کامیاب آپریشن ، منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، آپریشن میں اے این ایف،پاک نیوی،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سنٹرنے حصہ لیا، آپریشن میں کشتی کی تلاشی کے دوران 1300کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں شراب برآمد کرلی گئی ،برآمد شدہ منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی مجموعی مالیت 20 ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے ، انسداد منشیات آپریشن متعلقہ پاکستانی اداروں کے مربوط باہمی رابطے،معلومات کے تبادلے اورموثرحکمت عملی کا مظہر ہے.

  • پاکستان کی منفرداسٹریٹیجک حیثیت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا محور

    پاکستان کی منفرداسٹریٹیجک حیثیت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا محور

    پاکستان نے اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کے پیشِ نظر وسطی ایشیا کیلئے ترقی کا نیا راستہ کھول دیا

    امریکی جریدے یوریشیاریویو نے سی پیک کے تناظرمیں پاکستان،ازبکستان اور قازقستان کا اشتراک ترقی کا سنگ میل قرار دیدیا،یوریشیاریویوکےمطابق؛ازبکستان اورقازقستان کے صدور نے دورہ پاکستان میں سی پیک پر”سہ طرفہ” اشتراک سے اقتصادی تبدیلی کا آغاز کردیا،پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی اوربہتر انفراسٹرکچر نے لینڈ لاک وسطی ایشیا کیلئے نئی تجارتی راہیں کھول دیں ، سی پیک کے ساتھ انضمام، ازبکستان کو کراچی اور گوادر کے ذریعے ایک قابل اعتماد جنوبی تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے، سی پیک قازقستان کوپاکستان کے ذریعے اسکی برآمدات کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے،

    ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کا یہ تعاون نہ صرف اس خطے بلکہ مستقبل میں عالمی تجارت کے لیے بھی ایک اہم محرک بن سکتا ہے،پاکستان اسی تناظرمیں وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مضبوط،سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیی ایٹیو (بی آر آئی) جیسے اقتصادی منصوبوں میں اپنی شرکت کو بہتر بنارہا ہے

  • سید یوسف رضا گیلانی کی انٹر پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن سے ملاقات

    سید یوسف رضا گیلانی کی انٹر پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن سے ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے انٹر پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن سے اہم ملاقات کی، جس میں عالمی جمہوریت، پارلیمانی سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے استحکام اور بین الپارلیمانی مکالمے کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر انٹر پارلیمانی یونین کو عالمی جمہوریت، مکالمے اور پارلیمانی ہم آہنگی کا ایک مؤثر اور فعال پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس فورم کو عالمی مسائل کے حل کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے انٹر پارلیمانی یونین کی اسمبلیوں اور مختلف کمیٹیوں میں فعال اور بامعنی شرکت جاری ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    سید یوسف رضا گیلانی نے امن، پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے انٹر پارلیمانی یونین کے ساتھ قریبی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو درپیش ماحولیاتی خطرات کے تناظر میں اجتماعی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ملاقات میں خواتین کی سیاسی شمولیت اور صنفی مساوات کے فروغ میں انٹر پارلیمانی یونین کے کردار کو سراہا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے آئینی و قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خواتین کے معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کا ایک مؤثر پروگرام قرار دیا، جس کے ذریعے لاکھوں خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

    گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں تنازعات کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور متعلقہ فریقین کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے اور انصاف پر مبنی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ملاقات میں پاکستان اور انٹر پارلیمانی یونین کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارلیمانی استعداد کار میں اضافے، قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانے اور تجربات کے تبادلے کے لیے مشترکہ اقدامات کو وسعت دی جائے گی۔

    ڈاکٹر ٹولیا ایکسن نے پاکستان کی پارلیمانی سرگرمیوں اور انٹر پارلیمانی یونین میں فعال شرکت کو سراہتے ہوئے جمہوریت، امن اور ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری کو مستحکم بنانے اور کثیرالجہتی فورمز پر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوششوں کا تسلسل قرار دی جا رہی ہے۔

  • تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کا دھرناجاری،پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگ گئے

    تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کا دھرناجاری،پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگ گئے

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا

    تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہے،اراکین رات بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بیٹھے رہے،پولیس کی جانب سے کسی کو پارلیمنٹ کے اندر جانے اور کسی کو اندر سے باہر آنے نہیں دیا جارہا ،پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام دروازوں کو تالے لگا دیئے گئے،تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت بھوک سے نڈھال ہو گئی،پولیس کی جانب سے رات کو کھانا اور اب صبح ناشتہ بھی اندر نہیں لے جانے دیا جارہا،پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ کے تمام گیٹس پہ تعنیات ہے

    مصطفی نواز کھرکھر ناشتہ لے کر پارلیمنٹ کے گیٹ پر پہنچ گئے،پولیس سے بحث تکرار پولیس نے ناشتہ اندر لے جانے کی اجازت نہ دی ، مصطفی نواز کھوکھر نے پارلیمنٹ کی عقبی سائیڈ سے ناشتے دینے کی کوشش کی جس پرپولیس کے اہلکاروں نے سختی سے روک دیا،ترجمان تحرہک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی پولیس کے رویے پر شدید غصے ہو گئے اور کہا کہ ہم کل سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں نا پانی اور نہ ناشتہ اندر جانے دے رہے،سینٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت رات سے خراب ہے دوائی نہیں آنے دے رہے

    خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر اور پارلیمنٹ لاجز کے اندر دھرنے میں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور سمیت کئی اہم رہنما شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی دھرنے میں شریک ہیں،

  • سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 26 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 26 دہشتگرد گرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک ماہ میں کارروائیوں کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 26 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    سرگودہ سے فتنہ الخوارج کے چار خطرناک دہشت گرد بھاری بارودی مواد اور اسلے سمیت گرفتار کیا، ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 286 کارروائیاں کیں، جن میں 286 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 26 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا گرفتار دہشت گردوں میں عرفان ۔ضامن علی ۔مجاہد علی ۔فیصل ۔شیراز ۔نعمت اللہ ۔اسامہ ۔غلام یاسین ۔یاسر وغیرہ شامل ہیں ، ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے ہے گرفتار دہشت گردوں کا تعلق لاہور ۔ساہیوال ۔خوشاب ۔میاںوالی۔ بھکر ۔فیصل اباد ۔جھنگ ۔چکوال ۔راجن پور ۔ناروال ۔پاک پتن سے ہیں،دھماکہ خیز مواد4935 گرام، ڈیٹونیٹرز 19، سیفٹی فیوز وائر 34 فٹ، ای ائی ڈی بم 3. کالعدم تنظیم کے پمفلٹ ، میگزین.پرائمہ کارڈ .موبائل فون اور نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 25 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 4662 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 160009 افراد کو چیک کیا گیا، 538 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 516 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 389 بازیابیاں کی گئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،

  • زیارت میں فتںہ الہندوستان کے خلاف عوامی ریلی،ہزاروں افراد شریک

    زیارت میں فتںہ الہندوستان کے خلاف عوامی ریلی،ہزاروں افراد شریک

    بلوچستان کے ضلع زیارت میں کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان (کالعدم بی ایل اے) کے خلاف ایک بڑی عوامی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں کی ہزاروں کی تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے بھارتی پراکسی قرار دی جانے والی کالعدم تنظیم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بلوچ شہریوں پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ریلی کا آغاز زیارت شہر کے مرکزی چوک سے ہوا جو مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی ضلعی پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کے خلاف اور بلوچستان میں امن و استحکام کے حق میں نعرے درج تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ کالعدم بی ایل اے اور اس کے سہولت کاروں کا عام بلوچ کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کا مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

    مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی چاہتے ہیں جبکہ تخریب کار عناصر بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر بدامنی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں، مزدوروں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت بلوچ روایات اور اقدار کے مطابق نہیں۔ریلی کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ “ان بھارتی کارندوں کے خلاف جنگ میں ہم بلوچ، اور بلوچ ملک کے ساتھ کھڑے ہیں” اور کسی کو بھی صوبے کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔شرکاء نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ نوجوان نسل کو مثبت مواقع فراہم ہوں اور دشمن قوتوں کے عزائم ناکام بنائے جا سکیں۔

    ریلی کے اختتام پر امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی جبکہ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • بنا اجازت دوسری شادی،پہلی بیوی کو حق مہر کے 10لاکھ دینے کا حکم

    بنا اجازت دوسری شادی،پہلی بیوی کو حق مہر کے 10لاکھ دینے کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ نے بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ روپے حقِ مہر کی رقم دینے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس عابد حسین چھٹہ نے مہناز سلیم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے درخواست گزار خاتون کی حقِ مہر، خرچ، سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم دینے کی درخواست منظور کر لی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ بیوی سے اجازت کے بغیر ایک اور شادی پر شوہر پہلی بیوی کو مہر کی رقم فوری دینے کا پابند ہے،عدالت نے طلاق مؤثر ہونے تک پہلی بیوی کو ماہانہ 15 ہزار خرچ اور سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی شق بیویوں کے مالی حقوق کے تحفظ اور من مانی شادیوں کو روکنے کے لیے ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون نے شوہر سے سامانِ جہیز اور نان نفقے کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں 3 پوائنٹس حقِ مہر کی رقم، خرچہ اور سامانِ جہیز کی واپسی کا تنازع تھا، فیملی کورٹ نے عدت کے دوران 15 ہزار روپے خرچ اور حقِ مہر کے 10 لاکھ روپے ماہانہ 45 ہزار کی قسط کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا،فیملی کورٹ نے بیوی کو سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق 10 لاکھ 500 روپے ادا کرنے کا حکم دیا، فریقین نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی، ٹرائل کورٹ نے شوہر کی اپیل جزوی منظور کرتے ہوئے حقِ مہر اور خرچ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، ٹرائل کورٹ نے سامانِ جہیز کی ویلیو بھی 10 لاکھ 500 روپے سے کم کر 4 لاکھ روپے کر دی، درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے بغیر اجازت تیسری اور پھر چوتھی شادی کی، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے اسے 3 کپڑوں میں گھر سے نکال دیا، فیملی کورٹ کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی، لہٰذا وہ صرف عدت کے عرصے تک خرچ دینے کا پابند ہے۔

    عدالت کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی جو کہ قانون کی نظر میں جائز نہیں، زبانی طلاق کے قانونی لوازمات پورے کیے بغیر میاں بیوی کے درمیان شادی برقرار رہتی ہے، بیوی کے گھر چھوڑنے پر قانونی جواز موجود ہو تو شوہر طلاق کے مؤثر ہونے تک ماہانہ خرچ دینے کا پابند ہے، ریکارڈ کے مطابق شوہر نے درخواست گزار کو صرف پہلی شادی کا بتایا جس میں بیوی فوت ہو چکی تھی، شادی کے بعد بیوی کو پتہ چلا کہ وہ پہلے سے دوسری شادی کر چکا ہے اور درخواست گزار تیسری بیوی ہے، فریقین کے درمیان یہی وجہ تنازع بنا اور درخواست گزار کو گھر سے نکال دیا گیا، شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بیوی نے نکاح نامے پر جعلی انٹری کے ذریعے مہر کی رقم 10 لاکھ روپے کی، شوہر کے مطابق بیوی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی، لہٰذا وہ خرچ کی حق دار نہیں، درخواست گزار نے شوہر کا گھر چھوڑنے کی ٹھوس وجوہات بتائیں، شوہر کا دوسری شادی کو چھپانا ریکارڈ سے ثابت ہوا ہے، اخلاقی طور پر شوہر کا فرض تھا کہ وہ نکاح کے وقت اپنی دوسری شادی کے بارے میں حقائق بتاتا، یہ کہیں ثابت نہیں ہوا کہ درخواست گزار نے اپنے مس کنڈکٹ یا نافرمانی کے باعث گھر چھوڑا۔

  • مودی سرکار  کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی  پھر تصدیق

    مودی سرکار کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی پھر تصدیق

    بھارت کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی ایک بار پھر تصدیق ہوگئی۔

    بھارتی شہری نکھل گپتا نے امریکی وفاقی عدالت میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا نے نیو یارک میں فیڈرل کورٹ میں سماعت کے دوران جرم قبول کیا۔امریکی پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ نکھل گپتا براہِ راست ایک بھارتی سرکاری اہلکار کے ساتھ رابطے میں تھے، جس نے انہیں اس قتل کا ہدف دیا تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق نکھل گپتا بھارتی حکومت کے تحت کام کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھا جو اوورسیز علیحدگی پسند سکھوں کا نشانہ بناتا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو جرائم پر 40 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ جون 2023 میں کینیڈا کے ایک گوردوارہ کے باہر خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد امریکا میں ایک اور سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو بھی قتل کرنے کی سازش کی گئی جس میں بھارتی شہری نکھل گپتا ملوث تھے۔نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں امریکا ڈی پورٹ کیا گیا، امریکا ڈپورٹ ہونے کے بعد بھارتی شہری پر فرد جرم عائد کی گئی تھی،اس حوالے سے امریکی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم امریکی سر زمین پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔