Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے خلاف تھانہ صدر میں فراڈ اور دھوکا دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی نامزد کیا گیا ہے، چوہدری اقبال گجر فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں چوہدری اقبال گجرکے بیٹے، بھائی اور بھتیجے بھی نامزد ہیں جبکہ سوسائٹی کے منیجر اور ملازمین بھی ملزم نامزد ہیں،ایف آئی آر کے مطابق سوسائٹی 2005 میں بنائی گئی، جی ڈی اے سے پی ٹی آئی دور حکومت میں منظوری لی گئی، ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو فروخت کیا،ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے جعلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری اراضی فروخت کی۔

  • 10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے نیا طیارہ خرید لیا گیا،گلف اسٹریم جی 500 طیارے کی قیمت 10 ارب روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق طیارے کا نمبر این 144 ایس اور قیمت تقریباً 10 ارب روپے ہے، اس طیارے کا پاکستان میں سفر کا ریکارڈ بھی ہے، یہ طیارہ ابھی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوا، یہ امریکی رجسٹریشن پر ہے،طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے عوام پر لگائے جائیں، قومی خزانے سے لگژری طیارہ خریدنا زیب نہیں دیتا۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا مؤقف ہےکہ ائیر پنجاب کے لیے ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہرطرح کے جہاز ہوں گے، مختلف جہاز خرید رہے ہیں کچھ لیزپرلیں گے، یہ اسی سلسلےکی کڑی ہے، جیسے ہی معاملات حتمی شکل اختیار کریں گے آپ کو بتا دیں گے، مفتاح اسماعیل کو ادھوری بات کرنےکا بہت شوق ہے، ہم بہت ساری ٹیکس چوریوں سے متعلق بات کریں گے تو یہ سیاسی انتقام ہوجائےگا۔

    دوسری جانب پنجاب ائیر لائن کی پہلی پرواز اپریل سے شروع ہوگی جس کے لیے پہلے مرحلے میں7 جہاز خریدے جا رہے ہیں،ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق پنجاب ائیرلائن صوبے کی اپنی ائیرلائن ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 2 سال تک صرف اندرون ملک پروازیں چلائی جائیں گی، پنجاب ائیرلائن 2 سال بعد انٹرنیشنل فلائٹس بھی شروع کرےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ائیرلائن کا حصہ بنا دیا جائےگا، وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے پنجاب ائیرلائن کے جہاز استعمال کریں گی، ان کے لیے الگ سے خصوصی جہاز نہیں خریدا جائےگا۔ذرائع کے مطابق قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، موجودہ اور نئے جہازوں کو مکمل طور پر منافع کے حصول کے لیے استعمال کیا جائےگا، نئے جہاز مسافروں اور وزیراعلیٰ دونوں کے استعمال میں آئیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب ائیر لائن کا جہاز استعمال کریں گی تو اس کا کرایہ دیا جائےگا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پنجاب کی “اونچی اُڑان” پر سوالات کھڑے ہو گئے ،قومی ایئرلائن Pakistan International Airlines جس کے پاس 18 آپریشنل اور 30 قابلِ مرمت جہاز تھے، اسے تقریباً 10 ارب میں فروخت کر دیا گیا۔دوسری طرف 19 نشستوں والا ایک طیارہ 11 ارب میں خرید لیا گیا۔قومی ایئرلائن ختم کرکے صوبائی ایئرلائن بنانے کی دانشمندی کیا ہے؟ عوام جواب چاہتے ہیں۔

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف اسٹریم طیارہ “ایئر پنجاب” کے فلیٹ کے لیےُ لیاجا رہا ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف اسٹریم کوئی کمرشل پسنجر جہاز نہیں بلکہ ایک لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ تاثر پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ یہ سہولت موجودہ یا آئندہ وزرائے اعلیٰ کے استعمال کے لیے ہوگی۔ اس پر بھونڈی صفائیاں دینے کے بجائے سچ واضح کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

    ایک ایسا صوبہ جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، ہزاروں فیکٹریاں بند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوں، جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہوں، وہاں سرکاری وسائل کا رخ روزگار، صنعت اور ریونیو جنریشن کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ نمائشی منصوبوں کی طرف۔ یہ پیسہ آخر عوام کا ہے، کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ جس پر دل چاہے تجربات کیے جائیں۔مزید تضاد یہ ہے کہ وفاقی سطح پر یہی جماعت نجکاری کا درس دیتی ہے، کہتی ہے حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت خود ایئرلائن بنانے نکل پڑی ہے۔ ایک ہی جماعت کے اندر پالیسی کا یہ تضاد آخر کس منطق کے تحت ہے؟ ایک طرف “پرائیویٹائزیشن”، دوسری طرف “سرکاری بزنس ایکسپینشن” عوام کو آخر کون سا بیانیہ ماننا چاہیے؟

    اگر واقعی حکومت اپنی کمرشل اہلیت اور گورننس ماڈل ثابت کرنا چاہتی ہے تو میدان کھلا ہے۔ پنجاب کی ڈسکوز نجکاری کے عمل میں جا رہی ہیں انہیں سنبھال کر دکھائیں، اپنے نظم و نسق سے چلا کر عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف دیں، لائن لاسز کم کریں، بجلی سستی کریں، ریکوری بہتر کریں۔ اصل امتحان وہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔

    حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر عام آدمی کی ضرورت نہیں بلکہ ایک محدود طبقے کی سہولت ہے۔ اندازاً صرف دو فیصد آبادی سالانہ فضائی سفر کرتی ہے، جبکہ بجلی سو فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ ہر گھر، ہر دکان، ہر اسپتال، ہر صنعت اور پوری معیشت بجلی پر چلتی ہے۔ اب فیصلہ خود کریں کہ زیادہ اہم کیا ہے ایک ایئرلائن یا بجلی کا نظام؟ اگر کمرشل کاروبار کرنے کا واقعی شوق ہے تو اس شعبے میں آئیں جہاں سو فیصد عوام کو ریلیف ملے، جہاں گورننس بہتر ہو تو نرخ کم ہوں، سروس بہتر ہو اور معیشت مضبوط ہو۔ورنہ یہ سب کچھ محض نمائشی منصوبے لگتے ہیں جو وقتی سرخی تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتے۔ قوم اب نعروں سے نہیں، ترجیحات سے فیصلے کرے۔

  • انڈین آرمی کی  فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    انڈین آرمی کی فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    مودی ہے تو ممکن ہے !!! منی پور ہوا آزاد ۔۔۔
    ارنب گوسوامی بدحال ، بنگلہ دیش کو کوسنے لگا

  • افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    پاکستان نے 16 فروری کوباجوڑ میں دہشت گرد حملے میں 11 فوجیوں کی شہادت پرافغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا ۔

    دفتر خارجہ نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔دفتر خارجہ نے فتنہ الخوارج ، ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک حملے کر رہے ہیں،پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری، سخت اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان طالبان حکومت پر واضح کیا گیا ہےکہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے فوجیوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا،دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، فتنہ الخوارج کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • ڈاکٹر سبیل اکرام بحریہ ٹائون لاہور میں نماز تروایح کی امامت کے فرائض انجام دیں گے

    ڈاکٹر سبیل اکرام بحریہ ٹائون لاہور میں نماز تروایح کی امامت کے فرائض انجام دیں گے

    اہل لاہور کیلئے بڑی خوشخبری ، شیریں اور مسحور کن ، وجد آفریں لہجہ اور دلوں کو ایمان کی حرارت عطا کرنے والی تلاوت کے حامل قاری ِ قرآن ڈاکٹر سبیل اکرام اس بار بھی پاکستان کی تیسری سب سے بڑی مسجد بحریہ ٹائون لاہور میں نماز تروایح کی امامت کے فرائض انجام دیں گے ۔اہل لاہور کیلئے یہ خوشخبری یقینا رمضان المبارک کو مزید بابرکت ، روحانی اور یادگار بنانے کا ذریعہ بنے گی جہاں قرآن مجید کی دلنشیں صدائیں ایمان کو تازہ اور قلوب کو منور کریں گی ۔ڈاکٹر سبیل اکرام اپنی منفرد ، پرسوز اور دلوں میں اتر جانے والی تلاوت کے باعث ملک بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ ان کی آواز میں ایسی تاثیر ہے جو سننے والوں کے دلوں کو نرم ، آنکھوں کو نم اور روح کو ایمان کی حرارت سے روشن کرتی ہے ۔ جب وہ خوبصورت آواز میں قرآن مجیدپڑھتے ہیں تو سننے والوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے گذشتہ سال بھی ان کی اقتدا میں نماز تراویح ادا کرنے کیلئے ہزاروں نمازی بحریہ ٹائون مسجد کا رخ کرتے رہے ۔واضح رہے کہ خواتین کیلئے نماز تراویح کی ادائیگی کا الگ سے انتظام ہوگا ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کی قرآن مجید کے ساتھ والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے صرف دس ماہ کے کم وقت میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا ۔ وہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے ، سب سے پہلے انھوں نے ریاض میں ہی نماز تراویح پڑھائیں ، اس کے بعد کراچی میں نماز تروایح کی امامت کی پھر وہ کئی سال تک مرکز قرآن وسنہ لاہور میں نماز تراویح پڑھاتے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کہتے ہیں قرآن مجید کا پڑھنا اور سننا باعث ثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے، ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہم اپنی کاروباری مصروفیات محدود کریں، ماہ مبارک میں قرآن مجید کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں ۔

  • گوجرخان میں رمضان سے پہلے مہنگائی کی طوفانی چھلانگ، پھل غریب کے خوابوں سے دور

    گوجرخان میں رمضان سے پہلے مہنگائی کی طوفانی چھلانگ، پھل غریب کے خوابوں سے دور

    گوجرخان (قمرشہزاد) رمضان سے قبل مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے اور غریب کی چیخوں کو خاموش کر دیا ہے، مارکیٹوں میں پھل آسمان چھو رہے ہیں، سیب 500 روپے، کیلا درجہ دوم 350، امرود 350 اور مالٹا 300 سے 450 روپے تک! یہ نرخ عام متوسط اور محنت کش طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ رمضان کے آغاز میں محض دو دن باقی ہیں، لیکن قیمتیں پہلے ہی ساتویں آسمان پر ہیں۔ غریب پھل دیکھ کر ترسیں گے، جبکہ کچھ لوگ رمضان کو ذاتی فائدے اور حج،عمرہ کے لیے دولت جمع کرنے کا موسم بنا رہے ہیں۔ حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہیں، اور مہنگائی کے ماسٹر مائنڈز آج تک بے نقاب نہیں ہوئے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی میں مذہبی تہوار یا رمضان کے موقع پر قیمتیں گرتی ہیں، عوام کو ریلیف ملتا ہے۔ وہاں سہولت بازار اور سبز بازار عوام کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر طبقہ خریداری کر سکے۔ مگر پاکستان میں حالات بالکل برعکس ہیں قیمتیں چھلانگیں لگاتی ہیں، سہولت بازار غائب ہیں، اور غریب عوام کی جیبیں لوٹی جا رہی ہیں۔ یہ مہنگائی کوئی معمولی مسلہ نہیں، یہ عوام پر جابرانہ ڈاکہ ہے، ہر گلی، ہر بازار میں نرخ ایسے بڑھ رہے ہیں جیسے رمضان صرف کچھ لوگوں کے فائدے کے لیے ہو۔متوسط اور کم آمدنی والے شہری رمضان کی خوشیاں صرف خوابوں میں دیکھیں گے، جبکہ حکومتی ادارے خاموشی سے یہ لوٹ مار دیکھتے رہیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے خاموشی توڑیں، قیمتوں پر قابو پائیں اور عوام کو رمضان میں فوری ریلیف فراہم کریں۔ ورنہ یہ مہنگائی کا طوفان ہر گھر میں احتجاج اور ناراضگی کی آگ بھڑکا دے گا، اور عوام اپنی چیخوں میں جواب مانگیں گے۔

  • ہاؤسنگ سکیم ٹو اقراء کالج کے قریب لنک روڈ سے نامعلوم خاتون کی نعش برآمد

    ہاؤسنگ سکیم ٹو اقراء کالج کے قریب لنک روڈ سے نامعلوم خاتون کی نعش برآمد

    نعش پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل جسم پر کسی قسم کی انجری کے آثار نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی اصل وجہ سامنے لائے گی
    نعش کی شناخت کے لیے نادرا سے رجوع کر لیا ہے مقدمہ درج کرکے تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے سید دانیال حسن
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے علاقے ہاؤسنگ سکیم ٹو میں اقراء کالج کے قریب لنک روڈ سے ایک نامعلوم خاتون کی نعش برآمد ہونے پر علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ مقامی افراد کی اطلاع پر پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی سید دانیال حسن پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے پولیس ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد محفوظ بنانے کا عمل شروع کیا۔بعد ازاں فرانزک ٹیم نے بھی جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے۔

    اے ایس پی سید دانیال حسن نے میڈیا کو بتایا کہ خاتون کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔اس سلسلے میں نادرا سے رجوع کر لیا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کی مدد سے شناخت ممکن بنائی جا سکے۔ شناخت ہوتے ہی لواحقین سے فوری رابطہ کیا جائے گا۔ تاہم خاتون کے جسم پر بظاہر کسی قسم کی انجری کا کوئی نشان موجود نہیں، تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔نعش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیشی ٹیم نے تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  • اہلیانِ گوجرخان کیلئے تاریخی سفری تحفہ، سوہاوہ اور روات ٹی چوک تک الیکٹرو بسوں کی گونج

    اہلیانِ گوجرخان کیلئے تاریخی سفری تحفہ، سوہاوہ اور روات ٹی چوک تک الیکٹرو بسوں کی گونج

    گوجرخان (قمرشہزاد) وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے اہلیانِ گوجرخان کیلئے ترقی کا نیا سویرا طلوع ہو گیا۔

    عظیم الشان منصوبوں پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی اور ایڈووکیٹ ثاقب علی بیگ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مریم نواز شریف نے گوجرخان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ن ہی عوامی خدمت کی حقیقی علمبردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بسیں محض سواری نہیں بلکہ ایک معیاری طرزِ زندگی کی علامت ہیں، جو گوجرخان سے سوہاوہ اور گوجرخان سے ٹی چوک روات تک کے مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کریں گی۔ ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی نے واضح کیا کہ سی ایم پنجاب کی خصوصی ہدایت پر بزرگ شہریوں، خواتین اور طلبا و طالبات کیلئے یہ سفر بالکل مفت ہوگا، جبکہ عام شہریوں کیلئے محض 20 روپے کا معمولی کرایہ مقرر کیا گیا ہے، جو کہ مہنگائی کے دور میں غریب پرور حکومت کا ایک بے مثال اقدام ہے۔ ایڈووکیٹ ثاقب علی بیگ نے مزید کہا کہ سی ایم مریم نواز شریف کی قیادت میں گوجرخان میں تعمیر و ترقی کا وہ سفر شروع ہو چکا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سوا ارب روپے پنجاب یونیورسٹی پوٹھوہار کیمپس کے جاری کیے گے، جی ٹی روڈ پر دو انڈر پاسز کی تعمیر، میگا روڈ پراجیکٹس اور ستھرا پنجاب، اپنا گھر اپنی چھت، سولر پینلز جیسی مہمات نے شہر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب مشن کے تحت گوجرخان کی گلیوں اور محلوں کی صفائی ستھرائی کے جو تاریخی کام ہوئے ہیں، انہوں نے عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کر دیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز شریف کا پنجاب وژن ریاست کو فلاحی ریاست بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اہلیان گوجرخان سمیت ہم اپنے قائدین کے اس بصیرت افروز فیصلے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ تعمیر و ترقی کا یہ سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔

    گوجرخان میں ن لیگ کا پاور شو گرین الیکٹرو بس افتتاحی تقریب میں عوام کا جمِ غفیر
    عوامی سمندر میں مقامی قیادت ایک صف میں رنگا رنگ تقریب میں وزراء اور منتخب نمائندوں نے فیتہ کاٹ کر گرین ٹرانسپورٹ کا تحفہ دے دیا
    گوجرخان میں تاریخی لمحہ سی ایم پنجاب کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا خدمت، ترقی اور کارکردگی کا ماڈل ایک اور سنگِ میل عبور کر گیا
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں گرین الیکٹرو بس سروس کا باقاعدہ اور شاندار افتتاح ایک پروقار اور رنگا رنگ تقریب میں کیا گیا۔ تقریب کی میزبانی معروف سیاسی و سماجی رہنما ثاقب علی بیگ ایڈووکیٹ نے کی۔ افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ پنجاب بلال اکبر، صوبائی وزیر منشا بٹ، عوامی ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی اور ایم پی اے کہوٹہ راجہ صغیر نے خصوصی شرکت کی اور فیتہ کاٹ کر بس سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر سابق پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص، سابق چیئرمین بلدیہ شاہد صراف، سید ندیم شاہ، چیئرمین اشتیاق، طیب قریشی اور دیگر لیگی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں شہریوں اور مسلم لیگی کارکنان کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کرکے اس منصوبے کو سراہا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی بلال اکبر، منشاء بٹ، راجہ شوکت عزیز بھٹی، ایڈووکیٹ ثاقب علی بیگ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا گرین الیکٹرو بس سروس کا افتتاح اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن صرف وعدوں کی سیاست نہیں بلکہ عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی قیادت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب بھی اسے خدمت کا موقع ملتا ہے تو وہ عوام کو ریلیف، سہولت اور ترقی کے حقیقی منصوبے فراہم کرتی ہے۔ رہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے۔ سڑکیں ہوں، اسپتال ہوں، تعلیمی ادارے ہوں یا جدید ٹرانسپورٹ نظام ہر میدان میں پارٹی نے کارکردگی کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ترقی کا سفر رکا نہیں بلکہ مزید تیز ہوا ہے، اور گوجرخان میں گرین الیکٹرو بس سروس اسی وژن کی عملی جھلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملک کو بحرانوں سے نکالا، معیشت کو سنبھالا اور عوام کو سہولتیں فراہم کیں۔ آج بھی پارٹی کا عزم ہے کہ پنجاب کے ہر شہر اور قصبے تک جدید سہولیات پہنچائی جائیں گی تاکہ عام آدمی باوقار اور آسان زندگی گزار سکے۔ آخر میں لیگی رہنماؤں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ عوام کا اعتماد ہی ان کی اصل طاقت ہے، اور وہ خدمت، دیانت اور کارکردگی کی سیاست جاری رکھیں گے۔ تقریب کے اختتام پر شہریوں اور کارکنان نے وزیراعلیٰ پنجاب اور تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گرین الیکٹرو بس سروس گوجرخان کے لیے ترقی کا سنگِ میل ثابت ہوگی اور عوام کو جدید، محفوظ اور باوقار سفری سہولت فراہم کرے گی۔ گوجرخان میں ترقی کا پہیہ چل پڑا اور یہ سفر اب رکے گا نہیں۔

  • آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم  کو خط لکھ دیا

    آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری سامنے آگئی- آلو کے کاشتکاروں کی مشکلات کے ازالے اور منافع میں اضافہ کے لیے وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا -وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں آلو کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیاگیاہے-

    وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) کے ذریعے آلو کی برآمدات میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے- خط میں وزیراعلی مریم نواز شریف نے آلو کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی درخواست کی ہے-وزیراعلی مریم نواز شریف نے آلو کی برآمد کے لیے کرائے کی لاگت میں 25 فیصد خصوصی رعایت کی اپیل کی ہے- وزیراعلی مریم نواز شریف نے برآمد کے لیے کاغذی کارروائی میں خصوصی نرمی کی درخواست بھی کی ہے- وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں یورپی یونین، افریقہ اور امریکہ سمیت عالمی منڈیوں تک رسائی سمیت دیگر ضروری اقدامات کی درخواست کی ہے-وزیراعلی مریم نوازشریف کے اقدامات سے کاشتکاروں کو آلو کی بہتر قیمتیں حاصل ہوں گی-

  • ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، وزیر خزانہ

    ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، وزیر خزانہ

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔

    لاہور میں ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، پراپرٹی سیکٹر کے متعدد ٹیکسوں کی شرح کی کمی پر غور کریں گے، ہمیں مختلف سیکٹرز کے ایشوز کے ساتھ اپنے فنانس کو دیکھنا ہوتا ہے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے، آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کا مستقبل ہیں، یہ آئی ٹی ایکسپورٹس 3 سے 4 ارب ڈالرز کی ہیں، آئی ٹی سیکٹر برآمدات میں کردار ادا کر سکتا ہے، آئی ٹی سیکٹر 8 سے 10 ارب ڈالرز برآمدات کا پوٹینشل رکھتا ہے، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4 سے 5 ارب ڈالرز باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے، اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی، عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔