Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قراردیا

    جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قراردیا

    امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نےوزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیڈ مارشل عاصم منیر کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے

    وطن واپسی پر نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز سے خصوصی گفتگو میں جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حقیقی سٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں بہترین کردار ادا کیا، ، امریکہ اور ایران نے اس سے پہلے طویل عرصے تک ایسے سنجیدہ مذاکرات نہیں کیے تھے،

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے

  • وائٹ ہاؤس کا ایران سے نئی بات چیت پر تبصرے سے انکار

    وائٹ ہاؤس کا ایران سے نئی بات چیت پر تبصرے سے انکار

    وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی نشست پر غور کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم نے امریکا کی “ریڈ لائنز” واضح کر دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی خواہش میں اضافہ ہوگا کیونکہ صدر ٹرمپ کی “انتہائی مؤثر بحری ناکہ بندی” اب نافذ ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ نئے مذاکرات کے سوال پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    یہ پیش رفت اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مذاکرات آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔

    ادھر صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ “دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے” اور “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔”

    سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر نئی بات چیت کی تصدیق نہیں کی، لیکن حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد ایک بار پھر اہم سفارتی مرکز بن سکتا ہے۔

  • ایران کا خلیجی ممالک سےہرجانے کا مطالبہ

    ایران کا خلیجی ممالک سےہرجانے کا مطالبہ

    ایران نے ان ممالک سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے جن پر تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان ممالک میں متحدہ عرب امارات،قطر،سعودی عرب، بحرین، اردن شامل ہیں۔یہ وہ ممالک ہیں جن پر تہران نے خود جنگ کے دوران حملہ کیا ہے۔ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے امیر سعید ایرانی نے کہا کہ ان ممالک نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں ایران کو ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اس میں مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور دیگر نوعیت کے نقصانات بھی شامل ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو پہنچنے والے ہر نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ذمہ دار ممالک اپنی بین الاقوامی خلاف ورزیوں کی قیمت ادا کریں۔

    دوسری جانب جنگ کے دوران ایران خود بھی اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کا مقصد امریکا اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس مطالبے سے خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ جن ممالک پر الزام لگایا گیا ہے وہ پہلے ہی سکیورٹی خدشات اور علاقائی تنازعات کے باعث حساس صورتحال سے دوچار ہیں۔

  • وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی

    وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاس کے موقع پر اہم ملاقاتیں کیں۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط جلد منظور ہونے کی نوید سنادی۔ کہا کہ فی الحال آئی ایم ایف کے پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں، معاشی صورتحال کمزور ہوئی تو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔محمد اورنگزیب نے پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا عندیہ بھی دے دیا۔

    وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف ڈائریکٹر اور پاکستان کیلئے آئی ایم ایف مشن ٹیم سے ملاقات کی، وہ امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری سے بھی ملے، سعودی فنڈ برائے ترقی کے سی ای او، ماسٹر کارڈ کے چیف گلوبل افیئرز سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے گوگل کے نائب صدر اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ایم ڈی سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

  • برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج،قوم کا سرفخر سے بلند ہو گیا

    امریکہ ایران جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے،خلیجی جنگ میں بہترین سفارتکاری سے پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے ،برطانوی ایم پی محمد افضل نے پارلیمنٹ سے خطاب میں پاکستانی ثالثی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے میں پاکستان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،تمام دنیا وزیراعظم پاکستان،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں پرانکی شکرگزار ہے، برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ایم پی محمد افضل کے خطاب کی تائید میں امن کی کوششوں پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا

    عالمی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود پاکستان ایک انتہائی اہم ،مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے شاندار سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچایا

  • افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت ہمسایہ ممالک سمیت خطے بھر کیلئے سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے،سابق اعلیٰ افغان عہدیدارطالبان رجیم کافتنہ الخوارج اوردیگر عالمی دہشت گردتنظیموں کیساتھ گٹھ جوڑ شواہد کے ساتھ سامنےلے آئے،افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر احمد ضیاء سراج نے انکشاف کیا کہ طالبان رجیم کا فتنہ الخوارج سمیت دیگردہشت گردتنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون ہے،اس گٹھ جوڑ میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ کی فراہمی سمیت خودکش حملہ آوروں کا تبادلہ بھی شامل ہے، طالبان رجیم میں عالمی دہشت گردتنظیمیں افغان سرزمین اور دیگرسہولیات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہیں، افغان شہری طالبان رجیم اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کے درمیان اس گھناونے تعلق کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں،

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے،افغان طالبان بیرونی آقاوں کی سرپرستی میں اپناناجائزتسلط قائم رکھنے کیلئے دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری کر رہے ہیں

  • سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    خطہ کے امن میں پاکستان کا کلیدی کردار، سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف ہیں

    مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ،بھارت کے سابق فوجی افسر بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے گُن گانے لگے ،بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کے مطابق؛پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا،پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا، پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی،بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے،

    عالمی ماہرین کے مطابق گودی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے باوجود سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کیا،بھارت کے فوجی افسران کی پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کا اعتراف مودی کے خود ساختہ دعوؤں پر طمانچہ ہے

  • مذاکرات کے دوران تہران سے تین طیاروں کی نور خان ایئربیس پر آمد

    مذاکرات کے دوران تہران سے تین طیاروں کی نور خان ایئربیس پر آمد

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان حساس مذاکرات کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران سے آنے والے کم از کم تین طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر اترے ہیں۔ یہ وہی ایئربیس ہے جہاں حالیہ مذاکراتی عمل میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد و رفت رپورٹ کی گئی ہے۔

    الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ طیارے ایرانی کارگو ایئرلائن پویہ ایئر کے ہیں، جسے ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک ادارہ سمجھا جاتا ہے اور یہ مبینہ طور پر قدس فورس اور ایرانی فضائی یونٹس کے لاجسٹک آپریشنز میں معاونت کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق پویہ ایئر کے طیارے تہران کے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، جس پر حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم ان طیاروں کی پاکستان آمد کا مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔

    پاکستانی حکام یا مذاکراتی ٹیموں کی جانب سے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ ان طیاروں میں کون سوار تھا یا ان کی آمد کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی تقریباً 70 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، تاہم ایرانی ذرائع اشارہ کر رہے تھے کہ مذاکرات کے "تفصیلی مرحلے” میں مزید ماہرین کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان مذاکرات میں ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ بھی اٹھا سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ نور خان ایئربیس پر طیاروں کی اچانک آمد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

  • اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    پاکستان میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بات چیت کا یہ نیا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور بعض نکات پر شدید تناؤ بھی دیکھا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دو مرحلے ہو چکے ہیں، دوسرے مرحلے میں امریکا ایران آمنے سامنے تھے اور پاکستانی حکام بھی شریک تھے، پاکستانی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران “تبدیل ہوتے مزاج” اور “درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ” دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

    بات چیت میں سب سے اہم اور حساس معاملہ آبنائے ہرمز کا ہے، جس پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی، کنٹرول اور خطے میں اس کے اثرات مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنے ہوئے ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دور مذاکرات ایک ممکنہ “آخری موقع” سمجھا جا رہا ہے تاکہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچ سکیں۔ تسنیم کے مطابق امریکی رضامندی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بات چیت کسی ابتدائی معاہدے یا فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی وفد اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ وہ اپنی “فوجی کامیابیوں” اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ تہران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایرانی عوام کے حقوق اور خطے میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والےمذاکرات کا مجموعی لہجہ اور نتائج اب تک بڑی حد تک مثبت رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تعطل برقرار ہے، اس سے قبل ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکا نے آبی گزر گاہ بارے ناقابل قبول مطالبات کئے ہیں، ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اسی نوعیت کے اختلافات کی اطلاع دی ہے،

    یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر رابطے جاری ہیں، جبکہ مذاکراتی ماحول کو محتاط اور حساس قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن فی الحال کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹے اس پورے عمل کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

    اسلام آباد امن مذاکرات میں ایرانی کو نفسیاتی برتری ملی ہے کوشش کے باوجود بات چیت دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے ، امریکی نائب صدر نتیجہ لیکر واپس جانے کے خواہشمند تھے ، اب اور کچھ ملکوں نے ایرانی صدر سے بات چیت کی ہے تاکہ معاملہ کس نتیجہ پرپہنچے ۔جے ڈی وینس امریکی مفاد میں کوئی معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ مڈل ٹرم الیکشن میں ووٹر کو کچھ دکھا سکیں دوسراوہ اگلے انتخابات میں صدارتی امیدوار بھی بننا چاہتے ہیں لیکن مذاکرات کو طول دیکر زیادہ سے زیادہ معاملات اپنے حق میں لانا چاہتا ہے کیونکہ یہ اس کے پاس بھی آخری موقع ہے

  • اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، پاکستان مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے شریک ہے۔

    مذاکرات سے قبل ایران اور امریکا کے وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امن کی صورتِ حال پر غور کیا گیا،1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے مہمانوں کا دارالحکومت میں خیر مقدم کیا ،امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوران فضا میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں بعض اوقات ماحول کشیدہ ہوا اور بعض لمحات میں نرمی بھی دیکھی گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں وفود کے رویوں میں "موڈ سوئنگز” دیکھنے میں آئیں اور ملاقات کے دوران درجہ حرارت یعنی ماحول کبھی گرم اور کبھی سرد رہا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت آسان مرحلے سے نہیں گزر رہی اور کئی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا گیا۔مذاکراتی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو کرتی رہیں، جس کے بعد وقفہ لیا گیا،

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے اہم نکات میں شامل ہے، مگر یہی معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پر آدھی رات گزرنے کے باوجود کوئی باضابطہ اعلامیہ، پریس بریفنگ یا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سفارتی حلقوں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک جو محدود معلومات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ اور تہران کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں سے موصول ہوئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز اور دیگر کئی معاملات پر ایسے مطالبات پیش کیے ہیں جنہیں ایران نے "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران "ضرورت سے زیادہ مطالبات” پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد، پاکستانی حکام اور میزبان انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں موجود صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بھی ابھی تک کسی بریفنگ کا انتظار ہے۔

    یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تناؤ کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، لیکن کسی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ خاموش رات کسی بڑے اعلان پر ختم ہوگی یا نہیں۔