Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ اہم مذاکرات سے قبل سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے لیے پرواز کے دوران ایک جذباتی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے لکھا کہ "طیارے میں یہ میرے احباب ہیں”۔ شیئر کی گئی تصویر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر نشستوں پر پھولوں کے ساتھ رکھی گئی تھیں، جبکہ ان کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔ ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق ان حملوں میں 277 بچے اور 67 اساتذہ شہید ہوئے۔

    ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران خیر سگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات کے لیے آیا ہے تاہم امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ نکات ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی سے متعلق وعدہ پورا کیا جائے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم بھیجی ہے جس میں جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اگر ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو امریکا قبول کر لیتا ہے تو آج دوپہر امریکی حکام کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور قانونی کمیٹیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ وفد میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل احمدیان اور قانونی کمیٹی کی سربراہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔مزید برآں وفد کے ہمراہ 26 رکنی ٹیکنیکل ٹیم، میڈیا نمائندگان، مترجمین، سیکیورٹی اور پروٹوکول اسٹاف بھی موجود ہے، جو اس حساس سفارتی عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق سعودی وزیر خزانہ ایک روزہ دورے پر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے اور اعلیٰ سطحی بات چیت میں شرکت کی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان سے محبت کو سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی معاشی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کے مطابق اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

    اعلامیے کے مطابق سعودی وفد نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے اختتام پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ہر سطح پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاک سعودی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور مستقبل میں یہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،دفتر خارجہ کے مطابق وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی استقبال میں شریک تھے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات آگے بڑھائیں گے، پاکستان نےتنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسلام آباد میں تاریخی امن مذاکرات، پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز میں

    اسلام آباد میں تاریخی امن مذاکرات، پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز میں

    اسلام آباد کی سڑکیں اچانک دو روزہ تعطیل کے اعلان کے بعد سنسان ہو گئی ہیں، جہاں سخت سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے اہم علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے اہم جنگ بندی مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ طے پانے کی امید کی جا رہی ہے۔

    پاکستان، جو ماضی میں دہشت گردی اور معاشی مشکلات کے حوالے سے خبروں میں رہتا تھا، اب ایک اہم عالمی ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد پہلی بار واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مقصد کئی ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔یہ پیش رفت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے برعکس، جب انہوں نے پاکستان پر “جھوٹ اور دھوکے” کے الزامات عائد کیے تھے۔ اب صورتحال بدل چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    مذاکرات میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے۔ جے ڈی وینس 2011 کے بعد پاکستان آنے والے اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار ہوں گے، جو ان مذاکرات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے جغرافیائی اہمیت، متوازن خارجہ پالیسی اور بدلتے علاقائی اتحاد کارفرما ہیں۔ ایشیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر فروا عامر کے مطابق، “پاکستان نے آخری وقت میں جو سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، اس سے اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک فعال عالمی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔”ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے، خاص طور پر 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد، جب وہ ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں جو بائیڈن کے دور میں بھی تعلقات میں سرد مہری رہی۔تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے بلکہ معدنی وسائل، خاص طور پر نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا۔ ساتھ ہی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اختیار کی، جسے واشنگٹن میں سراہا گیا۔

    پاکستان کے لیے یہ امن مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی نے خلیج میں توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ اس کے مفاد میں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس سارے عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھی۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی روابط بہتر ہوئے ہیں۔ یہی متوازن حکمت عملی اسے ایک مؤثر ثالث بناتی ہے۔مزید برآں، پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ سفارتی رابطے نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دی، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔

    اسلام آباد میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، اور شہر کے معروف سرینا ہوٹل کو مکمل طور پر مذاکرات کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ ہوٹل کے مہمانوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کی جا سکے۔اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر صورتحال اب بھی نازک ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے، جس سے مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی کوشش ہے کہ یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہو اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے ایک نہایت اہم وقت پر خود کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر منوا لیا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوں گے۔

  • امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی، ایرانی وفد کی آمد

    امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی، ایرانی وفد کی آمد

    پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ایران کا اعلیٰ سطحی مذاکراتی وفد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا، جہاں ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایرانی مہمانوں کو بھرپور پروٹوکول فراہم کیا گیا، جسے ان کے شایانِ شان قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی وفد کی آمد پر خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستانی قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت حکمت، تفہیم اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے گی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے نمائندے پاکستان کی مخلصانہ دعوت پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور آج دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اب جنگ نہیں بلکہ امن کی بات ہو رہی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نازک صورتحال میں پاکستانی قیادت نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو فریقین کل تک میدان جنگ میں آمنے سامنے تھے، آج مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں، جو پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا ثبوت ہے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد اب سب سے بڑا چیلنج مستقل اور دیرپا امن کا قیام ہے، جو ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے کی کامیابی خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی۔وزیراعظم نے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔آخر میں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو بے شمار معصوم جانیں بچائی جا سکیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

  • گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان پولیس پر ملزم اویس عرف ملنگی کی مبینہ گرفتاری اور بعد ازاں لاش ملنے کے الزامات کی وائرل ویڈیو کا معاملہ ۔ پولیس ذرائع نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو حقائق مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق اویس عرف ملنگی کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک ضلعی ہسٹری شیٹر تھا، جس کے خلاف 2009 سے 2026 تک تھانہ گوجرخان، مندرہ، کلر سیداں، تھانہ ریس کورس، تھانہ سول لائن، تھانہ ایئرپورٹ، تھانہ رتا امرال، تھانہ نیو ٹاؤن، اور راولپنڈی کے دیگر تھانوں میں سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ ملزم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں بیواؤں کی امدادی رقوم لوٹنے کی حالیہ واردات میں گوجرخان پولیس کو مطلوب تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہمراہی ملزم حیدر جو فی الوقت اڈیالہ جیل میں ہے اس نے بھی دورانِ تفتیش اویس ملنگی کے اس واردات میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ہوشربا انکشافات کیے تھے۔ پولیس ذرائع نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گوجرخان پولیس نے ملزم کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی اس کے ٹھکانے پر کوئی ریڈ کیا، الزامات کا مقصد محض پولیس پر دباؤ ڈالنا اور سنگین کیس کا رخ تبدیل کرنا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزم اویس ملنگی کی اپنی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں وہ نہ صرف شہریوں کے نام لے کر انہیں ہراساں کر رہا ہے بلکہ فخریہ طور پر اعتراف کر رہا ہے کہ اس پر اقدامِ قتل، اغوا اور مخالفین کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ تشدد کرنے کے متعدد پرچے درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ یافتہ مجرم کی لاش دوسرے ضلع سے ملنے کے واقعے کو پولیس کے کھاتے میں ڈالنا قانون سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہے معاملے کی شفاف تحقیقات جاری ہیں۔

  • بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں پولیس ٹیم نے سرور شہید کالج کے قریب بینظیر انکم سپورٹ آفس کے باہر دن دیہاڑے ہونے والی سنگین ڈکیتی کی واردات کی گھتیاں سلجھا دیں۔ اے ایس آئی ثاقب اور ان کی ٹیم نے جدید سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے محض چند روز میں اصل ملزمان کا گھیرا تنگ کیا اور شرقی علاقے کمانیدریال سے حیدر نامی ملزم کو دبوچ لیا۔

    دورانِ تفتیش گرفتار ملزم حیدر نے ہوشربا سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جس کے بعد اس کے ہمراہی ساتھیوں اویس اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جال بچھا دیا ہے۔ ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم کے انکشافات کی روشنی میں مزید سنسنی خیز گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی ضلعی سطح پر سنگین جرائم میں ریکارڈ یافتہ ہیں اور ضلع راولپنڈی کے متعدد تھانوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ بیوہ اور بے سہارا خواتین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے اس گروہ کی گرفتاری پر عوامی سماجی حلقوں نے اے ایس پی سید دانیال حسن اور ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ اور ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان درندہ صفت عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی جسارت کی ہمت نہ ہو سکے۔ ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے تحرک جاری ہے۔

  • پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام امریکا،ایران جنگ بندی کروانے میں پاکستان کے کردار پر یوم تشکر منایا گیا، لاہور سمیت متعدد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، خطبات جمعہ میں علماء کرام نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کو موضوع بنایا، جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تشکر کے سلسلہ میں لاہور، قصور،ننکانہ،بہاولنگر،ڈیرہ اسماعیل خان ،پاکپتن،موڑ کھنڈا،چیچہ وطنی،لالیاں ،چنیوٹ سمیت دیگر شہروں میں ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے،ریلیوں کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے رہے، شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور میں مال روڈ پر یوم تشکر کی ریلی نکالی گئی،ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری لاہور چوہدری حمید الحسن گجر نے کی، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شاندار سفارتکاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے،پاکستان کی اس شاندار سفارتی کامیابی نے پوری قوم کے دلوں کو سکون اور فخر سے بھر دیا ہے۔ ہم ریاستِ پاکستان، حکومت اور پاک فوج کو اس عظیم کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف کاکہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت عطا فرمائی ہے،حالات کو دیکھیں،اس خطے میں سب سے محفوظ ملک آج پاکستان ہے، اللہ نے پاکستان کو دفاع عطا کیا،یہ اللہ کا احسان ہے ،مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں، پاکستان آج دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، اسلام آباد کی طرف سب کی نظریں ہیں، پاکستان پر معاشی پابندیاں لگوانے ،تنہا کرنے والوں کے خواب ٹوٹ چکے، مرکزی مسلم لیگ قصور کی جانب سے ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری رانا محمد اشفاق نے کی، مرکزی مسلم لیگ پاکپتن کے زیر اہتمام ریلی کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکپتن نے کی،مرکزِ شہداء کالج روڈ سے کمرشل کالج چوک بہاولنگر تک اظہارِ تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کی قیادت مرکزی مسلم لیگ بہاولنگ کے صدر چوہدری کاشف جاوید نے کی، مرکزی مسلم لیگ پی پی 135 موڑ کھنڈا کے زیر اہتمام تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی میں علاقے بھر سے مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اظہار تشکر ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ 10 مئی کے بعدپاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی ہے ،ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، تاہم پاکستان نے اس صورتحال میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا، پاکستان کی بروقت سفارتی کوششوں نے خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔

  • "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ،مسلم ویمن لیگ کی کچن گارڈننگ مہم کا آغاز

    "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ،مسلم ویمن لیگ کی کچن گارڈننگ مہم کا آغاز

    مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خواتین، مسلم ویمن لیگ نے "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ” کے عنوان سے ملک گیر مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت خواتین کو کچن گارڈننگ کی جانب راغب کیا جا رہا ہے، مہم کے دوران گھروں میں پودے اور سبزیاں اگانے والی خواتین میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے۔

    مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید اس مہم کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے لاہور میں مہم کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ خواتین اپنے گھروں، چھتوں، صحنوں اور گملوں میں روزمرہ استعمال کی سبزیاں جیسے دھنیا، پودینہ، ٹماٹر اور مرچ خود اگائیں اور "اپنی ضرورت، اپنے ہاتھ” کے اصول کو فروغ دیں، اس مہم کے اہم مقاصد میں خواتین کو معاشی خود کفالت کی طرف لانا، گھریلو سطح پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا، ہر گھر میں صحت مند اور خالص غذا کو فروغ دینا، خواتین میں عملی ہنر اور خود اعتمادی پیدا کرنا اور شجرکاری کے ذریعے ماحولیاتی بہتری میں کردار ادا کرنا شامل ہے، مہم کے تحت کچن گارڈننگ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ خواتین کو بیج اور پودے بھی فراہم کیے جائیں گے، سوشل میڈیا کے ذریعے رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور یونین کونسل سطح پر "سبز گھر” مہم بھی چلائی جائے گی،بہترین کارکردگی دکھانے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات دیے جائیں گے

  • اسلام آباد مذاکرات،پاکستان کا غیر جانبدار اور سنجیدہ مؤقف،میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار

    اسلام آباد مذاکرات،پاکستان کا غیر جانبدار اور سنجیدہ مؤقف،میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار

    اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی مذاکرات کے حوالے سے پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایماندار اور مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داری فریقین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کم از کم مشترکہ نکتے پر اتفاق کریں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیچیدہ، حساس اور دہائیوں پر محیط مسائل کسی ایک رات میں حل نہیں ہو سکتے، اس لیے مذاکراتی عمل کو صبر اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ملک ہرگز یہ تاثر نہیں چاہتا کہ اگر مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہو تو اس کی ذمہ داری کسی حد تک پاکستان پر عائد کی جائے۔ اس لیے پاکستان نے خود کو ایک سہولت کار تک محدود رکھا ہے اور تمام فریقین کو تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی میڈیا نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے غیر جانبدار، محتاط اور غیر قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے، جسے حکومتی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ عام حالات میں پاکستانی میڈیا نسبتاً زیادہ اظہارِ خیال کرتا ہے، تاہم اس موقع پر میزبان اور ثالث ہونے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا ہے۔

    پاکستان نے اس موقع پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسی واضح، مستقل اور دستاویزی شکل میں موجود ہے، جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت شامل ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا و ایران کے مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتے ہیں، تاہم کامیابی کا دارومدار براہ راست متعلقہ فریقین کی سنجیدگی اور لچک پر ہوگا۔