Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوں گے۔

    وزیر خزانہ ان اجلاسوں میں شرکت سے قبل بوسٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خزانہ کانفرنس میں شریک ماہرین، پالیسی سازوں اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، اصلاحاتی اقدامات اور ترقی کے امکانات پر اظہار خیال کریں گے۔
    دورے کے دوران وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں سے وسیع پیمانے پر ملاقاتیں کریں گے۔اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) انا بیردے، آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ اور میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر سوتومو یاماموتو شامل ہیں۔

    وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد اظہور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکہ کے دورے کے دوران وزیر خزانہ امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے سینئر حکام کے علاوہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک اور جے پی مورگن جیسے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اور پالیسی کے شعبوں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔

    ان مصروفیات کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ مختلف ممالک کے ہم منصب رہنماؤں اور اعلیٰ قیادت سے باہمی ملاقات کریں گے، جن میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ کے قائدین شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ دیگر عالمی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں آئی ایف اے ڈی، گیٹس فاؤنڈیشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، جائیکا اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک شامل ہیں۔

    دورے کے دوران وزیر خزانہ جی-24 اجلاس، موسمیاتی اقدام کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد سمیت اہم عالمی فورمز میں شرکت کریں گے۔ وہ مختلف اعلیٰ سطحی مکالموں اور راؤنڈ ٹیبل اجلاسوں میں بھی حصہ لیں گے، جہاں عالمی معیشت، مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی فنانس اور ترقیاتی امور پر گفتگو ہو گی۔دورے کا ایک اہم حصہ ان کی ورلڈ بینک کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس میں شرکت ہے جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے پاکستان میں سماجی تحفظ کے ڈیجیٹل نظام کے تجربات اور کامیابیاں پیش کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ وزیر خزانہ سرمایہ کاری فورمز اور گول میز اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں جیفریز، جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیر اہتمام نشستیں شامل ہیں، جہاں وہ پاکستان کے معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے۔وزیر خزانہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر سے متعلق ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقد کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں جیسے فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔
    وزیر خزانہ اٹلانٹک کونسل سمیت معروف تھنک ٹینکس سے خطاب کریں گے اور پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالیں گے۔اس کے علاوہ وہ یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے ارکان اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اپنے دورے کے دوران وزیر خزانہ 50 سے زائد اہم ملاقاتوں، اجلاسوں اور مکالموں میں شرکت کریں گے، جو عالمی اقتصادی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
    یہ دورہ پاکستان کے معاشی استحکام، اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے.

  • اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد: ایک سینئر پاکستانی ذریعے نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو جنگ کے بجائے سفارتی حل کی جانب لانے میں ان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس ان مذاکراتی کوششوں میں کلیدی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد میں آئندہ چند گھنٹوں میں اہم مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔امریکی نائب صدر وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل سے واقف حکام کا اندازہ ہے کہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے چند روز درکار ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ وہ امریکی نائب صدر کو مزید کچھ عرصہ پاکستان میں قیام پر آمادہ کر سکیں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد خطے اور عالمی امن کے لیے ایک اہم سفارتی مرکز بن چکا ہے، جہاں دونوں فریقوں کو ایک میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان اس حساس مرحلے پر ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔ تمام نظریں اب پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    پاکستان کے دارالحکومت میں ہفتے کے روز امریکی نائب صدر کی آمد پر اعلیٰ سطحی استقبال دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ آمد کے موقع پر جاری مناظر میں دیکھا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔

    جنرل عاصم منیر اس وقت پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے روابط میں اضافہ ہوا ہے اور دفاعی، سفارتی و علاقائی معاملات پر مشاورت کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے امریکی قیادت کے ساتھ اپنے روابط اور ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے حالیہ جنگ بندی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ وہ آئندہ بات چیت میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے، جہاں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام پر غور کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل کہہ چکے ہیں،

    ایئرپورٹ پر استقبال کے دوران جنرل عاصم منیر سیاہ سوٹ اور سبز ٹائی میں ملبوس تھے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی وفد کے استقبال کے وقت وہ فوجی وردی میں نظر آئے تھے۔ اس تبدیلی کو سفارتی آداب اور مختلف مواقع کی مناسبت سے دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی و سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ثالثی اور امن کوششوں کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اور عالمی طاقتوں کے اعلیٰ وفود کی آمد اس بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔

  • آرٹیمس 2 مشن کامیابی سے مکمل، چاروں خلا باز بحرالکاہل میں بحفاظت واپس اتر گئے

    آرٹیمس 2 مشن کامیابی سے مکمل، چاروں خلا باز بحرالکاہل میں بحفاظت واپس اتر گئے

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے تاریخی آرٹیمس 2 مشن نے کامیابی کے ساتھ اپنا سفر مکمل کر لیا، جب مشن کے چاروں خلا باز جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں بحفاظت اتر گئے۔ یہ مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ نے تقریباً 10 روزہ مشن کے دوران لگ بھگ 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر طے کیا، چاند کے گرد چکر لگایا اور پھر کامیابی سے زمین پر واپس پہنچا۔ یہ 50 برس بعد پہلا موقع ہے جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر نکل کر دوبارہ چاند کے قریب پہنچے ہیں،اس سے قبل آخری بار دسمبر 1972 میں اپولو 17 مشن کے دوران انسان چاند کے قریب گئے تھے، جبکہ اب آرٹیمس پروگرام نے نئی نسل کی قمری مہمات کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ کی جانب سفر کی تیاری کا اہم مرحلہ ہے۔

    مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے بحفاظت واپسی کے بعد کہا کہ “ہم بالکل ٹھیک ہیں”، اور اس تاریخی سفر کو اپنی زندگی کا یادگار ترین تجربہ قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اورین اسپیس کرافٹ میں چار خلا باز سوار تھے، جنہوں نے اپولو 13 کے 1970 میں قائم کردہ انسانی خلائی سفر کے فاصلے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اس دوران انہوں نے چاند کے اُس حصے کا بھی مشاہدہ کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔آرٹیمس 2 کی کامیابی کے بعد اب دنیا کی نظریں آرٹیمس 3 مشن پر مرکوز ہیں، جس کے تحت آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔

  • پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اسلام آباد: ایران کے بعد امریکا کا اعلیٰ سطحی وفد بھی اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے، جسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی توجہ کا مرکز بننے والے ان مذاکرات سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو اہم سفارتی اور تزویراتی معاملات پر مشاورت کریں گے۔امریکی وفد کے نور خان ایئربیس پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام اور سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات، اعتماد سازی اور دیرپا حل کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا داعی رہا ہے۔استقبالی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکی وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق ایک ہی پلیٹ فارم پر ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے عالمی کردار، اعتماد اور ثالثی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کے دوران سیزفائر، علاقائی کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی کے اقدامات اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    ممتاز عالمی دن مفتی تقی عثمانی نے کہا ہےکہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کی وجہ سےدنیا بھر میں پاکستان کا وقار غیرمعمولی طورپر بلند ہوا،انہوں نے کہا کہ آج جو مذاکرات ہونے والے ہیں ان کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے، وزیراعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی اپیل کی ہے، اس لیے ہم سب کو دعا میں مصروف رہناچاہیے۔

  • تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    امریکا،ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔
    امریکی نائب صدر کی آمد کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی “اسلام آباد مذاکرات” کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر کا طیارہ جیسے ہی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، تو ان کے استقبال کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیرموجود تھے،امریکی سفیر بھی اس موقع پر موجود تھیں،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے

    امریکی وفد کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ پاک فضائیہ کے جدید جیٹ طیاروں نے امریکی نائب صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی حفاظتی حصار میں لے لیا، جو اس دورے کی حساسیت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    پاکستان، امریکی نائب صدر اور ان کے وفد کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ مذاکرات خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی اقتصادی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔ پاکستان ایک “ایماندار ثالث” کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی مشترکہ نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔“اسلام آباد مذاکرات” کو عالمی سطح پر بھی غیر معمولی توجہ حاصل ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں پائیدار امن اور ایک نئے سفارتی دور کی بنیاد رکھے گی۔پاکستان نے ایک بار پھر اپنی روایتی مہمان نوازی اور امن کے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

    پاکستان میں ایران امریکا مذاکرات کے لیے آنے والے امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے علاوہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں،

    پاکستان روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین ہے کہ مذاکرات مثبت ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ایران نیک نیتی دکھائے تو امریکا بھی تیار ہے، ایران نے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے قبول نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔

  • ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ اہم مذاکرات سے قبل سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے لیے پرواز کے دوران ایک جذباتی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے لکھا کہ "طیارے میں یہ میرے احباب ہیں”۔ شیئر کی گئی تصویر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر نشستوں پر پھولوں کے ساتھ رکھی گئی تھیں، جبکہ ان کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔ ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق ان حملوں میں 277 بچے اور 67 اساتذہ شہید ہوئے۔

    ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران خیر سگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات کے لیے آیا ہے تاہم امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ نکات ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی سے متعلق وعدہ پورا کیا جائے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم بھیجی ہے جس میں جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اگر ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو امریکا قبول کر لیتا ہے تو آج دوپہر امریکی حکام کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور قانونی کمیٹیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ وفد میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل احمدیان اور قانونی کمیٹی کی سربراہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔مزید برآں وفد کے ہمراہ 26 رکنی ٹیکنیکل ٹیم، میڈیا نمائندگان، مترجمین، سیکیورٹی اور پروٹوکول اسٹاف بھی موجود ہے، جو اس حساس سفارتی عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق سعودی وزیر خزانہ ایک روزہ دورے پر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے اور اعلیٰ سطحی بات چیت میں شرکت کی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان سے محبت کو سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی معاشی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کے مطابق اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

    اعلامیے کے مطابق سعودی وفد نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے اختتام پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ہر سطح پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاک سعودی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور مستقبل میں یہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،دفتر خارجہ کے مطابق وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی استقبال میں شریک تھے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات آگے بڑھائیں گے، پاکستان نےتنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔