Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی بروقت ناکارہ بنا دی

    کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی بروقت ناکارہ بنا دی

    کوہاٹ: شہر ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بارودی مواد سے بھری ایک پک اپ گاڑی کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا۔ بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ممکنہ دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق حساس اداروں کو مشکوک گاڑی کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع بھر کی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں بھی قائم کر دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پک اپ گاڑی میں بڑی مقدار میں بارودی مواد نصب تھا، جسے کسی حساس مقام پر استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر طلب کیا گیا، جنہوں نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں گاڑی میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنایا۔ اس دوران علاقے کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    سیکیورٹی اہلکاروں نے نہایت احتیاط اور مستعدی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر قرار دے دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور بارودی مواد نصب کرنے میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی کی بدولت ایک بڑا سانحہ ٹل گیا، جس سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔

  • بنوں میں صحافی کے گھر پر فائرنگ، چند روز قبل دھمکیاں ملنے کا انکشاف

    بنوں میں صحافی کے گھر پر فائرنگ، چند روز قبل دھمکیاں ملنے کا انکشاف

    بنوں: ضلع بنوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، جہاں سابق صدر بنوں پریس کلب اور اے آر وائی نیوز کے نمائندے احسان خٹک کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے
    ۔
    تفصیلات کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے رات کی تاریکی میں احسان خٹک کے گھر کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گھر کی دیواروں اور دروازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ذرائع کے مطابق احسان خٹک اور ایک اور مقامی صحافی کو چند روز قبل ایک ٹھیکیدار کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ صحافیوں نے مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال اور غیر معیاری سولر لائٹس و کھمبوں کی تنصیب سے متعلق خبر نشر کی تھی، جس کے بعد انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    احسان خٹک کی جانب سے تھانہ صدر پولیس کو پہلے بھی نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کے خلاف درخواست دی جا چکی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں افغانستان کے فون نمبرز سے بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور ناقص کام کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادی صحافت پر حملہ ہے، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

  • بنگلہ دیش انتخابات میں کامیابی پر صدر مملکت،وزیراعظم شہباز کی طارق رحمان کو مبارکباد

    بنگلہ دیش انتخابات میں کامیابی پر صدر مملکت،وزیراعظم شہباز کی طارق رحمان کو مبارکباد

    صدرِ مملکت آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن کو بنگلادیش کے عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے بنگلادیش کے عوام کو 299 نشستوں پر انتخابات کے کامیاب انعقاد پر بھی مبارکباد دی ہے،اُنہوں نے کہا ہے کہ نئی بنگلادیشی حکومت کے ساتھ تجارت، دفاع، ثقافت اور علاقائی فورمز میں تعاون کےخواہاں ہے، بنگلادیش میں انتخابات جنوبی ایشیاء کے لیے ماضی کے مراحل سے آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے، ڈھاکا کا نیا سیاسی ماحول خطے میں متوازن، آزاد اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو فروغ دے گا،
    اُنہوں نے بنگلادیش کے مسلسل استحکام، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتخابات میں کامیابی پر طارق رحمٰن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلادیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں،اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان بہتر تعلقات کے ثمرات عوام کو حاصل ہوں گے،دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف پر کام کریں گے۔

  • ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق سیمینار

    ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق سیمینار

    ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق کیچ سیمینار سوئم کا انعقاد کیا گیا

    سیمینار کا مقصد جنوبی بلوچستان میں روزگار کی کمی کے تاثر کو دور کرنا اور کاروباری مواقع اجاگر کرنا تھا،سیمینار میں مقامی سیاسی و سماجی شخصیات، سول و سیکیورٹی حکام، اساتذہ، ڈاکٹرز، میڈیا نمائندگان اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سیمینار میں مقررین نے اظہارِ خیال کیا کہ خطے میں کاروباری مواقع موجود ہیں، نوجوان ہنر سیکھ کر خوداعتمادی کے ساتھ آگے بڑھیں،جنوبی بلوچستان میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ضرورت صرف مؤثر رہنمائی اور خوداعتمادی کی ہے

    روایتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں دستیاب مواقعوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی،کامیاب مقامی کاروباری شخصیات کی جدوجہد نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال بنی،آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے تعلیم، ہنر، محنت اور مستقل مزاجی پر زور دیا،اختتامی سیشن میں سوال و جواب کے دوران نوجوانوں کی پُراعتماد شرکت کو سراہا گیا

  • بنگلہ دیش انتخابات، بی این پی اتحاد جیت گیا،جماعت اسلامی کا دھاندلی کا الزام

    بنگلہ دیش انتخابات، بی این پی اتحاد جیت گیا،جماعت اسلامی کا دھاندلی کا الزام

    بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے میدان مار لیا۔

    بنگلا دیش میں عام انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کی تحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشتیں جیت لیں،غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 151 نشستیں جیت چکی ہے، طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے،جماعت اسلامی اور اتحادیوں کو 70 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، جن کےساتھ مل کر تحریک چلائی ان کےساتھ مل کر ملک چلائیں گے، طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔

    ادھر جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے الیکشن کمیشن پر چند حلقوں میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دیدی،شفیق الرحمان نے کہا کہ وہ سرکاری نتائج کے بعد ردعمل دیں گے اور یقین دلاتے ہیں کہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے، تعمیری اور عوام کے مفاد میں سیاست کریں گے۔

    بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔

  • سید زعیم حسین قادری چل بسے، اناللہ وانا الیہ راجعون

    سید زعیم حسین قادری چل بسے، اناللہ وانا الیہ راجعون

    سابق لیگی رہنما اور سابق صوبائی وزیر سید زعیم حسین قادری انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور لاہور کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اہل خانہ کے مطابق ان کا انتقال ڈیفنس کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

    مرحوم کا تعلق لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ سے تھا اور وہ طویل عرصے تک سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔سید زعیم حسین قادری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا اور پنجاب حکومت میں صوبائی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ پارٹی کے ترجمان بھی رہ چکے تھے اور سیاسی امور پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق زعیم قادری ایک متحرک اور بے باک رہنما تھے جنہوں نے مختلف ادوار میں پارٹی پالیسی کے دفاع میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کی خبر منظر عام پر آتے ہی سیاسی و صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔سینئر صحافی و اینکر پرسن اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے زعیم حسین قادری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد از نماز مغرب ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔زعیم حسین قادری کی وفات پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ مرحوم کو ان کی سیاسی وابستگی، جرات مندانہ مؤقف اور عوامی روابط کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • فوجی فرٹیلائزر کمپنی پی آئی اے میں بڑی سٹیک ہولڈر بن گئی

    فوجی فرٹیلائزر کمپنی پی آئی اے میں بڑی سٹیک ہولڈر بن گئی

    فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد اس نے ایک تاریخی 135 ارب روپے کے نجکاری معاہدے کے تحت P (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔

    یہ بڑی مالیاتی ڈیل پاکستان میں نجکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ ایف ایف سی کی مضبوط مالی بنیاد اور صنعتی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کنسورشیم نے پی آئی اے کی تنظیمِ نو، آپریشنز میں بہتری، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ادارے کی مسابقتی حیثیت بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔

    حکومت اس معاہدے کو قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی طویل مدتی بحالی اور استحکام کے لیے مؤثر عمل درآمد کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

  • یو اے ای کی پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع

    یو اے ای کی پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع

    متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں دو ماہ کی مختصر مدت کے لیے توسیع (رول اوور) پر اتفاق کر لیا۔

    میڈیارپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای نے 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کے لیے اس رقم کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کیا،اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب امارات نے یہ مختصر مدتی توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی ہے، متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری کسی بھی وقت موصول ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تیسرے جائزہ مذاکرات سے امارات کے اس اقدام کو اہم قراردیاجارہاہے، یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں محض چار دن باقی تھے۔متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسلام آباد دوبارہ طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطہ کرے گا۔

    یاد رہے کہ جنوری میں بھی یو اے ای نے رقم کی میعاد ختم ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی جبکہ ایک ارب کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہوگی۔ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور وہ اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ رول اوور کی مدت کا تعین کرنا قرض دینے والے کا اختیار ہوتا ہے، نائب وزیر اعظم کی کوششوں سے رول اوور یقینی ہو چکا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے قائمہ کمیٹی خزانہ میں دیے گئے بیانات کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کوئی خلا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔

  • کالا جادو،نجومی کے بہکاوے پر بیٹی نے ماں کو قتل کردیا

    کالا جادو،نجومی کے بہکاوے پر بیٹی نے ماں کو قتل کردیا

    کرناٹک کے ضلع تماکورو میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 33 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر نجومی کے بہکاوے میں آکر اپنی 55 سالہ والدہ کو قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت پشپاوَتی (مقامی طور پر پُپّاوتی) کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ملزمہ اس کی بیٹی سچترا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق سچترا اپنے شوہر کے ساتھ تماکورو شہر میں رہتی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل اس کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ والد کی وفات کے بعد سچترا نے ایک نجومی سے رابطہ کیا۔ مبینہ طور پر نجومی نے اسے بتایا کہ اس کی ماں نے کالے جادو کے ذریعے اس کے والد کی جان لی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ نجومی کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے سچترا اپنی والدہ کے گھر گئی اور رات کے وقت جب وہ سو رہی تھیں تو تکیے سے ان کا گلا دبا کر انہیں قتل کردیا۔واقعے کے بعد ملزمہ نے قتل کو طبعی موت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس نے جلدی میں آخری رسومات کے انتظامات بھی شروع کردیئے تاہم گاؤں کے کچھ افراد کو حالات مشکوک لگے اور انہوں نے موت کی وجوہات پر شبہ ظاہر کیا۔

    دیہاتیوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور آخری رسومات سے قبل ہی کارروائی کرتے ہوئے لاش کو تحویل میں لے لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران سچترا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کرلیا۔کیاتسندرا پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس سچترا کے شوہر سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسے اس منصوبے کے بارے میں کوئی علم تھا یا نہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ نجومی کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • باڑہ بازار میں اے این پی کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی، متعدد کارکن زخمی

    باڑہ بازار میں اے این پی کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی، متعدد کارکن زخمی

    خیبر: ضلع خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی اور تصادم کے نتیجے میں متعدد کارکن زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کر کے شرکاء کو منتشر کردیا۔

    پولیس کے مطابق باڑہ بازار میں اے این پی کے ضلعی صدر کی زیرِ صدارت ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں پارٹی کارکنان اور مقامی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ابتدائی طور پر جلسہ پُرامن انداز میں جاری تھا، تاہم صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب بعض مخالف افراد وہاں پہنچے اور نعرے بازی شروع کردی۔عینی شاہدین کے مطابق نعرے بازی کے بعد دونوں جانب سے تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور تشدد میں بدل گئی۔ اس دوران لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال بھی کیا گیا جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق موقع پر موجود مسلح افراد کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فائرنگ اور حملے کا الزام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
    میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں پر براہِ راست فائرنگ نہایت تشویشناک اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی کارکنوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق نہیں دیا جائے گا تو یہ جمہوری عمل کے لیے خطرناک ہوگا۔

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ باڑہ بازار میں پیش آنے والا واقعہ سیاسی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پُرامن احتجاج کو بھی برداشت نہ کیا جائے اور اختلافِ رائے کے جواب میں تشدد کو اختیار کیا جائے تو اس سے معاشرے میں انتشار کو فروغ ملتا ہے۔تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ایسے واقعات ماضی میں پیش آنے والے 9 مئی اور 26 نومبر جیسے سانحات کے حوالے سے سرکاری بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو کسی بھی حد تک جانے کا خدشہ حقیقی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ ماہرین نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں کیونکہ سیاست میں برداشت کے خاتمے کا نقصان صرف ایک فریق نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔