امریکی ٹیک کمپنی سپر مائیکروکے شریک بانی Yih-Shyan “Wally” Liaw کو امریکی حکام نے مبینہ طور پر 2.5 ارب ڈالر مالیت کے جدید سرورز اور جی پی یوز چین اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 71 سالہ لیاؤ اور ان کے دو ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ منصوبے کے تحت کمپنی کے اے آئی سرورز چین منتقل کیے، جو امریکی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان میں Ruei-Tsang “Steven” Chang شامل ہیں جو تاحال مفرور ہیں، جبکہ تیسرے ملزم Ting-Wei “Willy” Sun کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔استغاثہ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے سرورز چین پہنچائے گئے۔ اس میں ایک جنوب مشرقی ایشیائی کمپنی کو بطور "خریدار” استعمال کیا گیا۔سرورز امریکہ میں تیار کیے جاتے،پھر تائیوان بھیجے جاتے،وہاں سے مذکورہ کمپنی کے نام پر شپمنٹ کی جاتی بعد ازاں پیکجنگ تبدیل کر کے اصل منزل یعنی چین بھیج دیا جاتا
حکام کے مطابق اس پورے عمل کے دوران جعلی دستاویزات اور جھوٹی معلومات فراہم کی گئیں تاکہ کمپنی کے کمپلائنس سسٹم کو دھوکہ دیا جا سکے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گوداموں میں ہزاروں جعلی (ڈمی) سرورز رکھے گئے تاکہ معائنہ کرنے والی ٹیموں کو دھوکہ دیا جا سکے۔کیمرہ فوٹیج میں مبینہ طور پر ملزمان کو ہیئر ڈرائر کی مدد سے سیریل نمبر اسٹیکرز تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
حکام کے مطابق ان سرورز میں موجود جدید Nvidia جی پی یوز اس اسمگلنگ کا اصل مقصد تھے، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔سپر مائیکرو نے وضاحت کی ہے کہ کمپنی خود اس مقدمے میں فریق نہیں ہے۔لیاؤ کو عہدے سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا،چانگ کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا،سن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا،کمپنی نے کہا ہے کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور برآمدی قوانین کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سپر مائیکرو کے شیئرز میں آفٹر آورز ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 12 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔حکام کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک اربوں ڈالر منافع کمانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جبکہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔