Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق جدید تفتیشی ذرائع اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو صدر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، جب کہ اس کے قبضے سے واردات میں لوٹا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈولی کھاتہ پیر ٹول مندر میں 14 جنوری کو چوری کی واردات پیش آئی تھی، جس میں دو ملزمان مندر میں داخل ہوئے اور وہاں سے 5 قیمتی مورتیاں، پیتل اور تانبے کے برتن، زیورات کے ڈبے چرا کر فرار ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ مندر میں موجود چندہ بکس سے تقریباً 75 ہزار روپے نقدی بھی غائب پائی گئی تھی، جس پر مندر انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مندر اور اطراف کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کی بنیاد پر ایک ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو صدر کے علاقے سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چوری شدہ مورتیاں، چاندی، برتن اور نقدی برآمد کرلی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کے مطابق واردات میں ملوث ملزم کا ایک ساتھی تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

  • حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی صنعتی اداروں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

    اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ہارون اختر نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز میں سرمایہ کاری کے لیے صرف روس ہی نہیں بلکہ چار مختلف بین الاقوامی پارٹیز نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن کے ساتھ مشاورت اور ابتدائی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شفافیت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ہارون اختر نے کہا کہ اسٹیل ملز کی بحالی سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق بند پڑے صنعتی یونٹس کو دوبارہ چلانا حکومت کی صنعتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران معاونِ خصوصی نے اعلان کیا کہ حکومت جلد نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کا مقصد ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی آٹو انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ہارون اختر نے مزید بتایا کہ حکومت ویکسین پالیسی اور سولر پالیسی بھی لا رہی ہے، تاکہ صحت اور توانائی کے شعبوں میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کے فروغ سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ صنعتی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیداواری شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اسی سلسلے میں یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ہوم اپلائنسز کی تیاری پاکستان میں ہی کی جائے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور مقامی صنعت کو فروغ ملے۔

  • پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومتی مؤقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کا حوالہ دیا، جو ایک نہایت حساس اور آئینی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں، اس لیے ان کے بیان کو محض ذاتی رائے نہیں بلکہ حکومت کی پالیسی کے طور پر دیکھا جائے گا۔نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ماضی میں کئی تجربات کیے گئے اور ہر تجربے کے نتیجے میں ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض تجربات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، لہٰذا وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اب مزید کسی قسم کے تجربات سے باز رہا جائے اور آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کمزور نہ کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ ہے، جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے۔ اس ترمیم پر سوال اٹھانا دراصل وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کی پیپلز پارٹی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذاتی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، تاہم ایسی آرا کو حکومت کی پالیسی نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ کی مشاورت اور رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم یا اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات انفرادی بیانات سے نہیں بلکہ پارلیمانی عمل کے ذریعے طے پاتے ہیں، اور حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلے کرے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک “ڈھکوسلا” ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کو مزید نچلی سطح، یعنی بلدیاتی اداروں تک منتقل کیا جائے۔

  • خواجہ آصف کو سیالکوٹیوں نے "ماموں” بنا دیا،نقلی پیزا ہٹ برانچ کا افتتاح کروا دیا

    خواجہ آصف کو سیالکوٹیوں نے "ماموں” بنا دیا،نقلی پیزا ہٹ برانچ کا افتتاح کروا دیا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے کنٹونمنٹ علاقے میں ایک پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ کے افتتاح کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ متنازع بن گیا۔پیزا ہٹ کا افتتاح ہوا، وزیر دفاع پہنچے،پھولوں کے ساتھ استقبال،کھانے چلے ،معاملہ اس وقت دلچسپ ہوا جب پیزا ہٹ کی جانب سے کہا گیا ہماری تو سیالکوٹ میں کوئی برانچ ہی نہیں،یہ غیر قانونی ہے

    ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی عالمی فوڈ چین پیزا ہٹ کی مقامی انتظامیہ نے اس برانچ سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔پیزا ہٹ پاکستان کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیالکوٹ کینٹ میں کھولا گیا آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کے نام اور برانڈ کا غیر مجاز اور غلط استعمال کر رہا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس آؤٹ لیٹ کا پیزا ہٹ پاکستان یا اس کی عالمی پیرنٹ کمپنی Yum! Brands سے کوئی تعلق نہیں۔کمپنی کے مطابق یہ نام نہاد آؤٹ لیٹ نہ تو پیزا ہٹ انٹرنیشنل کی مستند ترکیبوں (ریسیپیز) پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی وہاں معیار، کوالٹی کنٹرول، کھانے کے تحفظ (فوڈ سیفٹی) اور آپریشنل معیارات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ پیزا ہٹ پاکستان نے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی آؤٹ لیٹ کو اصل پیزا ہٹ نہ سمجھیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنے ٹریڈ مارک کے غلط استعمال کو روکنے اور فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرا دی ہے، تاکہ صارفین کے اعتماد اور برانڈ کی ساکھ کو نقصان سے بچایا جا سکے۔پیزا ہٹ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں اس کے کل 16 مستند اور قانونی اسٹورز کام کر رہے ہیں، جن میں سے 14 لاہور جبکہ 2 اسلام آباد میں واقع ہیں۔ سیالکوٹ یا کسی دوسرے شہر میں اس کے علاوہ کوئی بھی آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کا مجاز نمائندہ نہیں۔

    واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی برانڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو دھوکے سے بچایا جا سکے۔

  • بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان طویل عرصے سے جن مسائل، شکوک اور ابہامات کا شکار رہا ہے، ان میں سرفہرست مسنگ پرسنز، کمزور گورننس، قانون کی غیر مؤثر عملداری اور ادارہ جاتی خلا شامل رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 22 واں اجلاس ریاستی سنجیدگی، سیاسی اعتماد اور انتظامی جرات کا واضح اظہار بن کر سامنے آیا ہے۔سب سے اہم اور غیر معمولی پیش رفت مسنگ پرسنز کے مسئلے پر مستقل اور قانونی فریم ورک کی منظوری ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جسے برسوں تک سیاسی نعرے، جذباتی تقریریں اور بیرونی پروپیگنڈا تقویت دیتا رہا۔ مگر اس اجلاس میں حکومت نے جذبات کے بجائے قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے امتزاج کے ساتھ ایک واضح راستہ اختیار کیا۔ بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز 2025 کے تحت مشتبہ افراد سے تفتیش مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں ہوگی، اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور غیر قانونی حراست کے الزامات کا راستہ بند کیا جائے گا۔ یہ اقدام دراصل ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بحالی کی کوشش ہے۔

    اسی تناظر میں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم کی منظوری اس امر کی غماز ہے کہ حکومت دہشت گردی کو محض بندوق سے نہیں بلکہ فکر، تحقیق اور بحالی کے ذریعے بھی شکست دینا چاہتی ہے۔ یہ ایک جدید ریاستی سوچ ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انتہاپسندی صرف سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور فکری چیلنج بھی ہے۔کابینہ کی جانب سے وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گواہوں کا خوف رہا ہے۔ اگر مدعی اور گواہ محفوظ نہیں تو عدالتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ اس قانون سازی سے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے مقدمات میں انصاف کی امید کو تقویت ملے گی۔

    انتظامی سطح پر دیکھا جائے تو میرٹ اور ڈیجیٹلائزیشن پر کابینہ کا زور خوش آئند ہے۔ محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے بھرتیوں پر اطمینان اور تمام محکموں میں مرحلہ وار ڈیجیٹل بھرتیوں کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اب سفارش کے نظام سے نکلنے کا عملی ارادہ رکھتی ہے، جو بلوچستان جیسے صوبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔انتظامی اصلاحات کے تحت پشین اور کوہ سلیمان کے نئے ڈویژن، زیارت کو لورالائی کے ساتھ منسلک کرنا اور بلدیاتی سطح پر نئی میونسپل کمیٹیوں کی منظوری عوامی سہولت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی طرف قدم ہے۔ اسی طرح محکمہ مذہبی امور کا خاتمہ اور ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ حکومتی ڈھانچے کو سادہ اور مؤثر بنانے کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    تعلیم کے شعبے میں جعلی ڈگریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، کنٹریکٹ اساتذہ کی اسناد کی تصدیق اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر کی ہدایت اس پیغام کو واضح کرتی ہے کہ علم کے شعبے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قومی نصاب کو 2026-27 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانا اور کوالٹی ٹیچرز کے لیے خصوصی پروگرام بھی دیرپا تعلیمی اصلاحات کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔چائلڈ لیبر کے خلاف 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت پر پابندی ایک ایسا فیصلہ ہے جو بلوچستان کو سماجی انصاف کی سمت میں لے جاتا ہے، جبکہ کوئٹہ میں فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے جیسے اقدامات شہری زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش ہیں۔

    مختصراً، یہ کابینہ اجلاس بیانات سے زیادہ فیصلوں کا اجلاس تھا۔ اصل امتحان اب ان فیصلوں کے مؤثر اور غیر جانبدارانہ نفاذ میں ہے۔ اگر یہ قوانین اور اصلاحات زمینی سطح پر اسی روح کے ساتھ نافذ ہو گئیں جس کا اعلان کیا گیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان واقعی عارضی نعروں سے نکل کر مستقل حل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

  • شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    پی ٹی آئی رہنما شفیع جان سے صحافی نے سوال کیا کہ ن لیگی ایم پی اے نے یہ کہا ہے کہ شفیع جان آپ کے مبینہ طور پر کسی خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں، اس پر کیا کہیں گے، اس پر کسی شخص نے آواز دی کہ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہئے، تاہم شفیع جان نے سوال سنا اوربنا جواب دیئے چل دیئے

    رپورٹر کے سوال کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ہو رہی ہے، ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک واٹس ایپ گروپ میں اس ویڈیو کو لے کے شفیع جان اور گُل چاہت کے مذاق چل رہے ہیں۔مُحبت تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے تو اگر شفیع جان کو بھی کسی خواجہ سرا سے ہے تو اس میں کیا گُناہ ہے؟ ایسا قانون پاس کروائیں کہ دونوں کی شادی ہوجائے

    صحافی رضوان احمد ایکس پر کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں چرس لانے کے سوال کے بعد اڈیالہ کے باہر شفیع جان سے خواجہ سرا گل چاہت کے بارے میں سوال۔ کیا یہ صحافت ہے؟

  • کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    لوئر کرم میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں جاری آپریشن کے دباؤ کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر نے کرم کے راستے سرحد پار فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے،ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر میلا پوسٹ کے قریب دہشتگردوں کی ایک بڑی تشکیل کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران 30 سے زائد دہشتگردوں پر مشتمل گروہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو مؤثر فائرنگ کے ذریعے روکا، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس دوران ہلاک دہشتگردوں میں سے دو لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ایک لاش مکمل طور پر جھلس چکی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی دہشتگرد اندھیرے اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کی یہ تشکیل طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھی اور ان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا رہی تھی۔ تیراہ آپریشن کے باعث دہشتگرد نیٹ ورک بری طرح دباؤ کا شکار ہے اور مختلف علاقوں میں فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے، تاہم فورسز نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف ہونے کے ناطے راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کے کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر یہ مداخلت کیوں؟ کیا وہ ایک ایسے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات بارہا لگ چکے ہیں؟ یا یہ حمایت صرف اس لیے ہے کہ وہ ایک پی ٹی آئی سیاستدان کی بیٹی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے؟ اور اگر نہ قانون بنیاد ہے نہ میرٹ، تو پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ کہیں اس معاملے کو فرقہ وارانہ ہمدردی میں تو نہیں بدلا جا رہا؟

    راجہ ناصر عباس کا منصب انہیں پارلیمانی سیاست تک محدود کرتا ہے، کسی فرد کے زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جب معاملہ ایک ایسی شخصیت سے جڑا ہو جس کا نام بارہا انتشار، تصادم اور ریاستی اداروں کے خلاف زبان کے ساتھ لیا گیا ہو، تو یہ سوال فطری ہے کہ دفاع کس چیز کا ہو رہا ہے؟ اگر یہ موقف صرف اس لیے اپنایا گیا ہے کہ ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، تو پھر میرٹ کہاں کھڑا ہے؟ اور جب قانونی اصول غائب ہوں تو خدشہ یہی ہوتا ہے کہ کہیں معاملہ سیاست کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ رنگ بھی نہ اختیار کر رہا ہو۔

    سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کا استعمال ایک ایسے کیس میں کرنا جس سے کوئی آئینی تعلق نہیں، خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔کیا یہ اقدام ایک ایسے فرد کے لیے ہے جس کا طرزِ عمل مسلسل انتشار اور محاذ آرائی سے جڑا رہا ہے؟ یا یہ حمایت محض اس بنیاد پر ہے کہ وہ پی ٹی آئی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہا؟ اگر معاملہ قانون یا اصول کا نہیں تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا اس کے پیچھے فرقہ وارانہ سیاست کارفرما ہے یا نہیں۔

  • وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح،  ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح، ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    ایمان مزاری کو جہاں ایک طرف انہیں عبوری ریلیف ملا ہے، وہیں عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانونی عمل سے فرار ممکن نہیں ۔ عدالت کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر مقدمے کا سامنا کریں، نہ کہ عدالتوں سے مسلسل بہانے تلاش ہوتے رہیں۔

    ایک اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ اس عمل میں سستی یا عدالتی احکامات کی عدم تعمیل نے مقدمے کو پیچیدہ بنایا ہے، اور اسی لیے عدالت شاید سختی سے یہ پیغام دیتی ہے کہ آئندہ حاضری یقینی بنائی جائے ورنہ حفاظتی ضمانتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مختصر یہ کہ اب مزاری کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر قانونی عمل کو آگے بڑھائیں، کیونکہ عدلیہ ہر صورت قانون کی بالا دستی چاہتی ہے، نہ کہ عدالتی عمل میں بے ترتیبی یا تاخیر۔

    22 اگست سے اب تک اس مقدمے میں جو رعایت، صبر اور التوا ملزمان کو دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام۔

    بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی، اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے’ یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔

    کیس کا بار بار کال ہونا غیر معمولی نہیں، بلکہ اس لیے لازم تھا کیونکہ ملزمان مکمل طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتے تھے۔آٹھ وکالت ناموں کے باوجود ملزم کا خود کراس ایگزیمینیشن کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد دفاع نہیں، کارروائی کو طول دینا تھا۔

    شور شرابہ، بدتمیزی، عدالت سے فرار، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بدسلوکی’ یہ رویہ کسی “سیاسی اختلاف” نہیں بلکہ عدالتی عمل کی صریح تضحیک ہے۔طبیعت کی خرابی کے نام پر بار بار استثنا، بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے، ٹرائل میں دانستہ رکاوٹ ‘ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ دہشتگرد تنظیموں اور کالعدم عناصر کے بیانیے کو amplify کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ یہ رائے نہیں، PECA کے تحت جرم ہے۔

  • راولپنڈی،ملزم 3 سال کی بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار

    راولپنڈی،ملزم 3 سال کی بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار

    راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں ڈکیتی کی ایک نہایت دل دہلا دینے والی واردات پیش آئی ہے، جہاں ایک بے رحم ملزم نے تین سالہ معصوم بچی کو نشانہ بنایا اور اس کے کانوں سے بالیاں نوچ کر موقع سے فرار ہوگیا۔

    واقعہ دھمیال کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزم نے موقع پاکر معصوم بچی کے قریب آکر اچانک اس کے کانوں سے بالیاں نوچ لیں۔ بچی کے چیخنے چلانے پر ملزم گھبراہٹ کے عالم میں تیزی سے فرار ہوگیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں ملزم کو واردات کے بعد گلی سے بھاگتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی اس طرح کی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او راولپنڈی نے پولیس حکام کو ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔