Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔ٹرمپ

    مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی مشن ختم کرنے پر غور، جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہیں، آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اس کی حفاظت خود کرنا ہوگی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا اہم اہداف میں شامل ہے۔ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کمزور کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، امریکا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں آنے دے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا، امریکہ اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا ،جو ممالک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں اس کی حفاظت انھیں خود کرنی ہوگی، ان ممالک کی آبنائے ہرمز میں مدد کریں گے، لیکن اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے‏۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر گزشتہ رات کی گئی پوسٹ کو ماہرین نے ایران جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔امریکی صحافی مارک اسٹون کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ سے پیچھے ہٹنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اس پوسٹ میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے تحفظ کا ذکر تو کیا گیا، تاہم اصل اہم نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق بیان ہے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور سکیورٹی کی ذمہ داری ان ممالک کو اٹھانی چاہیے جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ امریکہ اس میں براہ راست شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد ایسی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی براہ راست عسکری ذمہ داریوں کو کم کرنا چاہتا ہے اور خطے کے ممالک کو زیادہ کردار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

    قبل ازیں امریکہ نے ایرانی تیل پر 30 دنوں کے لیے پابندیاں اٹھا لی ہیں، جس سے پہلے سے سمندر میں موجود تیل کو عالمی منڈیوں میں فروخت اور فراہم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران نے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس اقدام کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنا اور تیل کی مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس مدت کے دوران تقریباً 140 ملین بیرل ایرانی تیل مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ریلیف عارضی ہے اور صرف اس تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ٹرانزٹ میں ہے۔ نئی پیداوار یا نئے سودوں پر اب بھی پابندی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک قلیل مدتی حل ہے، مکمل پالیسی تبدیلی نہیں۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں، بشمول بنجمن نیتن یاہو کے زیرِ اثر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ جنگ عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کاعید پر کرم کا دورہ،پاک فوج کے بہادر جوانوں سےملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کاعید پر کرم کا دورہ،پاک فوج کے بہادر جوانوں سےملاقات

    آرمی چیف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عیدالفطر کے موقع پر کرم کا دورہ کیا اور جوانوں و افسران کے ساتھ عید منائی۔ انہوں نے نمازِ عید ادا کی اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی کے لیے دعا کی۔

    فیلڈ مارشل نے جوانوں کے بلند حوصلے، غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں عید کی مبارکباد دی۔ آپریشن "غضبُ الحق” میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے ان کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے سرگرم دہشتگردوں کو پاکستان کی سلامتی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔فیلڈ مارشل نے کامیابیوں کو شہداء کی عظیم قربانیوں اور افسران و جوانوں کے عزم کا نتیجہ قرار دیا، اور مسلح افواج کے پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیب نطنز پرحملہ

    امریکہ و اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیب نطنز پرحملہ

    امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے، ایران کی جوہری تنصیب نطنز کو نشانہ بنایا گیا

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے آج صبح ایران کی اہم جوہری تنصیب نطنز پر مشترکہ فضائی حملہ کیا۔رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد فوری تحقیقات کی گئیں تاہم کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نطنز کے قریبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔یہ تنصیب ایران کے سب سے بڑے یورینیم افزودگی مراکز میں شمار ہوتی ہے اور ماضی میں بھی متعدد بار حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکہ کا ایک بنیادی مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔واضح رہے کہ نطنز کی یہی تنصیب گزشتہ سال جون میں امریکی آپریشن آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران بھی نشانہ بنی تھی، جس کے نتیجے میں اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔

  • روس ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے،  پیوٹن

    روس ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، پیوٹن

    روسی صدر پیوٹن نے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس مشکل وقت میں تہران کا ایک قابلِ اعتماد اور وفادار شراکت دار ہے۔

    کریملن کے جاری کردہ بیان کے مطابق روسی صدر نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو فارسی نئے سال نوروز کی مبارکباد دی۔ اس موقع پر انہوں نے ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ سخت حالات کا وقار کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔روسی صدر پیوٹن نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر ماسکو تہران کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون مزید مضبوط ہوگا۔دوسری جانب، کریملن نے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس ایران کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری تعاون میں اضافہ کر رہا ہے۔ روسی حکام نے ان رپورٹس کو "غلط معلومات” قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے اس بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیوٹن صورتحال میں مددگار کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے روس کسی حد تک ایران کی مدد کر رہا ہو۔

  • سری نگر : قابض بھارتی انتظامیہ نے جامع مسجد سیل کر کے عید نماز کی اجازت نہ دی

    سری نگر : قابض بھارتی انتظامیہ نے جامع مسجد سیل کر کے عید نماز کی اجازت نہ دی

    بھارت کے غیرقانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے آج مسلسل آٹھویں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں عید نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع جامع مسجد کے دروازے آج علی الصبح بند کر دیے اور مسجد کے اطراف میں بڑی تعداد میں بھارتی فورسز اہلکار تعینات کر دیے۔قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو آج بھی گھر میں نظربند رکھا۔ اُنہیں گزشتہ روز بھی نظربند کر کے نماز جمعہ کیلئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

    میرواعظ عمر فاروق نے ”ایکس” پر ایک بیان میں جامع مسجد کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اس برس بھی مسجد عید نماز کیلئے بند کردی اور مجھے بھی گھر میں نظربند رکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ خوشی کا یہ دن کشمیری مسلمانوں کیلئے ذہنی اذیت اور کرب میں بدل گیا۔میرواعظ نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہماری مساجد اور عیدگاہوں کو تالے لگانے والے ہی سب سے پہلے ہمیں عید مبارک دیتے ہیں۔

    دریں اثناء انجمنِ اوقاف جامع مسجد سری نگر نے بھی مسجد سیل کیے جانے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکام نے ایک بار پھر مسجد کے دروازے بند کر دیے اور اس کے اطراف میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے یہاں عید نماز ادا نہیں کرنے دی۔ یاد رہے کہ اگست 2019ء میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جامع مسجد سرینگر متواتر طورپر عید نماز کیلئے بند کر دی جاتی ہے۔

    جموں کشمیر غزنوی فورس کی جانب سے عید الفطر کا پیغام
    عید الفطر کے پُرمسرت موقع پر جموں کشمیر غزنوی فورس کی جانب سے اُمتِ مسلمہ بالخصوص اہلِ جموں کشمیر اور پاکستان کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتا ہے، جو ہمیں صبر، قربانی اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ہم اس خوشی کے موقع پر اُن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی کی شمع کو روشن رکھا۔ ہم اُن اسیرانِ حریت اور متاثرہ خاندانوں کو بھی یاد رکھتے ہیں جو آج بھی بھارتی ظلم و جبر کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عید کی حقیقی خوشیاں تب ہی مکمل ہوں گی جب ہم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اپنے مقصد سے جڑے رہیں گے۔
    جموں کشمیر غزنوی فورس نوجوانوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اتحاد، حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق پر قائم رکھے، شہداء کے درجات بلند فرمائے، قیدیوں کو رہائی نصیب کرے اور جموں کشمیر کو جلد آزادی کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین

  • ایرانی میزائل حملہ، اسرائیل میں ملبہ گرنے کے بعد سرچ آپریشن جاری

    ایرانی میزائل حملہ، اسرائیل میں ملبہ گرنے کے بعد سرچ آپریشن جاری

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں ہنگامی امدادی ٹیمیں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔

    اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں گرنے کے بعد امدادی کارکن متاثرہ مقامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح جاری کی گئی تصاویر میں شہر رِشون لیژیون میں پارکنگ ایریا میں اینٹوں اور ملبے کے ڈھیر جبکہ ایک گاڑی کو نقصان پہنچنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر قبل ایران کی جانب سے اسرائیلی حدود کی طرف میزائل داغے گئے، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا گیا۔

    دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی منڈیوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ایران کو عارضی اجازت دی ہے کہ وہ تقریباً 14 کروڑ بیرل خام تیل فروخت کر سکے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ مقدار عالمی طلب کو تقریباً ڈیڑھ دن تک پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

    امریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ممکنہ طور پر کم کیا جا سکتا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں عسکری سرگرمیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ اسی دوران ہزاروں امریکی میرینز اور بحری اہلکار مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

    خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک نے رات بھر میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع مشترکہ امریکی برطانوی فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم میزائل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    ادھر ایران نے متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر خلیج میں ایرانی جزائر پر حملے جاری رہے تو راس الخیمہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ کویت اور سعودی عرب نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر رات گئے حملے کیے۔

  • ایئر انڈیاکا کمال، پرواز 8 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی پہنچ گئی

    ایئر انڈیاکا کمال، پرواز 8 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی پہنچ گئی

    ایئر انڈیا کی کینیڈا کے شہر وینکور جانے والی ایک پرواز تکنیکی اور انتظامی غلطی کے باعث منزل تک پہنچنے کے بجائے تقریباً آٹھ گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹ آئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پرواز اے آئی 185 بدھ کے روز صبح 11 بج کر 34 منٹ پر نئی دہلی سے روانہ ہوئی جس نے اپنی معمول کی پرواز جاری رکھی تاہم تقریباً چار گھنٹے بعد جب طیارہ چین کی فضائی حدود میں کنمنگ کے قریب پہنچا تو ایئر لائن کو معلوم ہوا کہ استعمال ہونے والا طیارہ کینیڈا میں لینڈنگ کی اجازت نہیں رکھتا، ایئر انڈیا نے غلطی سے بوئنگ 777-200 ایل آر طیارہ استعمال کیا تھا جبکہ کینیڈا کے لیے کمپنی کو صرف بوئنگ 777-300 ای آر طیاروں کی آپریشنل منظوری حاصل ہے،بین الاقوامی ہوا بازی قوانین کے تحت بعض ممالک مخصوص طیاروں یا انفرادی رجسٹریشن نمبرز کی بنیاد پر اجازت دیتے ہیں،ایئر انڈیا نے غلطی کا احساس ہوتے ہی طیارے کو فوری طور پر واپس دہلی طلب کر لیا، پرواز نے مجموعی طور پر 7 گھنٹے 54 منٹ فضا میں گزارنے کے بعد اسی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی جہاں سے اس نے اڑان بھری تھی۔

    ایئر انڈیا نے اپنی اس غلطی پر بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کو ’آپریشنل مسئلہ‘ قرار دیا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ فیصلہ معیاری حفاظتی طریقۂ کار کے مطابق کیا گیا۔،ایئرلائن کے مطابق متاثرہ مسافروں کو ہوٹل میں رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم اور انہیں جلد از جلد منزل تک پہنچانے کے انتظامات کیے گئے، اگلے روز یہی پرواز دوبارہ روانہ کر دی گئی،اس پرواز کے مسافروں کی اصل تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ،

  • جنگ سے دفاعی کمپنیوں کی موج،28 ارب ڈالر کما لئے

    جنگ سے دفاعی کمپنیوں کی موج،28 ارب ڈالر کما لئے

    امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق جنگوں کے باعث عالمی دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافے سے 28 ارب ڈالر سے زائدکی نئی دولت پیدا ہوئی ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق دفاعی کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری رکھنے والے14 افراد اور خاندانوں کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی کمپنیوں کے بڑے شیئر ہولڈز کی مجموعی دولت میں 3 ماہ سےکم عرصے میں28 ارب ڈالرکااضافہ ہوا ہے،رپورٹ کے مطابق دولت میں اضافہ بنیادی طور پر دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی کے باعث ہوا ہے۔ میزائل، ڈرون اور الیکٹرانک جنگی نظام تیار کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا،اسلحہ سازی کے بنیادی پرزہ جات بشمول فیوز بنانے والی کمپنیوں کو بھی اس تیزی کا فائدہ ملا ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سےترقی کرتےہوئے روایتی کمپنیوں کو چیلنج کر رہاہے، حکومتیں تیزی سے اپنی افواج کو جدید بنانے اور اسلحہ بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوچکی ہیں۔ اسی رجحان نے دفاعی اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی پیدا کی ہے۔ 2026 کے دوران عالمی دفاعی کمپنیوں کے انڈیکس میں 18 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اس کے برعکس اسی عرصے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈکی گئی۔

    بلوم برگ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالر خرچ کیے۔ پنٹاگون نےاس جنگ کو جاری رکھنےکے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست بھی کردی ہے، اسرائیل کا دفاعی بجٹ بھی بڑھ کر 46 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو 2023 کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ ہے،یورپی یونین کے ممالک بھی دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ روس کے 2022 میں یوکرین پرحملےکے بعد یورپی ممالک نے دفاعی بجٹ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےخاندان کے افراد بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا، بھارت، اسرائیل اور فرانس کی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔

  • اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نماز عید میں شریک نہ ہوئے

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نماز عید میں شریک نہ ہوئے

    اڈیالہ جیل میں عید الفطر کی نماز، بانی پی ٹی آئی عمران خان نماز میں شریک نہ ہو ئے

    ملک بھر کی طرح عید الفطر کے موقع پر اڈیالہ جیل میں بھی نماز عید ادا کی گئی، تاہم سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نماز میں شرکت نہ کر سکے۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے نماز عید جیل کی جامع مسجد اور امام بارگاہ میں باجماعت ادا کی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نماز عید کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا اور نماز میں شریک نہیں ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آج اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرائے جانے کا امکان ہے، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بھی ملاقات متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں آج عید الفطر مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جہاں مساجد اور عیدگاہوں میں خصوصی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا،

  • ایران نے سب کو حیران کر دیا، 4000 میل دور برطانیہ کے جزیرہ ڈیگو گارشیا کوکیا ٹارگٹ

    ایران نے سب کو حیران کر دیا، 4000 میل دور برطانیہ کے جزیرہ ڈیگو گارشیا کوکیا ٹارگٹ

    ایران نے 2 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ڈیاگو گارشیا ایئربیس کی طرف داغے، جو ایران سے تقریباً 4000 کلومیٹر دور امریکی B-2 اسپرٹ بمبار طیاروں کی میزبانی کرتا ہے۔

    ایران دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے ۵ ہزار کلومیٹر فاصلے سے بحر ہند میں واقع امریکی برطانوی فوجی اڈوں کو بلاسٹک میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کا اعتراف وال اسٹریٹ جرنل نے کیا ۔کل برطانیہ نے امریکی دباؤ پر ڈیاگو گا رشیا جزیرے میں واقع اڈے کو امریکی افواج کے استعمال کی اجازت دے دی تھی جس کے جواب میں ابھی چند منٹ قبل ایران نے اس اڈے کو دو بلاسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ۔ آج تک جنگ میں کسی ملک نے اتنے فاصلے سے دشمن کے اہداف کو بلاسٹک میزائل سے نشانہ نہیں بنایا تھا،ایران نے ابھی ڈیگو گارشیا پر لمبی دوری کا حملہ کرنے کی کوشش کی ، جو بحر ہند میں گہرے سمندروں میں واقع امریکہ-برطانیہ کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے۔ ایک میزائل پرواز کے دوران ناکام ہو گیا، دوسرا میزائل امریکی دفاعی نظام نے روک لیا

    ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ایک بنیادی مفروضہ ٹوٹ چکا ہے۔ کئی برسوں سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی حد تقریباً 2,000 کلومیٹر تک ہے۔ لیکن اگر کوئی بیلسٹک میزائل ڈیگو گارشیا تک پہنچا ہے تو اس کا مطلب تقریباً 4,000 کلومیٹر کی رینج بنتی ہے، جو اسے میڈیم رینج سے نکال کر انٹرمیڈیٹ رینج (IRBM) کے زمرے میں لے جاتی ہے۔ یہ ایک اسٹریٹجک جست ہے۔”اصل بات یہ نہیں کہ میزائل کو روکا گیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایران شاید اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے جو دنیا کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ 4,000 کلومیٹر کی رینج نقشہ بدل دیتی ہے۔ بڑے یورپی دارالحکومت بھی اس دائرے میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پیرس اس کی پہنچ میں آ جاتا ہے، جبکہ لانڈن بھی لانچ پوائنٹ اور وارہیڈ کی نوعیت کے لحاظ سے خطرے کے قریب ہو جاتا ہے۔””اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میزائل خطرہ اب صرف خلیج، اسرائیل یا جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا دائرۂ اثر، دفاع اور خوف نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ڈیگو گارشیا صرف ایک ہدف نہیں تھا، بلکہ ایک واضح پیغام تھا۔”