Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئیں

    افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئیں

    افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئی،رجیم کی گرفت کمزورہو گئی.

    طالبان رجیم کی انتہاپسندی کے باعث افغانستان کے اندر مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں ،افغان طالبان رجیم کیخلاف سرگرم مزاحمتی تحریک ،نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے گزشتہ ایک سال کی کاروائیوں کی تفصیلات جاری کر دیں ،نیشنل ریزسٹنس فرنٹ(این آر ایف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں طالبان رجیم کے خلاف 401 ٹارگٹڈ کارروائیاں ہوئیں، کابل 126 آپریشنز کے ساتھ سرفہرست رہا،ٹارگٹڈ کارروائیاں کابل، پنجشیر، بدخشان، ہرات سمیت 19 صوبوں میں کی گئیں ،طالبان رجیم کو ٹارگٹڈ کارروائیوں میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں651 ہلاک اور579 زخمی شامل ہیں،

    گزشتہ ہفتے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمدمسعودبھی واضح کرچکے کہ طالبان رجیم داخلی اورعالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے اور اس نے عوام کو سیاسی نظام سے باہر رکھا ہوا ہے، ماہرین کے مطابق افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکیں واضح اشارہ ہیں کہ افغان عوام اب اس غاصب رجیم کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں،طالبان رجیم اندرونی انتشار اور شدیدمعاشی بدحالی کا شکار ہوچکی ہے ،طالبان رجیم نہ صرف عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکی ہے بلکہ اب اسے داخلی سطح پر بھی شدید مزاحمت کاسامنا ہے

  • تہران پر اسرائیل کے تازہ حملے، امریکا کی پسپائی پر ایران کا ردعمل

    تہران پر اسرائیل کے تازہ حملے، امریکا کی پسپائی پر ایران کا ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے بیان کے بعد اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر تازہ فضائی حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حملے ایرانی ” حکومت کے بنیادی ڈھانچے” کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ کارروائیاں دارالحکومت کے مختلف مقامات پر کی جا رہی ہیں، تاہم فوری طور پر نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے بجلی گھروں پر مجوزہ حملے مؤخر کر رہا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکی فیصلے کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی "سخت وارننگ” کے بعد پسپائی اختیار کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کابل میں ایرانی سفارتخانے نے بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے پورے خطے کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد امریکا نے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ایرانی خبر رساں ادارے نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان نہ تو براہ راست اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کے ذریعے کوئی بات چیت ہوئی، جبکہ ٹرمپ نے حال ہی میں "مثبت مذاکرات” کا ذکر کیا تھا۔

  • ٹرمپ نے خود کو مزید وقت دے دیا، ایران سے مذاکرات کے دعووں پر سوالات

    ٹرمپ نے خود کو مزید وقت دے دیا، ایران سے مذاکرات کے دعووں پر سوالات

    واشنگٹن: دفاعی تجزیہ کار پروفیسر مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے معاملے پر وقتی طور پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے خود کو مزید وقت دے دیا ہے، تاہم ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعووں پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔

    پروفیسر کلارک کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ کسی حد تک پیچھے ہٹیں گے، لیکن اتنی جلدی فیصلہ حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ فوجی کارروائی کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ پانچ دنوں میں یہ آپشن اب بھی موجود ہے۔کلارک نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اچانک ایران کے ساتھ "تعمیری اور بامعنی مذاکرات” کا ذکر کیا، جن کے بارے میں پہلے کسی کو علم نہیں تھا۔”انہوں نے اس سے پہلے کبھی ان مذاکرات کا ذکر نہیں کیا، اچانک کہا جا رہا ہے کہ گہرے مذاکرات جاری تھے، ممکن ہے اس معاملے میں مبالغہ آرائی کی جا رہی ہو،” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ٹرمپ نے ممکنہ حملوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے وقتی طور پر قدم پیچھے کھینچا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہر ایڈ کانوے کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ "یہ ایک غیر معمولی معاشی جھٹکا ہے، جہاں مارکیٹوں نے اچانک مثبت ردعمل دیا ہے اور امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔”کانوے کے مطابق تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ بانڈز کی ییلڈ میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی کئی اہم سوالات باقی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

  • خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    ہر صبح جب آپ اٹھتے ہیں تو پاکستان کے خلیجی بحران میں کردار کے بارے میں ہزاروں مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں۔ ان میں سے اکثر پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس، بھارتی ٹرولز اور افغان طالبان کے ترجمانوں کے ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے خوش نہیں، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ایران پر حملہ کرنے والا ہے، جبکہ کوئی الزام لگاتا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

    ان تمام ٹرولز میں ایک بات مشترک ہے، انہیں پاکستان کی پالیسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، اور ان سب کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس تنازع میں گھسیٹا جائے، تاکہ دراصل ایک اینٹی پاکستان ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔ان تمام منفی پروپیگنڈوں کے باوجود، پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے ، پاکستان مخلصانہ طور پر تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو اعتماد ہے، حتیٰ کہ امریکہ بھی پاکستان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہبی وابستگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) اسی تعلق کا مظہر ہے۔ پاکستان کا اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ سے عزم اور حجاز مقدس کے دفاع کا وعدہ ناقابلِ متزلزل ہے۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کے لیے اسرائیل، بھارت یا افغانستان کی توثیق درکار ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی پارلیمنٹ میں گونجنے والا “تھینک یو پاکستان” اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے اس تنازع کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے روکنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو طول دینے اور پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، خلیجی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا جائے، ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کیا جائے، اور یوں مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کر کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان سمجھتا ہے کہ اس تنازع کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایران کو سعودی عرب پر حملے روکنے چاہئیں کیونکہ اس سے تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی اس بات پر بھی تعریف کرتا ہے کہ اس نے اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور جواب دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود جنگ سے گریز کیا۔

    یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومتیں اپنی عوام کی سلامتی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، اس لیے سعودی عرب کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے،یہ ایک خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ تنازع بے قابو ہو کر پورے خطے اور اس سے باہر تک پھیل سکتا ہے، جس سے اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ایران کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق قدم اٹھانے چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ پاکستان کی پالیسی کشیدگی کو کم کرنا، امتِ مسلمہ کا تحفظ کرنا اور اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم مضبوط ہے اور ایران کی خودمختاری کے لیے اس کی حمایت بھی ثابت شدہ ہے۔ ان شاء اللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں گی، جبکہ یہ نام نہاد دانشور اور اینٹی پاکستان عناصر جو چاہیں کہتے رہیں۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے “سب سے پہلے پاکستان” اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔

  • ایران کا اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ،  تل ابیب اور یروشلم میں خوف کی فضا

    ایران کا اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ، تل ابیب اور یروشلم میں خوف کی فضا

    گزشتہ ایک گھنٹے میں ایران سے میزائلوں کا ایک بیراج پیشگی انتباہ کے بغیر داغا گیا جس کے بعد ڈرون حملے کیے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ساحلی میدانی علاقے شفیلہ میں دھماکوں کی اطلاع دی، اس کے ساتھ ہی ہولون میں راکٹ گرنے اور ملک کے جنوبی حصے میں کئی مقامات پر ملبہ گرنے کی ابتدائی اطلاعات ہیں۔ اضافی انتباہات نے اشارہ کیا کہ کلسٹر گولہ بارود تل ابیب کے جنوب میں گر رہے ہیں، جبکہ شدید دھماکوں نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے مرکزی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تل ابیب اور یروشلم سمیت وسطی مقبوضہ فلسطین میں سائرن بجنے لگے، کیونکہ ایران سے میزائل لانچ ہونے کا پتہ چلا، رپورٹس کے ساتھ اشکلون میں ایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جہاں ایک عمارت پر براہ راست ٹکر ریکارڈ کی گئی۔ ایرانی میزائل آسمان پر نظر آرہے تھے، جس میں مداخلت کی ناکام کوششوں کی اطلاع دی گئی تھی، اور بین گوریون ہوائی اڈے پر موجود تمام مسافروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 153 آباد کار زخمی ہوئے جس سے جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی تعداد 4,713 ہو گئی ہے۔ اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے ایک راکٹ نے مقبوضہ علاقوں کے شمال کو نشانہ بنایا۔ دوسری جگہوں پر، بغداد کے اوپر ڈرون دیکھے گئے، اور طاقتور دھماکوں نے "اسرائیل” کے مرکزی علاقوں کو ہلاتے رہے

  • ایران سے بات چیت کے بعد بجلی گھروں،توانائی ڈھانچوں پر حملے ملتوی،ٹرمپ کا اعلان

    ایران سے بات چیت کے بعد بجلی گھروں،توانائی ڈھانچوں پر حملے ملتوی،ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا ہے،

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران "بہت مثبت اور تعمیری” مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کے فوجی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔ آئندہ دنوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا ۔

  • ہائی آکٹین مہنگا،مبشر لقمان حکومت پر برس پڑے،عطاتارڑ وضاحتیں دینے آ گئے

    ہائی آکٹین مہنگا،مبشر لقمان حکومت پر برس پڑے،عطاتارڑ وضاحتیں دینے آ گئے

    پاکستان میں ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر تک اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر حکومت کو کھری کھری سنائیں، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ بھی ایکس پر ہی جواب دینے آ گئے.

    سینئر صحافی مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ایکس پر ا یک پوسٹ میں کہا کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ امیروں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں کتنی لگژری سرکاری گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں اور ان پر کتنا مفت ایندھن خرچ کیا جا رہا ہے۔ عوام پہلے اپنی محنت کی کمائی سے حکومتی شخصیات کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدتے ہیں اور پھر انہی گاڑیوں کے ایندھن اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو ملک بھر میں مفت ایندھن کی سہولت ختم کی جائے، ورنہ عوام کو قربانی کا درس نہ دیا جائے۔مفت ایندھن سرکاری سطح پر ختم کریں گے تو تب ہی ہم یقین کریں گے کہ آپ کچھ اچھا کر رہے ہیں۔ بصورت دیگر پیچھے بیٹھیں اور خاموش رہیں۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں کتنی سرکاری کاریں استعمال ہو رہی ہیں اور انہیں مفت ایندھن کی مقدار دی جا رہی ہے؟ پھر ہمیں کہو کہ قربانی دو

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر مبشر لقمان کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کیے، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند کیں اور ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی لائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جو ریلیف دیا گیا وہ انہی بچتوں اور کفایت شعاری کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کا عام شہری پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ لگژری گاڑیوں کے مالکان مشکل حالات میں اضافی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا عید پر ہسپتال کا دورہ،زخمی جوانوں کی عیادت

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا عید پر ہسپتال کا دورہ،زخمی جوانوں کی عیادت

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے عیدالفطر کے موقع پر سریاب روڈ کوئٹہ ڈیوٹی پر تعینات جوانوں اور افسران کے ساتھ نمازِ عید ادا کی اور عید کی خوشیاں بانٹیں۔

    اس موقع پر انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ خدمات، بلند حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو سراہا اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمی جوانوں کی عیادت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔ اس موقع پر آئی جی ایف سی نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کا فخر ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فرنٹیئر کور ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، اور آخر میں تمام جوانوں کو عیدالفطر کی دلی مبارکباد پیش کی۔

  • امریکہ کا ایف 15 لڑاکا طیارہ کویت میں مار گرایا،ایران کا دعویٰ

    امریکہ کا ایف 15 لڑاکا طیارہ کویت میں مار گرایا،ایران کا دعویٰ

    ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے کویت میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق کویت میں طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنا کر گرایا گیا،امریکہ کا ایک اور ایف 15 جنگی طیارہ کویت میں گر کر تباہ ہو گیا، ایران نے ویڈیو جاری کر دی تاہم امریکہ نے ایف 15 طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

    دوسری جانب اسرائیل کے شمالی اور وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں،اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ سے متصل اسرائیلی شہر عسقلان میں ایرانی میزائل گرنے کی اطلاع ہے، عسقلان میں دو مقامات پر ایرانی میزائل سے حملہ کیا گیا ہے

  • سعودی عرب میں پرنس سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا ہے،ایران

    سعودی عرب میں پرنس سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا ہے،ایران

    ایران کے ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پرنس سلطان ائیر بیس امریکی فوجی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے،انہوں نے کہا کہ پرنس سلطان ائیر بیس پر امریکی جاسوس طیاروں کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بحرین میں بھی امریکی ففتھ فلیٹ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو ہم بھی بجلی کے نظام کو نشانہ بنائیں گے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ کسی بھی خطرے کا جواب اسی سطح پر دیا جائے گا، ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو اسرائیلی بجلی گھر سمیت امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے۔