Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے لاہور پریس کلب کے انتخابات پر اثر انداز ہونے اور صحافیوں کی تضحیک کرنے پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اطلاعات کے غیر شائستہ اور اپنے منصب کے منافی طرز تکلم اور انتہائی سطحی الزامات کی پرزور مذمت کی گئی ۔

    ایگزیکٹو کونسل کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب آزادیء اظہار کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سیاسی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا ۔یہ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا وہ مرکز ہے جو کبھی سیاسی یا حکومتی دبائوکا شکار نہیں ہوا ۔عظمیٰ بخاری نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے لاہور پریس کلب منہاج برنا یا نثار عثمانی کے نظریات کا محافظ ہونے کی بجائے سرکارکا گماشتہ ہے۔ ایگزیکٹو کونسل نے کہا کہ ہم محترمہ عظمیٰ بخاری کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ اس وقت بھی آزادی ء صحافت کے علمبرداروں کا گھر تھا جب وہ شریف خاندان پر تبرہ کیا کرتی تھیں اور یہ اب بھی آزادی اظہار رائے کی علامت ہے جب انہیں شریف خاندان درجہ ولایت پر فائز دکھائی دیتا ہے اور وہ بھٹو تاریخ کے کٹہرے میں نظر آتا ہے جس کے نظریات کبھی ان کی سوچ کا مظہر ہوا کرتے تھے ۔ جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ لاہور پریس کلب نہ تو کل کسی سیاسی جماعت کا گماشتہ تھا اور نہ ہی آج کوئی سیاسی قوت یا سرکار اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے ،ہم کل بھی سچائی کا آئینہ تھے اور آج بھی اس آئینے کو دھندلا نہیں ہونے دیا۔اگر محترمہ کو اس آئینے میں اپنے چہرے کے داغ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں قصور آئینے کا نہیں بلکہ اخلاقیات سے گرنے کی اس کالک کا ہے جس میں مسلسل کچھ کردار اپنے ضمیر ، روح اور وجود تک لتھڑے ہوئے ہیں ۔اس آئینے کو کالی بھیڑ یا ایسا کوئی اور لقب دینا یا اس کے عکس کو برا کہنا درحقیقت اپنے اندر کی گندگی پر تبصرہ کرنا ہے ۔ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کی کہ نابالغ سیاسی رہنما اور حادثاتی وزیر اطلاعات کو کسی بھی طور پر آزادی ء صحافت کی علامت لاہورپریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔یہ کل بھی آزادانہ سوچ اور اظہار رائے رکھنے والوں کا مرکز تھا اور انشا اللہ آئندہ بھی سچائی کی علامت کے طور پر جانا جائے گا ۔ جب تک نثار عثمانی اور منہاج برنا کی سوچ کے وارث اور قلم کی حرمت کے پاسبان زندہ ہیں ،لاہور پریس کلب کسی سیاسی جماعت کا میڈیا سیل نہیں بنے گا ۔اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ جب وزیر اطلاعات یہ مغلظات بک رہی تھیں تو اس وقت صدر لاہور پریس کلب محترم ارشد انصاری وہاں تشریف فرما تھے لیکن ان کی جانب سے نہ تو لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کو کالی بھیڑیں یا شرپسند کہنے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ، نہ ہی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آپ تو سیاستدان ہیں لاہور پریس کلب کے انتخابات یا کسی بھی صحافتی تنظیم کے انتخاب کی ڈیڈ لائن کیسے دے سکتی ہیں ۔ایگزیکٹو کونسل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عہدے دار ہمارے لئے برابر ہیں ۔ہم کوریج کے معاملے یا اظہار رائے کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں رکھتے۔لہٰذا واضح کیا جاتا ہے کہ اہل قلم یا پاسبان حرف و حق کا کردار پوری ذمہ داری سے نبھاتے رہیں گے ۔

    ایگزیکٹو کونسل نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) محترم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کا کہا ہے تاکہ صحافتی اداروں کی یہ روایت برقرار رہ سکے کہ وہ کسی سیاسی دبائو میں آئے بغیر حق گوئی کا فرض نبھائیں۔اجلاس کے آخر پر یہ بھی کہا گیا کہ آزادی صحافت کے سپاہی اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے اور کسی بھی طور دبائو میں آئے بغیر وہ فرض نبھائیں گے جو اس قوم نے ان کے سپرد کیا ہے ۔

  • اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،خالد مسعود سندھو

    اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،عوام کے ووٹ سے منتخب اراکین عوام کو ہی جوابدہ ہیں، لوٹ مار چھپانے کے لئے لائے گئے اس قانون کی ہر سطح پر مخالفت کریں گے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے انتخابات ترمیمی بل منظور ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ ایوانوں میں پہنچنے والے عوام کے نہیں بلکہ لوٹ مار کے نمائندے ہیں، انتخابات کے وقت امیدوار گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرواتا ہے تو اسکے بعد بھی کسی بھی رکن کو اثاثے چھپانے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہئے، جو اراکین گوشوراے شائع نہ کرنے کی درخواست دیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، عوامی نمائندہ عوام کو جوابدہ ہوتا ہے، لوٹ مار،کرپشن چھپانے کے لئے یہ بل منظور کروایا گیا، مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اس بل کے خلاف عوامی سطح پر شعور اجاگر کریں گے تا کہ قوم اپنے نمائندوں سے جواب دہی کرے.

  • غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہےکہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر حکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نےکہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کے لیے غزہ بورڈ آف پیس کو بغیر مشورہ خوش آئند قرار دیا، حکومت نے ایوان کو نظر انداز کردیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایوان میں لائے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کرنا غلط ہے، بورڈ آف پیس میں کن شرائط پر شامل ہوئے؟ بتایا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔ ج

    ے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے، پاکستان کا اس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے۔ حکومت کا فرض ہےکہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے، آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے چلیں مت لیں، مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے کیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، فلسطینی بہت مجبور حالت میں ہیں مگر ہم اپنی پالیسی تو ٹھیک رکھیں۔ بورڈ آف پیس کا رکن اس قصائی نیتن یاہو کو بنایا گیا ہے جس نے فلسطینی عوام کا قتل عام کیا ہے اور آگے بھی ایسے ہی قتل عام کا ارادہ رکھتا ہے،آج بھی وہاں بمباریاں ہورہی ہیں، اس مجلس میں نیتن یاہو اور شہباز شریف شانہ بشانہ بیٹھے ہونگے۔غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب میں کہا کہ امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، غزہ کی تعمیرنو اور مستقل فائر بندی کے لیے بورڈ آف پیس میں جانےکافیصلہ کیا، اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔

  • صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری  معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    لاہور پریس کلب کے انتخابات میں صدر کے امیدوار، سینئر صحافی اعظم چوہدری نے پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے صحافیوں کو کالی بھیڑیں اور شرپسند کہنے ،لاہور پریس کلب کے انتخابات دسمبر سے جنوری تک کروانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے

    اعظم چوہدری کا کہنا تھاکہ عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کی اور پریس ریلیز جاری کی، صحافیوں کو شرپسند ،کالی بھیڑیں کہا، یہ بھی کہا کہ انتخابات پریس کلب کے انکی مرضی کے مطابق دسمبر اور جنوری میں ہوں گے، آپ کو کیسے یہ حق مل گیا کہ مداخلت کریں،صحافیوں کی تقسیم کریں، پریس کلب کے انتخابات کا فیصلہ کریں، صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہیں ہم الیکشن لڑیں،ہاریں جیتیں یہ صحافیوں کا اندرونی معاملہ ہے، ہم الیکشن لڑ رہے تھے ، ایک سیدھا ایجنڈہ ہوتا ہے کمیونٹی کے مفاد کا، روزگار کے تحفظ کا ،پلاٹوں کا، یہ اب انہوں نے نیا ایجنڈہ پیدا کر دیا، کہ صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہا،شرپسند کہا، یہ انتخاباب تب ہو گا جب حکومت معافی نہیں مانگے گی اور صدر جنہوں نے پریس ریلیز جاری کروائی جب تک وہ معافی نہیں مانگیں گے تب تک ہم انتخابات نہیں ہونے دیں گے

  • لاہور پریس کلب انتخابات،عظمیٰ بخاری کی مداخلت،صحافی سیخ پا،عبدالمجید ساجدبھی خاموش نہ رہ سکے

    لاہور پریس کلب انتخابات،عظمیٰ بخاری کی مداخلت،صحافی سیخ پا،عبدالمجید ساجدبھی خاموش نہ رہ سکے

    لاہور پریس کلب کے انتخابات سے دو روز قبل پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات نے لاہور پریس کلب کے سابق صدر ارشد انصاری کو اجلاس میں مدعو کر لیا، ارشد انصاری اس بار بھی صدر کے امیدوار ہیں،جس پر لاہور کے صحافیوں نے عظمیٰ بخاری پر لاہور پریس کلب میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عظمیٰ بخاری کو چاہئے کہ خود لاہور پریس کلب کی باڈی نامزد کر کے نوٹفکیشن جاری کر دیں.

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری کی زیر صدارت جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 14واں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، ایم پی اے بلال یامین ستی، ڈپٹی سیکرٹری عدنان رشید، پاکستان جرنلسٹس فاؤنڈیشن کے اسد حسین اور محمد یٰسین نے شرکت کی۔اجلاس میں جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ نے متفقہ طور پر صحافی کالونی فیز ٹو کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی۔سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاؤسنگ کالونی میں جدید سہولیات کے تحت اسکول، 40 فٹ سے 100 فٹ چوڑی سڑکیں، کمرشل ایریاز اور پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 400 ملین روپے روڈا کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ زمین کی خریداری کا عمل تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔ زمین سیکشن فور کے تحت روڈا سے حاصل کی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے تحت 5 مرلہ کے 3200 پلاٹس صحافیوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور کے 3200 صحافیوں کو اپنی چھت فراہم کرنے جا رہی ہیں اور فروری میں وزیراعلیٰ خود صحافیوں کو الاٹمنٹ لیٹرز دیں گی۔عظمٰی بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت خلوصِ نیت سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کر رہی ہے، تاہم بدقسمتی سے کچھ عناصر صحافت کے لبادے میں اپنے ہی صحافی بھائیوں کے مستقبل کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو شرم آنی چاہیے جو صحافیوں کے بچوں کے مستقبل کو ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو واضح پیغام ہے کہ صحافیوں کی چھت پر گندی سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے میڈیا ونگ کی جانب سے صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ چند دنوں میں ایسے عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اس موقع پر انہوں نے لاہور پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ کے تعاون کو بھی سراہا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے 1400 صحافی ممبران اپنے ڈویلپمنٹ چارجز کے ایڈوانس جمع کروا چکے ہیں جبکہ وزارت اطلاعات پنجاب کے 635 ملازمین نے بھی ایڈوانس چارجز جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی ممبران بھی جلد اپنے واجبات جمع کروائیں۔عظمٰی بخاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ 3200 صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نان ممبران کی بیلٹنگ کا عمل مکمل شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور مافیا یا پریشر گروپس بنا کر حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راولپنڈی اور ملتان کی جرنلسٹ ہاؤسنگ اسکیموں کے معاملات آئندہ اجلاس تک مؤخر رہیں گے جبکہ ملتان پریس کلب سے کونسل ممبران صحافیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، لاہور کی صحافی کالونی میں ایل ڈی اے کے کمرشل پلان کو بھی اپنانے کی منظوری دی گئی۔آخر میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا کہ تمام پریس کلبز دسمبر سے جنوری کے دوران اپنے انتخابات کرانے کے پابند ہوں گے-

    عظمیٰ بخاری کے بیان اور امیدوار برائے صدر ارشد انصاری کے اجلاس میں شرکت پر لاہور کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، امیدوار برائے سیکرٹری جنرل لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں پنجاب حکومت کی اس قدر کھلی مداخلت سے تو بہتر تھا کہ وہ کلب میں پنجاب اسمبلی کے ممبرز پر مشتمل اپنا پینل ہی دے دیتی،پستی کا حد سے گزرنا دیکھو

    مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی صحافیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور عظمیٰ بخاری کے عمل کو لاہور پریس کلب کے انتخابات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ بخاری ڈی جی پی آر سے نوٹفکیشن جاری کروا کر پریس کلب کی باڈی منتخب کر دیں.

  • لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں پالی گئی شیرنی کے حملے کے نتیجے میں 8 سالہ معصوم بچی زخمی ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق بچی کو کان، گردن اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے، جس کے بعد اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شیرنی کسی طرح قابو سے باہر ہو گئی اور قریب موجود بچی پر حملہ کر دیا۔ زخمی بچی کے اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شہری نے غیر قانونی طور پر گھر میں شیرنی پال رکھی تھی۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی کو ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیرنی کے مالک کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں پالنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • راولپنڈی،پتنگ پکڑتے بچہ سیوریج کے پانی میں گرکر جاں بحق

    راولپنڈی،پتنگ پکڑتے بچہ سیوریج کے پانی میں گرکر جاں بحق

    راولپنڈی کے علاقے اقبال ٹاؤن میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 5 سالہ معصوم بچہ سیوریج کے پانی سے بھرے کھڈے میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جبکہ شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ صادق آباد اقبال ٹاؤن کے علاقے میں نجی ہاؤسنگ اپارٹمنٹس کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ بچہ پتنگ پکڑنے کی کوشش میں کھیلتے کھیلتے اچانک کھلے کھڈے میں جا گرا، جو سیوریج کے گندے پانی سے مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ نجی ہاؤسنگ اپارٹمنٹس کی جانب سے تعمیراتی مقاصد کے لیے کھدائی کروائی گئی تھی، تاہم حفاظتی اقدامات اختیار نہیں کیے گئے۔ کھدائی کے باعث ملحقہ نالہ بند ہو گیا جس کا پانی جمع ہو کر کھلے کھڈے میں بھر گیا، جس سے یہ جگہ انتہائی خطرناک بن گئی تھی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچے کو نکال کر فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز نے بچے کی موت کی تصدیق کر دی۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانی کی گہرائی اور گندگی کے باعث بچے کو بچایا نہ جا سکا۔بچے کی موت کے بعد تھانہ صادق آباد پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں،علاقہ مکینوں نے نجی ہاؤسنگ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں کھلے کھڈوں اور غیر محفوظ تعمیراتی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اسلام آباد ، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، پیپسی ڈسٹری بیوٹر کا گودام سیل

    اسلام آباد ، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، پیپسی ڈسٹری بیوٹر کا گودام سیل

    پیپسی کمپنی کے اسلام آباد میں بڑے ڈسٹری بیوٹرز حیدری مشروب کے گودام کو فوڈ سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر اسلام آباد فورڈ اتھارٹی نے سیل کر دیا

    ذرائع کے مطابق 100 زائد بیگز پر تاریخیں ٹیمپرڈ اور تھیلوں پر کاکروچز پائے گئے جن کی مالیت 10 لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے مجموعی طور پر 50 ہزارسے زائد چینی کے ایکسپائر اینڈ infested چینی کےتھیلے بھی قبضہ میں لے لیے،اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (آئی ایف اے) نے فوڈ سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پیپسی مصنوعات کے بڑے ڈسٹری بیوٹر حیدری مشروب کے گودام کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اسلام آباد میں کی گئی، جہاں گودام میں ذخیرہ شدہ اشیائے خورونوش کے معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

    صحافی شہزاد پراچہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کے مطابق اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے گودام کا معائنہ کیا تو وہاں موجود چینی کی بوریوں تشویشناک خامیاں پائی گئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ معائنے کے دوران 100 سے زائد چینی کی بوریوں پر مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری کی تاریخوں میں ردوبدل پایا گیا۔ مزید یہ کہ متعدد بوریوں کے اندر کاکروچ موجود تھے، جس سے صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور صارفین کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کے مطابق تاریخیں تبدیل کی گئی چینی کی بوریوں کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہے۔فوڈ اتھارٹی کے مطابق مزید جانچ پڑتال میں انکشاف ہوا کہ 50 ہزار سے زائد بوریاں یا تو زائدالمیعاد تھیں یا پھر کیڑے مکوڑوں سے آلودہ تھیں۔

    حکام نے خبردار کیا کہ اس طرح کی آلودہ خوراک کی ترسیل عوامی صحت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
    ان سنگین خلاف ورزیوں پر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے موقع پر ہی گودام کو سیل کر دیا اور متعلقہ فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اتھارٹی کے مینڈیٹ کے عین مطابق اٹھایا گیا ہے۔

  • نیو یارک سب وے میں دوران سفر بوسہ لینے پر ہم جنس پرست جوڑے پر حملہ

    نیو یارک سب وے میں دوران سفر بوسہ لینے پر ہم جنس پرست جوڑے پر حملہ

    نیو یارک سٹی کی سب وے لائن 6 ٹرین میں ایک شخص کو اپنی ٹرانس جینڈر ساتھی کے ساتھ بوسہ لینے کے دوران ایک نامعلوم مسافر نے مبینہ طور پر ہم جنس پرستانہ نفرت کے تحت حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے نفرت انگیز گالی دی اور پھر تیز دھار آلے سے وار کیا۔

    یہ واقعہ شام تقریباً 8 بجے سے کچھ پہلے اس وقت پیش آیا جب ٹرین 23ویں اسٹریٹ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔ پولیس کے مطابق اچانک ہونے والے اس حملے کے بعد تلخ کلامی شروع ہوئی جو اس وقت خطرناک رخ اختیار کر گئی جب ملزم نے 28 سالہ متاثرہ شخص کے چہرے کے دائیں حصے پر تیز دھار چیز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر گہرا زخم آیا۔نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی ٹرانس جینڈر ساتھی کو جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے فوراً بعد مشتبہ حملہ آور 23ویں اسٹریٹ اسٹیشن پر ٹرین سے فرار ہو گیا، جبکہ زخمی شخص 14ویں اسٹریٹ-یونین اسکوائر اسٹیشن پر اترا اور بعد ازاں اسے علاج کے لیے بیلیوو ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق تاحال ملزم کی شناخت نہیں ہو سکی اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نیو یارک پولیس نے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ سال جنسی رجحان کی بنیاد پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم کی تعداد 52 رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہے۔ تاہم، اس کے باوجود جنسی رجحان کی بنیاد پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ پہلے نمبر پر یہودی مخالف نفرت انگیز جرائم رہے، جن کی تعداد 2025 میں 330 ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں اگرچہ جینڈر شناخت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی الگ تفصیل شامل نہیں کی گئی، تاہم پولیس کے مطابق “جینڈر” کی بنیاد پر 28 نفرت انگیز جرائم رپورٹ ہوئے۔

    منہیٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کے دفتر کے حکام نے گزشتہ سال کے آغاز میں LGBTQ کمیونٹی کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا، خاص طور پر سب وے میں پیش آنے والے حملوں پر۔ اس وقت اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی ہنہ یو نے ایک ایسے ہی واقعے کا حوالہ دیا تھا جس میں ایک ہم جنس پرست جوڑے کو سب وے میں اچانک حملے کے دوران زخمی کر دیا گیا تھا۔

  • شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر

    شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر

    شمالی کوریا کی ایک نئی ریاستی منظور شدہ فلم نے ملکی اور غیر ملکی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس میں ایسے مناظر اور کہانی دکھائی گئی ہے جو ماضی میں اس سخت گیر ملک کے سینما میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔

    فلم “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” (Days and Nights of Confrontation) میں ایک شخص کو پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹ کر قتل کرنے کا منظر، خودکش بم جیکٹ، خاندانی غداری، ازدواجی بے وفائی، حتیٰ کہ مختصر جزوی عریانی بھی دکھائی گئی ہے۔ ایک خاتون کردار کو پہلے اس کے شوہر کے ہاتھوں چھرا گھونپا جاتا ہے، پھر گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوتی ہے اور آخرکار قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ فلم گزشتہ سال شمالی کوریا کے سینما گھروں میں دکھائی گئی جہاں اس نے بڑی تعداد میں ناظرین کو متوجہ کیا، تاہم اس ماہ اسے پہلی بار سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا، جسے مبصرین سرکاری منظوری اور اعتماد کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔اس فلم کو کوریَن اپریل 25 فلم اسٹوڈیو نے پروڈیوس کیا ہے، جو شمالی کوریا کی نظریاتی اور انقلابی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کھلے تشدد اور تھرلر انداز کی کہانی کو خاص طور پر غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکی فلم ساز جسٹن مارٹیل، جنہوں نے گزشتہ سال پیانگ یانگ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی، کا کہنا ہے “پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹنے کا منظر میں نے اس سے پہلے کسی شمالی کوریائی فلم میں نہیں دیکھا۔ جزوی عریانی بھی ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔”

    فلم کی کہانی 2000 کی دہائی کے وسط میں ترتیب دی گئی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ذاتی اور ریاستی غداری ہے۔ پلاٹ کا نقطۂ عروج سابق شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اِل کے قتل کی سازش ہے، جس میں ان کی ٹرین کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔یہ کہانی 2004 میں چین کی سرحد کے قریب ریونگ چون ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے سے مماثلت رکھتی ہے، جسے سرکاری طور پر حادثہ قرار دیا گیا تھا، مگر بیرونِ ملک اسے قتل کی کوشش سے جوڑا جاتا رہا۔فلم کے اختتام پر سازش ناکام ہو جاتی ہے، مرکزی کردار گرفتار ہو جاتا ہے اور واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ ریاست سے غداری کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔

    اگرچہ فلم کا مواد اشتعال انگیز ہے، تاہم اس کا پیغام مکمل طور پر ریاستی نظریے کے مطابق ہے۔ غداری تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور ریاست سے وفاداری ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی کم جونگ اُن کی حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جدید انداز اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔

    شمالی کوریا میں فلم کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سابق رہنما کم جونگ اِل خود فلمی صنعت کی نگرانی کرتے تھے اور ان کے پاس 15 ہزار سے زائد فلموں کا ذاتی ذخیرہ تھا۔اسی دور میں جنوبی کوریا کی معروف اداکارہ چوئی اُن ہی اور ہدایتکار شن سانگ اوک کو اغوا کر کے پیانگ یانگ لایا گیا، جہاں انہوں نے ریاست کے لیے متعدد فلمیں بنائیں، جن میں مشہور فلم “پلگاساری” بھی شامل ہے۔آج کے شمالی کوریا میں اسمارٹ فونز، ریاستی ایپس اور اندرونی اسٹریمنگ سروسز عام ہو رہی ہیں، جبکہ خفیہ طور پر جنوبی کوریائی ڈرامے اور موسیقی بھی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگرچہ ان پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق صرف جبر اب کافی نہیں رہا۔

    “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، زیادہ سنسنی خیز، زیادہ تاریک، مگر پیغام وہی پرانا،ریاست اور رہنما کے خلاف سازش کا انجام ہمیشہ ہلاکت اور تباہی ہے۔