Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے،سبیل اکرام

    گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے،سبیل اکرام

    کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے ۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ اور اجتماعی قتل عام ہے کہ پلازے بنا لئے جاتے ہیں ان میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاتے ۔ آگ کے شعلوں میں گھرے ، ملبے تلے دبے معصوم بچوں کی چیخیں ، بزرگوں ، جوانوں اور خواتین کی آہیں نظام کی بے رحمی اور بے حسی پر سوال بن گئی ہیں ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا۔ انھوں نے کہا اس سانحے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ایسا زخم ہے جو برسوں نہیں بھر سکے گا ۔ وہ مرد وخواتین ، بزرگ، محنت کش جو روزی روٹی کمانے کیلئے گھروں سے نکلے آگ کے شعلوں میں گھر گئے ، زندہ جل گئے، راکھ میں بدل گئے، جان کے ساتھ زندگی بھر کی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور راکھ میں بدل چکے ہیں ، ان کے گھروں میں سناٹا ہے آہیں ہیں اور بین ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ اس اندوہناک سانحہ میں جان بحق ہونے والے تمام افراد کیلئے ہم بارہ گاہ الہی میں دعا گو ہیں، سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، دکھ کی گھڑی میں غمز دہ ورثا کے ساتھ کھڑے ہیں ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور ان کے آنسو پوری قوم کے آنسو ہیں ۔ اپنے بیان میں انھوں نے حکومت ، صوبائی اور بلدیاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں قائم اور زیر تعمیر تمام کمرشل اور رہائشی پلازوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری یقینی بنایا جائے ۔ فائر سیفٹی سسٹم ، ہنگامی اخراج کے راستے ، بجلی کے محفوظ نظام اور باقاعدہ انسپکشن کو محض کاغذی کاروائی کے بجائے عملی شکل دی جائے جو لوگ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز سخت کاروائی کی جائے ۔ اگر آج بھی ہم نے اس سانحہ سے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی پلازہ ، کوئی اور بازار ، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ انسانی جان کو اولین ترجیح بنایا جائے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

  • جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،شرجیل میمن

    جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فود غفار سومرو، پی ڈی یلو لائن بی آر ٹی ضمیر عباسی اور ایس ایم ٹی اے کے حکام شریک ہوئے،اجلاس میں مختلف منصوبوں، ریڈ لائن، یلو لائن بی آر ٹی کے کام میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ،سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی میں مزید نئی ای وی بسز اور ای وی ٹیکسی شروع کرنے سے متعلق آگہی دی ،سی او ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن پر جاری کام پر اجلاس کو بریفنگ دی،اجلاس کو بتایا گیا کہ نیپا چورنگی کے پاس ریڈ لائن بی آر ٹی کے دونوں اطراف کام مکمل کرنے جا رہے ہیں،یلو لائن بی آر ٹی کے پروجیکت ڈائریکٹر نے اجلاس کو کام میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا ،سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے، جلد ہی دوسرے حصے پر بھی کام شروع کیا جائے گا،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی شہر کے اہم مقامات اور کاروباری مراکز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے، کام میں کسی بھی تاخیر سے گریز کے لئے فیلڈ لیول پر تمام مسائل کے حل یقینی بنایا جائے، جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی، پنک اسکوٹیز کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے، کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی پنک اسکوٹیز کی تقسیم کے پروگرام منعقد کئے جائیں.

  • قومی اسمبلی میں سحر کامران کسانوں کی آواز بن گئیں

    قومی اسمبلی میں سحر کامران کسانوں کی آواز بن گئیں

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی،پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، سحر کامران نے زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو کسان دشمن قرار دے دیا۔

    انہوں نے ایوان میں خطاب کے دوران کہا کہ ہر مقامی فصل کی کٹائی سے قبل ایسے حالات دانستہ طور پر پیدا کر دیے جاتے ہیں جن سے زرعی اجناس کی درآمد (امپورٹ) کا جواز بنایا جا سکے، جس کا براہِ راست نقصان ملکی کسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔سحر کامران نے کہا کہ کسان پہلے ہی گزشتہ دو برسوں سے گندم کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور حکومتی عدم توجہی نے کسانوں کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسان مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس کے باوجود حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر رہی ہیں۔

    ایوان میں خطاب کے دوران سحر کامران نے وفاقی وزیر سے براہِ راست سوال کیا کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران کتنی چینی درآمد کی گئی، یہ درآمد کن ممالک سے ہوئی اور اس پر ٹیکس میں کتنی چھوٹ دی گئی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اس حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے اور کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس سے شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

    انہوں نے کھاد کی قیمتوں سے متعلق حکومتی دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ سحر کامران کے مطابق حکومت کھاد کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست کسان بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں، مگر اس کے باوجود کسانوں کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔سحر کامران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کسان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی پیداوار کو ترجیح دی جائے، درآمدی پالیسیوں میں شفافیت لائی جائے اور کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے، تاکہ ملکی معیشت کی بنیاد سمجھے جانے والے زرعی شعبے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

  • جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

    درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں

  • پنجاب بلدیاتی انتخاب،ضرورت پڑی تو ہم وزیراعلیٰ کو بلا لیں گے،چیف الیکشن کمشنر

    پنجاب بلدیاتی انتخاب،ضرورت پڑی تو ہم وزیراعلیٰ کو بلا لیں گے،چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی کمیٹی قائم کرتے ہوئے 10 فروری تک پنجاب حکومت کی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات انعقاد میں تاخیر کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی،چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دستاویزات فراہمی کی جو ٹائم لائن دی تھی اسے پورا نہیں کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں۔ الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے۔ پنجاب حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے،ہمارے تحفظات ختم کرے۔،حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ صوبے کمیشن کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔ پنجاب کی 3 مرتبہ حلقہ بندی کرائی ، بہت عوام کا پیسہ خرچ ہوا،

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا مشترک ہے۔ ممبر کمیشن نے جواب دیا کہ دونوں میں ایک ہی حکومت ہے۔ ممبرکمیشن نے کہا کہ اگر حکومت نہ الیکشن کرائے تو نااہل ہو جائے گی؟حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنجیدہ نتائج ہوں گے لیکن نااہلی نہیں ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پھر کیا سخت سزا ہوئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ ایک سیکنڈ بھی سزا ہو تو نااہل ہو جائیں گے ۔ حکام نے کہا کہ ابھی وہ والی اسٹیج نہیں آئی،

    سیکرٹری مقامی حکومت پنجاب نے کہا کہ ٹائم لائن سے تاخیر ڈی مارکیشن رولز کی وجہ سے ہوئی۔ جو قانون سازی ہوتی ہے کابینہ نے منظور کرنی ہوتی ہے، کابینہ میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ اب ڈی مارکیشن رولز نوٹی فائی ہو چکے ہیں، ڈی مارکیشن پر اپیل آج تک مکمل ہوں گی۔ جیسے ڈی مارکیشن ہمارے پاس آ جائے گی ہم کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دیں گے، ڈی لمیٹیشن ،ڈی مارکیشن پر منحصر ہے، جیسے ڈی مارکیشن ہوئی، ڈی لمیٹیشن کر دیں گے ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ڈیڈ لائن میں سوا ماہ کی تاخیر ہے۔ پنجاب میں نیا سسٹم آ رہا ہے ۔

    ممبر کمیشن نے کہا کہ 36، 37 اضلاع ہیں، ان کی ڈی مارکیشن ہونی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ پھر کابینہ کے پاس آیئےگا پھر لیٹ ہو گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ اب معاملہ سموتھ ہو گیا ہے، رولز میں وضاحت آگئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ کیا 4 ہفتے میں ہو جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ ہم تیار ہیں، چیف منسٹر کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بہت شرمندگی ہے کہ پنجاب میں 2021 سے لوکل حکومت نہیں۔ وفاقی ،صوبائی حکومت سے زیادہ لوکل حکومت اہم ہے۔ اگر مقامی حکومت ضروری نہیں تو پھر تو صوبائی حکومت کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کمیٹی قائم کرتے ہیں جو ہفتہ دس دن میں کام مکمل کرلے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی کمیٹی لاہور آئے گی ۔ وہاں پنجاب حکومت کی قائم کمیٹی کے ساتھ مسلسل اجلاس کرکے معاملات حل کریں۔ معاملہ حل کرکے چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن کو مطلع کر دیں۔ 10 فروری کو دوبارہ سماعت ہو گی،چیف سیکریٹری نے کہا کہ فروری 20 تک مہلت کر دیں تاکہ کمیٹی اپنا کام مکمل کر لے،چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم سماعت 20 فروری تک ملتوی کرتے ہیں لیکن کمیٹی 10 تک کام مکمل کر لے۔ آپ چیف منسٹر کو اس مسئلہ کی سنجیدگی کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر الیکشن کمیشن مزید کوئی ایکشن لے تو بہت شرمندگی ہو گی۔ 20 فروری کو ضرورت پڑی تو ہم چیف منسٹر کو بلا لیں گے۔ کمیشن کو پھر لگا تو الیکشن کمیشن کو خود ٹیک اور کرکے الیکشن کرا دے گا۔ پھر ہم ڈی مارکیشن کے لیے ڈی سیز کو خود بلا لیں گا۔ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم ڈی سیز کو بلا کر ہدایت کریں۔ اس کے نتائج ہوں گے۔ امید ہے 20 فروری تک معاملات حل ہو جائیں گے۔ ورنہ الیکشن کمیشن نے آپ کو روڈ میپ بتا دیا ہے۔ کیس کی سماعت 20 فروی تک ملتوی کر دی گئی۔

  • تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ کی سب سے بڑی رہائشی اسکیم الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک نہایت اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس نے سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے سینکڑوں خاندانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کو ایگریکلچرل (زرعی) قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر لاکھوں روپے میں خریدے گئے پلاٹس پر نہ تو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی نقشہ پاس کروانا ممکن رہا ہے۔ یوں عملاً سوسائٹی میں تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے نے ان سینکڑوں خاندانوں کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں ڈال دیا ہے، جنہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس امید پر اس سوسائٹی میں لگائی تھی کہ یہاں ایک محفوظ اور قانونی رہائشی مستقبل میسر آئے گا۔ پلاٹ مالکان کوتمام تر ادائیگیاں مکمل کرنے اور برسوں انتظار کے باوجود اب ان کے خواب ادھورے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عوامی حلقوں کے مطابق اگر سوسائٹی کی زمین کو زرعی ہی برقرار رکھا گیا تو پلاٹس کی قانونی حیثیت، مالکانہ حقوق اور مستقبل کی سرمایہ کاری سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں گھروں کی تعمیر ناممکن ہو گئی ہے
    ، عوامی حلقوں نے منتخب ممبرانِ اسمبلی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین معاملے میں اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔ پلاٹ مالکان کی جانب سے اس ضمن میں احتجاج بھی متوقع ہے،باخبر ذرائع کے مطابق الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی ن لیگ ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان کی ہے جنہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بچانے کے لئےتگ و دو شروع کر دی ہے،

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تلہ گنگ کے مقامی صحافیوں نے الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے حقائق پر مبنی خبر کو شائع کرنے سے انکار کیا ہے،

    الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک فلک شیر اعوان اگر باغی ٹی وی کو مؤقف دینا چاہیں تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا،
    ای میل ایڈریس
    editor@baaghitv.com

  • بھارت میں کتے بھی محفوظ نہ رہے،دو ماہ کے کتے کے ساتھ جنسی زیادتی

    بھارت میں کتے بھی محفوظ نہ رہے،دو ماہ کے کتے کے ساتھ جنسی زیادتی

    بھارت کے شہر ممبئی کے شمالی علاقے مالاڈ میں پولیس نے ایک 20 سالہ نوجوان کے خلاف دو ماہ کے کتے کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور تشدد کرنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی شام ایک عوامی بیت الخلا میں پیش آیا۔

    کُرار پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ملزم کی شناخت وکاس بیساکر پاسوان کے نام سے ہوئی ہے، جو کتے کے بچے کو بیت الخلا کے اندر لے گیا جہاں اس نے جانور کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد ازاں اسے بے رحمی سے مارا پیٹا۔ اہلکار کے مطابق واقعے کے دوران وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے شور شرابہ دیکھا جس پر اس نے ایک جانوروں سے محبت رکھنے والی خاتون گیتا پٹیل کو اطلاع دی۔ گیتا پٹیل نے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ملزم کو قابو میں لے لیا۔ کتے کے بچے کو نہایت تشویشناک حالت میں ریسکیو کیا گیا، جسے فوری طور پر ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    واقعے کے بعد عوامی بیت الخلا کے باہر لوگوں کی جانب سے ملزم کو پکڑنے اور ہنگامہ آرائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 325 (جانوروں کو ہلاک یا معذور کرنے کی نیت سے شرارت) اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون (Prevention of Cruelty to Animals Act) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال اسے باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔

  • شوہر کو بریانی میں نیند کی گولیاں کھلا کر کیا قتل،لاش کے پاس بیوی "فحش”ویڈیو دیکھتی رہی

    شوہر کو بریانی میں نیند کی گولیاں کھلا کر کیا قتل،لاش کے پاس بیوی "فحش”ویڈیو دیکھتی رہی

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے شوہر کو نیند کی گولیاں ملا کر بریانی کھلائی اور پھر اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گنٹور کے گاؤں چلوورو میں پیش آیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول لوکم شیوا ناگ راجو کی موت کو ابتدا میں طبعی قرار دے کر معاملہ چھپانے کی کوشش کی گئی، تاہم فرانزک معائنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ موت دم گھٹنے اور سینے پر چوٹوں کے باعث ہوئی، جس کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔تحقیقات کے مطابق مقتول کی اہلیہ لکشمی مادھوری کا اپنے آشنا گوپی کے ساتھ کافی عرصے سے ناجائز تعلق تھا۔ واردات کی رات مادھوری نے بریانی تیار کی جس میں نیند کی گولیوں کا پاؤڈر ملایا گیا۔ شوہر کے کھانا کھانے اور گہری نیند میں جانے کے بعد مادھوری نے گوپی کو گھر بلا لیا۔ دونوں نے مل کر تکیہ مقتول کے چہرے پر رکھ کر اسے دم گھونٹ دیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    واردات کے بعد مادھوری نے قتل کو دل کا دورہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ علی الصبح اس نے شور مچایا اور پڑوسیوں کو بتایا کہ اس کے شوہر کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور وہ انتقال کر گئے۔ تاہم مقتول کے والد اور دوستوں کو لاش دیکھ کر شک ہوا کیونکہ جسم پر چوٹوں کے نشانات اور خون کے دھبے موجود تھے۔ انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی جس پر باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں۔پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا اور سینے پر شدید دباؤ ثابت ہوئی، جس سے طبعی موت کا امکان رد ہو گیا۔ بعد ازاں مادھوری اور اس کے آشنا گوپی کو حراست میں لے لیا گیا۔

    تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف اس وقت سامنے آیا جب مادھوری کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ پوری رات شوہر کی لاش کے قریب بیٹھی فحش ویڈیوز دیکھتی رہی۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مادھوری نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اس نے گوپی کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی اور واردات انجام دی۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ڈیووس: بلاول  کی  وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  سےملاقات

    ڈیووس: بلاول کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سےملاقات

    سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی اقتصادی فورم جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ قومی ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری جاری رکھنی چاہیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتحال، خطے میں امن و سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور پاکستان کے مثبت عالمی کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ مضبوط روابط استوار کرتے ہوئے اقتصادی سفارتکاری کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا سے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جس میں پاکستان میں رہائش اور صفائی و نکاسی آب کے منصوبوں سے متعلق گفتگو ہوئی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی و جغرافیائی حالات کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کو بھی پیش کیا

  • برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری ، شدید موسم، پاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے برف باری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    برف باری اور شدید سرد موسم کے دوران پاک فوج نقل تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے. برف باری کے دوران پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے -متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر بحران کی تشخیص اور صورتحال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت حل نکالا جا سکے۔پاک فوج کے یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور کفالت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔