Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیدہ آسیہ اندرابی و دیگر خؤاتین کو سزائیں،کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھینا جا سکتا،خالد مسعود سندھو

    سیدہ آسیہ اندرابی و دیگر خؤاتین کو سزائیں،کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھینا جا سکتا،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارتی عدالت کی جانب سے دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو 30،30 برس قید کی سزا ئیں انصاف کا قتل عام ہیں،مودی سرکار قیدو بند کی صعوبتیں دے کر کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھین سکتی، بھارتی عدالت کے فیصلے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ،مودی سرکار کا انتقام اور جبر کی واضح عکاسی ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ سیدہ آسیہ اندرابی اور فہمیدہ صوفی،ناہیدہ نسرین کو سزاوں کے اقدام کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، حریت قیادت کو نشانہ بنانے کا مقصد تحریک آزادی کو کمزور کرنا ہے تا ہم یہ مودی سرکار کی بھول ہے، ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے حوصلے ہرگز پست نہیں کیے جا سکتے،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی جیل میں،دیگر حریت رہنما بھی جیلوں میں ہیں، حکومت پاکستان کو چاہئے کہ کشمیریوں کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑے،مودی سرکار کی ریاستی دہشتگردی کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے، سیدہ آسیہ اندرابی اور دیگر خواتین کو سزاؤں کے معاملے کو بھرپور انداز میں بین الاقوامی سطح پر اٹھائے.

  • اداکارہ مونالیسا کا ہدایت کار سنوج مشرا پر ہراسانی کا الزام

    اداکارہ مونالیسا کا ہدایت کار سنوج مشرا پر ہراسانی کا الزام

    انٹرٹینمنٹ کی دنیا سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جس نے فلم انڈسٹری میں سیفٹی اور ورک کلچر پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اداکارہ مونالیسا نے اپنی پہلی فلم ’ڈائری آف منی پور‘ کے ہدایت کار سنوج مشرا پر سیٹ پر جنسی ہراسانی اور بدتمیزی کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔

    وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مونالیسا نہایت جذباتی انداز میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کرتی نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اداکارہ کے مطابق ہدایت کار نے انہیں کئی بار نامناسب طریقے سے چھوا۔مونالیسا نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا“وہ اچھے انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے سیٹ پر 10 بار نامناسب طریقے سے چھوا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو بھی بتایا، لیکن شروع میں وہاں سے بھی مجھے مکمل حمایت نہیں ملی۔”انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک خاتون کو فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کے لیے اپنی عزت قربان کرنا پڑتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اہلِ خانہ نے ابتدا میں انہیں فلم مکمل کرنے کا مشورہ دیا، جس پر انہوں نے شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ انصاف چاہتی ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ ان کے انکشافات نے ایک بار پھر فلم انڈسٹری میں ’می ٹو‘ جیسی تحریکوں کی یاد تازہ کر دی ہے، جہاں نئے آنے والوں کے استحصال کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب ہدایت کار سنوج مشرا نے تاحال ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ ان کی خاموشی نے معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر مداحوں کی بڑی تعداد مونالیسا کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے۔واضح رہے کہ فلم ’ڈائری آف منی پور‘ پہلے ہی اپنے متنازع موضوع کے باعث خبروں میں تھی، تاہم اب مرکزی اداکارہ کے الزامات کے بعد فلم کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے تو یہ انڈسٹری کے لیے ایک بڑا کیس ثابت ہو سکتا ہے۔

  • آسیہ اندرابی کو سزا کا فیصلہ انصاف کا قتل ہے، پاکستان

    آسیہ اندرابی کو سزا کا فیصلہ انصاف کا قتل ہے، پاکستان

    پاکستان نے کشمیری سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کودہلی کی ایک عدالت کی جانب سے عمرقید اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو تیس تیس سال قیدبامشقت کی سزا کو یکسر مستردکر دیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کاقتل اوربھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا عکاس ہے،ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس فیصلے کو ایک وسیع تر رجحان کا حصہ سمجھتا ہے جس کے تحت سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کر کے اختلافی آوازوں کو دبانا اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرناہے،ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول میں جموں و کشمیر کے عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

  • ایرانی اعلیٰ شخصیت سے بات چیت جاری،مگر وہ مجتبیٰ خامنہ ای نہیں،ٹرمپ

    ایرانی اعلیٰ شخصیت سے بات چیت جاری،مگر وہ مجتبیٰ خامنہ ای نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی کچھ تیل کی اسٹاک پائلز پر پابندیاں نرم کرنے کے اقدام کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کے دوران سپلائی بڑھانے کے لیے ہے اور یہ جنگ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔

    ٹرمپ نے سی این این رپورٹر سے گفتگو میں کہا ،”میں بس چاہتا ہوں کہ نظام میں زیادہ سے زیادہ تیل موجود ہو۔” انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے ایران کو نقد رقم بھیجنے کے اقدام پر اپنی تنقید دہرائی، مگر کہا کہ ایران کے لیے یہ رقم حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں ہٹانے سے ایران کو مالی فائدہ ہوگا، لیکن وہ رقم جنگ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی۔ "جو بھی تھوڑی بہت رقم ایران کو ملے گی، اس سے اس جنگ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ نظام ہموار رہے۔”

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایک "اعلیٰ شخصیت” سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ جنگ ختم کی جا سکے، لیکن یہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں ہیں۔ٹرمپ نے کہا "ہم نے قیادت کے پہلے، دوسرے اور زیادہ تر تیسرے مرحلے کو ختم کر دیا ہے، لیکن ہم اس آدمی سے بات کر رہے ہیں جسے میں سب سے زیادہ معزز اور رہنما سمجھتا ہوں۔”انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، لیکن ایران کے کس شخص سے بات ہوئی، اس کی شناخت نہیں کی۔جب کولنز نے پوچھا کہ کیا امریکی حکومت خامنہ ای سے بات کر رہی ہے، ٹرمپ نے کہا: "نہیں، سپریم لیڈر نہیں۔”

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ پینٹاگون کے لیے 200 بلین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، حالانکہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا "یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے ،دنیا بہت متنازع ہے اور بڑی حد تک ڈیموکریٹس اس میں اضافہ کرتے ہیں۔”سی این این کے مطابق، ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں کانگریس سے یہ فنڈنگ مانگ سکتے ہیں، لیکن اسے منظور کرانا بہت مشکل ہوگا کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے رہنما اپنے اندر ووٹ نہیں دیکھتے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ "اہم نکات پر اتفاق” ہو چکا ہے، اور مذاکرات اتوار کی رات دیر تک جاری رہے۔ انہوں نے کہا "وہ بالکل درست گئے۔ ایران نے مذاکرات کا آغاز کیا۔ اگر یہ بات چیت کامیاب ہوئی تو یہ مسئلہ اور تنازع بہت حد تک ختم ہو جائے گا۔”ٹرمپ نے کہا کہ ایران واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ بھی چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت کے بعد فون کالز اور جلد ہی ذاتی ملاقات متوقع ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے، اور امریکہ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا کنٹرول حاصل کرے گا۔

  • ایران معاہدے کا خواہشمند ہے،ٹرمپ کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید

    ایران معاہدے کا خواہشمند ہے،ٹرمپ کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا “بہت خواہشمند” ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بات چیت “بہت مضبوط” رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

    فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ اہم امور پر پیش رفت کی ہے اور مذاکرات “بالکل درست سمت میں” جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت گزشتہ روز رات تک جاری رہی۔ٹرمپ کا کہنا تھا، “ایران بہت زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم بھی اس کے خواہشمند ہیں۔ ممکنہ طور پر آج دوبارہ رابطہ ہوگا، شاید فون پر، کیونکہ ان کے لیے آنا جانا مشکل ہے۔”

    امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا، “اگر کوئی حل نہ نکلا تو ہم بمباری جاری رکھیں گے۔”ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے حال ہی میں اسرائیل سے رابطہ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی معاہدے پر اسرائیل مطمئن ہوگا۔ ان کے بقول، “یہ اسرائیل کے لیے طویل المدتی اور یقینی امن کا باعث بن سکتا ہے۔”

    دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ نہ براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ بیانات امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وقت حاصل کرنا اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالنا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق بارک راویڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایرانی خبر رساں اداروں نے اس کی بھی تردید کی ہے۔ایران کے سرکاری اخبار کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔اخبار نے کہا، "امریکی صدر کے ریمارکس توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے وقت خریدنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔”فارس خبر رساں ایجنسی نے بھی ٹرمپ کی سوشل پوسٹ کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

  • پاکستان دہشتگردی کا شکار، سیکورٹی فورسز  کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تابش قیوم

    پاکستان دہشتگردی کا شکار، سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ میں پاکستان کا دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آنا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور عوام و سیکیورٹی ادارے مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز ،عوام پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر کارفرما ہیں جو ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور اپنی ریاستی دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا ہے، دہشتگردی کبھی مسلک، کبھی فرقہ واریت اور کبھی لسانی بنیادوں پر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا مقصدپاکستان کو عدم استحکام سے دوچارکرنا ہے،فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کی بجائے ایک میز پر بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور مشترکہ حکمت عملی اپنائیں،حکومت کو بھی چاہئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جس طرح 23 مارچ کو قوم نظریۂ پاکستان پر متحد ہوئی تھی، اسی طرح آج دہشتگردی کے خلاف بھی قومی یکجہتی ناگزیر ہے، اگر قوم متحد ہو جائے تو کوئی بھی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا،

  • امریکہ ایران  کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور مصر نے بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔رائٹرز کے دعوے کے مطابق تینوں ممالک نے عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں۔بات چیت کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا تھا جس کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں 5 دن کیلئے امریکی حملے روک دیئے گئے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ خطے کے اہم ممالک پس پردہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی، مصر اور پاکستان گزشتہ چند دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ممالک ایسے وقت میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جب حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی یا ممکنہ جنگ بندی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں انہوں نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ادھر دیگر سفارتی چینلز بھی متحرک ہیں۔ قطر، مصر اور برطانیہ نے امریکی تجاویز ایرانی حکام تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے لیے سخت شرائط شامل ہیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو پانچ سال کے لیے معطل کرنا، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور نطنز جوہری تنصیب، اصفہان جوہری تنصیب اور فردو جوہری تنصیب جیسے مراکز کو بند کرنا شامل ہے۔
    مزید برآں، تجاویز میں جوہری تنصیبات اور سینٹری فیوجز کی سخت بین الاقوامی نگرانی، خطے میں میزائل کی حد 1000 کلومیٹر تک محدود کرنا، اور حزب اللہ، حوثی تحریک اور حماس جیسے گروہوں کی مالی و عسکری مدد ختم کرنا بھی شامل ہے۔

    وزیر خارجہ ترکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک سے وسیع مشاورت کی ہے، جس میں ایرانی اور مصری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی اور یورپی عہدیداران سے بھی بات چیت شامل ہے۔اسی دوران عمان، مصر، پاکستان اور ترکی کے سینئر سفارتکار خاموشی سے تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • امریکہ  نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی

    امریکہ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تیسرے فریق کے ذریعے ہتھیاروں کی منتقلی کی بھی اجازت دے دی ہے، جس کے تحت اتحادی ممالک اپنے ذخائر میں موجود امریکی ساختہ اسلحہ سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔عہدیدار کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ خدشہ ایران کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کا ہے، خاص طور پر اگر امریکہ ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ خلیجی عرب ممالک، جو پہلے ہی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، اس صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ نومبر میں سعودی عرب کو امریکہ کا “میجر نان نیٹو اتحادی” قرار دیا گیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کے لیے 8 ارب ڈالر اور اردن کے لیے 70.5 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کی منظوری بھی تیز رفتار بنیادوں پر دی۔

    دوسری جانب قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی ثالثی میں شامل نہیں۔ ایک قطری سفارتکار کے مطابق ایران کی جانب سے گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد قطر اس وقت اپنی دفاعی صورتحال کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

  • پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    ناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے چانسری لان میں قومی پرچم بلند کیا۔اس موقع پر صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔سعد احمد وڑائچ کا کہنا تھا کہ 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت سات سال کے مختصر عرصہ میں اس اجتماعی تحریک کو قیام پاکستان کی صورت ایک اظہار ملا۔ تحریک پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، انکی عظیم قربانیاں آزادی کے انمول تحفے کے تحفظ اور ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مخلصانہ کاوشیں بروئے کار لانے میں پوری قوم کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ آج کے بھارت پر نظر دوڑائیں تو ہندوتوا کا عفریت ہمارے اسلاف کی دوراندیشی کی زندہ مثال ہے-تاریخ کا سبق ہے کہ وہی قومیں حقیقتاً آزاد رہیں جو اپنی آزادی کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ معرکہ حق نے ایک بار پھر دفاع وطن کے لیے ہماری قوم کے اجتماعی عزم کی تجدید کی۔ پوری دنیا پاکستان کے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور آزادی کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی گواہ ہے۔

    دفاع وطن کیلئے بہادر مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے سعد احمد وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کا وضع کردہ ڈیٹرنس نہ صرف جنوبی ایشیا میں استحکام کا سبب ہے بلکہ علاقائی امن کی بھی ضمانت ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تعلقات برابری، باہمی احترام اور تمام تنازعات کے پُرامن حل کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا ہدف تنازعہ جموں و کشمیر کا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر اور برادر عوامِ ایران کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔ ایرانی صدر نے بھی ان جذبات کا پرتپاک انداز میں جواب دیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بطور ہمسایہ برادر ملک، وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں و متاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انہوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔