Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مختلف مقدمات کی سماعت مقرر کروانے کے لیے بیرسٹر گوہر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیمبر پہنچے، تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہ ہو سکی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ عدالتی معاملات کے حل اور کیسز کی بروقت سماعت کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر گئے تھے، مگر ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈویژن بینچ میں پیشی کے بعد ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کے چیمبر جانے کا ارادہ ہے اور کوشش کی جائے گی کہ کیسز کی سماعت کے لیے تاریخ حاصل کی جا سکے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے، کیونکہ ہم بارہا عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اب تک تقریباً 15 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ آ چکی ہے، مگر اس کے باوجود کیسز کی سماعت مقرر نہیں ہو پا رہی۔

    انہوں نے خاص طور پر بشریٰ بی بی کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کی اپیل قانون کے مطابق جلد سنی جانی چاہیے، مگر بدقسمتی سے اس معاملے میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف متاثرہ فریق کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے بلکہ عدالتی نظام پر سوالات بھی اٹھاتی ہے۔بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ اور اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے کا نوٹس لیں گی اور عمران خان و بشریٰ بی بی کے کیسز کی جلد سماعت یقینی بنائی جائے گی تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

  • قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں “تاریخ پہ تاریخ” پڑ رہی ہے اور آج ایک بار پھر تاریخ ڈال دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کو جرمانستان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شیخ رشید احمد نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جبکہ مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے اور قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    انہوں نے حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں پر عائد کیے گئے جرمانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیکیہ چلانے والے پر 2 ہزار روپے، ریڑھی بان پر 5 ہزار روپے جبکہ دکاندار پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق یہ فیصلے عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقہ بھی عزت اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عوام کے لیے جینا مزید مشکل ہو جائے گا۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں شیخ رشید احمد اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی عملے کی جانب سے ان کی حاضری کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔

  • سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے ملک میں تعلیمی نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے تولیدی صحت کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانے کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے

    اس بل کے تحت 14 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مرحلہ وار اور عمر کے مطابق تولیدی صحت سے متعلق تعلیم فراہم کی جائے گی۔بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم کا مقصد صرف حیاتیاتی معلومات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق جامع آگاہی شامل کی جائے گی۔ اس نصاب کے ذریعے طلبہ کو صحت مند طرزِ زندگی، ذاتی صفائی، ذہنی توازن، سماجی ذمہ داریوں اور باہمی احترام جیسے اہم موضوعات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر فیصلے کر سکیں۔

    قانون سازی میں والدین کے کردار کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم یا رہنمائی دینے سے قبل والدین یا سرپرست کی تحریری رضا مندی لازمی ہوگی۔ اس شق کا مقصد والدین کے تحفظات کو دور کرنا اور تعلیمی عمل میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔بل کے متن کے مطابق نصابی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹیز اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مواد طلبہ کی عمر، ذہنی سطح اور سماجی اقدار کے مطابق ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے گا کہ حساس موضوعات کو محتاط، سادہ اور تعلیمی اصولوں کے تحت پیش کیا جائے، تاکہ طلبہ پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔

    ایوان میں بل پر بحث کے دوران حامی ارکان کا کہنا تھا کہ تولیدی صحت سے متعلق درست اور بروقت آگاہی نوجوانوں کو صحت کے مسائل، ذہنی دباؤ اور سماجی غلط فہمیوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ذریعے شعور اجاگر کرنا معاشرے کی مجموعی صحت اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔دوسری جانب بعض ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب کی تیاری اور نفاذ کے دوران معاشرتی اقدار، ثقافتی حساسیت اور مذہبی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی طبقے کے تحفظات جنم نہ لیں۔

  • گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    کراچی: ممتاز عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے نہایت شرمناک اور سوالیہ نشان قرار دیا، کہا کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پایا جانا ایک سنگین انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کے واقعے میں بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور متاثرین تک فوری مدد کیوں نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، بے لاگ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں کے دوران قیمتی انسانی جانیں بے بسی اور بے چارگی کی حالت میں ضائع ہو گئیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے مطابق اس حادثے میں نہ صرف درجنوں خاندان اجڑ گئے بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار تاجروں کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔مفتی تقی عثمانی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شہری مراکز، خاص طور پر تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر مؤثر، مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ناقابلِ معافی ہے۔تاہم انہوں نے ان افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آخرکار متاثرہ افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کی اور امدادی خدمات انجام دیں۔ مفتی تقی عثمانی نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو اس عظیم نقصان کا بہتر نعم البدل عطا کرے۔

  • الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس  کی سماعت

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی،

    جس میں سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو جو نوٹس جاری ہوا وہ تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کا تھا جو این اے 18 میں شامل نہیں، جبکہ الیکشن ہری پور میں تھا، وکیل کے مطابق ڈی ایم او کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد درج ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ہری پور لکھا گیا جو واضح تضاد ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مقام حویلیاں تھا ہری پور نہیں، علی بخاری نے کہا کہ اگر غلطی سے غلط ضلع لکھا گیا ہے تو نوٹس واپس لیا جائے، نوٹس میں تحصیل حویلیاں درج ہے اور ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ شامل نہیں، وزیر اعلیٰ کو ہری پور جانا منع تھا اور وہ وہاں نہیں گئے، اگر ہری پور سمجھ کر بلایا گیا ہے تو یہ غلط بنیاد پر بلایا گیا،

    وکیل نے مؤقف اپنایا کہ قانون کے مطابق بدمزگی یا نتائج میں مداخلت کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آتی ہے، نوٹس کے ساتھ منسلک کاپی میں واضح طور پر درج ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا اگر نتائج میں تبدیلی یا بدمزگی کی گئی، علی بخاری نے کہا کہ ڈی ایم او مجھے بلا کر پچاس ہزار روپے جرمانہ کر سکتا تھا مگر جب کمیشن نے بلایا تو ڈی ایم او کے پاس معاملہ التوا ہو گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی معاملے پر دو کیسز اور دو سزائیں نہیں دی جا سکتیں، مزید یہ کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن خود شکایت کنندہ ہیں اور کیس بھی الیکشن کمیشن ہی سن رہا ہے جو خود شکایت اور خود ہی انصاف کے مترادف ہے،

    چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ اگر خلاف ورزی ہوتی رہے اور چیف منسٹر دھمکی دیتا رہے تو کیا الیکشن کمیشن آنکھ بند کر کے بیٹھا رہے، جس پر علی بخاری نے جواب دیا کہ جب آپ خود شکایت کنندہ ہیں تو کیس خود کیسے سن رہے ہیں، وکیل نے مزید کہا کہ ڈی ایم او نے نوٹس دیا تھا تو پہلے وہ فیصلہ کرتا، بعد ازاں معاملہ اپیل میں الیکشن کمیشن آنا چاہیے تھا، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کا اختیار نہیں اور سہیل آفریدی نہ ضلع، نہ حلقے، نہ پولنگ اسٹیشن میں گیا اور نہ ہی اس نے کوئی غیر آئینی الفاظ ادا کیے،

  • ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    معروف مسیحی رہنما ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    ان کی آخری رسومات منگل، 20 جنوری 2026 کو دوپہر 2:30 بجے سوئفٹ میموریل چرچ، منیر چوک، سول لائنز، گوجرانوالہ میں ادا کی جائیں گی، جہاں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، سماجی شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہو گی،والدہ کی وفات پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل اور ان کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا، جبکہ سوگوار خاندان کے لیے صبر، حوصلے کی دعا کی گئی۔

  • پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور حفظانِ صحت کے نظام کو مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں صفائی کے نظام میں بڑی انتظامی اور قانونی تبدیلی متوقع ہے۔منظور شدہ بل کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی ایک بااختیار کارپوریٹ ادارہ ہوگی جو پورے صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسی سازی، قانون سازی، معیار کے تعین اور نگرانی کے فرائض انجام دے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس اتھارٹی کی چیئرمین ہوں گی جبکہ وزیر بلدیات وائس چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور تمام ڈویژنل کمشنرز اتھارٹی کے ممبران ہوں گے، جس سے فیصلہ سازی میں انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

    بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پالیسی، قوانین اور معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ لینڈفل سائٹس کی تعمیر اور ان کے انتظام کی بھی مجاز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کچرے کے سائنسی اور ماحول دوست انتظام کو فروغ دینا ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ضلع کی سطح پر ستھرا پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو لائسنسنگ، رجسٹریشن اور فیس وصولی کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ ویسٹ مینجمنٹ انسپکٹرز کی تقرری بھی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔ دیہی علاقوں میں صفائی اور حفظانِ صحت کی بہتری کی ذمہ داری بھی اسی اتھارٹی پر عائد کی گئی ہے۔

    بل کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ خدمات کے عوض فیس مقرر کر سکے گی۔ تاہم ایک اہم شق کے مطابق اتھارٹی کے فیصلوں کو براہِ راست عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جسے حکومت انتظامی امور میں تیزی اور رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف صوبے میں صفائی کے نظام کو مرکزی اور مربوط انداز میں چلایا جا سکے گا بلکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام پنجاب کو جدید اور ماحولیاتی طور پر محفوظ صوبہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

  • ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی میں بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل ایک گاڑی پیر کی شام سڑک حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اکشے کمار اپنی اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کے ہمراہ ایئرپورٹ سے اپنے جوہو کے رہائشی مکان واپس جا رہے تھے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کار نے پیچھے سے ایک آٹو رکشہ کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں رکشہ الٹ گیا اور اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل اسکارٹ گاڑی سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ سیکیورٹی گاڑی سڑک پر دائیں جانب الٹ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکشے کمار کی اسکارٹ گاڑی سڑک پر ایک طرف الٹی ہوئی ہے، جبکہ آٹو رکشہ بری طرح تباہ نظر آتا ہے اور اوپر سے دب چکا ہے۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    واضح رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ حال ہی میں بیرونِ ملک سفر سے واپس آئے تھے، جہاں وہ اپنی ذاتی زندگی کے ایک خاص موقع کی مناسبت سے گئے تھے۔ دونوں نے حال ہی میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ منائی ہے۔اس موقع پر ٹوئنکل کھنہ نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ اور اکشے کمار پیراگلائیڈنگ کرتے نظر آئے۔ ویڈیو کے ساتھ ٹوئنکل نے لکھا کہ ان کی شادی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے اور “اڑان بھرنے” کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ کی شادی 17 جنوری 2001 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں 23 سالہ بیٹا آراو اور 13 سالہ بیٹی نتارا شامل ہیں۔

  • بھارت کا کروڑ پتی بھکاری،بھیک مانگ کر تاجروں کو سود پر قرض دینے لگا

    بھارت کا کروڑ پتی بھکاری،بھیک مانگ کر تاجروں کو سود پر قرض دینے لگا

    اندور کے مصروف اور تاریخی بازار سرافہ میں روزانہ ایک ایسا منظر دکھائی دیتا تھا جو لوگوں کے دلوں میں ہمدردی جگا دیتا تھا۔ لوہے کی بنی ایک چھوٹی سی گاڑی، جس میں بال بیئرنگ کے پہیے لگے تھے، اس پر ایک جسمانی معذور شخص بیٹھا ہوتا، کندھوں پر بیگ، ہاتھ جوتوں کے اندر ڈالے ہوئے، اور خاموشی سے لوگوں کے درمیان موجود، وہ کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، بس بیٹھا رہتا تھا۔ لوگ خود ہی اس کی جھولی میں سکے یا نوٹ ڈال دیتے تھے۔یہ شخص منگی لال تھا ، جو اب سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق ایک غریب نہیں بلکہ کروڑ پتی نکلا۔

    یہ حیران کن انکشاف خواتین و اطفال ترقیاتی محکمہ کی جانب سے اندور کو بھکاریوں سے پاک کرنے کی مہم کے دوران سامنے آیا۔ ہفتہ کی رات تقریباً 10 بجے ریسکیو ٹیم نے اطلاع ملنے پر سرافہ بازار میں کارروائی کی کہ ایک شخص جو مبینہ طور پر کوڑھ کا مریض ہے، باقاعدگی سے وہاں بھیک مانگتا ہے۔ ٹیم نے اسے ایک عام کیس سمجھا، مگر جب منگی لال سے تفتیش شروع ہوئی تو معاملہ یکسر مختلف نکلا۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ منگی لال گزشتہ چند برسوں سے سرافہ بازار میں خاموش بھیک کے فن میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔ وہ کسی سے سوال نہیں کرتا تھا، اس کی خاموشی اور معذوری ہی اس کا ذریعہ آمدن تھی۔ حکام کے مطابق وہ صرف بھیک سے روزانہ 400 سے 500 روپے کما لیتا تھا، مگر اصل کمائی رات کے اندھیرے میں شروع ہوتی تھی۔خواتین و اطفال ترقیاتی افسر اور ریسکیو آپریشن کے نَوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق منگی لال نے اعتراف کیا کہ وہ بھیک سے جمع ہونے والی رقم کو اپنی بقا پر خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ اسی رقم کو سرافہ بازار کے تاجروں کو سود پر قرض دیتا تھا۔ وہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے رقم دیتا اور روزانہ خود جا کر سود وصول کرتا تھا۔ اندازوں کے مطابق اس نے 4 سے 5 لاکھ روپے مارکیٹ میں لگائے ہوئے تھے، جس سے اسے روزانہ 1,000 سے 2,000 روپے تک کی آمدن ہو رہی تھی۔

    تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ منگی لال تین گھروں کا مالک ہے، جن میں ایک تین منزلہ عمارت جبکہ دو سنگل اسٹوری مکانات شامل ہیں، جو شہر کے اچھے علاقوں میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس تین آٹو رکشے ہیں جو روزانہ کرائے پر چلتے ہیں، اور ایک ماروتی سوزوکی ڈزائر کار بھی ہے، جسے وہ خود چلانے کے بجائے کرائے پر دیتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ منگی لال نے اپنی معذوری کی بنیاد پر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ایک کمرہ، ہال اور کچن پر مشتمل سرکاری مکان بھی حاصل کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے ہی متعدد جائیدادوں کا مالک تھا۔

    دنیش مشرا کے مطابق منگی لال کو فی الحال اجّین کے سیوادھام آشرم منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ان تاجروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جنہوں نے اس سے سود پر رقم لی۔ ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے ضلع کلکٹر کو پیش کر دی گئی ہے، اور آئندہ کارروائی اعلیٰ حکام کی ہدایات کے مطابق کی جائے گی۔حکام کے مطابق منگی لال 2021-22 سے بھیک مانگ رہا تھا اور اب شیلٹر ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس کیس نے اندور کی انسدادِ گداگری مہم میں ایک نیا اور چونکا دینے والا پہلو شامل کر دیا ہے۔ یہ مہم فروری 2024 میں شروع کی گئی تھی، جس کے تحت کیے گئے سروے میں شہر میں تقریباً 6,500 بھکاریوں کی نشاندہی ہوئی۔ اب تک 4,500 افراد کونسلنگ کے بعد بھیک چھوڑ چکے ہیں، 1,600 کو ریسکیو کر کے بحالی مراکز بھیجا گیا ہے جبکہ 172 بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا جا چکا ہے۔

  • عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہیں، جس کے ساتھ ہی صحافتی حلقوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے،سالانہ انتخابات کے لئے ووٹنگ 25 جنوری اتوار کو ہو گی

    لاہور پریس کلب انتخابات کے سلسلے میں دو بڑے پینل سامنے آ گئے ہیں، صدر کے عہدے کے لیے ارشد انصاری اور اعظم چوہدری آمنے سامنے ہیں، جبکہ سیکرٹری جنرل کے اہم عہدے پر ایک بار پھر عبدالمجید ساجد نے میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے، جن کا مقابلہ افضال طالب سے ہو گا۔اسی طرح دیگر عہدوں پر بھی امیدواروں کے نام سامنے آ چکے ہیں،

    لاہورپریس کلب انتخابات کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار برائے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست یا عہدوں سے ذاتی طور پر کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ صرف صحافتی کمیونٹی کی بہتری اور حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف الیکشن لڑنا مقصد نہیں، ہم عہدوں کے خواہش مند نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نئے لوگ آگے آئیں، لیکن اگر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں تو صرف اور صرف صحافی برادری کے لیے لڑ رہے ہیں،عبدالمجید ساجد نے اتحاد کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل تمام افراد کریڈٹ کے مستحق ہیں جنہوں نے اختلافات بھلا کر قربانیاں دیں۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ اب ہم میدان میں آ چکے ہیں، ہم جیت کر آئیں گے، پورا پینل کامیاب ہو گا، ان شاء اللہ۔ گرینڈ الائنس کلین سویپ کرے گا۔

    صحافی برادری کا کہنا ہے کہ لاہور پریس کلب کی تاریخ گواہ ہے کہ عبدالمجید ساجد ہمیشہ صحافتی کمیونٹی کے لیے تنِ تنہا بھی میدانِ عمل میں ڈٹے رہے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے، باوقار اور باکردار لیڈر کے طور پر وہ ایک بار پھر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ماضی میں وہ چار مرتبہ ممبران کے ووٹ اور اعتماد سے کامیاب ہو چکے ہیں اور ایک بار پھر وہ اسی اعتماد کی تجدید کے لیے میدان میں اترے ہیں،کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ