Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    پاک فضائیہ کا دستہ ایف-16 بلاک-52 جنگی طیاروں پر مشتمل فضائی و زمینی عملے کے ہمراہ کنگ عبدالعزیز ایئر بیس سعودی عرب پہنچ گیا ہے۔

    پی اے ایف کا دستہ ملٹی نیشنل فضائی جنگی مشق اسپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کر ے گا،آئی ایس پی آر کے مطابق اس مشق میں سعودی عرب، پاکستان، فرانس، اٹلی، یونان، قطر، بحرین، اردن، برطانیہ اور امریکا کی فضائی افواج حصہ لے رہی ہیں۔ یہ مشق فضائی افواج کے مابین باہمی ہم آہنگی، عملی اشتراک، پیشہ ورانہ بصیرت اور صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو بڑی فضائی قوت کی تعیناتی، رات کے اوقات کئے گئے ایئر آپریشنز، مربوط آئی ایس آر اور جدید الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں کارروائیوں کے حوالے سے اہمیت اُجاگر کرتی ہے ،اس ملٹی نیشنل فورم میں شرکت کے ذریعے پاک فضائیہ شراکت دار فضائی افواج کے ساتھ باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھرپور جنگی ماحول میں اپنی عملی تیاری کی جانچ کر سکے گی۔

    اس بین الاقوامی تعیناتی کے لیے پی اے ایف کے جنگی طیاروں نے پاکستان سے سعودی عرب تک مسلسل پرواز کی جو پاک فضائیہ کی طویل فاصلے تک عملی رسائی اور جنگی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ مشق کے دوران، جدید ایویونکس اور بی وی آر رینج صلاحیتوں سے لیس ایف-16 بلاک-52 طیارے اڑانے والے پاک فضائیہ کے پائلٹس، شریک فضائی افواج کے ہوابازوں کے مدمقابل ہوں گے جو مختلف جدید جنگی طیارے آپریٹ کر رہے ہیں،سپیئرز آف وکٹری-2026 میں پاک فضائیہ کی شرکت نہ صرف علاقائی اور بین الاقوامی عسکری تعاون کے لیے پی اے ایف کے پختہ عزم کی عکاس ہے بلکہ اس کی پیشہ ورانہ مہارت اور مختلف قسم کے آزمائشی ماحول میں صفِ اول کی ہم عصر فضائی افواج کے شانہ بشانہ مؤثر انداز میں کام کرنے کی ثابت شدہ صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • افغان مہاجرین میزبان ممالک کے لیے بڑا سیکورٹی چیلنج

    افغان مہاجرین میزبان ممالک کے لیے بڑا سیکورٹی چیلنج

    افغان مہاجرین میزبان ممالک کے لیے بڑا سیکورٹی چیلنج بن گئے

    افغان مہاجرین کے خلاف مختلف ممالک میں گرفتاریوں اور ملک بدری کی کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں،جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ میں بھی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت،گرفتاریوں کی نئی لہر سامنے آئی ہے،افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ منظر عام پر آگئی ،افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق؛ ترکیہ کے شہر شانلی عرفا میں 14 مزید غیر قانونی افغان پناہ گزین گرفتارکر لیے گئے، غیر قانونی افغان مہاجرین کی نقل و حمل میں ملوث تین سہولت کار بھی گرفتار،جیل منتقل کر دیئے گئے،گرفتار افغان پناہ گزین ٹرک میں چھپ کر غیر قانونی سفر کر رہے تھے، گرفتار افغان باشندوں کو فوری طور پر ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ، قبل ازیں3 جنوری کو دیاربکر سے 32 غیر قانونی افغان پناہ گزین جبکہ 10 جنوری کو توکات اور بولو سے مزید 18 گرفتار کیے گئے ،ترکیہ مائیگریشن ایجنسی نے تازہ اعداد و شمار جاری کردیے، افغانی غیر قانونی مہاجرین کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے،گزشتہ ایک سال میں 1 لاکھ 52 ہزار غیر قانونی پناہ گزین گرفتار،افغان باشندے سر فہرست ہیں، گرفتار غیر قانونی پناہ گزینوں میں 42 ہزار افغان باشندےہیں،طالبان رجیم اس قسم کے رویوں کو روکنے کی کوئی مہم نہیں چلا رہی جس سے یہ واضح ہے کہ اس صورتحال میں بہتری کی کوئی امید نہیں

  • سانحہ گل پلازہ،تخریب کاری کا امکان مسترد،لاپتہ افراد کی نئی فہرست جاری

    سانحہ گل پلازہ،تخریب کاری کا امکان مسترد،لاپتہ افراد کی نئی فہرست جاری

    کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جو اس واقعے کو کسی سازش یا تخریبی کارروائی سے جوڑتے ہوں۔

    گل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے لانے کے لیے تکنیکی اور فرانزک بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں، تاہم عمارت کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ادارے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور جب تک ملبہ مکمل طور پر ہٹا نہیں لیا جاتا، حتمی اعداد و شمار دینا ممکن نہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے اچانک بھڑک اٹھی۔ آگ کا آغاز گراؤنڈ فلور سے ہوا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک شدت اختیار کرلی۔ شدید حرارت اور دھویں کے باعث عمارت کے کئی حصے کمزور ہوکر منہدم ہوگئے، جس سے اندر موجود افراد کے باہر نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔فائر بریگیڈ کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے طویل اور مشکل آپریشن کیا گیا۔ فائر فائٹرز نے مسلسل 33 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا، جس کے بعد کولنگ کا عمل شروع کیا گیا تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ آپریشن کے دوران درجنوں فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور ہیوی مشینری استعمال کی گئی۔

    گل پلازہ واقعے کے بعد انتظامیہ نے لاپتہ افراد کی نئی فہرست جاری کردی ہے، جس میں 49 افراد کے نام اور دیگر تفصیلات شامل ہیں۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاپتہ افراد کے لواحقین سے رابطے کیے جا رہے ہیں اور شناخت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈی این اے سیمپلز سمیت دیگر طریقۂ کار بھی اپنائے جا رہے ہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ پر تاجروں کا تین روزہ سوگ، آج مارکیٹس بند رکھنے کا اعلان

    سانحہ گل پلازہ پر تاجروں کا تین روزہ سوگ، آج مارکیٹس بند رکھنے کا اعلان

    کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے پر شہر بھر کے تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    واقعے کے خلاف اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کراچی کے تاجروں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج مکمل طور پر مارکیٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عتیق میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں تین ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ سینکڑوں تاجر مکمل طور پر تباہ ہو کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔عتیق میر نے مطالبہ کیا کہ حکومت متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کا ریلیف پیکیج فوری طور پر متعارف کرائے، جس میں بلا سود قرضے، ٹیکس میں چھوٹ، کرایوں میں رعایت اور متاثرہ دکانداروں کو فوری مالی امداد شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

    دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا سانحہ گل پلازہ پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تاجروں، صنعتکاروں اور چیمبر عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سانحے کی وجوہات کا جائزہ لینے اور متاثرین کی مدد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کراچی چیمبر نے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کو فوری معاوضہ دیا جائے اور آتشزدگی کے اسباب کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔متاثرہ تاجروں نے سندھ حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کچھ لٹوا کر سڑکوں پر آ گئے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ سانحے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ تو کوئی حکومتی نمائندہ ان سے ملنے آیا اور نہ ہی کسی قسم کی فوری امداد فراہم کی گئی۔ بعض تاجروں نے یہاں تک کہا کہ "ہمیں تو کوئی پانچ روپے دینے والا بھی نہیں۔”

    تاجروں اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا فوری نوٹس لیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو گل پلازہ جیسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔

  • وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم

    وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم

    سپریم کورٹ ،وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم، صدر سپریم کورٹ بار کو طلب کر لیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے دوران سماعت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک طرف جلد سماعت کی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں،دوسری طرف وکلا پیش نہیں ہوتے،ویڈیو لنک کی سہولت موجود ہے اسلام آباد نہیں آسکتے تو ویڈیولنک کی سہولت موجود ہے، جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ وکلا کی جانب سے کیسز ملتوی کرنے کی بہت زیادہ درخواستیں آرہی ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ بار کے زریعے وکلا کو پابند کریں،صدر سپریم کورٹ بارہارون الرشید نے کہا کہ پیش نہ ہونے وکلا پر جرمانہ کیا جائے،جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلی دفعہ جرمانہ نہیں کرتے آپ پابند کریں،

  • گل پلازہ آتشزدگی: چیف فائر آفیسر نے تفصیلی رپورٹ جاری کردی

    گل پلازہ آتشزدگی: چیف فائر آفیسر نے تفصیلی رپورٹ جاری کردی

    سالِ نو کے آغاز پر ہی کراچی ایک دلخراش سانحے سے دوچار ہوگیا، جہاں شہر کے معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے قیمتی انسانی جانیں نگل لیں اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان خاکستر ہوگیا۔

    چیف فائر آفیسر کے مطابق ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ میں واقع آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی ایک دکان میں آگ بھڑکی۔ آگ کی اطلاع 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو دی گئی، جس کے بعد 10 بج کر 57 منٹ پر ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے۔چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گل پلازہ میں اگرچہ 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں، تاہم ان راستوں کی تنگی کے باعث ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آگ لگنے کے فوری بعد عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستوں میں دھواں بھر گیا، جس سے اندر پھنسے افراد کے انخلا اور آگ بجھانے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ آگ بجھانے کے 2 سے 3 گھنٹوں کے دوران پانی کی شدید قلت کا سامنا رہا۔ پانی فراہم کرنے کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام میں پھنس گئے، جبکہ ہجوم اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث پانی کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوئی۔ تاہم آگ پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال شروع کردیا گیا تھا۔چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تین مختلف مقامات سے حصے گرچکے ہیں اور گل پلازہ اس وقت مخدوش حالت میں ہے۔ موقع پر اب بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹر باؤزر اور 2 اسنارکل تعینات ہیں۔ ان کے مطابق آگ پر 90 فیصد قابو پالیا گیا ہے، جبکہ عمارت کے اندر موجود سامان میں تقریباً 10 فیصد آگ اب بھی موجود ہے۔ رات گئے تک گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں میں لگی آگ بجھادی گئی تھی۔

    فائربریگیڈ حکام نے بتایا کہ گل پلازہ کی چھت پر پارکنگ قائم ہے جہاں متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں کھڑی تھیں۔ خوش قسمتی سے آگ لگنے کے باوجود چھت پر موجود گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھادی گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 لاشیں نکالیں، جس کے بعد آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، جبکہ 22 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔چیف فائر آفیسر کے مطابق پلازہ میں اب بھی کولنگ کا عمل جاری ہے۔ کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جارہا ہے اور ہتھوڑوں کے ذریعے دیواریں گرائی جارہی ہیں تاکہ اندر موجود حصوں تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ تیسری منزل پر کسی شخص کے پھنسے ہونے کے خدشے کے پیش نظر اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔

  • بلوچستان میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ، ٹرین سروس معطل

    بلوچستان میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ، ٹرین سروس معطل

    نصیر آباد میں نوتل کے قریب ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد حفاظتی خدشات کے پیش نظر ٹرین سروس عارضی طور پر روک دی گئی ہے، پاکستان ریلوے کے حکام کے مطابق متاثرہ ریلوے ٹریک کی مرمت اور بحالی کا عمل جاری ہے، سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ٹرین سروس بحال کی جائے گی۔

  • گل پلازہ نقصانات،حکومت ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ سندھ

    گل پلازہ نقصانات،حکومت ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں آگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ حکومت کرے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی کوشش زندگیاں بچانے کی ہے، کوشش ہے جو لاپتا ہیں وہ جلد مل جائیں، کئی منزلہ عمارت کی اجازت بغیر کسی اسٹڈی کے دی گئی، فائر آڈٹ کا کہا جائے تو بلڈرز کہتے ہیں نا انصافی ہورہی ہے،تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے، جس کی جان گئی ہے اس کا کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا، افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اس سانحے پر بھی سیاست کر رہے ہیں، پہلا فائر ٹینڈر وقت پر پہنچا تھا، اگر کسی کی کوتاہی ہو گی تو اس کو سزا ملے گی

    دوسری جانب گل پلازہ میں لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والے فائر فائٹر شہید فرقان علی کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی،فرقان ایک بچے کا باپ تھا جو گل پلازہ میں لگی آگ بجھاتے ہوئے انتقال کرگیا، فرقان علی کے اہل خانہ نے اپیل کی ہے کہ ان سے سرکاری گھر نہ لیا جائے اور فرقان کی اہلیہ کو ملازمت دی جائے۔

    واضح رہے کہ کراچی کےگل پلازہ میں لگی آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طورپربجھادی گئی، سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14ہوگئی جب کہ 22 افراد زخمی ہوئے،ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی، خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گرگئے۔

  • جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں  کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد میں پولیس کے مبینہ طور پر انسانیت سوز اقدام کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں پر ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    جیونیوز کے مطابق متاثرہ بچی کی دادی نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او، ہیڈ محرر اور دیگر پانچ پولیس اہلکاروں نے اس کی پوتی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ایس ایس پی جیکب آباد سے واقعے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو الزامات کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • کھلاڑیوں کو ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش

    کھلاڑیوں کو ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش

    مالی سال 25-2024 میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حکومت کی جانب سے ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کردی گئیں۔

    حکومتی دستا ویز کے مطا بق حکومت کی جانب سے پا کستان کھلاڑیوں کو 20 کروڑ 64 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کے انعامات دیے گئے، تفصیلات کے مطابق قومی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو 15 کروڑ20 لاکھ روپے، کوچ سلمان اقبال بٹ کو ایک کروڑ 6 لاکھ روپے انعام ملا جب کہ ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے محمد آصف کو 25 لاکھ روپے انعام دیا گیا،ایشین انڈر 21 سنوکر چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے احسن رمضان کو 5 لاکھ روپے کا انعام ملا، سارک اسنوکر چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر محمد آصف کو 5 لاکھ، محمد نسیم اختر کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر ایک لاکھ روپے انعام ملا جب کہ ساؤتھ ایشین ریجنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف کھلاڑیوں کو 14 لاکھ 50 ہزار مالیت کے انعامات دیے گئے،اسپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز میں مختلف میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو 30 لاکھ 50 ہزار روپے کے انعامات سے نوازا گیا۔

    ایشین جونئیر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف قومی کھلاڑیوں کو 17 لاکھ 50 ہزار روپے، ورلڈ انڈر 23 انفرادی سکواش چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف کھلاڑیوں کو 75 لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے،ایشین اوپن عالمی ٹائک وونڈو چیمپئن شپ میں مختلف میڈلز حاصل کرنے پر کھلاڑیوں کو 1 کروڑ 15 لاکھ روپے انعامات ملے۔