Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،ایران

    اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا اسرائیل کی عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے خلاف علاقائی مستعدی پر زور دیا،عباس عراقچی نے کشیدگی بڑھانے والی امریکی اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف علاقائی ممالک میں باہمی تعاون پر زور دیا،ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے انفرا اسٹرکچر پر حالیہ امریکی اسرائیلی حملے کشیدگی کو بڑھانے کے لیے کیے گئے،ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا،
    خلیجی علاقوں کے قریب حملوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے،

  • اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج کو درپیش لاجسٹک مسائل ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں بنکرز کی کمی کے باعث بعض اہلکاروں نے ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے رضاکار اہلکاروں نے راکٹ اور میزائل حملوں کے دوران ناکافی تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے بنکرز کی فراہمی کو بارہا لاجسٹک مسائل کا جواز بنا کر مؤخر کیا جا رہا ہے، جس پر فوجیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ایک اسرائیلی فوجی نے صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جب سائرن بجتا ہے تو ہم صرف ہیلمٹ پہن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کچھ نہ ہو۔”ایک اور اہلکار نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے تو کیا صرف افسوس کا اظہار ہی کافی ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "جو فوج دو ہزار کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیا وہ اپنے ہی سپاہیوں کو ایک محفوظ بنکر فراہم نہیں کر سکتی؟”

  • خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران توانائی کے اہم مراکز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کویت اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران نے کویت کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ آئل ریفائنریوں پر حملہ کیا ہے جس سے دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔یہ دونوں سہولیات کویت کے ریفائننگ کے اہم مرکزوں میں سے ہیں، جن کی مشترکہ گنجائش 800000 بیرل یومیہ ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے بھی تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر میں واقع سمرف ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یانبوع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کے لیے یانبوع بندرگاہ خام تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ بن چکی ہے۔

    توانائی کے مراکز پر حملوں کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ South Pars Gas Field پر اسرائیلی حملے پر غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ اس نے "شدید ردعمل” دیا ہے، اور واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے اشتعال انگیزی نہ ہوئی تو اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے ایرانی فیول ڈپوؤں پر حملوں پر امریکی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔امریکہ میں بھی اس صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی ووٹرز کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو سیاسی طور پر بھی اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔صدر ٹرمپ اگرچہ عالمی منڈیوں پر اثرات کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بارہا خبردار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا،  انکشاف

    مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا، انکشاف

    بھارت کو اے آئی ہب بنانے کا دعویدار مودی بھارتی عوام کو سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا،

    میٹا رپورٹ نے بھارت میں سوشل میڈیا پر آن لائن فراڈ اور اے آئی کے ذریعے بڑھتے جرائم کی نشاندہی کر دی،پہلی ششماہی 2026 کی میٹا رپورٹ نے بھارت کے لیے تشویشناک صورتحال کا عندیہ دے دیا،بھارتی جریدہ انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت بین الاقوامی دھوکہ دہی کرنے والے نیٹ ورکس کے بڑے ہدف کے طور پر ابھر رہا ہے،رپورٹ کے مطابق فراڈ کرنے والے بھارتی گروہ سب سے زیادہ امریکہ اور بھارت میں صارفین کو نشانہ بناتے ہیں،بھارتی صارفین متوسط آمدنی، سستے ڈیٹا اور کم ڈیجیٹل خواندگی کی وجہ سے سائبر جرائم نیٹ ورکس کے نشانے پر ہیں،میٹا کے مطابق بھارتی فراڈ میں مجرم فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اہلکار بن کر صارفین کو ہدف بناتے ہیں

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی ریاستی سرپرستی اور نااہلی نے بھارت میں جرائم پیشہ گروہوں کی بھارتی عوام تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے،بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی ابتر صورتحال نے مودی کا شائننگ انڈیا کا کھوکھلا نعرہ زمیں بوس کر دیا

  • افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    انتہا پسند مودی کی پاکستان مخالف سرپرستی اور مذموم سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا

    سابق بھارتی فوجی نے بھارت کا پاکستان کے خلاف افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کا اعتراف کر لیا،بھارتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور کے مطابق فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان کی زمین استعمال کر رہے ہیں،پاکستان کے خلاف دونوں دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد بھارت جبکہ ہتھیار اور انٹیلیجنس اسرائیل فراہم کر رہا ہے،ان تینوں ممالک (افغانستان، بھارت، اسرائیل) کے مفادات مشترکہ اور اہم ہدف پاکستان ہے،اسرائیل کو پاکستان سے یہ مسئلہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اسرائیل کو تاحال تسلیم نہ کرنے والا واحد یہ اسلامی ملک ہے،اسرائیل پاکستان کے اسرائیل مخالف موقف سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر پاکستان اسے بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے

    عالمی ماہرین کے مطابق ویڈیو میں بھارتی افسر کا اعتراف پاکستان کے مؤقف کی واضح توثیق ہے کہ بھارت طویل عرصے سے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے،افغانستان کی دہشتگرد تنظیموں کی بھارتی اور اسرائیلی معاونت سے سرگرمیاں پورے خطہ کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں،یہود و ہنود گٹھ جوڑ پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے خلاف ناپاک سازشوں سے خطہ میں عدم توازن اور مسلسل انتشار کو ہوا دے رہا ہے.

  • مذہبی جذبات کو  تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہل تشیع علما سے ملاقات کی جس میں انہوں نے قومی سلامتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پرتبادلہ خیال کیا،اس موقع پر فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا کہنا تھا کہ اتحاد، رواداری اورقومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے، غلط معلومات اورفرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار اداکریں،پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا، دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوئے نشانہ بنایا جائےگا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما کی جانب سے تشدد کی بھرپورمذمت کی گئی اورامن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا، آپریشن غضب للحق سے متعلق فیلڈمارشل نے دہشتگردوں کے مکمل خاتمےکا عزم بھی کیا۔

  • ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایران نے اسرائیل پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایک بار پھر میزائل حملے کئے ہیں،

    تل ابیب میں دھماکے سنے گئے ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکہ سنا گیا، اور ہنگامی خدمات فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ایک اور کلسٹر سب میونیشن میزائل تل ابیب کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ متعدد آبادکار ملبے تلے پھنس گئے ہیں۔شہر کے شمال میں شَرون علاقے میں ایک ایرانی کلسٹر میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ تل ابیب میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس میں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔اسرائیلی حکام نقصان اور جانی نقصان کے حجم کا جائزہ لے رہے ہیں اور شہریوں کو حفاظتی علاقوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے تقریباً تین ہفتے بعد بدھ کے روز پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام نے عوامی سطح پر سینیٹ کی اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی، جہاں ان کے بیانات نے حکومتی مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

    یہ سماعت امریکی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہوئی، جس میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ، سی آئی اے کے سربراہ جوہن اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے شرکت کی۔ سینیٹرز نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی دعوؤں اور انٹیلیجنس رپورٹس میں پائے جانے والے تضادات پر سخت سوالات کیے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی میں امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ کی کھنچائی کردی۔تلسی نے پچھلے سال جون میں ایران پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت بالکل ختم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی نے پوچھا کہ اب وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ کو کہا کہ امریکا نے ایران کے لازمی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ جب جون میں ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو اس کا خطرہ دوبارہ کیسے پیدا ہو گیا ؟تُلسی گبارڈ کئی بار پوچھنے کے باوجود جواب نہ دے سکیں، کہا کہ یہ طے کرنا صدر کا کام ہے کہ کوئی خطرہ لازمی ہے یا نہیں۔کمیٹی کے ایک رکن نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت ختم کرنے کا بیان اپنے تحریری جواب میں نقل کیا مگر تقریر میں کیوں چھوڑ دیا؟ اس پر تلسی گبارڈ نے کہا کہ ایسا وقت کی کمی کی وجہ سے کیا؟

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن انٹیلیجنس حکام نے اس دعوے کی بھی مکمل حمایت نہیں کی۔تلسی گبارڈ کے مطابق ایران اگر کوشش کرے بھی تو 2035 سے پہلے مؤثر بین البراعظمی میزائل تیار کرنا ممکن نہیں۔جبکہ جوہن نے بھی کسی مخصوص ٹائم لائن دینے سے گریز کیا، جس سے حکومتی بیانیے پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔

    ایران جنگ کا سب سے اہم جواز یہ بتایا گیا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے “فوری خطرہ” بن چکا تھا۔ تاہم سماعت میں اس دعوے کی بھی واضح توثیق نہیں ہو سکی۔تلسی گبارڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کوئی خطرہ فوری ہے یا نہیں، صدر کا اختیار ہے، نہ کہ انٹیلیجنس اداروں کا۔دوسری جانب جوہن نے کہا کہ ایران ایک مستقل خطرہ ضرور ہے، لیکن انہوں نے بھی اسے واضح طور پر “فوری” خطرہ قرار نہیں دیا۔

    سماعت سے ایک روز قبل نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو اس معاملے میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔اپنے استعفیٰ میں انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت نے ایران کے خطرے کے بارے میں مبالغہ آرائی یا غلط بیانی کی۔ تاہم سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ان کے مؤقف کو زیادہ نمایاں طور پر زیر بحث نہیں لایا۔

    سماعت کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات، وائٹ ہاؤس کے دعوؤں اور مستعفی ہونے والے افسر کے الزامات ،سب مل کر ایک پیچیدہ اور متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔سماعت کے دوران تلسی گبارڈ سے جارجیا کمیں ایک متنازع ایف بی آئی چھاپے میں ان کی موجودگی پر بھی سوالات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر کی ہدایت پر وہاں موجود تھیں، لیکن اس معاملے پر بھی حکومتی بیانات میں تضاد پایا گیا، جس سے مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔

    سینیٹ کی اس اہم سماعت نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانیے کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات نے نہ صرف حکومتی دعوؤں کی نفی کی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ جنگ کے جواز، خطرات کی نوعیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر خود امریکی قیادت کے اندر واضح تقسیم موجود ہے۔

  • ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے توانائی کے اہم مراکز پر مبینہ حملوں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا اور اسرائیل پر حملے کا الزام عائد کیا، وہیں امریکی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے گیس فیلڈز پر حملہ امریکا نے نہیں کیا، بلکہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکا براہِ راست ملوث نہیں تھا۔اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ساؤتھ پارس بھی شامل ہے۔ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں واقع اسالوئیہ کی گیس تنصیب پر حملہ کیا۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کردی،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی ضرورت نہیں،

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے،امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چلائی جارہی ہیں،اسی سلسلے میں ایران نے قطر میں راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل سے حملہ کیا، حملے کے بعد آگ لگ گئی، قطر انرجی کے مطابق حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا،

  • توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا  ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قطر نے ایران کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ دوحہ میں ایرانی سفارت خانے کو باضابطہ نوٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں فوجی اتاشی، سیکیورٹی اتاشی اور ان کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے بار بار حملوں اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں ایران کو خبردار کیا گیا کہ اگر اس نے اپنا “جارحانہ رویہ” جاری رکھا تو قطر اپنے قومی مفادات، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دے گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی اہم گیس تنصیب راس لفان نیچرل گیس پروسیسنگ فیسلٹی کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تنصیب قطر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔دوسری جانب تہران پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل پر اپنے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر چکا ہے اور خبردار کیا تھا کہ وہ خطے میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا ہے۔