Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی  تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق و تالیف کے شعبے میں پہلی خواتین یونیورسٹی بن گئی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 475 تحقیقاتی مضامین، 75 ریسرچ پروپوزلز اور 40ملین کی ریسرچ گرانٹ حاصل کیں،گذشتہ برس 200 اساتذہ کی تربیت، 5 پیٹنٹ درخواستیں، 30نمائشیں اور 31 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے

    تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے سال 2025 کے لیے اپنی ابتدائی سالانہ تحقیقی، جدتی اور کمرشلائزیشن رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی اشتراک کے شعبوں میں یونیورسٹی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ رپورٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت اور ادارہ جاتی سرپرستی میں تیار کی گئی، جس میں 2025 کے دوران ایل سی ڈبلیو یو کی تحقیقی سرگرمیوں اور جدتی اقدامات کا جامع مگر مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے تحقیق، مسابقتی فنڈنگ کے حصول، جدت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہے، جو مختلف نمایاں کارکردگی اشاریوں میں واضح طور پر سامنے آتی ہے۔سالانہ رپورٹ میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹیم اور خلائی علوم، سماجی علوم اور فنون جیسے اہم تحقیقی شعبوں میں یونیورسٹی کی شراکت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) بالخصوص ہدف 3، 4، 5، 7، 9، 13 اور 17 سے ہم آہنگ ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ORIC کی یہ رپورٹ نہ صرف یونیورسٹی کی تحقیقی سمت کا تعین کرتی ہے بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سماجی ترقی میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی اور افغان میڈیا کے پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں کسانوں کے ذریعہ معاش تباہ کر رہی ہے اور ایک ویڈیو کے ذریعے دکھایا گیا کہ اہلکار سولر پینلز تباہ کر رہے ہیں،وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور ویڈیو اصل میں بلوچستان میں ایف سی اور اینٹی نارکورٹکس فورس کے آپریشن کی فوٹیج ہے۔ ان آپریشنز کا مقصد غیر قانونی منشیات کی کاشت اور دہشت گردوں کو فنڈنگ پہنچنے سے روکنا ہے،وزارت نے واضح کیا کہ نہ تو کسی پاکستانی اور نہ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس جھوٹے دعوے کی تصدیق کی ہے۔

    وزارت نے کہا کہ پاکستان مخالف منظم منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی پہچان بن چکی ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ غلطیوں کو درست کرنے کے لیے انکوائری کریں گے، سانحہ گل پلازا میں جس کی غلطی ہوئی، انہیں سزائیں ہوں گی۔

    گل پلازا میں لگنے والی آگ پر خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں اس واقعے کی انکوائری کروائیں گے، یہ انکوائری کسی کے پیچھے پڑنے والی نہیں ہو گی، اگر انکوائری میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو اس پر ایکشن ہوگا، انکوائری میں اصل توجہ اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر ہو گی، اگر ضرورت پڑی تو انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی بنائیں گے، گل پلازا میں آگ بہت بڑا واقعہ ہے، گل پلازا میں آگ مکمل طور پر نہیں بجھ سکی ہے، فائر فائٹر اور ریسکیو کا عملہ تین جگہوں سے اندر جانے کی کوشش کر رہے ہیں، شاید گل پلازا کی پوری عمارت کو گرانا پڑے، جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے، سانحہ گل پلازا میں 65 افراد لاپتہ ہیں، کوشش ہے لاپتہ افراد کا پتہ چل جائے۔ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، غلطیاں ہیں، بالکل ہیں، انکوائری میں سامنے آئے گا، ایسے واقعات کی صورت میں امدادی کام کے لیے رسائی آسان بنانی چاہیے، جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہر کوئی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع کر دیتا ہے، ایسے واقعات کی صورت میں جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں، اس کے لیے رسائی مشکل نہ بنائیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سانحے کی جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ کام کیا جا سکے، دکانداروں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں۔ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں، 2024 میں 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا تھا۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 میں کیا تھا اس پر فوراً کام کریں،

    مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا، کہا کہ سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، انسانی جانیں بچانے کے لیے سب سے ضروری فائر الارم ہے،کراچی چیمبر تمام مارکیٹوں میں فائر ڈرل کرائے گا، ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور ضروری فیصلے کیے بغیر نہیں جائیں گے، اب مستقبل میں سانحات سے بچنے کی کوشش کریں گے،کوئی مصیبت میں ہو اور اس سے تفتیش شروع کردی جائے تو الجھن ہوتی ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ نے سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کا فارنزک کرانے کا اعلان کردیا۔ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیر نو بھی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی سے 50 سے زائد اموات کا خدشہ ہے۔ مراد علی شاہ نے آتشزدگی کا فارنزک کرانے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیر نو بھی کی جائے گی۔

    سانحہ گل پلازہ پر وزیراعلیٰ سندھ نے آتشزدگی کی فارنزک کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر نو بھی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دکانیں دینے کا طریقہ کمیٹی بنائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں 50 سے زائد اموات کا خدشہ ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ متاثرین کیلئے کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی معاوضہ اور متاثرین کی بحالی کیلئے سفارشات دے گی، کمیٹی میں صوبائی وزراء ناصرحسین شاہ، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری مسلسل رابطے میں ہیں، پیپلزپارٹی قیادت متاثرہ تاجروں کی فوری بحالی چاہتی ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ وزراء شہداء کے گھروں میں جاکر تعزیت کریں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ فائر فائٹنگ، حفاظتی نظام کا طویل المدتی پلان بنایا جائے گا، عمارتوں میں ایمرجنسی راستوں اور فائر الارمز کو یقینی بنایا جائے۔

  • جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

    لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نواسے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات لاہور میں بھرپور انداز سے منعقد ہوئیں۔

    جنید صفدر کا نکاح معروف سیاستدان شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی روحیل سے ہوا، جبکہ شادی کی تقریبات میں سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مہندی کی تقریب شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں دلہن شانزے علی روحیل نے معروف بھارتی فیشن ڈیزائنر سبیاسچی مکھرجی کا تیار کردہ زمردی سبز رنگ کا لہنگا زیب تن کیا۔ اس دیدہ زیب لباس میں سبیاسچی کے روایتی ورثہ سے متاثرہ ڈیزائن، متضاد رنگوں کے پینلز، چوڑا سنہری بارڈر، جبکہ سبز اور گلابی رنگ کے دوپٹے شامل تھے، جس نے تقریب کی رونقوں کو دوبالا کر دیا۔

    مہندی کے بعد نکاح کی تقریب بھی جاتی امرا میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی شادی کی تقریب میں دلہن نے ایک اور معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہلیانی کا تیار کردہ سرخ ساڑھی زیب تن کی۔جہاں شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، وہیں دلہن کے بھارتی ڈیزائنرز کے انتخاب نے پاکستان میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے ایک نمایاں سیاسی خاندان کی شادی میں بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات کو ترجیح دینے پر تنقید کی۔

    کچھ صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بے شمار باصلاحیت ڈیزائنرز موجود ہیں جو مقامی ثقافت اور روایات کی بھرپور عکاسی کر سکتے تھے، اس لیے یہ انتخاب غیر ضروری اور مقامی فیشن انڈسٹری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک صارف نے لکھا،“ایچ ایس وائے، نومی انصاری، خدیجہ شاہ، زارا شاہجہان، فائزہ ثاقب، بنتو قاضی، فراز منان، ماریہ بی، اور ارم خان جیسے بڑے نام موجود تھے، پھر بھی بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب کیا گیا، حیران کن ہے۔”

    ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ پاکستانی ڈیزائنرز اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور ثقافتی طور پر نمائندہ لباس تیار کر سکتے تھے۔تاہم کئی صارفین نے دلہن کے حق میں آواز بلند کی اور کہا کہ شادی ایک ذاتی معاملہ ہے اور لباس کا انتخاب بھی ذاتی پسند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیشن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور جیسے بھارتی شوبز شخصیات پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہنتی ہیں، ویسے ہی پاکستانی دلہن کا بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    ایک صارف نے لکھا،“یہ 2026 ہے، دلہن کو اس کی شادی پر اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیے۔ ہر کسی کو ہر لباس پسند آنا ضروری نہیں۔”واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شریف خاندان کو اس نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ دسمبر 2024 میں بھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سبیاسچی کا لباس پہننے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • سانحہ گل پلازہ، سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت درخواست دائر

    سانحہ گل پلازہ، سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت درخواست دائر

    گل پلازہ سانحے کے تناظر میں فائر سیفٹی قوانین اور عمل درآمد نا کرنے اور ٹاسک فورس نا بنانے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا

    ندیم شیخ ایڈووکیٹ کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2017 میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا تھا ،عدالت نے کمشنر کراچی ،ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو ٹاسک فورس تشکیل دینے کا حکم دیا تھا ،عدالت نے ہر ماہ عمارتوں کا معائنہ کرنے اور فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا ،کمشنر کراچی اور سندھ حکومت عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں ،گل پلازہ میں دس سے زائد افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہیں،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرلیا جاتا تو گل پلازہ کا سانحہ نا ہوتا،عدالت سے استدعا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ،

  • متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کی گرفتاری نہ ہو سکی

    متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کی گرفتاری نہ ہو سکی

    اسلام آباد پولیس اور این سی سی آئی ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے وارنٹ کی تعمیل نہ کراسکی۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج افضول مجوکہ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کےخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت کی،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) حکام سمیت پولیس حکام اور اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت پیش ہوئے جہاں دونوں اداروں کی جانب سے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ کی جاسکی،این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کے لیے وقت مانگا گیا جس پر جج افضل مجوکہ نے کہا کہ جس کی رپورٹ غیراطمینان بخش ہوگی اس کے خلاف کارروائی ہوگی،عدالت نے کہا کہ دن 2 بجے تک این سی سی آئی اے اور پولیس وارنٹ سے متعلق رپورٹ جمع کرائے جس کے بعد عدالت نے سماعت میں 2 بجے تک وقفہ کردیا۔جج افضل مجوکہ نے دن دو بجے تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    جج افضل مجوکہ نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے پراسیکوٹر لکھ کر رپورٹ دیں گے،اس رپورٹ کے مطابق کاروائی کے حوالے سے لکھوں گا ،ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش نہیں کیا گیا ، جج نے استفسار کیا کہ کیا صورتحال ہے ؟ اسلام آباد پولیس اہلکار نے عدالت میں کہا کہ سر کوشش کر رہے ہیں ،جج نے این سی سی آئی اہلکار سے استفسار کیا کہ وارنٹ کدھر ہیں ؟ یہ تو رپورٹ غیر تسلی بخش ہے،ریاست آزاد پرسوں بتا رہے تھے ہائیکورٹ میں ہونے کی وجہ سے آج کے لئے کیس رکھوایا تھا ، ، این سی سی آئی اے پراسیکوٹر نے کہا کہ آرڈر کے مطابق این سی سی آئی اے کی ٹیم گئی ہوئی،عدالت نے سماعت میں دو بجے تک وقفہ کر دیا

  • اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان میں زلزلہ،ہنزہ میں مکانات اور سڑکیں متاثر

    اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان میں زلزلہ،ہنزہ میں مکانات اور سڑکیں متاثر

    اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز کشمیر کا شمال مغربی حصہ بتایا گیا ہے۔ جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، ہنزہ، گلگت اور گرد و نواح میں واضح طور پر محسوس کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں ہلکے جھٹکے بھی رپورٹ ہوئے۔

    زلزلے کے باعث ضلع ہنزہ کے مختلف علاقوں میں نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ہنزہ کے گاؤں چپورسن میں زلزلے کے نتیجے میں مکانات اور سڑکیں متاثر ہوئیں۔ اسی طرح ریشت گاؤں میں زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے رابطہ سڑک کو نقصان پہنچا اور آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔ہنزہ کے علاقوں شٹمرگ اور زودخون میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے کئی مکانات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گینش سمیت متعدد مقامات پر شاہراہ قراقرم بلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ ادارے شاہراہ کو کھولنے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں

  • بلوچستان میں نوکریاں سفارش پر نہیں بلکہ مکمل طور پر میرٹ پر دی جائیںگی،وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان میں نوکریاں سفارش پر نہیں بلکہ مکمل طور پر میرٹ پر دی جائیںگی،وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان میں سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ محکمہ خزانہ بلوچستان میں 111 بھرتیوں کا عمل شفاف، کامیاب اور عوامی اعتماد کے مطابق مکمل کیا گیا ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ حکومت نے دو ٹوک فیصلہ کیا ہے کہ اب بلوچستان میں نوکریاں سفارش پر نہیں بلکہ مکمل طور پر میرٹ پر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام بھرتیوں کو بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے معیار کے مطابق لایا جا رہا ہے،وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مزید بتایا کہ صوبے میں تمام سرکاری بھرتیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوکری بیچنے اور سفارش کے کلچر کے خاتمے کے بغیر نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام سے کیا گیا وعدہ ہر صورت نبھائیں گے اور صوبے میں نوکریاں نہ تو بکیں گی اور نہ ہی سفارش کی بنیاد پر دی جائیں گی۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ،محسن نقوی نے قومی ٹیم کے حوالے سے تمام تیاریاں رکوا دیں

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ،محسن نقوی نے قومی ٹیم کے حوالے سے تمام تیاریاں رکوا دیں

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم سے متعلق تمام جاری تیاریاں عارضی طور پر رکوانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور بنگلا دیش کی جانب سے ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کے فیصلے کے تناظر میں کیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے ٹیم مینجمنٹ کو آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بعد میں باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹیم مینجمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ممکنہ عدم شرکت کی صورت میں ایک متوازی پلان (متبادل حکمتِ عملی) بھی تیار کرے تاکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے بورڈ کے پاس واضح آپشنز موجود ہوں۔

    ذرائع کے مطابق محسن نقوی اس معاملے پر ذاتی طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور قومی ٹیم کے مفادات کے ساتھ ساتھ علاقائی کرکٹ کے مجموعی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ پی سی بی حکام کا ماننا ہے کہ کسی بھی بڑے ایونٹ میں شرکت سے قبل سکیورٹی، لاجسٹکس اور کھلاڑیوں کے تحفظ کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرا چکا ہے۔ بنگلا دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کیا ہے، جسے پاکستان نے معقول اور جائز قرار دیا ہے۔ پی سی بی حکام کے مطابق بنگلا دیش کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے اور کسی بھی ٹیم کو ایسے حالات میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر بنگلا دیش کا سکیورٹی مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی شرکت کے فیصلے پر ازسرِنو غور کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی کے اندر مشاورت کا عمل جاری ہے اور دیگر متعلقہ کرکٹ بورڈز کے ساتھ بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔